اگر تھانے میں پنکھا محفوظ نہیں تو معاشرہ اور عوام خاک محفوظ ھونگے۔ یہی پاکستان کا اصل چہرہ ھے چیچک زدہ چہرہ۔ یہی پاکستان ھے کچے اور پکے کے ڈاکوؤں کا پاکستان
یہ ملک ھے اندھے سیسیلین مافیاز کا۔ یہ ملک ھے فرعونوں، طاعوتی قوتوں اور دجالیوں کا، اسکا ڈوبنا اور ختم ھونا ھی اسکا آخری انجام ھے۔اسی لئے تو مافیاز اپنا لوٹا ھوا سرمایہ باھر منتقل کرتے ھیں بچوں، گھر اور کاروبار باھر ممالک میں رکھتے ھیں
اس بےغیرت کو یاد ھے کہ آج سے 4 سال پہلے عمران خان کی حکومت میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے بجٹ پر اپنے غلیظ منہ سے غلاظت برساتے ھوئے کہہ رھا تھا 20000 کمانے والا غریب کا کیا ھوگا۔ یہ کمینے اور کم ظرف ھیں، یہ منافق چور اور لٹیرے ھیں، یہ مافیاز ھیں اور یہ دیمک ھیں پاکستان کے۔
سر ، حیرانگی کی بات یہ ھے کہ یہی خنزیر پاکستان کے رکھوالوں کیلئے قابل قبول ھیں ۔ ایسے میں بندہ کنفیوز ھو جاتا ھے کہ پاکستان اور پاکستانیوں کے بڑے دشمن یہ دو سیاسی خنزیر خاندان ھیں یا رکھوالے
صرف بجلی گھروں کی مد میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے پاکستان کو کم از کم پچاس بلین ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ ہارون الرشید
@haroon_natamam#pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
لیکن کوئی بھی عمران خان کو عوام کے دلوں سے مائینس نہیں کر سکتا، رھی بات لیڈران کی تو وہ تو پہلے بھی عوام کی نظروں میں بس کدو کریلے آلو بینگن ھی تھے اور اب بھی ھیں
اسٹیبلشمنٹ کی اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہو گی کہ کل سب ذہنی طور پر تیار تھے کہ ملاقات نہیں ہونی۔ سوشل میڈیا نے بھی اسے for granted event کے طور پر سرسری ڈسکس کیا ۔
ساری PTI خان کو بھلا کر شہید عمران خان پر سیاست بازی کی تیاری میں ہے
ساری کا مطلب ہے ساری
تلخ ہے مگر سچ یہی ہے
ایک اہم سوال ۔۔ جس میں ہر بات کا جواب ہے
کشمیر میں ہونے والی بربریت پر
پورا پاکستان کس طرف ہے؟
ہم ہمیشہ کشمیر کے ساتھ کھڑے تھے
اب کشمیر کے ساتھ چلنے کا وقت آ گیا ہے
1971 ایک مرتبہ پھر رونما ھونے کو ھے۔ سانحہ بنگلہ دیش پر تو جنرلز بھٹو اور بھٹو جنرلز کو ذمہ دار ٹھراتے رھے لیکن آج کا ڈرامہ قوم اپنی آنکھوں سے دیکھ رھی ھے اور جو جو ذمہ دار ھونگے قوم انکو جانتی ھے خوب جانتی ھے۔
Interesting! Moment for Pakistan- as it had always relied upon the support of this Kashmiri community in Britain that has now turned against it! کارنامہ کر دیا پاکستان کے کرنل جنرل صاحبان نے!
اب ایسے مغلظات کو لوگ نہ دیکھتے ہیں، نہ پڑھتے ھیں اور نہ سننا گوارا کرتے ھیں۔پرانا گھسا پٹا الزام جو یہ طاعوتی قوتیں محب وطن لوگوں پر لگاتے چلے ا رھے ھیں۔سچ تو یہ ھے کہ یہی سب کچھ انکے گھروں سے برآمد ھونگے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اگر انکی گھروں کی تلاشی لی گئی
یہ ڈفرز اپنے فرسودہ اور روایتی اسکرپٹس سے پکڑے جاتے ہیں۔ستر سال سے زیادہ ہو گئے انہیں اس نظام پر قبضہ کیے ہوئے کم از کم پروپیگنڈے میں تو کچھ نیا پن لاو۔لوگ بور ہو گئے ہیں اس سا اسکرپٹ پڑھ پڑھ کر۔