الحمدللہ! تمام پاکستانیوں کی خوشی دیکھ کر جو خوشی دل میں ہے اس وقت، پتہ نہیں کیسے اس کو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
آپ سب کو دل سے سلام! سب اتنے بڑے ہیروز ہو آپ، شاید اس کا اندازہ آنے والے کچھ سالوں میں ہو۔
اللہ الحق ہے!
#ہر_دل_سے_دعا_خان_کے_نام
تمہارے بھائی،تمہارے بیٹے
تمہاری بہنیں ، تمہاری مائیں
تمہاری مٹی کا ذرہ ذرہ گواہی دے گا
کہ تم کھڑے تھے
تمہاری ہمت،تمہاری عظمت اور استقامت تو وہ ہمالہ ہے جس کی چوٹی تلک پہنچنا
نہ پہلے بس میں رہا کسی کے نہ آنے والے دنوں میں ہوگا
سو آنے والی تمام نسلیں گواہی دیں گی کہ تم کھڑے تھے
پچھلی عید کا ایک واقعہ، جو دل میں ٹھہر سا گیا ہے۔
ایک چھوٹا بچہ…
زیادہ سے زیادہ دس بارہ سال کا ہو گا…
گاڑی سے بے تحاشا جلدی سے باہر نکلتے ہوئے اپنے ابو سے کہتا ہے:
"ابو، میں آپ کو مسجد جانے کا شارٹ کٹ بتاتا ہوں۔"
میں وہیں رک گئی۔
مگر پتہ نہیں کیوں۔
یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ ایک معصوم سی بات تھی۔
لیکن مسئلہ یہی ہے…
یہ 'معصوم' بات نہیں۔
یہ سیکھا ہوا تھا!
معاشرے نے اس بچے کو یہ سکھایا ہے کہ ہر چیز کا شارٹ کٹ ہوتا ہے۔
ہم نے اسے یہ نہیں سکھایا کہ راستہ دینا بھی عبادت ہے۔
ہم نے اسے یہ نہیں بتایا کہ کسی کو بلاک کر کے مسجد پہنچنا، صرف پہنچنا ہے…عبادت نہیں۔
اور وہ جو گاڑی تھی، آدھی سڑک پر، آدھی ہوا میں...
یہ عادت ہے۔
یہ مزاج ہے۔
یہ وہ طریقہ ہے جس سے ہم زندگی گزار رہے ہیں۔
جلدی کرو۔
آگے نکلو۔
کسی بھی طرح بس پہنچ جاؤ۔
اور پھر اندر جا کر سکون سے کھڑے ہو جانا۔
یہ تضاد مجھے اندر سے ہلائے ہوئے ہے۔
کیونکہ ہم باہر جس طرح ہوتے ہیں، کیا واقعی اندر جا کر بدل جاتے ہیں؟
یا ہم صرف چند منٹ کے لیے خود کو قائل کر لیتے ہیں کہ 'ہم ٹھیک ہیں'؟
نماز کے بعد وہی رش، وہی بے ترتیبی، وہی بے حسی۔
کوئی کسی کو راستہ نہیں دے رہا ہوتا۔
ہر کوئی بس نکلنا چاہتا ہے، بس سب سے پہلے۔
اور پھر ایک عجیب سا احساس…
ہم واقعی قوم نہیں ہیں۔ ہم بس ایک ہجوم ہیں۔
فرق بہت باریک ہے، لیکن ہے بہت گہرا۔
قوم وہ ہوتی ہے جو ایک دوسرے کو دیکھتی ہے، سمجھتی ہے، جگہ دیتی ہے۔
ہجوم صرف دھکیلتا ہے۔
اور شاید ہم نے اپنے بچوں کو بھی یہی سکھا دیا ہے کہ دھکیل کر آگے نکلنا ہی زندگی ہے۔
عید پر نئے کپڑے پہننا آسان ہے۔
لیکن رویہ بدلنا…وہ انتہائی مشکل ہے۔
اور شاید اصل عید وہیں سے شروع ہوتی ہے!
حکومت نے جان بوجھ کر عمران خان کے ساتھ ایسا کچھ کیا ہے جس کو چھپانے کے لیے فیملی اور ذاتی معالجین کو ملنے سے روکا جا رہا ہے۔ یہ سیدھی سیدھی طبی دہشتگردی ہے۔
Make no mistake. Imran Khan's life is at risk.
It cannot be just a coincidence that the deterioration of his eye condition coincided exactly with the period of his isolation.
They are capable of anything. Even murder.
#ComeToStreetsForKhan
#FPWorld | Imran Khan’s family rejects fresh medical report, questions eyesight improvement claim, and says their doctor cannot independently verify findings, fuelling concerns over transparency and his treatment in custody.
https://t.co/vaTq3kaae7
🚨 14 EX-CAPTAINS APPEAL FOR IMRAN KHAN 🚨
- 14 former international captains have requested the Pakistan government to provide medical treatment for Imran Khan.
- The petition, led by Greg Chappell, was delivered to Prime Minister Shehbaz Sharif.
- It was signed by Sunil Gavaskar, Kapil Dev, Allan Border, Steve Waugh, Ian Chappell, Belinda Clark, Kim Hughes, Mike Atherton, Nasser Hussain, Mike Brearley, David Gower, Clive Lloyd & John Wright. (The Age)
Legendary India cricketers Sunil Gavaskar and Kapil Dev are among fourteen former international captains to have made an appeal to the Government of Pakistan to ensure the welfare of their world-winning skipper Imran Khan, while raising concerns about his deteriorating health in custody
#ImranKhan #Pakistan #SunilGavaskar #KapilDev
https://t.co/spLaXnkDkb
In a massive development, 14 legendary captains from five countries -including #SunilGavaskar and #KapilDev and #Australian great #GregChappell, appealed to the #Pakistan government on Tuesday about ensuring proper treatment for Pakistan's 1992 #WorldCup-winning captain #ImranKhan, who has been in jail for more than two years now.
More details 🔗https://t.co/GVCHd5N0iM
Fourteen former international cricket captains, including Sunil Gavaskar and Kapil Dev, have made a public appeal to the Government of Pakistan seeking fair and humane treatment for jailed former Prime Minister Imran Khan.
بیشرم اور بیغیرت
سرعام کہتے ہیں کہ اگر بشری بی بی کے ذریعے پیغام باہر آیا تو انکی ملاقات بھی بند کر دینگے
وہ اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ خان کو خاموشی سے مارنا چاہتے ہیں
#یہ_مجھے_مار_دینگے#الو_کے_پٹھے_سارے_اکٹھے
عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا ہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے جو دیکھایا اور بتایا جا رہا ہے حقیقی صورتحال اس سے ذیادہ تشویشناک ہے۔ عمران خان کے blood samples کروانا بہت ضروری ہے ۔
بروقت علاج نہ کروانے کی صورت میں ذیادہ نقصان ہو جائے گا ۔عمران خان کو علاج کے لئے شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے ۔کیونکہ وہاں ان کے مرض کی علاج کی تمام سہولیات موجود ہیں مجھے بھی بورڈ میں ساتھ رکھا جائے کیونکہ میں 30 سال سے عمران کی ہسٹری جانتا ہوں ۔
لیکن اسکے برعکس محسن نقوی بضد ہے کہ عمران خان کا علاج عسلری ہسپتال میں ہو کیونکہ وہاں یہ عمران خان کی بلڈ رپورٹس چھپا سکتے ہیں ۔
Imran khan didn’t appeal to his hundreds of parliamentarians, thousands of ticket holders, or millions of supporters. Instead, he asked his sisters to stand up for him. This shows how badly we have failed him.