امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندے کی اصل خوبی تین عادات میں ہے اپنی تنگدستی کو اس حد تک چھپانا لوگ آپ کی خود داری کی وجہ سے آپ کو امیر سمجھیں غصے کو اتنا دبانا کہ لوگ سمجھیں آپ راضی ہیں اور اپنی تکلیف و پریشانی کو اس حد تک پوشیدہ رکھنا کہ لوگ سمجھیں آپ بڑے عیش و آرام میں ہیں
اے اللہ! میں نے تیری سب سے محبوب چیز، یعنی تیری توحید میں تیری اطاعت کی،
اور میں نے تیری سب سے ناپسندیدہ چیز، یعنی شرک میں تیری نافرمانی نہیں کی،
پس میرے ان دونوں کے درمیان جو بھی گناہ ہیں، انہیں معاف فرما۔
سیدنا عمر بن عبدالعزیز
جانتے ہو وہ اللّٰہ عزّوجلّ کتنا رحیم ہے اگر آپ برائی کا ارادہ کرتے ہو لیکن اس کو عمل میں نہیں لاتے تو وہ اعمال میں نہیں لکھا جاتا لیکن اگر آپ اچھائی کا ارادہ کرتے ہیں اور اس کو عمل میں نہیں لا پاتے تو وہ آپ کے اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے
زندگی میں آنے والے سبھی انسان
ٹھہر جانے کے لئے نہیں ہوتے
جانے دینے کا ہنر بہت کارآمد شے ہے
محبت کریں
مگر کسی کو باندھنے کے لیے نہیں
آپ کو محبت پر اختیار نہیں ، اہنے عمل پر تو ہے؟
محبت کریں
کیونکہ انسانی جذبہ ہے
اور جانے دیں
کیونکہ محبت کے پر بندھے رہنے سے
جھڑ جاتے ہیں