🚨 BREAKING: Official FIFA report say that Argentina was the most targeted national team for online hate during the 2026 FIFA World Cup.
The study analyzed over 17.1 MILLION posts and comments across X, Instagram, Facebook and TikTok.
• Argentina received more online hate than any other national team, followed by England, Spain, Brazil and Norway.
• Most of the abuse directed at Argentina involved accusations of favorable refereeing decisions and xenophobic attacks.
• Argentine players were the fourth most targeted individually, behind players from France, England and Portugal.
• Argentina was also among the main targets of xenophobic abuse, alongside South Africa and England.
The report also found that accounts associated with Argentina were responsible for the highest volume of racist messages. @TyCSports 🛑🛑🛑
ایران پاکستان کو کیا دے رہا ہے؟؟
فاطمین زینبین دہشتگرد ؟
بی ایل اے ؟
کلبوش یادو ؟
بھارت کیساتھ کاروبار، بندر گاہیں، دفاعی معاہدے ؟
2003 پاکستان نے نیوکلیئر بنانے میں مدد کی عالمی لیول پر شکایت لگا دی پاکستان رسوائی اٹھاے ؟
لعنت ایران اور اسکے ہر حامی پرررر
In 2013, voting had already closed and Franck Ribéry was almost certain to win the ballon d'or. Ronaldo scored a hattrick against Sweden during a World Cup playoff match and the voting was reopened for the first time in history. Ronaldo ended up winning the award after winning zero trophies that year.
Try again.
Every country has the right to self-defence under Article 51 of the United Nations Charter. It is always better to deter a threat collectively before it develops into an actual military operation or conflict.
DG ISPR Lt Gen Ahmed Sharif Chaudhry
Once you say that an attack on one will be considered an attack on the other, the combined military, diplomatic and other capabilities of all three countries create a strong deterrent.
The aim is that anyone considering aggression would think several times before acting, helping prevent a serious conflict from taking place.
DG ISPR Lt Gen Ahmed Sharif Chaudhry
ڈی جی آئی ایس پی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف:
”تمام ممالک کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔“
”بہتر یہی ہے کہ خطرات کو کسی عملی کارروائی یا عسکری تصادم کی شکل اختیار کرنے کے بجائے اجتماعی طور پر ہی روک دیا جائے۔“
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف:
”پاکستانی افواج متعدد صلاحیتوں اور شعبوں میں پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں، اب ہم عملی معاملات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔“
”مکہ معاہدہ کے شراکت داروں نے طے کیا ہے کہ معاہدے کا نفاذ خالصتاً دفاعی ہو گا۔ فوج کی تعیناتی اور طریقہ کار کا ��یصلہ آپریشنل کمانڈرز کا ہو گا، لیکن یہ دفاعی نوعیت کا ہو گا۔“
”پوری دنیا اور خطہ نے حالیہ برسوں میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھا ہے، خطہ میں سیکیورٹی چیلنجز اور خطرات اُبھر رہے ہیں۔“
Pakistani forces and capabilities are already present in Saudi Arabia. Any deployment or operationalisation under the agreement will be defensive in nature, as agreed by all partners.
Decisions on which components are deployed, where they are positioned and how they are employed will remain with operational commanders and will not be publicly disclosed during a military conflict.
The region is facing rapidly evolving security challenges, and the arrangement is intended to respond to those emerging threats.
DG ISPR Lt Gen Ahmed Sharif Chaudhry
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف:
”ایک بار جب آپ کہہ دیتے ہیں کہ ایک مُلک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، تو پھر کوئی بھی ا��ن تینوں میں سے کسی کے خلاف ایسا کرنے سے پہلے کئی بار سوچے گا۔“
”تینوں ممالک کے پاس طاقتور عسکری و سفارتی اور دیگر صلاحیتیں موجود ہیں۔ یہ مؤقف کسی خوفناک واقعہ کو ہونے سے روکتا ہے، یہ اجتماعی ڈیٹرینس اور اجتماعی تحفظ کا کام کرتا ہے۔“
”اِس کا مقصد دشمن اور دوست کے لیبل لگانا نہیں، مقصد صرف مملکتِ سعودی عرب اور حرمین شریفین کا دفاع ہے اور وہ کیا جائے گا۔“
ہولی سی (ویٹیکن سٹی اور کیتھولک چرچ کی سینٹرل گورننگ باڈی) کے سیکرٹری تعلقاتِ عامہ آرچ بشپ پال رچرڈ گیلیگھر کی وزارتِ خارجہ آمد، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے استقبال کیا۔
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے پاکستان اور ہولی سی کے مابین سفارتی تعلقات کو 75 برس مکمل ہونے پر پاکستان کا دورہ کرنے والے آرچ بشپ کا خیر مقدم کیا اور امن، بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمے کے فروغ میں ”ہولی سی“ کے کردار کو، اور خصوصاً تعلیم و صحت کے شعبوں میں پاکستان کی کیتھولک برادری کی قیمتی خدمات کو بھی سراہا۔
آرچ بشپ نے ثالثی، مکالمہ اور سفارتکاری کے ذریعہ علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے امن اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کیلئے پوپ لیو چہادرہم (مسیحی رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ) کی جانب سے اصول پر مبنی اپیلز کو سراہا، اور فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے جاری انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور خطہ میں امن کے فروغ کیلئے مسلسل بین الاقوامی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
فریقین نے پاکستان اور ”ہولی سی“ کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مذاہب کے درمیان باہمی احترام، افہام و تفہیم اور پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
احمد الشرع اپنے شہزادے یمن بھیجنے پر غور کر رہا ہے جسے پراکسیوں کا صفایا کرنا آتا ہے ❤️
اونچا اونچا رونا شروع کرو “ ماتم کرو “ بال نوچ ڈالو “ انشااللہ تمام مسلمان ممالک سے تمھاری پلید پراکسیوں کا صفایا ہوگا اُمّہ چُمہ کے نام پر جہاد کے نام پر یمن تباہ کرنے والوں کا انجام قریب ہے
سیریا شام سے ایرانی پراکسی کا صفایا کرنے والا احمد الشرع سعودی عرب پہنچ کر محمد بن سلمان سے ملاقات کر رہا ہے
احمد الشرع کو پراکسیوں کا گند صاف کرنے کا ٹھیک ٹھاک تجربہ ہے امید ہے حوثیوں کے چھوٹے چھوٹے پِلے سمجھ گے ہوں گے ❤️