کشمیر اسمبلی کی بارہ نشستوں کی طرح
باقی اسمبلیوں میں بھی “وہ” اپنے بندوں کو مخصوص نشستوں کے ذریعے اسمبلیوں میں پہنچا دیتے ہیں
کہنے کو ایسے بندے مختلف سیاسی جماعتوں کی مخصوص نشستوں پر آتے ہیں مگر حکومت پر دباؤ جوڑ توڑ کے وقت یہ بندے “اُن” کے اشاروں پر چلتے ہیں
بات بارہ نشستوں کی نہیں
بات قبضہ گیری کی ہے
یہ نشستیں اُن کو اسمبلی پر قبضہ دیتی ہیں
اگر آج یہ نشستیں چھوڑ دیں تو کل کو دیگر اداروں اور اسمبلیوں کی باری آ سکتی ہے
لہذا
آزاد کشمیر اسمبلی کی بارہ نشستیں وہ نہیں چھوڑیں گے چاہے اِس کے لیئے اُنہیں بارہ سو مارنے ہی کیوں نہ پڑیں
ہور فیر پاکیستانیو
آلِ رسول سید
اور حافظِ قران آرمی چیف کے
دؤرِحکومت سے دل بھرا کہ نہیں
اِس کے اب تک کے اٹھائے گئے اقدامات کے زہریلے اثرات ہی اگلے پچاس سال تک مُلک سے زائل نہیں ہوں گے یہ خود تو چند اور سالوں بعد بھاگ جائے گا کیوں کہ خاندان تو پہلے ہی باہر سیٹ کروا لیا ہے
پاکستانیوں
بھولنا نہیں ہے
مہنگائی پولیس کی بدمعاشی پیٹرول کے عذاب
میں تمہیں مریم صفدر شہباز شریف یا پی ڈی ایم
نے نہیں بلکہ دار عاصم منیر اور جرنیلوں نے کیا ہے جنہوں اِن نکموں کو تم پر مسلط کیا ہے جبکہ تم نے اِن کو ووٹ بھی نہیں دیا تھا
اِس لیئے گالیاں عاصم اور فوج کو بھی دو
انسان اپنے اعمال سے اکرم بنتا ہے
آل رسول سید تو اردن کا بادشاہ بھی ہے اسرائیل کا یار
اسمائیلی آغا خان بھی سید آل رسول کہلواتے ہیں جنہیں سُنّی کیا شیعہ بھی نہیں مانتے
جب اِن دو کا یہ حال ہے
تو دھلی سلطنت کے دؤر
یا 1947 میں سید بننے والوں کی کیا اوقات
خروج مہدی کا کیا بنے گا
دہلی سلطنت کے دؤر یا 1947 میں سیّد بننے والے دیسی بَنی شودر
سے بھی زیادہ مستند اردن کے بادشاہ کا سلسہ نسب علی و فاطمہ سے جوڑا جاتا ہے
یہ خاندان اسرائیل کا پکّا یار ہے
اگر مہدی نے آنا ہے تو یا تو اِس خاندان سے ہوگا یا اسمائیلیوں کے آغاخان کے خاندان سے
کیا ایسا مہدی قبول ہے؟
زرداری جیل میں تھا تو بے نظیر آصفہ سے حاملہ ہوئیں یہ بات آج بھی مزاق یا طعنے کے طور پہ پی پی کو تنگ کرتی ہے
جنید کی بیگم بھی گلف سٹریم جہاز پہ ہنی مون کے نتیجے میں اگر حاملہ ہوئیں تو وہ بچہ بھی اُسی طرح نواز شریف لیگ کے لیئے ساری زندگی شرمندگی رہے گا جیسے پی پی کے لیئے آصفہ
اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب، واصف علی واصف، پروفیسر رفیق
یہ سب اپنے اپنے وقت کے قاسم شاہ ہی تھے
جذباتی لفاظی سے جہلا کو پھدو بنانے کے ماہر
سرکاری پینشن گھر گاڑی جُھک کے سلام کرنے والوں کی قطار ہو تو پھر
پاکستان خدا نور
اللہ کا راز ہی لگتا ہے
اور ہر دوسرا شخص
صاحب نظر رجال الغیب
کیا سندھ میں کبھی کوئی ایسا شخص بھی وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے جو سندھ کا مستقل باشندہ تو ہو مگر اس کی مادری زبان سندھی کے علاوہ کوئی اور زبان ہو مثلاً اردو؟
آئین تو منع نہیں کرتا تو پھر آج تک بنا کیوں نہیں؟