میرے پیارے محسن نقوی صاحب۔۔
یہ ہے وہ بدترین کارگردگی کا ایک چھوٹا سا نمونہ جو ہم سب کے لیکن آپ کے سب سے زیادہ پیارے محمد علی رندھاوا صاحب اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔
یہ آج کی ویڈیو ہے اور حالت دیکھ لیں جو ایف سکس مرکز میں کافی بینز اور دیگر کیفے کی طرف جانے والے فٹ پاتھ کی ہے۔ یہ پوش ایریا ہے جہاں روزانہ ہزاروں لوگ آتے ہیں۔اس فٹ پاتھ کو استمعال کرتے ہیں۔ یہاں روزانہ کروڑں کا ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے لیکن سروس ملاحظہ فرما لیں اپنے ادارے سی ڈی اے کی جس کے آپ باس ہیں۔ کئی لوگ بے دھیانی میں یہاں گر کر زخمی ہوچکے ہیں۔
اب ان فٹ پاتھ ٹائپ پر نہ پیسہ لگے گا نہ ترجیح ہوگی کیونکہ اس میں چند ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں تو افسران کو لگتا ہے ہماری چونچ کیسے گیلی ہوگی؟ وہ افسران چار پانچ ارب روپے سے کم منصوبے میں ہاتھ نہیں ڈالتے۔
چونچ گیلی اس وقت ہوگی جب اتاترک ایونیو پر سڑک ون کرنے کے نام پر درختوں کی تباہی ہوگی کیونکہ بجٹ بڑا خرچ ہوگا۔
یہ ہے وہ دو سال کی کارگردگی اس افسر کی جسے آپ نے اب ڈی جی پاسپورٹ لگایا ہے۔ یہاں جو جتنی بری کارگردگی دکھاتا ہے وہی عہدے اور ترقیاں پاتا ہے۔۔ ان ایشوز کو فکس کرنے کی بجائے آپ ہر دفعہ درختوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
آپ سے بڑی توقعات تھیں۔ آپ کا بڑا نام تھا، آپ کی بڑی پروفیشنل رپیوٹیشن تھی لیکن افسوس آپ بھی حاکم بن کر اس رنگ میں رنگے گئے یا زکوٹا جنوں/بابوز نے آپ کو بھی اپنے رنگ میں ڈھال لیا۔ یہ ہے آپ کے سی ڈی اے کا باس بننے کے دو سال بعد کا شہر ۔۔ہوسکتا ہے بہت ساروں کو لگے کہ یہ بھلا کون سی بڑی بات ہے۔ لیکن شہر ان چھوٹی چھوٹی خرابیوں سے برباد ہوتے ہیں۔
@MohsinnaqviC42@CMShehbaz@CDAthecapital@betterpakistan@DrMusadikMalik@DrTariqFazal@BilalAKayani@PalwashaKhan18@ShaziaAttaMarri@HinaRKhar@AyazSadiq122@SohailAshrafGor@RandhawaAli
دو ماہ قبل PTI کے بلائے گئے جرگہ سے فوج کے ہاتھوں اغواء ھونے والے پشاور یونیورسٹی کے طلباء تاحال بازیاب نہیں ھوئے ہیں اور سہیل آفریدی کے لئے نہ صوبہ اور نہ عوام اہم ہیں،صرف رنگ بازی کرسکتا ہے اور اب طلباء نے 21 جنوری کو یونیورسٹی سے وزیراعلی ہاؤس تک لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے
اپنے لیڈر کی رہائی کے لئے جدوجہد کرنا ہر PTI کارکن پر فرض ہے لیکن سہیل آفریدی کو تھوڑا وقت نکال کر صوبے کی عوام کو بھی دیکھنا چاہیے اور PTM کارکنان اور طلباء کو اغواء ھوئے 45 دن اور پشاور یونیورسٹی کے طلباء دو ہفتے سے احتجاج پر ہیں لہذا ایک نظر ادھر بھی
#PeshawarUniversitySitin
آج جب میں لاڑکانہ جیل پہنچا، تو دیکھا کہ جیل کے باہر پولیس کی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ معلوم ہوا کہ مشر علی وزیر کو ایک بار پھر سکھر سنٹرل جیل منتقل کیا جا رہا ہے۔ آخر یہ کون سا قانون ہے جس میں ایک بے گناہ کو یوں دربدر کر کے اس کی تذلیل کی جاتی ہے؟
#FreeAliWazir#FreeSamadlala
بین الاقوامی معیار کے مطابق 100 دہشتگردوں مار دئیے تو 2 عام شہری غلطی سے مارنا کولیٹرل ڈیمیج ہے لیکن ہمارے علاقوں میں تو 21، 21 شہری مار جاتے ہیں اور انکا کوئی دہشتگرد نہیں ہوتا تو یہ وار کرائم ہے، وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی
You've stopped Pashtuns from trading with around 12 outlets in Afghanistan.
Why are you being aggressive towards Afghanistan? You still claim that you're ready to talk to India, so why not Afghanistan?
آج کل افغانوں کو احسان فراموش کہنا ایک فیشن بن چکا ہے کیونکہ اقتدار میں تبدیلی کے بعد ریاست کی پالیسی بھی بدل جاتی ہے ہمارے ایک سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کہا کرتے تھے کہ افغان تو پاکستان کی جنگ لڑ رہے تھے اگر افغان پاکستان کی جنگ لڑ رہے تھے تو پھر احسان فراموش کون ہے؟
طالبان کو افغانستان میں جمہوریت کے خلاف پناہ دی گئی اور افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گردی کی تربیت فراہم کی گئی
طالبان ہمارے اثاثے ہیں مشرف
طالبان ہمارے بچے ہیں
حمید گل
ٹی ٹی پی ہمارے اپنے لوگ ہے فیض حمید افغانستان میں جمہوریت کے خاتمے اور طالبان کی فتح کو پاکستان کی فتح قرار دے کر جشن منایا گیا۔
افغان خارجه وزیر:
سوال یہ ہے کہ اگر واقعی افغانستان دہشت گردی کا مرکز ہوتا، تو پھر ایران، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور چین جیسے ہمارے دیگر ہمسایہ ممالک کیوں شکایت نہیں کرتے؟ صرف پاکستان ہی کیوں؟
آج آپ افغانیوں کو دشمن کہہ رہے ہیں 1965 کی جنگ میں افغانیوں نے کہا تھا جاؤ انڈیا سے لڑو اس بارڈر پر آپ کو ایک فوجی رکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ افغانی آپ کیساتھ مل کر انڈیا سے لڑے تھے
مشرف نے افغانیوں کے قتل عام کے بدلے ڈالر لیے تھے
جاوید ہاشمی
علی وزیر جیل میں ہے۔ اس نے کیا کیا ہے؟ اگر اس نے جذبات میں کچھ کہہ دیا ہے تو آپ اس کو یہ سزائیں دینگے؟ PTM کے ساتھ ہمارے بہت پکے روابط ہے
ہم خان شھید کے دور سے اینٹی فیوڈل، اینٹی امپیریلسٹ، پرو ڈیموکریٹک فکر رکھتے ہیں۔ دنیا میں جس کے ساتھ بھی ظلم ہو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہونگے۔
باجوڑ میں کرفیو کے دوران گھروں پر مارٹر گولے پھینکنا اور معصوم بچوں اور خواتین کا قتل ناقابل برداشت ہے،اس ظلم کو بند کیاجائے،لوگوں کو اپنے ہی وطن میں مہاجرت پر مجبور نہ کیا جائے،عوام اس ظلم کیخلاف مزاحمت کریں۔
کس چیز کا جشن منایا جارہا ہے؟ کیا اِس مُلک کا کوئی بھی شہری آزاد ہے؟ اسلام آباد کے آرام دہ گھروں میں رہتے شہریوں کو اِس تکلیف کا اندازہ نہیں کہ جو اُن کے لیے جشن کئ آتش بازی ہے وہی دھماکے باجوڑ کے شہریوں کے لیے خوف کی علامت ہیں اور یہ آتش بازی حُکمرانوں کے ہاتھوں پر “گُڈ اینڈ بیڈ طالبان” پالیسی کی وجہ سے لگا پختونوں کا خون نہیں دھوسکتے۔ آپریشن شیر دل سے لے کر آپریشن ضربِ عضب تک ہر آپریشن کی کامیابی کا جشن منانے والے سابقہ آرمی چیفس کی مراعات واپس لے کر اُنہیں کوئی کٹہرے میں کھڑا کرے گا کہ اگر آپکے آپریشن کامیاب تھے تو دہشتگرد واپس کیسے آگئے؟ کیا صُبح جشن کی تقریبات میں موجود کسی شخص میں یہ جرات ہوگی کہ سوال کرے کہ ہم جنگ کا جشن منا رہے یا جنگی معیشت کا یا گورا صاحب سے آزادی لے کر براؤن صاحب سے غُلامی اختیار کرنے کا؟ مُجھے خدشہ ہے کہ بدقسمتی سے پچھلے چند سالوں میں ہماری ریاست نے پاکستان کے وجود پر جو زخم لگائے ہیں یہ جشن اُن پر مرہم نہ رکھ سکے گا کیونکہ جب ہم آزادی کا جشن منارہے ہوں گے تو ہمارے ضمیر کی علامت علی وزیر اور ماہرنگ بلوچ قید ہوں گے۔ غداری کے فتوے لگاکر ہم اپنے جرائم نہیں چُھپا سکتے اور آج جو دوسروں کو اِس آگ میں جلتا دیکھ کر سہمے ہوئے ہیں وہ یاد رکھیں یہ آگ کل اُن کے گھروں تک بھی پہنچے گی اور اُس وقت اُن کے ساتھ آگ بُجھانے کے لیے کوئی بچا نہیں ہوگا۔ خود غرض اور موقع پرست پالیسی سازوں نے آج ہمیں اُس جگہ لا کھڑا کیا ہے کہ ہمیں جشن منانے سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔
اس شخص نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جو اکثر لوگ صرف خوابوں میں سوچتے ہیں ، حق کے لیے گرجی ہوئی آواز، ظلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا جسم، اور امن کا بلند پرچم!
اورکزئی کے غیرت مند نوجوانو! یہ تمہاری امید ہے، تمہاری پہچان ہے، تمہاری لڑائی کا سپاہی ہے.اسے اکیلا چھوڑنا اپنی آنے والی نسلوں کو اندھیروں میں دھکیلنے کے برابر ہے.
اٹھو! ایک ہو جاؤ! اور اس کے پیچھے ایسی مضبوط دیوار بن جاؤ جسے کوئی طاقت گرا نہ سکے. یہ وقت ہے اپنے حق کی جنگ جیتنے کا!
#StopPashtunsGenocide #نکلو_اب_خاموشی_گناہ_ہے