اگر دکاندار آپ کو لیپ ٹاپ چیک کرنے کے لیے صرف چند گھنٹے یا 24 گھنٹے کا وقت دے تو اتنے کم وقت میں اسے کیسے اچھی طرح چیک کیا جائے؟
اس ویڈیو میں لیپ ٹاپ چیک کرنے کا ایک آسان اور مکمل طریقہ بتایا گیا ہے، جس کی مدد سے خریدنے سے پہلے اس کے اہم حصے اور ممکنہ مسائل چیک کیے جا سکتے ہیں۔
لیپ ٹاپ خریدنے کا ارادہ ہے تو یہ ویڈیو پہلے ضرور دیکھیں، تاکہ بعد میں کسی بڑے مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مارکیٹنگ کے الفاظ کا جادو
ادھر ارینج میرج میں جب ہم لڑکی دیکھنے جاتے ہیں تو ایک سوال تو فکس ہی ہوتا ہے:
"لڑکا کیا کرتا ہے؟" 😉
بھورا کے گھر والے اس کے لیے لڑکی دیکھنے گئے۔ ڈرائنگ روم میں چائے ناشتہ اور ادھر ادھر کی باتیں ختم ہونے کے بعد لڑکی کے والد نے آہستہ سے اصلی موضوع
Someone stole my iPhone. Then they plugged it in to charge.
That single action triggered the front camera, captured their photo and emailed it to me with the phone’s location.
No third-party app. Just Apple Shortcuts.
Here’s how to set it up:
Hear the emotional story behind the iconic Bollywood song Dulhe Ka Sehra Suhana Lagta Hai
نصرت فتح علی خان نے گانا گایا تھا بالی ووڈ کی مشہور فلم دھڑکن کا دولہے کا سہرا سہانا لگتا ہے ۔۔
جب وہ لائن اتی تھی میں تیری بانہوں کے جھولے میں پلی بابل تو وہ رونے لگ جاتے تھے اور گانا کٹ کرنا پڑتا ۔۔
ڈیڑھ سو بار پر کوشش ہوی مگر نہی ہو پایا گانے کے لکھاری نے بولا سر اپ کل گا لجیے گا
لیجنڈ سنگر نے کہا یہ لائن اج بول دی تو ٹھیک ورنہ پھر کبھی نہی نکلے گئی یہ اواز ۔۔
جب ان سے پوچھا گیا ایسا کیوں تو انہوں نے کہا بیٹیوں کا باپ ہوں ان سے محبت ہے جب یہ لائن اتی ہے میں تیری بانہوں کے جھولے میں پلی بابل تو وہ بہت یاد اتی ہیں ۔۔ 🥲
سنیے اس کی مکمل کہانی کیسے نصرت صاحب کو راضی کیا گیا اس گانے کیلے انئوں نے کیا شرط رکھی اس گانے کیلے ۔ 👇🏾
قدرت کا قبضہ!
ہریانہ کے گاؤں رام گڑھ کا یہ حیران کن منظر، جہاں ایک درخت نے پورے ٹریکٹر کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے۔ قدرت کے آگے انسان کی بنائی ہوئی ہر مشین بے بس ہے 🌳🚜
یہ ہیں دو خود ساختہ کرانچی والے، یہ گنجی سوئیگ 2008 یعنی ایم کیو ایم کے عروج کی بات بتا رہے ہیں، جب مشرف صدر تھا، اس میں چند نقاط ہیں جو اہم ہیں اور مندرجہ ذیل ہیں۔
۱) مزارے قائد کے پیچھے والے روڈ پر مغرب کے بعد مکمل اندھیرا ہو جاتا تھا، اور وہاں ڈکیتیاں ہوتی تھیں لیکن کسی نے وہاں کے حالات نہیں بدلے، کوئ اسٹریٹ لائٹ نہیں لگائی گئ۔
۲) رکشے میں موبائل چھین گیا، کم از کم آج ایسا نہیں ہوتا جو اُس دور میں ہو رہا تھا۔
۳) موصوف نے بلکل اینڈ بتایا کہ دس ہزار کا موبائل پچیس ہزار بتانا ہے، ڈکیت اور پولیس والوں کی لڑائی کروا دو، تو سوال یہ بنتا ہے کہ اُس وقت تو فرشتہ صفت “ مقامی” پولیس تھی “کرانچی” میں اور خرافات تو “غیر مقامی” پیدہ کرتے ہیں؟؟
۴) کیا ان دونوں یا پھر اس وقت کہ ان دونوں جس میں جیو نیوز اے آر وائی نیوز یا کسی اور چینل کہ صحافی میں اتنی ہمت جُرت تھی کہ وہ ان خبروں ان حالات پر آج کی طرح بول سکے؟؟
کراچی ایک میٹرو پولیٹن شہر ہے اور دنیا کے تمام میٹرو سٹی کے حالات کم و بیش ایک جیسے ہوتے ہیں، ہزاروں وڈیوز اور ہزاروں اسٹریٹ کرائم کی وڈیوز جو کہ برطانییہ کے دارالخلافہ لندن کی ہیں، ایسے ہی حالات نیویارک میں بھی ہیں۔
لیکن جو آج تعاصب و لسانیت کی آگ میں جل رہے ہیں وہ بس اپنے اِن پرانے دنوں کو یاد کر رہے ہیں کہ کیسے انہوں نے کراچی کے اپنے ہی اردو بولنے والوں کے ساتھ شدید ظلم کیا۔
@Tab_Hash_Me