گوجرانوالہ کینٹ کے علاقہ منڈیالہ وڑائچ میں غیرت کے نام پر باپ نے بیٹی فائزہ داماد وحید اور اپنے ملازم بھٹو کو مار ڈالا, خاتون نے عید الفطر کے بعد کالیکے منڈی کے وحید سے پسند کی شادی کی تھی باپ طارق منت سماجت کر کے گزشتہ روز بیٹی اور داماد کو منا کر گھر لایا تھا اور مار ڈالا
کون ھے یہ کس نے یہ بنائی ؟😂😂🤣😂👌
خوف کے بت توڑ دو، خان نہیں پاکستان نہیں، ہاتھ لگا کر دیکھو، ہماری ریڈ لائن ہے، اڈیالہ کی دیواریں توڑیں گے، ملک میں آگ لگا دیں گے
کے نعرے مارنے کے بعد نئی پیشکش
پیچھے ہٹ جا سوہنیے ساڈی ریل گڈی آئی😂😜
بغداد کی بازار میں ایک فقیر آنکلا ، جس کے متعلق مشہور تھا کہ اس کی ہر دعا قبول ہوتی ہے ۔ حجاج بن یوسف کو اطلاع دی گئی تو اس نے فقیر کو بلوایا اور کہا کہ " میرے لیے دعائے خیر کہو " ۔ تو فقیر نے کہا " اے خدا اس کی جان لے لے "۔ حجاج بن یوسف نے پوچھا کہ" یہ کیسی دعا ہے؟"۔ تو فقیر نے کہا کہ "یہ نہ صرف تیرے لیے بلکہ تمام مسلمانوں کے حق میں بہترین دعا ہے" ۔ سبق: ظالم کا مرجانا تمام انسانوں کے حق میں بہترین ہے۔
ریسٹورنٹس میں کیش پر 16 فیصد اور کریڈٹ کارڈ پر 5 فیصد ٹیکس وصول ہوتا ہے، مگر #SavorFood کو ڈیجٹیل ٹرانزکشن پر بھی 16 فیصد ٹیکس کٹوتی کی اجازت کیوں دی گئی ہے؟ کیا قانونی طور پر ایسا ممکن ہے یا سیور فوڈ اپنے کسٹمرز سے جھوٹے نوٹیفکیشن پر وصولی کررہا ہے؟
@PunjabRevenue@MaryamNSharif
یہ وہ شخص ہے جو اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہتا تھا لیکن ڈاکٹرز نے اسے موت کے منہ سے نکال لیا۔ اس نے آن لائن لون ایپس سے 20 ہزار قرض لیا اور اب وہ لاکھوں میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ جینا نہیں چاہتا۔
پشاور کے ایک ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے یہ شخص خیبرپختونخواہ کے ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں 'لون ایپس سے دور رہیں۔ آج میں کم تکلیف میں ہوں لیکن میرا خاندان بہت زیادہ تکلیف میں ہے۔ برائے مہربانی اپنا اگر خیال نہیں بھی ہے تو اپنوں کا خیال رکھیں۔ ان کے جذبات کے ساتھ نہ کھیلیں۔ میں نے لون ایپس 20 ہزار کا لون لیا جو اگلے ہفتے 40 ہزار پھر 80 ہزار اور یوں ہر ہفتے لون بڑھتا جا رہا ہے۔ براہ کرم دور رہیں'
آج کل موبائل چلائیں تو ہر دوسرے اشتہار میں ایک خوشنما آفر آتی ہے۔ اشتہار میں کوئی خوش شکل نوجوان ہوتا ہے۔ پہلے وہ پریشان نظر آتا ہے اور آنلائن ایپ سے لون لینے کے بعد وہ مسکرا رہا ہوتا ہے۔ کوئی نہیں بتاتا کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے کیا ہے۔
یہ کمپنیاں اشتہارات پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کا کاروبار اُس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ پھنس جاتے ہیں۔ ایک گاہک جو پھنس گیا، وہ مہینوں بلکہ سالوں تک پیسے دیتا رہتا ہے۔ تو اشتہار پر لگایا گیا ہر روپیہ انہیں سو روپے بن کر واپس ملتا ہے۔
یہ ایک کاروباری جال ہے اور آپ اس کا شکار بننے والے ہیں۔
آخر ہم ایسا لون لینے پر آمادہ کیوں ہوتے ہیں؟ یہاں ایمانداری سے بات کریں تو یہ لالچ کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ پاکستان میں آج کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مہینے کے آخر میں پیسے نہیں بچتے۔ بچے کی فیس، گھر کا کرایہ، ماں کی دوائی۔۔ یہ ضرورت ہے اور پیسے نہیں ہوتے۔۔ بینک قرض نہیں دیتے، رشتہ داروں سے بار بار مانگنے میں شرم آتی ہے اور پھر یہ ایپ سامنے آتی ہے 'ہم ہیں نا۔ قرض لیں اور اپنے مسائل کا خاتمہ کریں'
انسانی دماغ فطری طور پر آج کی تکلیف سے بھاگتا ہے اور کل کے نقصان کو چھوٹا سمجھتا ہے۔ جب اکاؤنٹ میں پیسے آتے ہیں تو دماغ میں خوشی کا کیمیکل خارج ہوتا ہے۔ وہی کیمیکل جو کسی نشے میں ہوتا ہے۔ آپ اس کے عادی سے ہوجاتے ہیں۔ ہر وہ شخص جس نے کبھی یہ قرض لیا، اس نے پہلے سوچا 'بس ایک ہفتے کی بات ہے۔' یہ سوچ غلط نہیں ہوتی لیکن حساب غلط ہوتا ہے۔۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سب اتفاقاً نہیں ہوتا۔ دنیا کے بڑے ماہرین نفسیات نے یہ سسٹم ڈیزائن کیا ہے۔ انسانی دماغ فوری انعام کو ترجیح دیتا ہے۔ لون ایپ فوری پیسے دیتی ہے۔ یوں مستقبل کا نقصان دماغ کو ابھی نظر نہیں آتا۔
یہ سب کس طرح ہوتا ہے؟ 20 ہزار روپے کا قرض لیں۔ سود کی شرح فرض کریں 50 فیصد فی ہفتہ ہے اور بہت سی ایپس اس سے بھی زیادہ وصول کرتی ہیں۔۔ پہلا ہفتہ 30 ہزار، دوسرا ہفتہ 45 ہزار، تیسرا ہفتہ 67 ہزار اور پھر یہ سلسلہ لاکھوں تک جاتا ہے۔۔اور اگر آپ نے ادائیگی میں ایک دن بھی تاخیر کی تو جرمانہ الگ سے دینا ہوتا ہے۔ یہ حساب کوئی نہیں بتاتا کیونکہ اگر بتا دیں تو کوئی یہ قرض نہ لے۔
آپ شاید اس حساب کے علاوہ بھی دیگر چیزوں پر توجہ نہیں دیتے۔ یاد کریں جب آپ ایپ انسٹال کر رہے تھے تو نیچے لکھا تھا:
Allow access to Contacts
Allow access to Storage and Photos
Allow access to Camera
اور آپ نے بغیر سوچے Allow دبا دیا۔بس اسی لمحے کھیل ختم ہو گیا۔ اب ان کے پاس آپ کی پوری کنٹیکٹ لسٹ ہے۔ آپ کے ابو، امی، بھائی، استاد، باس۔۔ سب کے نمبر ان کے سرور پر محفوظ ہیں۔ آپ کی گیلری میں جو تصاویر ہیں، وہ بھی ان کے پاس ہیں۔۔ اور جب آپ قرض نہیں اتار پاتے تو فون آتا ہے 'اگر کل تک پیسے نہ آئے تو آپ کے گھر والوں کو بتائیں گے۔ آپ کی تصاویر وائرل کریں گے۔' یہ بلیک میلنگ چلتی رہتی ہے۔ یہ جرم ہے لیکن یہ ہو رہا ہے۔
اس پورے معاملے میں سب سے بڑا نقصان پیسوں کا نہیں ہوتا بلکہ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کسی کو بتا نہیں سکتا۔ پشاور کا یہ نوجوان اگر آج ہسپتال کے بیڈ پر ہے تو اسی وجہ سے کہ وہ کسی کو بتانا نہیں چاہتا تھا۔۔
پہلے تو کسی صورت آن لائن لون ایپس سے قرض نہ لیں۔ یہ سب سے خطرناک لون ہوتا ہے اور آپ اسے زندگی بھر واپس نہیں کر سکتے۔ اگر کر بھی لیں تو آپ کی پرائیویسی تباہ ہوگئی ہوتی ہے۔ آج ہی اپنے فون میں ایسی کوئی بھی ایپ دیکھیں تو ڈیلیٹ کر دیں اور اگر آپ پہلے سے پھنس چکے ہیں تو گھر میں کسی ایک ایسے شخص کو بتائیں جو آپ کی مخلصانہ مدد کر سکتا ہو۔ اگر آپ کو ان کمپنیز کی جانب سے تنگ کیا جا رہا ہے تو متعلقہ اداروں کو لازمی آگاہ کریں۔
حافظ آباد میں مقامی ن لیگ کا ایم پی اے اپنے بیٹے کے ساتھ ڈی پی او کو ملنے آیا وہ آفس موجود نہ تھے تو ان کے بیٹے نے آفس کا واش روم استعمال کر لیا اوپر سے افسر آ گیا اس نے اسکی بے عزتی کر دی 😃😁
پی ٹی آئی والوں نے اسکو ایشو بنا کر سوشل میڈیا پر ہائی لائٹ کر دیا ایم پی اے نے بے عزتی محسوس کی اور اوپر جا کر اعلی قیادت پولیس کے سربراہ سب کو بتایا کہ ایک ایم پی اے کی اب اتنی بھی واقعت نہہں کہ وہ پبلک آفس کا واش روم استعمال کر سکے تو آج ڈی پی او کا تبادلہ ہو گیا 😃😁
جس پر پی ٹی آئی کے مامون جعفر کا وائس نوٹ وائرل ہو گیا 😃😁
"مخلص مؤمن سب سے زیادہ پاکیزہ حیات ہوتا ہے،
اور سب سے زیادہ سیرچشم ہوتا ہے،
اور سب سے زیادہ کُھلے سینے والا ہوتا ہے،
اور سب سے زیادہ خوش دل ہوتا ہے،
یہ دنیوی جنت ہے، اُخروی جنت سے پہلے!"
امام ابن القيم رحمه الله
(الداء والدواء : 459/1)
"الله کے بندے پر انعامات میں سے ایک بڑی نعمت سکون اور اطمینان کا نزول ہے؛ اور اِس کا ایک بڑا سبب ہر طرح کے حالات میں الله کی رضا پر راضی رہنا ہے!"
امام ابن القيم رحمه الله
(مدارج السالكين : 201/2)
ایک یوٹیوب چینل، مائیکروفون اور کروڑ پتی بننے کا سب سے آسان شارٹ کٹ۔۔۔
لوگ کروڑوں روپے گنوا بیٹھے، مگر اس شخص کا خواب بیچنے کا دھندہ بند نہ ہوا۔
آج ایک ایسے "ہر فن مولا" کا کچا چٹھا کھلے گا، جس نے ہر وہ کام کیا جو اس نے کبھی خود نہیں سیکھا۔
پودکاسٹ سے لے کر پرائیویٹ جیٹ تک کا سفر
آپ نے انٹرنیٹ پر حافظ احمد کو تو دیکھا ہی ہوگا۔ وہی حافظ احمد جو کچھ عرصہ پہلے تک یوٹیوب پر بیٹھ کر انتہائی کم علمی پر مبنی پودکاسٹ کیا کرتے تھے۔
جب پودکاسٹ سے بات نہ بنی، تو انہوں نے پاکستانیوں کو ای کامرس (E-commerce) کے خواب دکھانا شروع کر دیے۔ دعوے کیے گئے کہ انہوں نے اس فیلڈ سے اربوں کمائے ہیں، اور پھر بھاری فیسوں کے عوض کورسز کی دکان سجا لی۔
پروفائل بدلنے کا جادوئی فارمولا۔
اب جب عوام کو ای کامرس کی اصل حقیقت سمجھ آنے لگی اور پاکستان میں آن لائن ٹریڈنگ کا ٹرینڈ آیا، تو محترم راتوں رات "ایکسپرٹ ٹریڈر" بن گئے۔
ای کامرس کے کورسز اچانک غائب ہوئے اور ٹریڈنگ سگنلز کا دھندہ شروع ہو گیا۔
سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک ویڈیو سامنے آئی جہاں پہلے تو بڑے فخر سے پرائیویٹ جیٹ میں سفر کی نمائش کی گئی، اور اگلے ہی لمحے ٹریڈنگ سکلز اور کورسز کی مارکیٹنگ شروع کر دی گئی۔
انٹرنیٹ پر اب ان کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور لوگ ان کے مبینہ منافع بخش سکرین شاٹس اور پیڈ سگنلز کی حقیقت کو بے نقاب کر رہے ہیں کہ کیسے معصوم لوگ ان کے چکر میں آ کر اپنی لائف سیونگز گنوا رہے ہیں۔
اگلی منزل: چاند کا سفر؟
اس بندے نے زندگی میں ہر کام ہاتھ میں لیا، لیکن کسی ایک میں بھی مہارت ثابت نہ کر سکا۔ نہ اچھے پودکاسٹر بن پائے، نہ ای کامرس سکھا سکے، اور اب ٹریڈنگ کے نام پر لوگوں کی جیبیں خالی کی جا رہی ہیں۔
جس تیزی سے یہ رنگ بدل رہے ہیں، بعید نہیں کہ کل کو یہ Elon Musk کی طرح لوگوں کو چاند کی سیر کروانے کی کمپنی کھول لیں اور اس کے بھی ایڈوانس کورسز بیچنا شروع کر دیں
یاد رکھیں اگر زندگی میں سچ میں کچھ سیکھنا ہے تو یوٹیوب پر دنیا کا بہترین مواد مفت دستیاب ہے۔ ان دو نمبر اور راتوں رات امیر بنانے کا جھانسہ دینے والے "کورس مافیا" سے خود کو بھی بچائیں اور اپنے دوستوں کو بھی۔