میں ہوں زمین زادہ، میرا عشق لامکانی
میں صفر بٹا صفر ہوں، مجھے کب حدوں میں آنا
کئی کہکشائیں ٹوٹیں، تو جنم لیا تھا میں نے
میں ہوں گرد آسمانی، مجھے کب کہیں سمانا۔۔
خوفناک واقعے کی پیش گوئی کرتے ہوئے پورے اعتماد سے کہے کہ ہم مزید قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔
ہم بس نوحہ کر سکتے ہیں لیکن ستم تو دیکھیے کہ اب تو نوحے لکھنے کا بھی وقت نہیں ملتا۔ اب ہمارا مطالبہ امن اور انصاف نہیں ہے۔ ہمیں بس اتنی رعایت دی جائے کہ ہم ٹھیک سے رو تو سکیں۔
#Qeutta
کیسا کرب ہے دل کٹ کر رہ گیا ہے۔۔
میرے لوگ مر رہے ہیں۔ مارے جا رہے میرے شہر جل رہے ہیں جلاۓ جا رہے ہیں میرے شہر کے پھلوں اور پھولوں کی خوشبوؤں سے مہکا کرتی تھی آج وہاں سے بارود اور خون کی فضائیں ہیں مسجدوں میں، اسکولوں میں، پارکوں میں، اپنے گھروں میں، روزگار پر جاتے ہوئے،
لیکن انہیں اونچا نظر آنا ہے، چاہے اس کے لیے انہیں لاشوں پر کھڑا ہونا پڑے۔
ان کے لیے وقتاً فوقتاً لوگوں کا قتل ہوتے ہوتے ضروری ہے تاکہ وہ میڈیا پر آ کر ہمارے قتل ہونے کو شہادت کے مقدس لبادے میں لپیٹ کر قابل قبول بنا دے۔
ہماری بےبسی اور ذلت کو قربانی سے تعبیر کرے۔ ساتھ ہی اگلے
ثبوت ہیں کہ طاقت، دولت اور اختیار ملنے کے بعد انسان ابھی تک شکاری جبلّتوں سے اوپر نہیں اٹھ سکے۔
خواہ وہ خود کو سیکولر کہیں یا مذہبی، مشرق کے ہوں یا مغرب کے جب بے پناہ طاقت ہو تو کمزور جسم، غریب بچی اور بے آواز انسان انسان نہیں بس شکار بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ معاملہ نہ "مغرب بمقابلہ اسلام” کا ہے اور نہ ہی “سیکولر اقدار بمقابلہ مذہبی اخلاقیات” کا۔ یہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ تلخ اور بنیادی ہے: انسان کے عمودی یا اخلاقی ارتقا کی ناکامی۔
ایپسٹین فائلز میں آنے والے نام اس بات کا ثبوت نہیں کہ مغرب جھوٹا ہے اور مشرق سچا ہے بلکہ اس بات کا
ہوۓ دل بے اختیار مچل اٹھا،
گلی کے موڑ سے دور نگاہوں نے کسی کی تصویر اتاری،
نظریں ایک دوسرے پر ٹھہر گئی،
وقت چند لمحوں کو ٹھہر گیا،
دو نظریں ملیں کوئی لفظ ادا نہیں ہوا،
مگر چہروں کی مسکراہٹ نے ساری باتیں کہ دی،
وہ لمحہ نہ ملاقات کا تھا نہ جدائی کا
دل نے کہا احساس ابھی زندہ ہے
صبح بخیر خوبصورت روحوں 🌺🥀🧡
پرندوں کی چہچہاہٹ سے کانوں نے دل کو صبح کی دستک دی،
دل کی دھڑکنیں کسی کے نام کی طرف لپکیں،
پھولوں نے مسکراکر استقبال میں کہا
آج کچھ خاص ہے،
سورج کی شوخ کرنیں اور شرارتی کرنیں قدموں کو چھوتی رہیں،
آنکھیں کسی منظر کی تلاش بھٹکتی رہیں،
خیالوں میں جاتے