سیاسی جماعتوں پر پابندی کی باتیں مناسب نہیں ۔
حکومتی ڈرامہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے ہے۔
پابندی سیاسی مسائل کا حل نہیں ہے۔
ایسے فیصلے سیاسی ومعاشی بحرانوں میں اضافے کا باعث ہونگے۔
ایسے فیصلے سیاسی نہیں آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں ۔
اصل عوامی مسائل پر وزراء توجہ نہیں دے رہے ۔
مہنگائی اور ٹیکسز کی بھر مار نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے ۔
سیاسی مسائل طاقت سے نہیں سیاسی میدان میں حل ہوتے ہیں ۔
موجودہ سیاسی بحران کو حل کرنے کے لئے فوج کو سیاست سے الگ ہونا پڑے گا،جب تک فوج خود کو سیاست سے الگ نہیں کرتی اس وقت تک ملک بحران سے نہیں نکل پائے گا،سیاسی قوتوں کے خلاف طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں،اس سے سیاسی انتشار مزید بڑھے گا، تمام ادارے آئین کے مطابق طے شدہ دائرہ کار میں سمٹ جائیں تو ملک سنبھل سکتا ہے۔
طاقتور حلقے جتنا جلد اس حقیقت کو سمجھ جائیں گے،ملک اور خود ان کے لئے اتنا بہتر ہو گا، بصورت دیگر بگاڑ بڑھے گا، مقتدرہ تسلیم کر لے کہ موجودہ ہائبرڈ نظام ناکام ہو چکا ہے،
سارے مسائل کا حل پورے ملک میں از سر نو شفاف انتخابات کرانے میں مضمر ہے۔
سکھر، انسداد دہشت گردی عدالت میں شہید اسلام علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو قتل کیس کی سماعت ملزمان فریق کے وکلا کی غیر موجودگی کے باعث 2 اگست تک ملتوی.....
سکھر، عدالت میں ملزمان کے بچاؤ کے گواہ اور وکلا کی غیر موجودگی کے باعث سماعت ملتوی کردی گئی...
سکھر، اے ٹی سی کورٹ کے جج عبدالرحمان قاضی نے کیس کی سماعت کی...
سکھر، عدالت میں فریادی فریق مولانا راشد محمود سومرو، وکیل اطہر عباس سولنگی، وکیل مطہر عباس سولنگی، حافظ نصر اللہ مہر، پراسیکیوٹر عبدالحلیم قریشی پیش ہوئے...
سکھر، عدالت میں ملزمان فریق کے وکلا اور ملزمان کے بچاؤ کے گواہ پیش نہ ہونے سے اگلی سماعت 2 اگست تک ملتوی کردی گئی...
سکھر، 10 سال قبل سکھر کے علاقے گلشن اقبال میں جے یو آئی رہنما اور سابق سینیٹر علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو مسجد کے اندر فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا تھا...
سکھر، عدالتی نظام سے قوم کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے، راشد محمود سومرو
سکھر، عدالت سے انصاف کی امید رکھتے ہیں، 10 سالوں سے تاریخ پر تاریخ دی جا رہی ہے، راشد محمود سومرو
سکھر، سندھ ہائی کورٹ نے 2 مرتبہ انسداد دہشت گردی عدالت کو آرڈر دیا ہے کہ 6 ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ سنایا جائے، راشد محمود سومرو
سکھر، ملزمان فریق کے وکلا غیر موجود ہیں، تاریخ پر تاریخ لے رہے ہیں،
سکھر، ہائی پروفائل کیس میں یہ صورت حال ہے، عام کیسز میں کیا ہوتا ہوگا، راشد محمود سومرو
سکھر، عدالت سے انصاف کی امید ضرور ہے لیکن عدالت سے التجا ہے کہ جلد از جلد فیصلہ سنایا جائے، راشد محمود سومرو
سکھر، عدالت انصاف دیں تو کوئی جرگوں کی طرف نہی جائے گا، راشد محمود سومرو
سکھر، عدالتوں سے انصاف نہ ملنے کی وجہ سے لوگ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں بندوق اٹھاتے ہیں، راشد محمود سومرو
سکھر، لوگ عدالتوں سے مایوس ہوکر جرگوں کی طرف جاتے ہیں،
سکھر، جرگوں کے متعلق عدالت کے نوٹس کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی، راشد محمود سومرو
"میرے چار بیٹے تھے، چاروں آج مخیم الشاطی کے پناہ گزین کیمپ میں دجالی بمباری سے شہید ہوگئے۔ لیکن میں نے کچھ نہیں کھویا۔ مجھے اپنے بچوں کی شہادت پہ فخر ہے۔ الحمدللہ۔ ہم سب قربان ہونے کیلئے تیار ہیں۔"
یہ ہیں ایک ماں کے جذبات۔ اہل غزہ سب کچھ لٹا کر بھی مقاومت کے ساتھ کھڑے ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا، وہ قربانیوں سے تھکنے والے ہوتے تو معاملہ کب کا نمٹ چکا ہوتا۔ باقی اہل غزہ کے نام سے مقاومت سے مایوسی اور شکوے کی جو پوسٹیں آرہی ہیں، وہ بیشر دجالی ٹکڑوں پہ پلنے والے خلیجی خنازیر کی ہیں، جو خود کو اہل غزہ ظاہر کرکے دجال کی خدمت کر رہے ہیں۔
بلاول زرداری محلات میں بیٹھ کر تجزیے کر رہے ہیں ۔
سودے بازی سے اقتدار کی مسند پر بیٹھنا جمہوریت کا خون کرنا ہے۔
اسمبلیوں کی خرید وفروخت کرنے والے بعد میں جمہوریت کے ٹھیکیدار بن جاتے ہیں ۔
سندھ کی حالت زار پی پی قیادت کی عوامی خدمت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
مفاہمت کے نام پر مفادات کی سیاست کرنے والے پاکستانی عوام کے سامنے عیاں ہو چکے ہے ۔
جعلی انتخابات کی بات کرتے ہیں تو پی پی کے دوست خواہ مخواہ ناراض ہوجاتے ہیں ۔
﷽
﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا ﴾
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔
اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
﴿سورۃ الاحزاب،۵۶﴾
سوچیے !!
اگر ٹرمپ پر حملہ کرنے والا مسلمان ہوتا یا کسی مسلم ملک سے اس کا تعلق ہوتا یا اسپیشلی پاکستان سے اس کا تعلق ہوتا تو عالمی دنیا خصوصاً مسلم حکمرانوں کا ردعمل کیا ہوتا ؟
البتہ حملے سے یہ نتیجہ آخذ کیا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ آرہا ہے جوبائیڈن جا رہا ہے،
تبدیلی کا پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہونگے ؟
ہمارا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ مجموعی طور پر انتخابات دھاندلی زدہ ہیں،ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے بغیر شفاف انتخابات ہوں تاکہ ملک میں اقتصادی استحکام آئے۔ حالیہ بجٹ معاشی بدحالی کا آئینہ ہے، عام آدمی کی چیخیں نکل رہی ہیں،،اسٹیبلشمنٹ اپنی طاقت سے من پسند اسمبلیاں بنانا چاہتی ہے لیکن اس سے ملک کمزور ہورہا ہے،اور یہ ملک کے ساتھ کمٹنٹ کی نفی ہے۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی ڈی آئی خان میں گفتگو
اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے تین وعدے کئے ہیں۔
1_ حکومت عطا کرے گا،
2_ ان کے ہاتھوں دین اسلام دنیا میں قائم کرے گا،
3_ خوف کو امن سے بدل دے گا،
بشرطیکہ تین چیزیں ہوں ایمان ، نیک عمل ، اور توحید
(قرآن)
" استعفی دونگا دباو میں نہیں آونگا " وزیراعظم شہباز شریف وضاحت کریں
کہ دباو کون اور کیوں ڈال رہا ہے؟
دباو میں بنی ہوئی حکومت کے سربراہ کو دباو کیوں بھاری لگ رہا ہے؟
ہنی مون ،، کے ایام گذرتے ہی وزیراعظم نے دباو کی باتیں شروع کیں
یہ بھی وضاحت ہوجائے کہ استعفی دینا کہی ،،باس،، کا حکم تو نہیں؟
ویسے اگر استعفی دیں تو پی ایم ایل (این) سے پہلے آپنے آپ پر احسان ہوگا
مولانا فضل الرحمن چھوٹے میاں کو مشورہ دے چکا تھا کہ پھنگا مت لو ،
آہستہ آہستہ سمجھ آئیگا کہ پھناگا کیا ہے؟
الیکشن کمیشن اف پاکستان کے مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بارے میں فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر حتمی رائے ائینی اور قانونی ماہرین ہی دے سکتے ہیں،
جمیعت علمائے اسلام سپریم کورٹ کے فیصلے کو جزوی طور پر تسلیم کرتی ہے،
اور اس فیصلے کے نتیجے میں پی ٹی ائی کو کے ساتھ خیر سگالی کا اظہار کرتی ہے،
ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے باہمی تعلقات میں بہتری کے لیے پیشرفت کی طرف مفید ثابت ہوگا،تحفظات کو دور کرنے کے لیے مذاکرات ماحول تشکیل دینے میں مددگار ثابت ہوگا،
جہاں تک نظرثانی اپیل کی کا تعلق ہے جمعیت علماء اسلام بطور جماعت اپیل دائر نہیں کرے گی،تاہم جمعیت علماء اسلام کے وہ بعض اراکین جو اس فیصلے سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں وہ انفرادی طور پر ہم ان کو اپیل کے حق کے استعمال سے نہیں روک سکیں گے،یہ ان کا حق ہوگا لیکن بطور جماعت ہم اپیل نہیں کریں گے۔
آج سپریم کورٹ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے خلاف چارج شیٹ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک آئینی ادارے ای سی پی نے غیر آئینی فیصلہ دیا تھا ،
فیصلے سے الیکشن کمیشن کی اخلاقی قانونی اور آئینی حیثیت مشکوک ہوگئی،
ویسے الیکشن کمیشن 8 فروری کو صاف شفاف الیکشن منعقد کرانے میں ناکام ہوچکا تھا،
جمعیت علماء اسلام عدالتی فیصلے کے خلاف بحیثیت پارٹی نظرثانی کی اپیل میں نہیں جائیگی ،
ہمیں بتایا جائے کہ کئی آپریشنوں اور سرحد پر چوکیدرا ہونے کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں مسلح افراد کیسے داخل ہوئے ؟ پاکستان کی سرحدوں کا چوکیدار کون ہے ؟ جب آپ چوکیداری چھوڑ کر سیاست میں آئیں گے تو یہ آئین اور حلف سے روگردانی ہے، اس پر ہم تنقید بھی کریں گے۔
آج فوج کے ہاتھوں جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے،پاکستان کے انتخابات پر کوئی اعتماد کرنے کے لے تیار نہیں ہے، جمعیۃ علماء اسلام واحد پارٹی جس کا 2018 کے عام انتخابات میں جو مؤقف تھا وہی مؤقف 2024 کے عام میں بھی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ
2002 میں سوات آپریش سے لے کر ضربِ عضب اور ردالفساد تک درجن کے قریب آپریشنز کے نتیجے میں امن امان ہوجانا چاہئے تھا، لیکن ملک میں امن امان کا مسئلہ آج بھی وہیں پر ہے، ہم نے اس وقت بھی کہا تھا اپنے شہریوں پر، پشتونوں پر ظلم نہ کریں،فاٹا کے لوگوں کو نہ ماریں، لیکن طاقت کا نشہ تھا اور پھر عقل اور فلسفہ کو بھی طاقت سمجھتے ہیں۔
فوج کی تربیت جنگ کرنے کی ہے، سیاسی اور قتصادی تربیت نہیں ہے، لیکن وہ اپنی تربیت کو چھوڑ کر سیاسی اور اقتصادی راہداریوں میں آکر طاقت آزماتے ہیں،لیکن ہم بھی اس ملک کے شہری ہیں،ہم نے انگریزوں سے مقابلہ کیا ہے، اس وقت کوئی خرید نہ سکا تو اب بھی ہم چند بوریوں پر بکنے والے نہیں ہیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ