سب سے اکیلا امام مسجد ہے
میں ایک مسجد میں امام تھا۔ کئی سال گزر گئے تھے۔ لوگوں کے بچوں کو قرآن پڑھایا، جنازے پڑھائے، نکاح پڑھائے، ہر خوشی اور غم میں شریک رہا۔
ایک دن میری والدہ سخت بیمار ہو گئیں۔ ڈاکٹر نے چند ٹیسٹ لکھ دیے جن کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی۔ جیب خالی تھی، اس لیے میں نے مسجد کمیٹی کے ایک ذمہ دار سے درخواست کی کہ اگر ممکن ہو تو میری دو ماہ کی تنخواہ ایڈوانس دے دیں۔
انہوں نے جواب دیا: "مولوی صاحب! مسجد کوئی بینک نہیں ہے۔"
میں خاموش ہو گیا۔
چند دن بعد اسی کمیٹی کے ایک رکن نے مسجد کے لیے نیا قالین دینے کا اعلان کیا۔ ہزاروں روپے خرچ ہوئے۔ لوگوں نے ان کی بڑی تعریف کی۔
میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ جس مسجد کے قالین کی فکر سب کو ہے، اسی مسجد کے امام کی ماں کے علاج کی فکر کسی کو نہیں۔
خیر، قرض لے کر علاج کروایا۔
چند ماہ بعد ایک نمازی نے مجھے بازار میں دیکھا۔ میں اپنے بچے کے لیے ایک جوڑا کپڑے خرید رہا تھا۔ اگلے دن کسی نے آ کر کہا: "مولوی صاحب! آج کل تو بڑے مزے ہیں، بازاروں میں خریداری ہو رہی ہے۔"
میں نے مسکرا کر بات ٹال دی، لیکن دل رو پڑا۔
انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ کپڑے بھی میں نے قرض کے پیسوں سے خریدے تھے، کیونکہ عید آنے والی تھی اور میرا بیٹا کئی دن سے نئے کپڑوں کی ضد کر رہا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔
ایک دن مسجد کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اب ایک نیا امام رکھنا چاہیے۔ کوئی بڑی غلطی نہیں تھی، کوئی شکایت بھی نہیں تھی، بس چند لوگوں کی مرضی بدل گئی تھی۔
مجھے اطلاع دی گئی کہ ایک ہفتے کے اندر مسجد کا کمرہ خالی کر دیں۔
اس رات میں دیر تک جاگتا رہا۔
میں سوچ رہا تھا کہ جس مسجد میں میری جوانی گزری، جہاں میں نے ہزاروں اذانیں دیں، ہزاروں نمازیں پڑھائیں، آج وہاں میرے لیے ایک ہفتے کی مہلت بھی زیادہ سمجھی جا رہی ہے۔
اگلی صبح فجر کی نماز پڑھاتے وقت میری آواز بھرائی ہوئی تھی۔
نماز ختم ہوئی تو لوگ معمول کے مطابق اپنے گھروں کو چلے گئے۔
لیکن اس دن پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ بعض اوقات مسجد کا سب سے اکیلا آدمی، امام مسجد ہی ہوتا ہے۔
گوجرانوالہ کینٹ کے علاقہ منڈیالہ وڑائچ میں غیرت کے نام پر باپ نے بیٹی فائزہ داماد وحید اور اپنے ملازم بھٹو کو مار ڈالا, خاتون نے عید الفطر کے بعد کالیکے منڈی کے وحید سے پسند کی شادی کی تھی باپ طارق منت سماجت کر کے گزشتہ روز بیٹی اور داماد کو منا کر گھر لایا تھا اور مار ڈالا
کون ھے یہ کس نے یہ بنائی ؟😂😂🤣😂👌
خوف کے بت توڑ دو، خان نہیں پاکستان نہیں، ہاتھ لگا کر دیکھو، ہماری ریڈ لائن ہے، اڈیالہ کی دیواریں توڑیں گے، ملک میں آگ لگا دیں گے
کے نعرے مارنے کے بعد نئی پیشکش
پیچھے ہٹ جا سوہنیے ساڈی ریل گڈی آئی😂😜
بغداد کی بازار میں ایک فقیر آنکلا ، جس کے متعلق مشہور تھا کہ اس کی ہر دعا قبول ہوتی ہے ۔ حجاج بن یوسف کو اطلاع دی گئی تو اس نے فقیر کو بلوایا اور کہا کہ " میرے لیے دعائے خیر کہو " ۔ تو فقیر نے کہا " اے خدا اس کی جان لے لے "۔ حجاج بن یوسف نے پوچھا کہ" یہ کیسی دعا ہے؟"۔ تو فقیر نے کہا کہ "یہ نہ صرف تیرے لیے بلکہ تمام مسلمانوں کے حق میں بہترین دعا ہے" ۔ سبق: ظالم کا مرجانا تمام انسانوں کے حق میں بہترین ہے۔
ریسٹورنٹس میں کیش پر 16 فیصد اور کریڈٹ کارڈ پر 5 فیصد ٹیکس وصول ہوتا ہے، مگر #SavorFood کو ڈیجٹیل ٹرانزکشن پر بھی 16 فیصد ٹیکس کٹوتی کی اجازت کیوں دی گئی ہے؟ کیا قانونی طور پر ایسا ممکن ہے یا سیور فوڈ اپنے کسٹمرز سے جھوٹے نوٹیفکیشن پر وصولی کررہا ہے؟
@PunjabRevenue@MaryamNSharif
یہ وہ شخص ہے جو اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہتا تھا لیکن ڈاکٹرز نے اسے موت کے منہ سے نکال لیا۔ اس نے آن لائن لون ایپس سے 20 ہزار قرض لیا اور اب وہ لاکھوں میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ جینا نہیں چاہتا۔
پشاور کے ایک ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے یہ شخص خیبرپختونخواہ کے ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں 'لون ایپس سے دور رہیں۔ آج میں کم تکلیف میں ہوں لیکن میرا خاندان بہت زیادہ تکلیف میں ہے۔ برائے مہربانی اپنا اگر خیال نہیں بھی ہے تو اپنوں کا خیال رکھیں۔ ان کے جذبات کے ساتھ نہ کھیلیں۔ میں نے لون ایپس 20 ہزار کا لون لیا جو اگلے ہفتے 40 ہزار پھر 80 ہزار اور یوں ہر ہفتے لون بڑھتا جا رہا ہے۔ براہ کرم دور رہیں'
آج کل موبائل چلائیں تو ہر دوسرے اشتہار میں ایک خوشنما آفر آتی ہے۔ اشتہار میں کوئی خوش شکل نوجوان ہوتا ہے۔ پہلے وہ پریشان نظر آتا ہے اور آنلائن ایپ سے لون لینے کے بعد وہ مسکرا رہا ہوتا ہے۔ کوئی نہیں بتاتا کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے کیا ہے۔
یہ کمپنیاں اشتہارات پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کا کاروبار اُس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ پھنس جاتے ہیں۔ ایک گاہک جو پھنس گیا، وہ مہینوں بلکہ سالوں تک پیسے دیتا رہتا ہے۔ تو اشتہار پر لگایا گیا ہر روپیہ انہیں سو روپے بن کر واپس ملتا ہے۔
یہ ایک کاروباری جال ہے اور آپ اس کا شکار بننے والے ہیں۔
آخر ہم ایسا لون لینے پر آمادہ کیوں ہوتے ہیں؟ یہاں ایمانداری سے بات کریں تو یہ لالچ کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ پاکستان میں آج کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مہینے کے آخر میں پیسے نہیں بچتے۔ بچے کی فیس، گھر کا کرایہ، ماں کی دوائی۔۔ یہ ضرورت ہے اور پیسے نہیں ہوتے۔۔ بینک قرض نہیں دیتے، رشتہ داروں سے بار بار مانگنے میں شرم آتی ہے اور پھر یہ ایپ سامنے آتی ہے 'ہم ہیں نا۔ قرض لیں اور اپنے مسائل کا خاتمہ کریں'
انسانی دماغ فطری طور پر آج کی تکلیف سے بھاگتا ہے اور کل کے نقصان کو چھوٹا سمجھتا ہے۔ جب اکاؤنٹ میں پیسے آتے ہیں تو دماغ میں خوشی کا کیمیکل خارج ہوتا ہے۔ وہی کیمیکل جو کسی نشے میں ہوتا ہے۔ آپ اس کے عادی سے ہوجاتے ہیں۔ ہر وہ شخص جس نے کبھی یہ قرض لیا، اس نے پہلے سوچا 'بس ایک ہفتے کی بات ہے۔' یہ سوچ غلط نہیں ہوتی لیکن حساب غلط ہوتا ہے۔۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سب اتفاقاً نہیں ہوتا۔ دنیا کے بڑے ماہرین نفسیات نے یہ سسٹم ڈیزائن کیا ہے۔ انسانی دماغ فوری انعام کو ترجیح دیتا ہے۔ لون ایپ فوری پیسے دیتی ہے۔ یوں مستقبل کا نقصان دماغ کو ابھی نظر نہیں آتا۔
یہ سب کس طرح ہوتا ہے؟ 20 ہزار روپے کا قرض لیں۔ سود کی شرح فرض کریں 50 فیصد فی ہفتہ ہے اور بہت سی ایپس اس سے بھی زیادہ وصول کرتی ہیں۔۔ پہلا ہفتہ 30 ہزار، دوسرا ہفتہ 45 ہزار، تیسرا ہفتہ 67 ہزار اور پھر یہ سلسلہ لاکھوں تک جاتا ہے۔۔اور اگر آپ نے ادائیگی میں ایک دن بھی تاخیر کی تو جرمانہ الگ سے دینا ہوتا ہے۔ یہ حساب کوئی نہیں بتاتا کیونکہ اگر بتا دیں تو کوئی یہ قرض نہ لے۔
آپ شاید اس حساب کے علاوہ بھی دیگر چیزوں پر توجہ نہیں دیتے۔ یاد کریں جب آپ ایپ انسٹال کر رہے تھے تو نیچے لکھا تھا:
Allow access to Contacts
Allow access to Storage and Photos
Allow access to Camera
اور آپ نے بغیر سوچے Allow دبا دیا۔بس اسی لمحے کھیل ختم ہو گیا۔ اب ان کے پاس آپ کی پوری کنٹیکٹ لسٹ ہے۔ آپ کے ابو، امی، بھائی، استاد، باس۔۔ سب کے نمبر ان کے سرور پر محفوظ ہیں۔ آپ کی گیلری میں جو تصاویر ہیں، وہ بھی ان کے پاس ہیں۔۔ اور جب آپ قرض نہیں اتار پاتے تو فون آتا ہے 'اگر کل تک پیسے نہ آئے تو آپ کے گھر والوں کو بتائیں گے۔ آپ کی تصاویر وائرل کریں گے۔' یہ بلیک میلنگ چلتی رہتی ہے۔ یہ جرم ہے لیکن یہ ہو رہا ہے۔
اس پورے معاملے میں سب سے بڑا نقصان پیسوں کا نہیں ہوتا بلکہ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کسی کو بتا نہیں سکتا۔ پشاور کا یہ نوجوان اگر آج ہسپتال کے بیڈ پر ہے تو اسی وجہ سے کہ وہ کسی کو بتانا نہیں چاہتا تھا۔۔
پہلے تو کسی صورت آن لائن لون ایپس سے قرض نہ لیں۔ یہ سب سے خطرناک لون ہوتا ہے اور آپ اسے زندگی بھر واپس نہیں کر سکتے۔ اگر کر بھی لیں تو آپ کی پرائیویسی تباہ ہوگئی ہوتی ہے۔ آج ہی اپنے فون میں ایسی کوئی بھی ایپ دیکھیں تو ڈیلیٹ کر دیں اور اگر آپ پہلے سے پھنس چکے ہیں تو گھر میں کسی ایک ایسے شخص کو بتائیں جو آپ کی مخلصانہ مدد کر سکتا ہو۔ اگر آپ کو ان کمپنیز کی جانب سے تنگ کیا جا رہا ہے تو متعلقہ اداروں کو لازمی آگاہ کریں۔
حافظ آباد میں مقامی ن لیگ کا ایم پی اے اپنے بیٹے کے ساتھ ڈی پی او کو ملنے آیا وہ آفس موجود نہ تھے تو ان کے بیٹے نے آفس کا واش روم استعمال کر لیا اوپر سے افسر آ گیا اس نے اسکی بے عزتی کر دی 😃😁
پی ٹی آئی والوں نے اسکو ایشو بنا کر سوشل میڈیا پر ہائی لائٹ کر دیا ایم پی اے نے بے عزتی محسوس کی اور اوپر جا کر اعلی قیادت پولیس کے سربراہ سب کو بتایا کہ ایک ایم پی اے کی اب اتنی بھی واقعت نہہں کہ وہ پبلک آفس کا واش روم استعمال کر سکے تو آج ڈی پی او کا تبادلہ ہو گیا 😃😁
جس پر پی ٹی آئی کے مامون جعفر کا وائس نوٹ وائرل ہو گیا 😃😁
"مخلص مؤمن سب سے زیادہ پاکیزہ حیات ہوتا ہے،
اور سب سے زیادہ سیرچشم ہوتا ہے،
اور سب سے زیادہ کُھلے سینے والا ہوتا ہے،
اور سب سے زیادہ خوش دل ہوتا ہے،
یہ دنیوی جنت ہے، اُخروی جنت سے پہلے!"
امام ابن القيم رحمه الله
(الداء والدواء : 459/1)
"الله کے بندے پر انعامات میں سے ایک بڑی نعمت سکون اور اطمینان کا نزول ہے؛ اور اِس کا ایک بڑا سبب ہر طرح کے حالات میں الله کی رضا پر راضی رہنا ہے!"
امام ابن القيم رحمه الله
(مدارج السالكين : 201/2)