آج مستونگ میں ہونے والے مسلح حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ صاحب اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت کی خبر سن کر شدید دکھ ہوئی۔
مجھے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات، خصوصاً ان کی ضمانت کی درخواستوں میں، متعدد بار مستونگ میں حکیم صاحب کی عدالت میں پیش ہونے کا موقع ملا۔ ان کی زندگی میں بہت سی باتیں ایسی تھیں جو میں نہیں لکھ پائی لیکن آج مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ دراصل کیسے انسان اور کیسے جج تھے۔
میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ عبدالحکیم کاکڑ ایک نہایت دیانت دار، اصول پسند اور باوقار جج تھے۔ وہ اکثر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات کی قانونی نوعیت پر مجھ سے کھل کر بات کیا کرتے تھے۔ کئی بار انہوں نے مجھ سے کہا کہ حالات چاہے جس نہج پر بھی ہوں، میرے فیصلوں میں آپ کو ہمیشہ قانون کی بالادستی اور انصاف کے اعلیٰ تقاضوں کی پاسداری نظر آئے گی۔
ان کی یہ باتیں ان سیاسی گھٹن زدہ حالات میں میرے لیے ہمیشہ امید کی ایک کرن ہوا کرتی تھیں، اور بعد میں ان کے فیصلوں نے بھی ان کے ان الفاظ کو سچ ثابت کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور گلزادی بلوچ کو تین مقدمات میں ضمانت دی، جبکہ بیبرگ بلوچ کو ایک ایف آئی آر میں ضمانت کے مرحلے پر ہی مقدمے سے بری کر دیا۔ ان کے فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ دباؤ سے بالاتر ہو کر قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے پر یقین رکھتے تھے۔
تربت میں اپنی تعیناتی کے دوران بھی انہوں نے اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں سبغت اللہ شاہ جی کی ضمانت منظور کی اور ایک بار پھر دباؤ کے بجائے قانون کی بالادستی کو ترجیح دی۔
مجھے آج بھی مستونگ کی ایک پیشی یاد ہے جب محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) ایک کم عمر لڑکے کو مختلف الزامات کے تحت عدالت میں پیش کر رہا تھا۔ حکیم صاحب نے اس بچے سے پوچھا، “تمہیں کب گرفتار کیا گیا تھا؟” بچے نے جواب دیا، “کل۔” اس پر حکیم صاحب نے سی ٹی ڈی کے انچارج کی طرف دیکھ کر کہا، “اس بچے کے چہرے کو دیکھو، ایسا لگتا ہے جیسے اس نے برسوں سے سورج کی روشنی نہیں دیکھی۔ اور تم لوگوں نے اسے اس قدر ڈرایا اور دھمکایا ہے کہ اب وہ تمہاری ہر بات میں ہاں ملا رہا ہے۔” پھر انہوں نے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں سے کہا، “اللہ سے ڈرو۔”
آج جب ان کی شہادت کی خبر دیکھی تو دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ صرف ایک انسان کو نہیں مارا گیا، بلکہ انصاف پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ حکیم صاحب قانون کی حکمرانی، انصاف، آئینی حقوق اور عوام کے وقار پر یقین رکھتے تھے
میں جج عبدالحکیم کاکڑ کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اور ہمدردیاں اس غم کی گھڑی میں ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔
معزز شہید عبدالحکیم کاکڑ صاحب، بلوچستان کے عوام آپ کو ہمیشہ آپ کی دیانت، اصول پسندی اور انصاف کے ساتھ مضبوط وابستگی کے لیے یاد رکھیں گے۔
آپ کے اصول اور آپ کی جرأت اُن لوگوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے جو انصاف اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔
ہمیشہ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اگر اسی بنیاد پر گرفتار کیا جاتا ہے تو جیل میں بھی اپنے والد سمیت دیگر لاپتہ افراد کے حوالے سے سوال اٹھاتی رہونگی۔ - سمی دین
بی وائی سی رہنماء سمی دین بلوچ کا والد کے جبری گمشدگی کو سترہ سال مکمل ہونے پر ایک روز قبل ویڈیو بیان
The ongoing intimidation, surveillance, and harassment of Sammi Deen Baloch and her family is a blatant act of retaliation against a woman who has spent 17 years peacefully demanding the return of her forcibly disappeared father, Dr. Deen Mohammad Baloch.
فرانسیسی میڈیا نا انکشاف: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ارٹمی وار نوبل امن داد کن پن کننگا
دی بلوچستان پوسٹ
فرانسیسی اخبار Le Monde دا ہیت ءِ پاش کرینے کہ بلوچ بندغی حق آتا پنی آ باسک ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نا پن اسہ رنگ ارٹمیکو وار
https://t.co/0JoBRPb7JJ
دا رنگ ئسے نا رُژن ئسے تہار ہٹی ودی مریک
دا قید ؤ بند ہٹی ہراکہ مسخت ان پدی مریک
مُدام مہر ؤ عاجزی نا بشخکک سُرورے دا
مزاحمت نا نشہ ٹی ہراکہ بیخُدی مریک
محراب بلوچ
https://t.co/LwJgqMs6AS
𝗘𝘃𝗲𝗿𝘆 𝗔𝗰𝘁 𝗼𝗳 𝗢𝗽𝗽𝗿𝗲𝘀𝘀𝗶𝗼𝗻 𝗛𝗮𝘀 𝗚𝗶𝘃𝗲𝗻 𝗕𝗶𝗿𝘁𝗵 𝘁𝗼 𝗥𝗲𝘀𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻𝗰𝗲
𝗦𝗮𝗺𝗺𝗶 𝗗𝗲𝗲𝗻 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵, 𝗖𝗲𝗻𝘁𝗿𝗮𝗹 𝗠𝗲𝗺𝗯𝗲𝗿 𝗼𝗳 𝘁𝗵𝗲 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵 𝗬𝗮𝗸𝗷𝗲𝗵𝘁𝗶 𝗖𝗼𝗺𝗺𝗶𝘁𝘁𝗲𝗲, 𝗼𝗻 𝘁𝗵𝗲 𝗟𝗶𝗳𝗲 𝗜𝗺𝗽𝗿𝗶𝘀𝗼𝗻𝗺𝗲𝗻𝘁 𝗼𝗳 𝗗𝗿. 𝗠𝗮𝗵𝗿𝗮𝗻𝗴 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵 𝗮𝗻𝗱 𝗦𝗮𝗶𝗯𝗴𝗮𝘁𝘂𝗹𝗹𝗮𝗵 𝗦𝗵𝗮𝗵𝗷𝗶 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵
"The manner in which the cases of BYC's arrested leadership have suddenly been accelerated from jail courts to faceless trials conducted via video link, to repeated adjournments of hearing dates reflects a deep frustration and restlessness on the part of the judiciary. The repeated insistence of the prosecutor that the trial must proceed and that they must be convicted made it abundantly clear to us that the orders have come from above, and that the court will now move swiftly to complete its formalities.
The unjust sentence handed down on 22 June is not merely a travesty of a fair trial, it is the funeral of this country's own law and constitution, and it will stand as one of the darkest chapters in history. The very FIR upon which this conviction rests is itself contested: two separate FIRs have been registered over the same incident, charging a single individual with murder in two entirely different ways. This alone makes plain that this case does not exist in any legal or factual sense. And the manner in which this fabricated killing has been used as the basis to sentence our colleagues, BYC leaders to life imprisonment is nothing but the state's frustration, and its humiliation.
A question must be raised: if this case and this FIR regarding a killing genuinely existed, then why have BYC leaders been detained for the past fifteen months? If the evidence was there, why did it take so long — why were they first trapped under MPO before this case was constructed around them? All of this has been exposed before the entire world that how the state has used its own laws and constitution to imprison BYC leaders.
When extrajudicial killings, enforced disappearances, and mutilated bodies are dumped on a daily basis in Balochistan, I hold every security force, every brigadier, every colonel, every intelligence agency, MI, ISI, and all others — individually deserving of the severest accountability. They believe they have delivered justice. A person can only be called just when they apply the same standard to both sides.
It is clear what kind of deliberate conspiracy is at work in Balochistan. One aimed at suppressing the most prominent voices, at extinguishing in the hearts of the people the very concept of peaceful and organized struggle. But we will not be shaken. Living in this very ground, we will carry this struggle forward, we will carry the fight for human rights forward.
The mission that belonged to Dr. Mahrang and Saibgatullah Shahji belongs to all of us, to every child of Balochistan, and to every child who has witnessed state brutality and grown up under its shadow. And how many people will you throw into prisons? How many voices will you silence? You believe that through such tactics you can reduce people to silence but absolutely not. You have been doing exactly this for the past seventy-six years, and you have seen what the consequences have been.
Your every act of oppression has given birth to resistance. We consider this your greatest failure, and through our struggle, we will prove it to you."
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders
بلوچ راج!
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی سبغت اللہ، اور دیگر ساتھیوں کو ایک منظم ریاستی پالیسی کے تحت خاموش کروانے، بلوچ عوام کی آواز کو دبانے اور سیاسی جدوجہد کو کچلنے کے لیے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ صرف چند سیاسی کارکنوں کے خلاف نہیں بلکہ پوری بلوچ قوم کی سیاسی آواز، اجتماعی شعور اور پرامن مزاحمت کے خلاف ایک جابرانہ اقدام ہے۔
بلوچ قوم!
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک عوامی تنظیم ہے، جس کا بنیادی مقصد بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی، ریاستی جبر، عسکری پالیسیوں، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، تشدد، خوف اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔ بی وائی سی نے دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ بلوچ قوم پاکستانی ریاست کی جبر پر مبنی اس نظام کی شکنجے میں ہے جہاں عوام کے بنیادی سیاسی، انسانی اور قومی حقوق مسلسل پامال کیے جا رہے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بندوق کے بجائے ماس موبلائزیشن، خوف کے بجائے شعور، خاموشی کے بجائے آواز، اور انتشار کے بجائے تنظیم کا راستہ اپنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس کی سیاسی جدوجہد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیونکہ جابر قوتیں ہمیشہ منظم عوامی شعور سے خوفزدہ رہتی ہیں۔
غیور بلوچ عوام!
جس طرح بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ممبران نے عوامی نمائندگی کرتے ہوئے قوم کو یکجا کیا، پاکستانی ظلم و جبر کو بے نقاب کیا، اور یہ ثابت کیا کہ ظالم چاہے جتنا طاقتور کیوں نہ ہو، منظم سیاسی جدوجہد کے سامنے ہمیشہ کمزور پڑتا ہے، اسی طرح آج بھی اسی شعور، اسی حوصلے اور اسی یکجہتی کے ساتھ ریاستی جبر کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہ وقت خوف کا نہیں، قومی ذمہ داری نبھانے کا ہے۔یہ وقت تنہائی کا نہیں، اجتماعی یکجہتی کا ہے۔
ہمیں یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ بلوچستان میں سیاسی جدوجہد کرنے والوں کو تشدد، مقدمات، قید، ناانصافی اور عمر قید کی سزاؤں کے ذریعے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی اداروں اور بااثر قوتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بلوچ عوام اپنی سیاسی قیادت، اپنے کارکنوں اور اپنے قومی حقوق کے لیے جمہوری میدان میں کھڑے رہیں گے۔
بلوچ راج!
آج وقت کا تقاضا بھی یہی ہے اور زندانوں میں قید ہمارے رہنماؤں کا حق بھی یہی ہے کہ ہم انہیں اس مشکل گھڑی میں تنہا نہ چھوڑیں۔ بلوچ ہونے کے ناتے طلبہ، اساتذہ، دانشور، لکھاری، کاروباری حضرات، مزدور، سرکاری ملازمین، ٹرانسپورٹرز، خواتین، نوجوان اور ہر عام و خاص فرد پر یہ سیاسی و قومی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی اور دیگر سیاسی کارکنوں کے خلاف اس غیر منصفانہ ریاستی فیصلے کے خلاف منظم انداز میں اٹھ کھڑے ہوں۔ ہمیں اپنے اپنے دائرے میں حکومتِ وقت اور جبر کے نظام کے خلاف پرامن سوشل بائیکاٹ کو ایک مؤثر سیاسی عمل بنانا ہوگا۔ اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی، لکھنا ہوگا، بولنا ہوگا، عوام کو آگاہ کرنا ہوگا، سفر و ٹرانسپورٹ کے بائیکاٹ میں حصہ لینا ہوگا، اور اپنے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ کھڑے ہونے کا عملی ثبوت دینا ہوگا۔
باشعور عوام!
ہمیں چاہیے کہ خواہ ہم کسی بھی طبقہ فکر، ادارے، پیشے یا علاقے سے تعلق رکھتے ہوں، دلیری، جرات اور شعور کا مظاہرہ کریں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی غیر منصفانہ قید و سزا کے خلاف منظم ہو کر کھڑے ہوں۔
* اگر ہم لکھ سکتے ہیں تو اس جبر کے خلاف لکھیں۔
* اگر ہم بول سکتے ہیں تو عوامی سطح پر آواز بلند کریں۔
* اگر ہم کاروباری افراد ہیں تو تنظیم کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنائیں۔
* اگر ہم ٹرانسپورٹرز ہیں تو پرامن بائیکاٹ میں اپنا کردار ادا کریں۔
* اگر ہم سرکاری ملازمین ہیں تو ہڑتال کی حمایت میں جمہوری اور پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔
* اگر ہم طلبہ ہیں تو تعلیمی اداروں میں سیاسی شعور، مکالمہ اور یکجہتی کو مضبوط کریں۔
* اگر ہم لکھاری، دانشور یا صحافی ہیں تو اس ناانصافی کو تاریخ، سماج اور دنیا کے سامنے بے نقاب کریں۔
عوامی تحریک کی اصل طاقت عوام ہیں، اور جب عوام منظم ہو جائیں تو کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے سیاسی رہنماؤں کو جیلوں میں تنہا نہ چھوڑیں، بلکہ ہر سطح پر ان کے ساتھ اپنی یکجہتی کو عملی شکل دیں۔ ہمیں ردعمل کے بجائے منظم سیاسی عمل اختیار کرنا ہوگا۔ ہمیں منتشر آوازوں کے بجائے اجتماعی آواز بننا ہوگا۔ ہمیں وقتی احتجاج کے بجائے مسلسل عوامی جدوجہد کو مضبوط کرنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو جبر کو بے نقاب کرتا ہے، ناانصافی کو للکارتا ہے، اور عوام کو اپنی طاقت کا احساس دلاتا ہے۔
FOR IMMEDIATE RELEASE
International Human Rights Foundation (IHRF) Condemns Shameful Life Sentence for Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah by Pakistani Authorities
The Hague, The Netherlands – June 23, 2026 – The International Human Rights Foundation (IHRF) expresses its strongest condemnation regarding the reprehensible life sentence handed down by a Pakistani Anti-Terrorism Court to prominent human rights defender Dr. Mahrang Baloch and her colleague, Sibghatullah Shah .
This verdict is a blatant miscarriage of justice and a devastating blow to the rule of law in Pakistan. Dr. Baloch, a leader of the Baloch Yakjehti Committee (BYC), has been a fearless and peaceful voice for the Baloch people, courageously campaigning against enforced disappearances, extrajudicial killings, and state repression in Balochistan . Her only crime is her dedication to exposing grave human rights violations .
The IHRF is deeply alarmed by the egregious procedural irregularities and denial of due process that characterized this “secret trial” . A proceeding that denies the accused the right to effectively cross-examine witnesses or present a proper defense, held in a “faceless court” on jail premises, cannot be considered a legitimate judicial process . This is not justice; it is a politically motivated weaponization of the judicial system to silence dissent and intimidate human rights defenders .
We echo the calls of Amnesty International and other international bodies, who have condemned this verdict as an affront to the right to a fair trial . The state’s cynical misuse of anti-terrorism laws to prosecute peaceful activism represents a dangerous escalation in the crackdown on fundamental freedoms in Pakistan .
The IHRF urges the Government of Pakistan to immediately and unconditionally release Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah, and to ensure their safety and well-being.
We call upon the international community, including the United Nations Human Rights Council, to:
1. Denounce this injustice and place Pakistan under close scrutiny for its escalating human rights violations.
2. Demand transparency in all legal proceedings against human rights defenders and a full investigation into the circumstances of this case.
3. Pressure Pakistani authorities to cease the persecution of peaceful activists and uphold their international obligations regarding due process and fundamental rights.
The IHRF stands in solidarity with Dr. Mahrang Baloch, Sibghatullah Shah, and all peaceful activists in Pakistan who risk their lives for justice and human dignity.
To the oppressor: your prisons are not big enough to cage an ideology.
You can lock up our leaders. You can terrorize our families. But you cannot hang the truth. And you will never, ever break the resolve of the Baloch people.
#Balochistan
𝗣𝗥𝗘𝗦𝗦 𝗖𝗢𝗡𝗙𝗘𝗥𝗘𝗡𝗖𝗘 | 𝗟𝗲𝗴𝗮𝗹 𝗧𝗲𝗮𝗺 𝗼𝗳 𝗗𝗲𝘁𝗮𝗶𝗻𝗲𝗱 𝗕𝗬𝗖 𝗟𝗲𝗮𝗱𝗲𝗿𝘀
Today the legal team of Dr. Mahrang Baloch and other detained BYC leaders held a press conference in which raised serious concerns regarding the ongoing legal proceedings, including the shift from open court hearings to jail trials and then faceless proceedings, prolonged detention, concerns regarding judicial impartiality, and restrictions on public access to the judicial process.
The legal team state that the detained BYC leaders are currently holding a sit-in protest inside the jail premises against faceless trials. They maintain that their cases should be heard in open court in accordance with constitutional guarantees, principles of transparency, and the right to a fair trial.
During this press conference, the legal team emphasized the constitutional right to a fair and public trial, called for the restoration of open court proceedings, and urged authorities to uphold transparency, due process, and judicial accountability.
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders
One of the participants of the Baloch Raaji Muchi was shot dead by F.C. paramilitary forces during the intense crackdown. The forces then snatched his lifeless body from the hospital, which is very disturbing. The deceased could not be identified due to the chaos caused by the forces. We demand that his body be returned, so the deceased can be identified and handed over to the family for further ceremonial rites.
#GwadarIsUnderSiege
#WeSupportBalochRaajiMuchi
#BalochNationalGathering
نے سما ءِ ادی نی شیزال ئسے اوس ،ننا یقن او گمان آن زیات شیرزال ئسے اوس۔
ننے یقین ءِ نی اندون محکم مسونوس اندون محکم سلوس آک،
دارو نا ءِ ہرکس فون کننگ ءِ ارفیننگ ءِ نُم امرور ءِ لمہ امر ءِ ای کل آتے پاننگوٹ نن جوان اُن کنا لمہ ماہرنگ نا لمہ ءِ گڑا ماہ رنگ نا وڑا مضبوط ءِ ۔
مننگ کیک اینو دژمن خواشی کننگ ءِ کہ نن دا جنگ ءِ کٹان آک ولے ای پاوہ نا دا جنگ ءِ کنا ایڑ کٹا ماہ رنگ کٹا تا انتئہ کہ او ماہرنگ آن اندون خولیس نا آماچ ئسورہ کہ ہمو جج کہ سودا مسوس ہمو جج اندا فیصلہ تننگ نا ٹائم نا خن تے تون خن شاغیننگ کتوکا اندا وجغان او بند کمرہ ٹی دوز آتے امبار نا کیس ءِ چلیفے او فیصلہ ءِ تیس آک،
نے سما ءِ ادی کورٹ ئنا سٹاف نا کاٹم دارو کنا مونا شیف ئسکا انتئہ کہ اوفتے کُل ءِ سما ئسکا کہ ہمرو نا انصافی ئس مسونے ،
نن ایڑ آک ایلم وخت ئس دم دارینگان ءِ نے آ بسون ءِ گڑا نی ننے پاریس ءِ نُما ایڑ دا گل زمین کہ دریا ٹی پوڑی نا کچ ام قربانی تننگ اف دا گل زمین دا نا باتی آک باز کرزیرہ ءِ ای اوفتے کن ہچ ئس ام کننگ افیٹ ،نا دا ہیت آک ننے ہمت تیسونو نا تربیٹ ننے ہمت تیسونے نا سیاسی تربیت ننا کسر شونی ءِ کرین ءِ او اندون کرو ءِ۔
ننے سما ءِ دژمن بسک نی جیل ئنا تہٹی باز پیرغننگ نا کوشست کرءِ ولے نی
ماہ ران نا مش امبار تینا اصول آتے ٹی سلوک ئسوسا تینا ڈغار نا باتی تا حق آتے کن سالوک ئسوسا اوفتا حق آتا سودہ ءِ کتوس آک تینا شہید آتا دیتر تا سودا ءِ کتوس آک او دژمن حبکہ مسک کہ داخا مراحات تننگ آن پد بی نن ماہ رنگ ءِ پیرغننگ کتون آک اندا وجغان او دونو فیصلہ ئس تینا دلار آ ضمیر فروش عدالت آتا زریعہ آن تیرفے کہ نے پیرغننگ کرور آک ،
ولے ای اوفتے اندا پاننگ خواہ نُما مون آ ماہ رنگ ءِ غفار جان نا مسیڑ ءِ ہمو غفار جان نا کہ ہرا تینا ساہ ءِ ندر کرءِ دا گلزمین کہ ولے تینا مقصد آن پد سلتو ۔۔۔
مھکم سلیس کنا دلیر آ باوہ نا شیزال مسیڑ۔۔۔۔!🌹
ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کو دی گئی سزا آج نہیں تو کل کالعدم ھونی ہی ھونی ہے البتہ ایک طرح سے یہ سزا اچھی ہے کیونکہ اب پرامن جدوجہد والوں کو سکون آجائے گا کہ یہ ریاست پاکستان نہیں ہے بلکہ ریاست پنجابستان ہے اور یہ امن کی زبان نہیں بلکہ صرف بشیر زیب کی زبان سمجھتی ہے
#DrMahrangBaloch