جماعت اسلامی کا مارچ خالص عوامی ایشو پر ہے جبکہ نوزائیدہ انقلابی عدالتوں سے سزا یافتہ اپنا لیڈر عوامی طاقت سے رہا کروانے نکلے ہیں جیسے ڈاکو اپنا ساتھی پولیس سے چھڑا کر یا جیل توڑ کر لے جاتے ہیں۔
ملک بھر سے کارکن اسلام آباد چل پڑے ہیں، کوئی رکاوٹ راہ نہیں روک سکتی۔ ٹرین مارچ کل ملتان پہنچ کر ختم ہو گا جس کے بعد بذریعہ سڑک آگے بڑھیں گے، حافظ نعیم الرحمن کا ٹرین مارچ سے خطاب
#جماعت_اسلامی_لانگ_مارچ#IslamabadLongMarch
شاہ اویس نورانی صدیقی کے نام کھلا خط
۔
سایہ ڈیجیٹل چینل پر آپ نے ایک پوڈ کاسٹ میں جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر اور عمر میں اپنے والدِ محترم سے بھی بڑے رہنما میاں طفیل محمدؒ اور موجودہ امیرِ جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن صاحب کے بارے میں جو کلمات ارشاد فرمائے ہیں، وہ میں نے تین بار سنے۔ اگر میں نے، یہ انٹرویو مضمون کی صورت میں پڑھا ہوتا تو شاید اِسے کسی بھٹکے ہوئے شاعر کا آوارہ مصرع قرار دیتا اور نظر انداز کر کے گزرجاتا
المیہ یہ ہے کہ آپ کی کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبان سے ادا ہونے والے یہ "ارشادات" میں نے خود سنے ہیں۔اس لیے یہ سطور تحریر کرنے پر مجبور ہوا ہوں
قبلۂ اقدس!
آپ نے فرمایا کہ جماعت اسلامی اور ضیاءالحق میں رومانس کے باعث منصورہ بنا۔ ادارہ نورحق وجود میں آیا۔ نیز آپ نے سیاسی کالک ملنے کا بازاری جملہ بھی جماعت اسلامی پر کَس دیا۔
ہر ذی شعور اپنے عزیزوں کو نصیحت کرتا ہے کہ پہلے تولو پھر بولو، لیکن آپ شاید اِس تکلف کے روادار نہیں ہیں۔ آپ نے جو کچھ ارشاد فرمایا، اس کا جواب حاضر ہے، امید ہے غور فرمائیں گے۔
جنرل ضیاء الحق کو جب ذوالفقار علی بھٹو نے پانچ سینیئر جرنیلوں کو روند کر اپنا بندہ سمجھتے ہوئے آرمی کا چیف بنایا، منصورہ اور جماعت اسلامی پاکستان کے ادارے اس سے بہت پہلے وجود میں آگئے تھے۔ اس زمانے میں آپ کے ابا حضور مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی صاحب نے ایک بیان جاری فرمایا تھا کہ منصورہ میں جدید اسلحہ کا ذخیرہ موجود ہے۔ تب جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما حافظ محمد ادریس صاحب نے انھیں اپنے بیان کے ذریعے دعوت دی کہ کہ حضرت آپ خود منصورہ تشریف لائیں اور اپنی نگرانی میں سرچ آپریشن کرا لیں، عین ممکن ہے کہ آپ کی کرامت سے ہمیں وہ اشیاء مل جائیں جن کی خبریں آپ کے بیانات سے ہم تک پہنچ رہی ہیں۔
جنرل ضیاء الحق کا سیاسی رومانس تو جماعت اسلامی کے ساتھ اس قدر نمایاں ہے کہ اس نے جماعت اسلامی کے سٹوڈنٹ ونگ اسلامی جمعیت طلبہ پر پابندی عائد کی۔ اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کو بدترین تشدد اور اذیت کا نشانہ بنایا۔ جمعیت کی منتخب یونینز کو کالعدم قرار دیکر بہت سے لوگوں کو جیلوں میں ڈالا۔ اسی طرح جماعت اسلامی کا زور توڑنے کے لیے مزدور یونینز پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔
میاں طفیل محمد کے قریبی عزیز اور داماد اور اسلامی جمعیت طلبہ کے قائمقام ناظم اعلیٰ اعجاز چوہدری اور ناظم اعلیٰ معراج الدین خان پر جنرل ضیاء کے دورمیں ناقابلِ بیان تشدد کیا گیا۔ امیر العظیم صاحب تو ناظم اعلی ہی جیل سے منتخب ہوئے۔
کراچی کی بلدیہ عظمیٰ کے میئر عبدالستار افغانی صاحب اور سینکڑوں کونسلرز پر کراچی کی سڑکوں پر پولیس نے دھاوا بولا، لاٹھی چارج کے بعد گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔ جنرل ضیا الحق کے پروردہ وزیر اعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ نے بلدیہ عظمیٰ توڑ کر جمہوری ادارے پر ڈاکہ ڈالا۔
ضیاء الحق کے زمانے میں جماعت اسلامی کے خدمتِ خلق کے سب سے بڑے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے ایدھی کو سرکاری سپورٹ فراہم کی گئی۔ اسی زمانے میں ایم کیو ایم بنائی گئی جس کے مقاصد میں سے ایک بڑا مقصد جماعت اسلامی کراچی کی سیاسی طاقت کو توڑنا تھا۔ یہی حربہ ملاکنڈ میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کی صورت میں آزمایا۔
تلخ نوائی کی معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ آپ اپنی طفلانہ شرارتوں کے باعث سیاسی مناصب کے حصول میں مسلسل ناکامی کا شکار ہیں، اسی لیے ناقص معلومات کی بناء پر غیر مصدقہ جملے غصے اور جھنجلاہٹ کی کیفیت میں میڈیا کے سامنے ارشاد فرما دیتے ہیں جنھیں سن کر آپ کی سیاسی ناپختگی اور ناتجربہ کاری کا تاثر مزید گہرا ہو جاتا ہے
آپ کے بیان کیے گئے جملے کے مطابق جماعت کے سیاسی کالک ملنے کا جہاں تک تعلق ہے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان بھی بڑے ہی ظرف والے بزرگوں کی رہنمائی میں ایسے فیصلے کرتی ہے جن کی حکمتیں شاید ناتجربہ کار لوگ بہت بعد میں سمجھتے ہیں۔ آپ نے جس جماعت، منصورہ اور ادارہ نورحق کے بارے جلی کٹی سُنائی ہیں، ان کے بارے میں درج ذیل حقائق ملاحظہ فرما لیجیے۔
1۔منصورہ میں ملی یکجہتی کونسل کے ملک گیر کنونشن کی صدارت علامہ الشاہ احمد نورانی صدیقی صاحب نے فرمائی اور نمازعصر کی امامت بھی کرائی۔
2۔مینارِ پاکستان پر لاکھوں افراد کے ایک بین الاقوامی اجتماع عام میں حضرت نورانی صاحب نے قاضی حسین احمد صاحب کی دعوت پر جمعہ کے اجتماع سے خطاب فرمایا۔
3۔"منصورہ" میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں جماعت اسلامی کے "ادارہ نورِ حق" والے ارکان سندھ اسمبلی اپنے ووٹ سینیٹ کی نشست پر مولانا شاہ احمد نورانی صاحب کو دیں گے اور پھر انھی ووٹوں سے آپ کے ابا حضور سینیٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے۔
4۔منصورہ والے قاضی حسین احمد صاحب نے انھیں سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر بھی نامزد کیا۔
5۔منصورہ میں ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ آپ کی پھوپھی جان محترمہ ڈاکٹر فریدہ احمد کو بھی جماعت اسلامی کے ارکان سندھ اسمبلی خواتین کی مخصوص نشست کے لیے اپنے ووٹ دیں گے۔ منصورہ کے اس فیصلے کے مطابق وفا شعار اور ڈسپلن کے پابند ممبران سندھ اسمبلی کے ووٹوں سے ڈاکٹر صاحبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔
6۔مولانا شاہ احمد نورانی صاحب جب اس دارفانی سے رحلت فرما گئے تو ایک بار پھر"منصورہ" میں "ادارہ نورِ حق" سے تجویز آئی کہ سینیٹ کی خالی ہو جانے والی نشست پر علامہ نورانی صاحب کے احترام میں ان کے صاحبزادے شاہ اویس نورانی یعنی آپ کو سپورٹ کیا جائے۔ مرکز جماعت یعنی منصورہ سے آپ کی حمایت کا اعلان کردیا گیا۔ یہ نشست ٹیکنوکریٹس کی کیٹیگری کی تھی اور آپ نے اِس نشست کے لیے کاغذاتِ نامزدگی بھی جمع کرادیے لیکن جانچ پڑتال کے دوران میں معلوم ہوا کہ آنجناب ٹیکنوکریٹ یعنی اپنے شعبہ کے "انجینئیر" تو کیا، ڈھب کے" پلمبر" بھی نہیں ہیں، اور یوں آپ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے۔ نتیجتاً امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد صاحب نے جے یوآئی کے امیر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی درخواست پر اپنے ارکان اسمبلی کو ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے حق میں ووٹ ڈالنے کی ہدایت کی اور وہ بہ آسانی سینیٹر بن گئے۔ حالانکہ جے یو آئی کا ایک بھی ممبر سندھ اسمبلی منتخب نہیں ہوا تھا۔ یوں جماعت اسلامی نے سیاسی میدان میں آپ کے لیے اتنی بڑی قربانی دی کہ سابق ناظم کراچی نعمت اللّٰه خان کے بجائے آپ کو سینیٹر بنوانے کا فیصلہ کیا۔ اور آپ ہیں کہ اپنے انٹرویو میں احسان فراموش عورتوں کی مانند طعنہ زنی میں مصروف ہیں
جب میں نے آپ کے ملفوظاتِ عالیہ سنے تو اندازہ ہوا کہ یہ بات کتنی حقیقت پر مبنی ہے کہ "بڑے لوگوں کی نسلوں میں اکثر سمال سائز کے لوگ پیدا ہوتے ہیں"
کاش کہ آپ اپنی گرمی مارنے کے لیے اپنی ہی جماعت کے کسی اور گروپ کے کسی لیڈر کا انتخاب کر لیتے تو ہم اسے آپ کی پارٹی کے "اندر" کا معاملہ سمجھ کر گزر جاتے، لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔ آپ نے حقائق اور تاریخی واقعات سے عدم واقفیت کی بنا پر یا پھر تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتے ہوئے بہکی بہکی باتیں کرنا اور جُگتیں مارنا شروع کر دیں جن کا جواب دینا بالکل قرینِ انصاف ہے۔ ساحر لدھیانوی نے شاید ایسے ہی کسی موقع پر کہا تھا کہ
نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے رازِ سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں
از
شیخ عثمان فاروق ایڈووکیٹ
ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان
حکمران طبقہ کیلیے مہنگے خصوصی جہاز ہیں، بہت اعلی درجے کی مرسڈیز گاڑیاں ہیں، عالیشان بنگلے ہیں، مفت بجلی اور فون ہیں، نوکروں کی ریل پیل ہے۔ عوام کیلیے مہنگائی ہے، بیروزگاری ہے، سرکاری دفتروں میں ذلت و رسوائی ہے، بھوک ہے، ننگ ہے۔
ٹیکس یورپ میں بھی مگر فرق بھی سمجھیں
یورپ سے پیٹرول کی قیمت کا موازنہ کر رہے ساتھ کہہ رہے یہاں بھی پیٹرول پر ٹیکس ہے یہ بھی سچ ہے ڈنمارک میں پیٹرول پر بہت زیادہ ٹیکس ہے تقریباً 48 فیصد ٹیکس ہے مگر جو بات نہی بتا رہے وہ یہ کہ ڈنمارک میں ہر بچے کی پیدائش سے 18 سال کی عمر تک ہر والدین کو فی بچہ پچاس ہزار ملتا ہے تعلیم مکمل فری ہے ایف اے ایف ایس سی تک کتابیں کاپیاں حکومت دیتی ہے یونیورسٹی میں ہر پڑھتے بچے کو ہزار ڈالر حکومت ہر مہینے دیتی ہے بے روزگار ہو جاؤ تو اسی فیصد تنخواہ دو سال ملتی ہے بیمار ہو جاؤ تو آپ کی لوکل یونین کاؤنسل آپ کو چھٹی کی تنخواہ دیتی ہے آپ کرائے پر آپ کی آمدن کم آدھا کرایہ حکومت دیتی ہے
غرض بے شمار سہولیات ہیں جو اسی ٹیکس کے پیسوں سے ملتی ہیں
البتہ یہاں کے حکمرانوں وزیروں مشیروں کو کوئی ذاتی جہاز اور پلاٹ اور مفت پیٹرول وغیرہ نہی ملتا ہے
مولانا فضل الرحمن صاحب ، آپ کا حافظ نعیم الرحمن پر طنز ضروری تھا اس لیے کہ عمران خان کو ہٹا کر شہباز شریف کو لانے والے اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ آپ ہی تھے-آپ بھی اس مہنگائی کے ذمہ دار ہیں
نوٹ: فارم سنتالیس میں حصہ نہ ملنے پر آج کل مولانا کی عارضی ناراضگی چل رہی ہے
مریم کسی تیل کے ذخیروں والے ملک کے کسی صوبے کی وزیراعلئ نہی ہے ایک غریب ملک کی وزیراعلی ہے جس پر 139 ارب ڈالر قرضہ ہے جس کو ہر سال آٹھ ہزار ارب قرضوں کا سود دینا ہوتا ہے اور آمدن اس ملک کی نہی ہے خرچے ہمارے حکمرانوں افسر شاہی ججوں جرنیلوں کی وجہ سے بے شمار ہیں تو اس سود کے لیے عوام پر بجلی گیس پیٹرول کے ٹیکس لگتے ہیں اور اس سے عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے تو ایسے میں مریم لگثری جہازوں کے استعمال کی بات کر رہی تو اس کو پتہ ہونا چاہیے اس کا خرچہ اس کا بوجھ عوام پر پڑتا ہے
راتب خوروں کو تو تنخواہ ملتی مگر عام بندہ کیوں ان اللوں تللوں کی حمایت کرے گا ؟
2022 سےعوام سے قربانیاں مانگی جا رہی ہیں، مگر اسی دوران حکمرانوں، بیوروکریٹس، ججز اور ارکانِ اسمبلی کی مراعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ایک طرف مہنگائی، ٹیکس اور بجلی و گیس کے بھاری بل، دوسری طرف شاہانہ سہولتیں۔کیا کفایت شعاری صرف عوام کے لیے ہے؟دیکھیے
کوہاٹ میں دہشت گرد حملہ انتہائی قابلِ مذمت اور بزدلانہ فعل ہے۔ عین نمازِ جمعہ کے وقت ہونے والے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع پوری قوم کے لیے گہرے دکھ اور صدمے کا باعث ہے۔
اس مشکل گھڑی میں جماعت اسلامی کی قیادت اور کارکنان متاثرہ خاندانوں اور اہلِ کوہاٹ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ شہداء کے درجات بلند فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی نصیب فرمائے۔
15 پولیس افسران و اہلکاروں سمیت 21 افراد کی شہادت اور 80 سے زائد کا زخمی ہونا کوئی معمولی واقعہ نہیں کہ اسے محض سرکاری مذمتی بیانات تک محدود کر دیا جائے۔ حکومت کو اس سنگین واقعے اور مجموعی سکیورٹی صورتحال پر جواب دینا چاہیے اور واضح کرنا چاہیے کہ ایسے واقعات کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بچوں کو قرآن پاک پڑھاتی ہوں سلائی کرتی ہوں،،دس دس بیس بیس روپے ملتے ہیں،گزارہ مشکل ہے اس لیے سڑکوں پر نکلی ہے کہ کسی کی تو غیرت جاگے گی کوئی تو ہماری سنے گا۔۔۔سندھ کی خواتین فریال تالپور سے پوچھ رہی کہ قیامت کے دن رب کو کیا جواب دو گی
Israel is setting fire to a hospital in Mays al-Jabal, South Lebanon.
Not a military base.
A hospital.
A place meant to treat the wounded and save lives.
بی بی سی کے مطابق
نجی کمپنیاں گلف سٹریم طیارے کے لیے 12 سے 15 ہزار ڈالرز فی گھنٹہ وصول کرتی ہیں۔
اس طیارے پر لندن تک کا سفر سات گھنٹے پر محیط ہوتا ہے۔ اگر 12 ہزار ڈالرز فی گھنٹہ ہو تو یکطرفہ سفر پر 84 ہزار ڈالر لاگت آئے گی، اگر 15 ہزار ڈالر ہو ایک لاکھ 5 ہزار ڈالر، یعنی مجموعی طور پر آنے اور جانے کا کرایہ ایک لاکھ 70 ہزار ڈالرز سے 2 لاکھ 10 ہزار ڈالر تک ہو سکتا ہے۔
پائلٹ سمیت عملے کے دو سے تین ارکان کی رہائش اور کھانے کے اخراجات اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔
لندن کے ائیرپورٹ پر طیارہ پارک کرنے اور ہینڈلنگ کی یومیہ فیس بھی ہزاروں ڈالرز میں ہے۔
۔
اس حساب سے تو پھر لاگت 9/10 کروڑ بنتی ہے، میڈم مکھے منتری پونے تین کروڑ جمع کروا کر قوم پر احسان جتلا رہی ہیں۔
پیٹرول ڈنمارک میں بھی مہنگا ہوا ہے اور پاکستانی کرنسی میں 810 روپے پاکستانی کا لیٹر ہے مگر جو بات کوئی آپ کو نہی بتائے گا کہ ڈنمارک میں کم سے کم فی گھنٹہ اجرت 6750 ہے اور ایک گھنٹے کی کمائی سے 8 لیٹر پیٹرول آ جاتا ہے ایک مزدور یہاں دن میں 50 ہزار کماتا ہے جو کم سے کم اجرت ہے قوت خرید زیادہ ہو آمدن زیادہ ہو تو پیٹرول مہنگا نہی لگتا ہے پاکستان سے یورپ کی قیمتوں کا موازنہ کرنے والے انتہا کے منافق اور سفاک لوگ ہیں
وزیر اعلیٰ کے لیے 11 ارب کا جہاز، چیئرمین سینیٹ کے لیے 9 کروڑ کی گاڑی
عوام کے لیے 'پیٹرول بم'
لیکن اب مزید خاموشی نہیں
تم تیر آزماؤ، ہم جگر آزمائیں گے
پاکستانیوں کی ایک ہی آواز، Levy Bhatta NaManzoor
JI Islamabad March #20Sep_IslamabadMarch
جب آئی ایم ایف کہتا ہے خرچے کم کرو تو 11 ارب کا جہاز لے لو، باہر سے 2 پائلٹ رکھ لو، اس کا سال کا فیول کا 75 کروڑ خرچہ ہو جائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ’مریم طیارہ کیس‘ کا فارنزک آڈٹ کیا جائے، حافظ نعیم الرحمان
پاکستان میں پٹرول 400 پھر بھی یورپ سے سستا ہے: پرویز سندھیلا
پاکستان میں جس نے پٹرول 400 روپے لینا ہے اسکی یومیہ اجرت 1500 روپے یعنی 4.6 یورو اور یورپ میں مزدور کی یومیہ اجرت 90 یورو ہے یعنی 28 ہزار پاکستانی.
یا پاکستان میں یورپ جتنی اجرت کروائیں یا ایسی گھٹیا بکواس مثال نا دیں.
حافظ نعیم الرحمان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوجاؤ ✊
@NaeemRehmanEngr#گیارہ_ارب_جہازکاحساب_دو
Petrol Levy Namanzor
Twenty September Protest
JI March Islamabad
پیٹرول آج 4 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 62 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کا امکان ہے، سمجھ سے باہر ہے جماعت اسلامی روزانہ حکومت سے کون سے مذاکرات کرتی ہے، میٹنگ ختم ہوتے ہی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ کم از کم یہ مذاکرات ہی بند کر دیں