یہ احمد شاہ ابدالی کا احسان ہے کہ اس نے مرہٹوں کی اس فوج کو ذلت آمیز شکست دی جس نے پورے ھندوستان پر قبضہ کرکے بادشاہ شاہ عالم کو قلعے تک محدود کر دیا تھا ۔ وہ نہ آتا تو ھندوستان 1761 میںُ ہندوتوا ہوتا اور آپ شودر سے نچلہ درجہ یعنی ملیچھ مسلمان ہوتے
اوریا صاحب، -آپ کس نادان سے بحث کر رہے ہیں! موصوف نے ایک دفعہ میرے ساتھ Express News کے پروگرام میں )۲۰۱۴(یہ پوزیشن لے لئی تھی کہ اسرائیلی بیچارے امن پسند ہیں، مگر فلسطینی دھشت گرد ہیں جو معصوم اسرائیلیوں کو امن سے نہیں رہنے دیتے! معصوم آدمی ہے اسے کچھ پتہ نہیں کیا بولتا رہتا ہے! مگر آدمی دل کا بہت اچھا ہے! صرف ان ایشوز پہ پوزیشن لے لیتا ہے، جن کا اسے زیادہ نہیں پتہ ہوتا!
راحیل شریف نے لاہور ڈیفنس میں 4 مربعے لیے، پرویز مشرف کو چولستان کا نمبردار بنایا گیا۔ بعض چیف جسٹس نے جھوٹ بول کر پلاٹ حاصل کیے۔ سابق چیفس اقتدار کے بعد طاقت کے نشے میں بیٹھے رہتے ہیں اور پھر بیرونِ ملک جا کر جزیرے خرید لیتے ہیں!جاوید ہاشمی۔
عمران خان کسی تختی کا محتاج نہیں لیکن مزاحمت کا تقاضا ہے کہ تختی پہ عمران خان کا نام ہونا چاہیئے کیونکہ جو طاقت ور بدمعاش ہے وہ عمران خان کے نام کا مخالف ہے اور جب وہ مخالف ہو تو تختی پہ نام ہر صورت ہونا چاہیئے!
بریکنگ نیوز 🚨بیرسٹر شہزاد اکبر کا بڑا انکشاف۔ دو بڑی خبریں دے دیں 🔥🔥
اب محسن نقوی کے وزیرخارجہ بننے کی اطلاعات ہیں اور ان کی جگہ جو وزیرداخلہ آ رہے ہیں وہ خوفناک مونچھوں والی سرکار رانا صاحب ہیں۔ کیونکہ انہوں نے پچھلے ایک ڈیڑھ سال میں آبپارہ کی چاپلوسی کرنے کی انتہا کر دی ہے۔ وزیر اطلاعات عطاء تارڈ کو فارغ کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
پہلی بار کارکنان خود سے سٹریٹ موومنٹ کے لئیے بنا تنظیم کے گراؤُنڈ پر خان کی رہائی کے لئیے کوشش کا پیغام لئیے نکل رہے ہیں، یہ جذبہ صرف پاکستان تحریکِ انصاف کے پاس ہے، باقی جماعتوں کو پیسے یا بریانیاں بانٹنی پڑتی ہیں پھر کارکن نکلتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے تو شہدا کی تکریم کا خیال نہیں کیا
لیکن جب جرنیلوں نے کارگل سے اپنے ہی فوجیوں کی لاشیں لینے سے انکار کر دیا تو بھارتیوں نے ان کے جنازے پڑھا کر انہیں پہاڑوں میں ہی دفنا دیا کیا یہ شہدا کی عزت تھی ؟
اس سال ہم اسٹوڈنٹس کو ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس دینے جا رہے ہیں وہ بھی بالکل فری۔
بس 15 ہزار کی ڈاؤن پیمنٹ کرنی ہے اور 2 ہزار مہینے کی قسط دینی ہو گی! مریم نواز
توں سمجھا؟
یہ سراسر جھوٹ ہے کہ احتجاج کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی کو دی گئی ہے۔ ان سے صرف مشاورت کا کہا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی ہم خود ہیں اور تحریک چلانے کا اچکزئی صاحب سے کہیں؟ یہ شرم کا مقام ہے! جان بوجھ کر یہ کنفیوژن پھیلائی جاتی ہے۔ ان کا مینڈیٹ مذاکرات کا ہے،یہ واضح اور انتہائی غیرمبم حقیقت ہے۔
دوسری بات یہ کہ خان صاحب محمود اچکزئی صاحب کے نہیں، پی ٹی آئی کے لیڈر ہیں۔ ان کی فکر ہمیں کرنی ہے، کسی اور کو نہیں۔ دوسروں کے کندھوں کا سہارا لینا بند کر دیں، اپنی ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر مت ڈالیں