ہیں رواں اس راہ پر جس کی کوئی منزل نہ ہو
جستجو کرتے ہیں اس کی جو ہمیں حاصل نہ ہو
چاہتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو
منیر نیازی
مخلوق تو فنکار ہے اس درجہ کہ پل میں
سنگِ درِ کعبہ سے بھی اصنام تراشے
تو کون ہے اور کیا ہے، ترا داغِ قبا بھی
دنی�� نے تو مریم پہ الزام تراشے
محسنؔ نقوی
جو دل دکھا ہے تو یہ عزم بھی ملا ہے ہمیں
تمام عمر کسی کا نہ دل دکھائیں گئے ہم
اگر ہے موت میں کچھ لطف بس تو اتنا ہے
کہ اس کے بعد خدا کا سراغ پائیں گئے ہم
ہمیں تو قبر بھی تنہا نہ کرسکے گی ندیمؔ
کہ ہرطرف سے زمیں کو قریب پائیں گےہم
احمد ندیمؔ قاسمی
میں گُنگناتے ہوئے جا رہا تھا نام ترا
شَجر حَجر بھی میرے ساتھ گنگنانے لگے
نجانے رات ترے مے کَشوں کو کیا سُوجھی
سبو اٹھاتے اٹھاتے فلک اٹھانے لگے
اختر رضا سلیمی
جب روح سے کہتے ہو کہ لبیک حسینا
پھر دل سے یزیدوں کا یہ ڈر کیوں نہیں جاتا
کہتے ہو کہ ہو اسوۂِ شبیر پہ قائم
دربار میں کیوں جاتے ہو؟ سر کیوں نہیں جاتا؟
اختر عثمان
سنبھالیں اُن کو مل جُل کر سکھائیں فن محبت کا
بہت جوشیلے لڑکے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
اِدھر لاہور اُدھر دِلّی، کہاں جائیں گے ہم فارس
یہی دو چار قصبے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
رحمان فارس
بہت سے کام رہتے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
کروڑوں لوگ بُھوکے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
کھلونوں والی عُمروں میں اِنہیں ہم موت کیوں بانٹیں ؟
بڑے معصوم بچے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
پڑوسی یار ! جانے دو، ہنسو اور مسکرانے دو
مسلسل اشک بہتے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
بھلا اقبال و غالب کا کہاں بٹوارہ ممکن ہے ؟
کہ یہ سانجھے اثاثے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
اگر نفرت ضروری ہے تو سرحد پر اکٹھے کیوں ؟
پرندے دانہ چُگتے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
چلو مل کر لڑیں ہم تُم جہالت اور غربت سے
بہت سپنے اُدھورے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
میرا دل تیری، مَحبَّت کا ہے جاں بخش دِیار
میرا سِینا تِری، حُرمَت کا ہے سَنگِین حِصار
میرے محبوب وطن! تجھ پہ اگر جاں ہو نِثار
میں یہ سمجھوں گا، ٹِھکانے لگا سَرمایۂِ تَن
اے وطن پیارے وطن💚 🇵🇰
نمک چھڑکتے تھے احباب زخمِ خواہش پر
سو ہم نے زخم ہی اپنا نمک میں ڈال دیا
اُسے کسی سے محبت نہ تھی مگر اُس نے
گلاب توڑ کے دنیا کو شک میں ڈال دیا
دلاور علی آزر
ہم سفر ہو کے ترے ساتھ چلوں سنگ لگے
ا��سے کھو جاؤں کہ ملتان مجھے جھنگ لگے
تیری تصویر کو شدت سے میں پھر زوم کروں
اتن�� شدت سے کہ انگلی پہ ترا رنگ لگے
علی اعجاز سحر
جو فقط اپنے ہی لوگوں کا گلہ کاٹتی ہے
ایسی تلوار مع صاحب تلوار پہ تُھو
زور کے سامنے کمزور،تو کمزور پہ زور
عادلِ شہر ترے عدل کے معیار پہ تُھو
کاٹ کے رکھ دیا دنیا سے تری دانش نے
اے عدو ساز، تری دانشِ بیمار پہ تُھو
اب لاکھ اندھیرا ہو
اُس شمع ِ فروزاں سے
تجدید ِ محبت کو
پروانے تو نکلیں گے
کیا جبر پرستوں کو
اتنا بھی نہیں معلوم
سر کٹنے کے موسم میں
دیوانوں کی بستی سے
دیوانے تو نکلیں گے
احمد فرہاد
لگتی تھیں خصلتیں م��ری، بے حد جنہیں خراب
اب ڈھونڈتے ہیں وہ کہ وہی بے ہنر ملے
راہِ عدؔم طویل ہے، نبضِ حیات سست
ساقی سفر دراز ہے، زادِ سفر ملے
عبدالحمید عدمؔ
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پَنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
علامہ محمد اقبالؔ
اس نے کہا
سن
عہد نبھانے کی خاطر مت آنا
عہد نبھانے والے اکثر
مجبوری یامہجوری کی تھکن سے لوٹا کرتے ہیں
تم جاؤ
اور دریادریا پیاس بجھاؤ
جن آنکھوں میں ڈوبو
جس ��ل میں اترو
میری طلب آواز نہ دےگی
لیکن جب میری چاہت
اور مری خواہش کی لو
اتنی تیز اور اتنی
اونچی ہو جائے
جب دل رو دے
تب لوٹ آنا