International law is dead in practice—driven by Western double standards on Gaza vs. Ukraine and silence on Israel–U.S. aggression on Iran.
Still, credit to President Steinmeier for condemning the violations against Iranians. Those who value the rule of law should also speak up
Twenty five days without communication. Imran Khan’s safety remains unknown despite his repeated warnings naming General Asim Munir as responsible if anything happens to him. We call on the global community to insist on his safety, due process, and immediate access to legal and medical rights.
@Amnesty@hrw@UNHumanRights
یہودی کارڈ ، عورت کارڈ ، مزہب کارڈ ، قومیت کارڈ , چوہدری سرور ، جہانگیر ترین ، علیم خان ، فیض حمید ، فرح گوگی ، ریحام خان ، شاہد آفریدی ، طیبہ گل ، عائشہ گلالئی ، مصطفیٰ کمال ، گلوکار جواد احمد ، ملک ریاض ، مفتی سعید ، خاور مانیکا ، فیاض الحسن چوہان ، محسن داوڑ ، اقرار الحسن ، محمود خان ، پرویز خٹک
…
، پریس کانفرنسز ، ، جبری پریس کانفرنسز ، توشہ
خانے ، آڈیو لیک ، وڈیو لیک ، کال لیک ، ممنوعہ فنڈنگ ، 14 پارٹیاں ، عدم اعتماد ، سیکنڑوں کیسیس، سیکنڑوں ایف آئی آرز ، قاتلانہ حملے , گھر پر حملے ، ذات�� حملے ، نکاح پر حملے ، درجنوں گرفتاریاں ، خاندانی گرفتاریاں ، سیاسی گرفتاریاں ، ملٹری کورٹس ، کینگرو کورٹس ، فائر وال
..
٫ ملاقاتوں پر پابندی ، تصویر پر پابندی ، سوشل میڈیا
پر پابندی ، الیکٹرونک میڈیا پر پابندی ، پرنٹ میڈیا پر پابندی ٫ خان کے نام پر پابندی ، الیکشن چھیننا ، بلا چھیننا ، مینڈیٹ پر قبضہ ، 25 مئی ، 9 مئی ، 26 نومبر ،
…
قتل عام ، اغواء گردی ، لاٹھی گردی ، گولی گردی ، پولیس گردی ، انڈہ گردی ، غنڈہ گردی ، امریکی دھمکیاں ، پھانسی کی دھمکیاں ، درجنوں ایکٹس، آئین میں تبدیلیاں ، قانون میں تبدیلیاں ، 26 ویں آئینی ترمیم ، 27 ویں آئینی ترمیم ، اور 90 فیصد میڈیا کی نام نہاد صحافیوں کے تجربے ملا کر سب خاک میں الحمدللہ میرا کپتان آج بھی مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے
کپتان جیل سے بیٹھ کر نظام الدین کو للکار رہا ہے ۔
قوم کو سنا رہا ہے ۔
حقیقی آزادی کا وہ پیغام جس کا خواب عمران احمد خان نیازی کروڑوں دلوں تک پہنچا چکا ہے۔
لکھ مؤرخ
نیازی نظام پھاڑ کے تاری�� رقم کرگیا۔
و تعز من تشاء
و تزل من تشاء
علی پور میں میگا انسانی المیہ :
حکومت خبروں کو سنسر کررہی ہے مگر جو صحافی علی پور پہنچ گئے ہیں وہ بتا رہے ہیں ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہو رہا ہے کیونکہ حکومت نے سیاسی لوگوں کو بچانے کے لئے غلط بند توڑ دئے اور اچانک ١٢ فٹ پانی سینکڑوں گاؤں میں گھس گیا
لوگ کئی دنوں سے چھتوں اور درختوں پر انتظار میں ہیں مگر کوئی بچانے والا نہیں - کچھ بے ایمان لوگ اپنی کشتیاں لا کر لوگوں کو بلیک میل کر رہے ہیں اور پیسے چھین رہے ہیں -
یہ سیلاب مریم نواز @MaryamNSharif کئ سب سے بڑی ناکامی ہے اور انکی حکومت اور فوج کے خلاف عوام کا غصہ اور نفرت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے - مریم اپنی ٹک ٹاک میں مصروف ہیں -
دنیا کو ان حالات کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور ہزاروں کی جان بچانا چاہیے اس سے پہلے کے نقصان زیادہ ہو جائے -
“Instead of going through the formality of introducing a 27th constitutional amendment through a sham parliament, it would be better to openly declare a monarchy, because what exists today is outright dictatorship, forcibly imposed on the country.
The very foundation of Pakistan was laid on La Ilaha Illallah (There is no god except Allah), a declaration that liberates mankind from all forms of slavery. Our country was freed from British rule through immense sacrifices to establish a nation where every citizen would enjoy personal liberties. But the situation is completely the opposite. A mafia seeks to keep the entire nation enslaved. I am willing to endure solitary confinement in a dark prison cell, but I will never accept slavery. And that is my message to everyone: it is better to choose imprisonment than to live in such bondage. What is the value of freedom if, outside these walls, we are not truly free? Iqbal’s Shaheen (eagle) soars high, it does not live in servitude.
I give this call to the entire nation, especially to the workers and supporters of Pakistan Tehreek-e-Insaf: Launch a movement after Ashura against the tyrannical system that has gripped this country. For me, death would be better than accepting a system built on slavery.
Every attempt is being made to suppress my voice so that my message does not reach the people and no one dares to stand up against oppression. But I will resist tyranny until my very last breath. I have complete faith in my Creator that this shadow of injustice will soon be lifted from Pakistan.
There are four pillars integral to any democracy: the right to vote, the rule of law, moral integrity, and a free press. The 26th Constitutional Amendment has effectively dismantled all four:
1. The Right to Vote: A dictator has no need for public mandate; he governs through force. The illegitimate assemblies formed via Forms-47, and the subsequent distribution of reserved seats, have only reinforced the perception among the people that their votes hold no value.
2. The Rule of Law: The judiciary has been reduced to a subordinate department of the government. Courts are packed with handpicked judges, while independent judges have been silenced. This is a hallmark of martial law, not democracy.
3. Moral Fabric of Society: This amendment has buried all ethical values. Individuals who are not true representatives of the people now occupy seats in the assemblies. Horse-trading of assembly members continues with impunity, and even the judiciary operates under the thumb of this mafia.
4. Free Media: Under a dictatorship, the media is bound in chains. Freedom of expression has been entirely curbed. Independent journalists are being targeted, while the rest have been bought off.
Peaceful protest is a fundamental democratic and constitutional right. Yet, 26 of our MPAs were suspended for staging a protest in the Punjab Assembly. I commend Ahmad Bhachar and all PTI MPAs who had the courage to challenge these pharaohs. Until our 26 members are reinstated, our elected representatives should hold their own assembly outside. The Form-47-based assemblies do not represent the people, in any case.”
Former Prime Minister Imran Khan in Conversation with Members of his Family - Adiala Jail (July 1, 2025)
حامد میر کے پروگرام میں کیا ہوا تھا یاد ہے 🚨
جب ایک ریٹائر جنرل نے کہا کہ ڈرون اٹیک ہونے چاہیے اس میں کوئی غلط کام نہیں !!
عمران خان !! حامد میر مجھے ایسے پروگرام میں نا بٹھائے جدھر ایسے بے غیرت لوگ بیٹھے ہو ادھر لوگ مررہے یہ بے غیرت کہہ رہا اچھا ہورہا یہ انسان نہیں !!
After my Pakistan visit, engaging with leaders & communities there & in the US, I reaffirm my call for Imran Khan’s release. A strong US-Pakistan partnership thrives on shared values—democracy, human rights, & economic prosperity. Let’s work together for freedom & stability. #FreeImranKhan
”دہشتگردوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن ہوا“ اور پھر معلوم ہوا کہ ایک مرتبہ پھر معصوم شہری ریاست کی گولی کا نشانہ بن گئے ہیں۔ رمضان، ۶ستمبر ۲۰۰۸ کو بھی ایسی ہی ایک خبر چلی تھی۔ قومی میڈیا نے جسے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ک��ا تھا وہ شہری آبادی پر بلا تفریق بمباری تھی کہ جس سے فقط لمحوں پہلے حکم صادر کیا گیا کہ مکیں مکان خالی کردیں۔ سانحہ یہ ہے کہ ایسے سانحوں میں جنازے صرف وہ گنے جاتے جنہیں کاندھوں پہ اٹھا کر دفن کردیا جاتا ہے جو عمر بھر کے لیے کاندھو کے محتاج ہوجاتے ہیں انہیں زندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دہشتگردی کی آڑ میں ہمیں صرف مارا نہیں گیا، کولیٹرل ڈیمج کے نام پر بھلا بھی دیا گیا۔ اتنی ہی سی تو حیثیت ہے ہمارے جنازوں کی بھی۔ ہم سب محض کولیٹرل ڈیمج ہی تو ہیں۔ ہمارے سالوں کی ریگزاری جوڑ کر کھڑے کیے گھر بس کولیٹرل ڈیمج ہی تو ہیں۔ ان کے ایک فیصلے کی بھینٹ چڑھانے کو میسر۔ طاقت کے اس کھیل نے کتنوں کی زندگیاں نگل لی؟ اس ڈرٹی وار نے کتنے گھر اجاڑے؟امن تھا، امن آج بھی ہوسکتا تھا، کیوں نہیں قائم رہنے دیا گیا؟ اگر کوئی یہ کہے کہ دہشت گردی شروع ہو گئی یا آگئی ہے تو یا وہ بے وقوف ہے یا اس گیم کا حصہ ہے کیونکہ ایک ایک لمحے پر ہم خبردار کرتے رہے کہ کیا کیوں کیسے ک�� ہو رہا ہے۔ تفصیلات سے اب کیا فائدہ، ”میں آگاہ کرتا رہا“ کہتا رہوں تو میرے کہنے سے اب کیا فائدہ کیونکہ ریاست کے نام پر یہ خون آشام درندے تو وہی کررہے ہیں جو انہوں نے کرنا تھا، کیوں کر رہے ہیں اس پر بھی میں تفصیل سے بات کر چکا ہوں۔ مزید کروں تو بھی کیا فائدہ؟
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں دفن کیے اور کندھوں پہ اٹھائے رکھے دونوں جنازوں کا بوجھ سہار چکا ہوں اس لیے جنازوں سے پہلے آواز اٹھا کر، بتا کر، سمجھا کر زندگیاں بچانا چاہتا ہوں ان کا معاملہ یہ ہے کہ یہ لاشوں پر بھی بیانیہ بنانا چاہتے ہیں۔
کاٹلنگ کے المیے کو یہ کولیٹرل ڈیمج کہیں گے لیکن یاد رکھیے گا دہشت گردی کی اس نام نہاد جنگ میں جو یہ لفظ استعمال ہوتا ہے یہ ہماری زندگیاں ہوتی ہیں۔
ان خون آشام درندوں نے تو وہی کرنا ہے جو انہیں آتا ہے۔ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ کیا کیا جائے؟ دو دن قبل امن تحریک کے اپنے ساتھیوں کو بتا دیا تھا کہ اب حالات شہری آبادیوں پر ایسی ہی بمباریوں کی طرف جا رہے ہیں، پرسوں تمام قبیلوں کے جرگے کو اگلا لائحہ عمل دینا تھا لیکن چونکہ امن کے نام لیواؤں کو دونوں ہی جانب سے خطرہ ہے لہذا انہوں نے بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ عید کے بعد پختونوں کے تمام قبیلوں کا جرگہ بلا کر لائحہ عمل دینے اور پھر تحریک چلانے کی گزارش کی اور مالاکنڈ کی طرز پر تحریک چلانے کے ہدایات دینے اور عوام کو میری طرف سے کال دینے کی درخواست کی اور جرگے کے دن سے اپنا امن بحالی تحریک شروع کرنے کا عندیہ دیا۔سب نے اس پر اتفاق کیا کہ ہمارا امن ہم نے خود بحال کرنا ہے اور اپنا گھر ان وحشت کے سوداگروں سے خود بچانا ہے جن کے لیے ہماری زندگیوں، ہمارے پیارو، ہمارے گھر بھار کی حیثیت ایک ڈرون حملے، ایک کراس فائر کی زد میں آکر ”کولیٹرل ڈیمج“ کہلائے جانے جتنی ہے۔
ٹرمپ حکومت کے ��اموش پیغام - سمجھنے والے سمجھ لیں :
زلمے خلیل زاد نے ٹرمپ کی نئی حکومت کے خیالات کی ایسی تصویر کھینچی ہے جو پاکستانی فوجی جنتا کے سردی میں پسینے بہا دیگی - وہ اپنی ٹویٹ میں کہتےہیں اگر عمران خان جیل میں نہ ہوتا تو ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں وہ مہمان خصوصی ہوتا - ہیں - نہ صرف وہاں موجود ہوتا بلکے خاص مہمان ہوتا -
تو یہ سمجھ لیں جیسے ہی عمران خان جیل سے باہر ایگا ، چند دن اپنی پارٹی کے معاملات دیکھ کر اور اپنے لوگوں سے مل کر ، لاکھوں لوگوں سے جلسوں میں خطاب کرکے ، ٹرمپ کی دعوت پر امریکا کا دورہ کریگا اور جو عزت اسکو ملنی چاہیے تھی وہ اسکو دی جاےگی -
یہ خیالات اور ٹرمپ کے قریب لوگوں کی بات چیت فوجیوں کی نیندیں اڑانے کے لئے کافی ہیں مگر وہ اپنے ہی جال میں اس بری طرح پھنس چکے ہیں - سوائے ایک حل کے کوئ�� راستہ نہیں -
وہ حل کیا ہے : فوج کے باقی جرنل خاموشی سے عاصم منیر کے پاس جایئں اور کہیں آپکی ضد اور انا نے پوری فوج اور پورے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے - اب آپ ی��ییٰ خان اور مشرف کی طرح تشریف لے جایئں اور ملک کو آگے چلنے دیں -
ورنہ پھر آپکو پتا ہے کیا ہوتا ہے -
عمران خان کی قابلِ فخر قوم!
آپ نے ہمیشہ عمران خان کی لاج رکھی ہے، آپ کی جرات آپ کے حوصلے کو سلام۔
آئی ایس ایف اور یوتھ کے جوانو!
شکریہ۔ آپ نے وفاداری اور بہادری کی جو داستانیں رقم کی ہیں اس ملک کی تاریخ ہمیشہ اس کی گواہی دے گی۔
اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح کے شہریوں!
آپ کے ہم وطن گذشتہ ۲۴ گھنٹے سے ریاستی جبر کے خلاف برسر پیکار آپ کے شہر پہنچے ہیں۔ آج آپ نے ایک مرتبہ پھر ۲۵ مئی اور ۱۸ مارچ کی اپنے ایثار کی روایت دہرانی ہے۔
آپ کا صبر، جبر پر غالب آرہا ہے۔ پوری دنیا میں پاکستان�� آپ کے ہم آواز ہیں۔ آپ نے یونہی پرامن رہنا ہے۔ تھکنا نہیں، تھکانا ہے۔ وہ بندوق کے بھروسے ہیں اور آپ کی طاقت آپ کا حوصلہ ہے۔ اسے قائم رکھنا ہے۔ آپ کا صبر، آپ کا حوصلہ جیتے گا۔ جیتنے والا ہے انشاء اللہ۔ اپنی نظریں اسی طرح منزل پر رکھیں۔ ڈی چوک پہنچنا آپ کے لیڈر کا حکم ہے اور فیصلے صرف اور صرف عمران خان کا اختیار۔
کتنا اوپر سے آرڈر آتا ہے نہتے بے گناہ لوگوں پر فائر کھولنے کا؟
اس کے نام سے آتا ہے جس کے نام کا حلف لیتے ہو؟
قوم کی حفاظت کے لیے آپ کو یہ طاقت اور یہ بندوقیں دی گئی ہیں، اسی قوم پر تان دی ہیں؟ کیا مانگ رہے ہیں؟ اپنا آئینی اور قانونی حق؟ یہ کہ ہم نے جس کو چنا ہم پر حکمرانی وہی کرے؟ یہ کہ جنہیں نا حق پابند سلاسل کیا ہے انہیں رہا کرو؟ یہ کہ ہمیں انسانوں کیطرح جینے کی آزادی دو؟
خون بہایا، گھر توڑے، عزتوں پر ہاتھ ڈالے وہ پھر بھی آئین اور قانون کی بات کررہے ہیں۔ پرامن ہیں۔ تمہاری گولیاں کھا کر تمہیں پانی پلاتے ہیں۔ تمہارے حق میں ہجوم کو تاویلیں دیتے ہیں۔ کسی کو بغاوت پر نہیں اکسا رہا مگر یہ عہ��ے، یہ تمغے، یہ مراعات تمہارے گلے کا طوق بن جانی ہیں جس دن کن فیکون والے کا حکم آنا ہے۔
دھمکی نہیں ہے وارن کررہا ہوں، جیسے دہشتگردی کی نئی لہر پھیلنے سے پہلے کیا تھا۔ جیسے جبر کے آغاز میں کیا تھا۔ جیسے الیکشن کے وقت کیا تھا۔ آئین اور قانون کی پاسداری کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو انتقام کی جنگ میں نہ بدلو۔ ہوش کے ناخن لو۔ جمہور اور جمہوریت کو سانس لینے دو، اس سے پہلے کہ بہت بہت دیر ہوجائے۔