@RyLiberty@Foester Dumb people are those who can’t grasp the simple concept that a creature cannot be equal to the Creator. These three copies of the Quran can’t even be considered a reflection of the printing press that produced them.
@RyLiberty@Foester All the racists I’ve met think they’re so logical. If they weren’t dumb enough to buy Trump’s MAGA crap, he couldn’t keep lining his kids’ pockets while tearing down American power. BTW, by Trinity logic, all his kids (Trumps) should share presidential authority.
سیاستدان بندروں کی مانند ہوتے ہیں
آپس میں لڑیں تو فصل خراب کرتے لیکن اگر صلح کر لیں تو فصل مل جل کر کھا جاتے ہیں۔
————————————-
" السياسيون مثل القرود إذا تعاركوا
أفسدوا الزرع وإذا تصالحوا أكلوا المحصول ."
@Silly_ishti ایسی جہالت؟
توبہ توبہ! ایسی قوم کے بھاشن بھی سننے والے ہوتے ہیں- ایسے لوگوں پر اپنی سروس بند کریں یہ لوگ سارے ہم رنگ، ہم نسل لوگوں کیلئے نفرت خریدتے ہیں- بڑی مصیبت یہ ہے کہ ایسی جبلت والے غالب اکثریت ہیں
@RShahzaddk لڑکی پڑھی لکھی اور باروزگار ہو تو یہ مسئلہ کیسے حل ہوگا- بلکہ خبیث شخص گھر بیٹھ کر کھائے گا- مسئلہ بیٹوں کو انسان بنانے سے حل ہوگا- اپنے بچوں کو قرآن سکھائیں، مرد کو شادی سے پہلے اسکی ذمہ داریوں کا احساس ہو، اسے دنیا و آخرت میں جوابدہی کی فکر ہو-
سابق اراکین پارلیمان کے بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ دے رہے ہیں سینٹ کی کمیٹی نے منظوری دے دی ہے یہ بچے واردات کرتے پکڑے جائیں تو کہتے باپ کا کیا تعلق ہے ؟
پاکستان کی عوام کو چاہیے یورپی یونین سمیت سب ملکوں کو میل بھیجیں کے ان بلیو پاسپورٹ والے مفت خوروں پر ویزہ پابندی لگائیں
جبکہ اس دوران عوام کا پیٹرول 150 سے 315روپے لیٹر کر دیا بجلی کے بلوں پر ہزار طرح کے ٹیکس لگا دیے گیس مہنگی کر دی اور کہا ملک میں معاشی بحران ہے ملک کے لئے قربانی دو
پنجاب برصغیر کا اناج گھر تھا سدا کا خوشحال ترین صوبہ تھا مگر اب اس پر اتنا بوجھ لاد دیا کہ پنجاب کا عام بندہ کنگال ہو رہا اس بندے کی گفتگو سنیں یہ کہہ رہا بچے سو جاتے تو گھر جاتے کہ کہیں دس بیس کی چیز نا مانگ لے
مریم صاحبہ پنجاب کی معاشی حالت کا سوچیں
اراکین اسمبلی اور حکمران ہر سہولت تاحیات کیوں مانگ رہے ؟
اراکینِ اسمبلی کی جانب سے تاحیات بلیو پاسپورٹ اور دیگر سرکاری سہولیات کے مطالبے نے بچپن میں پڑھی شیخ سعدی کی گلستان میں بیان کردہ نوشیروانِ عادل کی ایک حکایت یاد دلا دی۔
شکار کے لئے کسی جنگل میں پڑاؤ ڈالا تو کباب کے لیے نمک نہ تھا، غلام نمک لینے گاؤں گیا تو نوشیروان نے حکم دیا: “نمک قیمت دے کر خریدنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مفت لینے کی رسم پڑ جائے اور گاؤں اجڑ جائیں۔” جب پوچھا گیا کہ ایک مٹھی نمک سے کیا فرق پڑے گا؟ تو اس نے جواب دیا: “ظلم کی بنیاد ابتدا میں بہت چھوٹی ہوتی ہے، پھر ہر آنے والا اس میں اضافہ کرتا جاتا ہے۔”
آج بھی اصول وہی ہے۔ جب طاقت ور عہدے والا اپنے لیے تاحیات مراعات اور استثنا کی روایت قائم کرتا ہے تو پھر یہی مطالبہ نیچے تک پھیل جاتا ہے۔ ابتدا ایک “چھوٹی سی سہولت” سے ہوتی ہے، مگر انجام پورے نظام پر بوجھ بن جاتا ہے۔
کبھی سوچتا تھا کہ یہ درباری، راتب خور اور قصیدہ گو عوام پر ڈھائے جانے والے ہر ظلم مہنگی بجلی پیٹرول گیس بل وغیرہ کا دفاع آخر کیسے کر لیتے ہیں؟ پھر سمجھ آیا کہ ہر دھندے کی اپنی معیشت ہوتی ہے۔
کفن فروش کا کاروبار کسی کی موت سے چلتا ہے۔ لوگ مریں کے تو کفن بکے گا اس کی معیشت منافع چلتا ہی کسی کی موت پر ہے اسی طرح درباری قلم کار، کرائے کے ترجمان اور قصیدہ گو بھی عوام کے دکھ، مہنگائی، ٹیکسوں اور ناانصافی پر پلتے ہیں۔ اگر ظلم نہ ہو، لوٹ مار نہ ہو، عوام نہ پِسیں، تو ان کے قصیدے کون خریدے گا اور ان کا راتب کہاں سے آئے گا؟
ان کا ضمیر نہیں بولتا، کیونکہ ان کی روزی سچ سے نہیں، اقتدار کی خوشامد سے وابستہ ہوتی ہے۔
اپنی حکمران جماعت کا دفاع کرنا چاہے اور کھل کر کرنا چاہیے مگر اگر تو آپ کی جماعت کے وزیراعظم عوامی مفاد کا کوئی حکم جاری کرتا ہے فرض کریں پیٹرول سستا کرتا ہے اور افسر شاہی یا اسٹیبلمنٹ رکاوٹ ڈال رہی تو آپ جماعت کے لئے ڈٹ جائیں
مگر اگر آپ کا وزیراعظم سستا پیٹرول مہنگا بیچ کر افسر شاہی اور الیٹ کی مراعات بڑھا رہا تو چھتر اٹھا لیجئے اور گننے کی زحمت مت کیجئے
میں یہ چاہتا ہوں عوام غریب عوام سے ٹیکس لے کر لگثری جہاز نا خریدے اور ججوں جر نیلوں افسر شاہی اور اراکین اسمبلی کی تاحیات عیاشیوں پر مت لگائیں
جس عوام سے ٹیکس لیتے اسے بدلے میں کیا سہولت دیتے ہیں ؟
@RShahzaddk ٹیکس کا پیسہ جب عوام پر لگتا ہے تو وزیر تک کہہ رہے ہوتے ہیں ہم وزیراعظم اور وزیراعلی کے انتہائی شکر گراز ہیں کہ انہوں نے عوام پر یہ خرچ کیا- اوئے لالو انہوں نے اپنی جیب سے کیا ہے؟ حقیقت مگر یہ ہے کہ جب تک عوام نہیں سدھرے گی عُمال نہیں سدھریں گے- عوام نے ہی انکا احتساب کرناہوتا ہے
جدید ریاست ٹیکس پر چلتی ہے عوام کو ٹیکس دینا چاہیے ہم ڈنمارک میں 42 سے 60 فیصد تک انکم ٹیکس دیتے ہیں مگر پھر یہ ٹیکس کا پیسہ ہم پر لگتا ہے ہم بیمار ہوں تو مکمل تنخواہ ہمیں ہماری میونسپلٹی دیتی کیونکہ وہ ٹیکس لیتی بچوں کی تعلیم مفت ہے ہر بچے کے پیسے ملتے اگر بچہ کمزور تو سکول ٹیوشن کا بندوبست کرتا ہے علاج مفت ہے میں معذور ہو گیا تو ریاست مجھے سنبھالے گی بیمار تو گھر میں صفائی والا تک بھیجے گی ہسپتال تک مفت ٹررانسپورٹ دے گی بے روزگار تو جیب خرچ دے گی یونیورسٹی تک مفت تعلیم ہے الٹا ہر بچے کو ہزار ڈالر جیب خرچ بھی دیتے ہیں ہمارے وزیر سائیکل پر دفتر آتے ہیں عوام کے پیسے سے ان کو کچھ نہی ملتا ہے
ٹیکس کے پیسے سے لگژری جہاز اور تاحیات مراعات نہی لیتے ہیں
ٹیکس دینا چاہے مگر ٹیکس صرف عوام پر واپس لگنا چاہیے