ایک معاون خصوصی / وزیر مملکت نے مبینہ طور پر اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروایا ہے،وزیر موصوف کا کہنا ہے کہ انہوں نے تھائی لینڈ سے مساج کروایا تھا،اب وزارت کے سیکرٹری بل پر دستخط نہیں کررہے۔۔
نوٹ۔ پاکستان میں غربت اور مہنگائی عروج پر ہے اور وزیر مساج کا بل بھی سرکاری کھاتے سے ادا کرنا چاہتے ہیں، کیا لوٹ مار کی گنگا بہہ رہی ہے ۔
Once again, the families of Gujranwala prisoners are sent home without justice as the case stands adjourned.
In Pakistan justice for ordinary people feels like a distant dream with each passing day.
میری ہمشیرہ بیمار تھیں، اسپتال گئے، کبھی دوائیاں لاو کبھی کچھ اور لاو، عمران خان نے 10 لاکھ کا مفت علاج دیا تھا، اس حکومت نے بند کر دیا، ہم نے ایسی حکومت کا کیا کرنا ہے، بس جو کام کرے اس کو بند کر دو۔ لاہور کا شہری آبدیدہ ہو گیا
وڑائچ صاحب گندم کی طلب اور رسد پہ روشنی ڈالیں۔پنجاب میں گندم نایاب ہو چکی۔ضلع اٹک میں گندم 5500 سے 6000 کے ریٹ میں بھی مشکل سے مل رہی ہے۔۔۔جس کے پاس گندم اس نے ذخیرہ کی ہوئی ہے کسانوں نے 10 ہزار سے 12 ہزار فی من کی امید لگائی ہوئی۔۔۔۔
@ahmadwaraichh
ضیاء اس وقت کوٹ لکھپت کے ملٹری قیدیوں میں سے سب سے کم عمر قیدی ہے۔ ابھی زندگی شروع ہی ہوئی تھی کہ ملٹری عدالت نے 10 سال کی قید سنا ڈالی۔
باقی ملٹری قیدیوں کی طرح ضیاء کو بھی اپیل کا حق نہیں۔
اسے آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کا جرم کیا تھا۔
اس کی سزا کے آرڈر کی کاپی بھی موجود نہیں۔
7 مئی 2025 کو سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ 45 دن کے اندر پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کی جائے تاکہ سویلینز کو ہائیکورٹس میں اپیل کا حق دیا جا سکے۔
لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود نہ کوئی ترمیم کی گئی، نہ اپیل کا حق دیا گیا اور نہ ہی انصاف کے وہ تقاضے پورے کیے گئے جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ آج بھی متعدد خاندان انصاف کے منتظر ہیں۔
#ہمیں_اپیل_کا_حق_دو
#خاموش_صدائیں
#khamosh_sadayen
Where there is good news that the Lahore High Court has suspended the sentence of Junaid Sahi who had been convicted for three years, the same court has also declined to suspend the sentence of Firdos Rai who was sentenced to ten years imprisonment.
مدثر ایک گردے پر زندگی گزار رہا ہے۔ اس نے اپنا دوسرا گردہ اپنے بھائی کو عطیہ کر دیا تھا۔
ایک گردے پر زندگی گزارنے والے انسان کو مسلسل طبی نگرانی، ماہر ڈاکٹر سے باقاعدہ چیک اپ اور خاص خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ اس غیر قانونی قید میں مدثر کو نہ مناسب طبی سہولیات میسر ہیں، نہ ضروری معائنہ اور نہ ہی وہ خوراک جو اس کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ وہ اس حالت میں بھی پچھلے تین سال سے قید ہے کیونکہ اس کو اپنی سزا کے خلاف اپیل کا حق نہیں۔
7 مئی 2025 کو سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ 45 دن کے اندر پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کی جائے تاکہ سویلینز کو ہائیکورٹس میں اپیل کا حق دیا جا سکے۔
لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود نہ کوئی ترمیم کی گئی، نہ اپیل کا حق دیا گیا اور نہ ہی انصاف کے وہ تقاضے پورے کیے گئے جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ آج بھی متعدد خاندان انصاف کے منتظر ہیں۔
#ہمیں_اپیل_کا_حق_دو
#خاموش_صدائیں
#khamosh_sadayen
It states that the underlying cause of the condition is a blood clot that has affected blood flow to the eye and may pose wider health risks. https://t.co/4aBOpxHVOS
میڈم چیف منسٹر کی پیرا فورس
ریڑھی والے سے روزانہ 400 روپے کی دیہاڑی، 3 دن پیسے نہ دینے پر اہلکار نے ریڑھی ضبط کر لی، اب ریڑھی واپس کرنے کا 15 ہزار روپے مانگ رہا ہے۔ شیخوپورہ کے احسان سلامت کی دہائی
The treatment being meted out to former PM Imran Khan is inhumane and unethical. He is being denied his basic right to see his medical team. Imposing such suffering on the most popular politician in the country is an act of humiliation directed at 250 million Pakistanis.
جسٹس امین نے ہمیشہ موجودہ نظام کے ایک وفادار خادم کا کردار ادا کیا ہے اس لیے E-7 میں ایک گھر مل جانا کوئی حیرانی کی بات نہیں۔
سب سے شرمناک کام بے گناہ سویلینز کے فوجی ٹرائلز کا راستہ ہموار کرنا تھا۔ آج وہی بے گناہ لوگ بغیر حقِ اپیل کے جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔
مردان سے عدنان احمد جو پیشے کے لحاظ سے استاد ہیں، ملٹری کورٹ سے 10 سال کی سزا پا چکے ہیں۔
سپریم کورٹ کے اُس فیصلے کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے جس کے تحت سویلینز کے ملٹری ٹرائلز کی اجازت دی گئی تھی۔
7 مئی 2025 کو سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ 45 دن کے اندر پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کی جائے تاکہ سویلینز کو ہائیکورٹس میں اپیل کا حق دیا جا سکے۔
لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود نہ کوئی ترمیم کی گئی، نہ اپیل کا حق دیا گیا اور نہ ہی انصاف کے وہ تقاضے پورے کیے گئے جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ آج بھی متعدد خاندان انصاف کے منتظر ہیں۔
#ہمیں_اپیل_کا_حق_دو
#خاموش_صدائیں
#khamosh_sadayen