اسے کہتے ہیں نہلے پر دہلہ
اخے امریکی سفیر نے کہا ہے جموں کشمیر بھارت کا اہم حصہ ہے
لے جواب : امریکی سفیر کی بات مان رہے ہو تو امریکی صدر کی بھی مان لو کہ آپریشن سندور میں پاکستان نے بھارت کے 11 جہاز گرائے۔
بس پھر چراغوں میں روشنی نا رہی
مریم نواز صاحبہ کو یہ تقریر کسی نے لکھ کر دی یا وہ خود سے بول گئیں ؟
کہتی میری آن جاب ٹریننگ ہو رہی ہے اس سے پہلے میں کبھی کونسلر تک نہی بنی
یہ اعتراض ان پر مخالفین کرتے تھے انہوں نے خود اس کے لیے مزید ایندھن دے دیا
حنا پرویز بٹ کی باتیں حکومت پارٹی کیلیے Embarrassment کا باعث بنتا ہے وہ کتنی سنجیدہ سیریس ٹویٹس کرتی ہیں سب کو پتا ہے۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری
@hinaparvezbutt
اس سوال کا جواب لینا بہت ضروری ہے 🚨
وسیم عباس اپنی 15 سالہ زندگی میں روزانہ مرتا تھا۔
کیا یہ انصاف اس کو ملا کہ وہ اب روزانہ نہیں مرے گا؟
کس چیز پر خوشی منانی ہے؟
سی سی ڈی ماڈل فوری انصاف یا نظام انصاف کی ناکامی کا اعتراف؟
سی سی ڈی طرز کے مبینہ پولیس مقابلے ہمارے عدالتی اور تفتیشی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں
اس ماڈل کی دلچسپ بات یہ ہے کہ جب کوئی سنگین جرم سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے تو گرفتار ملزمان کے ساتھ ایک عجیب اتفاق پیش آتا ہے۔ کبھی وہ پولیس حراست سے فرار ہو جاتے ہیں، کبھی ان کے ساتھی انہیں چھڑانے آ جاتے ہیں اور فائرنگ کے نتیجے میں ملزم مارا جاتا ہے
ملتان میں نوعمر لڑکے وسیم عباس کو گاڑی سے کچلنے کے الزام میں گرفتار توقیر نذیر اور اسلام آباد میں لائبہ اعجاز سے مبینہ فراڈ کے الزام میں گرفتار نعمان کی ہلاکت اس کی تازہ مثالیں ہیں
کیا اب سنگین جرائم کا فیصلہ عدالتوں کے بجائے سوشل میڈیا پر عوامی غصہ اور پولیس مقابلے کریں گے؟ کیا پولیس مقابلوں پر عوام کے ایک حصے کی خوشی دراصل پولیس پر اعتماد کا اظہار ہے یا عدالتوں سے مایوسی کا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ لوگ پولیس مقابلوں کو اس لیے سراہنے لگے ہیں کہ انہیں یقین ہی نہیں رہا کہ عدالتوں سے بروقت انصاف مل سکے گا؟
عام آدمی تو ایک طرف، اپوزیشن جماعتیں اور خود حکمران بھی وقتاً فوقتاً اسی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اصولی جواب یہی ہے کہ نظامِ انصاف درست کیا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ جب تک نظام درست نہیں ہوتا، تب تک کیا کیا جائے؟
فوری حل کیا ہے؟
پورے عدالتی نظام کی اصلاح میں برسوں لگ سکتے ہیں، لیکن فوری انصاف کی فراہمی کے لیے برسوں انتظار ضروری نہیں۔
1۔ سنگین جرائم کے مقدمات کی ترجیحی سماعت: موجودہ عدالتوں میں مخصوص جج اور مسلسل سماعت کا نظام بنایا جائے۔ غیر ضروری التوا محدود ہو اور ہر مقدمے کے فیصلے کے لیے حقیقت پسندانہ مدت مقرر ہو، ملزم کے دفاع کا حق متاثر کیے بغیر۔
2۔ تفتیش کی جواب دہی: پولیس کو محض ملزم گرفتار کرنے کے بجائے سائنسی شواہد جمع کرنے کا پابند بنایا جائے۔ ناقص یا بدنیتی پر مبنی تفتیش پر متعلقہ افسر جواب دہ ہو۔
3۔ استغاثہ اور گواہوں کا تحفظ: پراسیکیوشن کو مضبوط کیا جائے، گواہوں کو تحفظ ملے اور مقدمہ عدالت پہنچنے سے پہلے شواہد کی قانونی جانچ ہو تاکہ مجرم تفتیش کی خامیوں سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
4۔ پولیس مقابلوں کی آزادانہ تحقیقات: زیرِ حراست ملزم کی ہر غیر طبعی موت کی لازمی، آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہوں۔ پولیس اپنے ہی مقابلے کی واحد تفتیش کار نہ ہو۔
5۔ حکومت اور عدلیہ کی مشترکہ جواب دہی: حکومت تفتیش، استغاثہ اور وسائل کی ذمہ داری لے، عدلیہ مقدمات کے مؤثر انتظام اور بروقت سماعت کی۔ پیش رفت اور نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں۔
یہ اقدامات موجودہ نظام کے اندر بھی شروع کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے لیے پورا نظام بدلنے کا انتظار کیوں؟
مجرم کو سزا نہ ملنا انصاف کی ناکامی ہے، لیکن ملزم کا عدالت پہنچنے سے پہلے مارا جانا انصاف کی کامیابی نہیں اگر پولیس مقابلہ ہی انصاف کا متبادل بن گیا تو کل کسی بے گناہ کو مجرم قرار دے کر مارنے سے کون روکے گا؟ عوام کو فوری انصاف چاہیے، پولیس مقابلے نہیں ریاست کا اصل امتحان مجرم کو مارنا نہیں، جرم ثابت کرکے قانون کے مطابق سزا دلوانا ہے۔ بندوق عدالت کا متبادل ہرگز نہیں
ایثار رانا صاحب فرما رہے ہیں عمران خان کا قد آیت اللہ خمینی سے بڑا ہو چکا ہے اب انھیں وزیراعظم بننے کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔
شکر ہے رانا صاحب نے ایک مسلہ تو حل کیا کہ عمران خان کو اب سیاست سے بائے بائے ٹا ٹا کر دینا چائیے
اسے کہتے پروگرام کا وڑ جانا 😂
واہگہ پر بھارتی بالی ووڈ اداکار سارہ خان اور ایوشمان کھرانا اپنی اینٹی پاکستان فلم کی پروموشن کیلئے آئے تو واہگہ پر پاکستانی سائیڈ نے عاطف اسلم کا کوک سٹوڈیو کا تاجدار حرم اونچی آواز میں لگا دیا
😂😂😂😂
اگر اصول یہ ہے تو پھر مساجد میں جو بچوں کے ساتھ مولویوں کی ویڈیوز آتی ہیں ان پر سزائے موت کا قانون وہ بھی سر عام یہاں نافذ کر دیا جائے!
اُس پر اعتراض کسی کو نہیں ہونا چاہیے
کافی فیک خبریں نظر سے گزریں کہ بنگالی جوڑے کو سعودی حکومت نے بوسہ لینے پر سزائے موت سنادی ہے۔
اب حقیقت سامنے یہ آئی ہے کہ وہ دونوں میاں بیوی نہیں تھے،دونوں حرم میں بدکاری کے مرتکب ہوئے۔
سعودی حکومت نے چار سال کے قریب کیس چلایا،پھر سزا سنائی گئی
تو اسی اصول سے قرض اتارو ملک سنوارو والا حساب بھی پونے چار سال میں عمران خان حکومت کو سامنے لانا چاہیے تھا۔
جو اصول وہاں فٹ کیا یہاں بھی کر دیں
موجودہ حکومت کے لوگوں کے پینتیس سال پرانے معاملے سوال آپ کر رہی ہیں عمران کے پانچ سال پرانے معاملے پر کہہ رہی ہیں حکومت کرے۔
بابا رحمتے کے ڈیم کا پیسہ کہاں گیا؟
بلین ٹری سونامی کا پیسہ کہاں گیا؟
القادر یونیورسٹی کے بدلے ملک ریاض سے لیا پیسہ کہاں گیا؟
فرح گوگی اور پنکی پیرنی کا ڈی سی اے سی لگانے کا پیسہ کہاں گیا؟
افغانستان والے جاہل کہتے ہیں ہمارا جہلم تک قبضہ تھا، پانچ سال ابدالی رہا ہے، لیکن اُس کی بات نہیں کرتے جو دو سو سال پنجابیوں کا افغانستان تک قبضہ رہا ہے، دے دو پھر اس منطق سے کابل قندھار ہمیں کم سے کم ہم ان کو انسان کے بچے تو بنا دیں گے۔ سلمان راشد