امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
اس شخص کے گناہ سے بڑا کوئی گناہ نہیں جو مالدار ہونے کے باوجود کسی ضرورت مند کو (اس کے حق سے) محروم کر دے۔
غررالحکم، حدیث ۱۰۷۳۸
جو شخص دنیاوی نعمتوں میں اپنے سے بہتر لوگوں کو دیکھتا ہے، اس کے دل میں شکوہ یا حسد پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، جو بربادی کا سبب ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ وہ اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھے تاکہ شکر، صبر اور قناعت پیدا ہو۔
"جب حالات تم پر حاوی ہوں اور تم اپنے بدترین دنوں سے گزر رہے ہو، تو بعض اوقات تمہیں وہاں سے راحت ملتی ہے جہاں سے تمہیں گمان بھی نہیں ہوتا، یہ صرف اس نیکی کا بدلہ ہے جو تم نے کسی کے لیے کی اور بھول گئے، لیکن خدا اسے نہیں بھولا تھا."
اگر تم لوگوں میں سے کسی سے کوئی چیز طلب کرو اور وہ پوری نہ ہو تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے وہ چیز تمہارے لیے مقدر نہیں فرمائی تھی اس کے پورا نہ ہونے پر لوگوں کو ملامت نہ کرو کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے وہ چیز تمہارے لیے مقدر کر دی ہوتی تو کوئی شخص بھی تمہیں اس سے محروم نہیں کر سکتا
زندگی بہت مختصر ہے اور ہر شخص اپنی جگہ کسی نہ کسی جنگ یا الجھن میں مصروف ہے اگر ہم کسی کے سفر کو آسان نہیں بنا سکتے تو کم از کم اپنے تجسس اور تبصروں سے اُن کے راستے کے پتھر نہ بنیں اپنی توجہ کو دوسروں کی خامیوں سے ہٹا کر
اپنی ذات کی تعمیر پر لگانا ہی حقیقی دانشوری ہے..
زندگی میں ہر بات پر ردِعمل دینا ضروری نہیں ہوتا، نہ ہر موقع پر بولنا حکمت ہے، اور نہ ہر مسئلے کو فوراً حل کرنا لازم ہے۔ بعض اوقات خاموشی سب سے بہتر جواب ہوتی ہے، اور نظر انداز کرنا ہی سب سے مؤثر علاج۔
“کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادلوں کو چلاتا ہے، پھر انہیں آپس میں جوڑ دیتا ہے، پھر انہیں تہہ در تہہ کر دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بارش اس کے درمیان سے نکلتی ہے…”سورۃ النور (24:43)
امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (ع):
ضَع فَخرَكَ واحطُط كِبرَكَ و اذكُر قَبرَكَ.
اپنے فخر کو ترک کرو، اپنے تکبر کو ختم کرو،
اور اپنی قبر کو یاد رکھو
نہج البلاغہ،
قسم ہے انجیر اور زیتون کی،اور صحرائے سینا کے پہاڑ طور کی،اور اس امن و امان والے شہر کی،کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے،
﴿سورۃ التین ، ۱-۴﴾
يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ
جس دن چھپی ہوئی باتوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی
فَمَا لَهُ مِنْ قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ
تو اس کے پاس نہ کوئی قوت ہوگی اور نہ کوئی مددگار ۔
"انسان جتنا زیادہ باشعور ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ مہربان ہوتا ہے۔ جو شخص گہرائی کو چھوتا ہے، وہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچا سکتا؛ تمام برائیوں کے ذرائع جہالت سے آتے ہیں۔"
اور ہر وہ چیز جو اللہ کے لیے نہ ہو،
اس کی برکت نکال لی جاتی ہے؛
کیونکہ رب وہی ہے جو اکیلا بابرکت ہے، اور برکت سب اسی سے ہے، اور ہر وہ چیز جو اس کی طرف منسوب ہو بابرکت ہے.