نعیم حیدر پنجھوتا اور سینئر اینکر پرسن نادیہ مرزا نے بی اختیار ولی کی ایسی کے تیسے کر دی 💥
جب ان لوگوں کا جھوٹ پکڑا جاتا ہے پر یہ لوگ اپنے اوقات دیکھا نے پر آجاتے ہیں
“مجھے بار بار ڈیل آفر ہوئی اور کہا گیا کہ ملک چھوڑ کر چلا جاؤں ��ا خاموش ہو جاؤں تو میرے کیسز ختم کر دئیے جائیں گے، لیکن پہلے دن سے میرا موقف ہے کہ میں ان مقدمات کا سامنا عدالتوں سے کر کے ہی باہر آؤں گا کسی ڈیل کے نتیجے میں ہرگز نہیں۔ اسی لیے مجھ پر بے بنیاد 300 مقدمات بنائے گئے ہیں۔ کوئی بھی اور شخص ہوتا تو ان مقدمات کا سامنا نہیں کر پاتا لیکن میں جانتا ہوں کہ میں بے گناہ اور حق پر ہوں۔
اب توشہ خانہ کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان برگیڈیر احمد اور کرنل ریحان نے اقرار کیا ہے کہ توشہ خانہ کے تحفے میرے گھر نہیں گئے بلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے اور ان کے کاغذات مکمل ہیں۔
اب اس مقدمے میں ایک دن میں بریت ہو جانی چاہیئے، خصوصی طور پر بشرٰی بیگم کی ضمانت تو ہو جانی چاہیئے کیونکہ وہ خاتون ہیں اور اس کیس میں ان پر aiding and abetting کا ہی جھوٹا الزام ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ چھبیسویں ترمیم والی عدالتیں اوپر سے لکھے لکھائے فیصلے ہی سناتی ہیں جو قانون کے مطابق ��ہیں عاصم لأ کے مطابق ہوتے ہیں۔ ترتیب بھی یوں رکھی جائے گی کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا سنائی جائے گی پھر القادر میں ضمانت کا فیصلہ آئے گا۔ یہی سکرپٹ ہے اور عدلیہ فی الحال قانون کے بجائے سکرپٹ پر ہی چل رہی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو(24 ستمبر، 2025)
2/2
“ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی- اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا- عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سک��ا ہے-
اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عوام کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سانحات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا-
خواتین پر جتنا ظلم عاصم منیر کے دور میں ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ اور کینسر سروائیوور ہیں، ان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف چھوڑنے سے انکار کیا۔ بشریٰ بیگم کو بھی صرف اس لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنھوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی ان کے لیے عام معافی اور جو میرے نظریات کا ساتھ دیتے رہے ان پر ہر طرح کا ظلم و جبر۔
ہم غلامی ��بول کرنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
عاصم منیر مجھ پر اور میری اہلیہ پر ہر طرح کا ظلم کر رہا ہے۔ ایسا ظلم کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں نہ ہی میں جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں "یا موت یا آزادی" جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انھیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف نہ فارم 47 حکومت سے مذاکرات کرے گی نہ اسٹیبلشمنٹ سے۔ ایسی کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کا تو ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں جس کا وزیراعظم ہی "پوچھ کر بتاؤں گا" کے تحت چل رہا ہو۔ مذاکرات اس لئے بھی بے سود ہیں کہ جب بھی ہم نے مذاکرات کئے، ہم پر سختیاں اور ظلم مزید بڑھا دیا گیا۔ اس وقت ساری طاقت ویسے بھی ایک فرد واحد یعنی عاصم منیر کے پاس ہے جو اپنی کرسی کی خاطرکسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔
تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں، پارلیمنٹیرنز، آئی ایل ایف اور سینئیر وکلاء کو ہائی کورٹس جانا چاہیے اور وہاں سے تاریخ لئے بغیر نہ اُٹھیں، کیونکہ میرے اور بشری بیگم کے مقدمات کی تاریخیں ہی نہیں دی جا رہیں اور جان بوجھ کر مقدمات کو طوالت دی جا رہی ہے تاکہ ہم جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں رکھا اور آخر کار انہوں نے زمین بوس ہی ہونا ہے لہٰذا ان کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جا رہا۔
سلمان اکرم راجہ پر مکمل اعتماد ہے۔ پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور ملاقات کی لسٹ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی بھیجی جائیں گی، سلمان اکرم راجہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہدایات پر عملدرآمد کروائیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں پیغام۔۔۔ نومبر 4، 2025
“میرے پاس FIA کی ٹیم نے آ کر سوال کیے کہ میں ان سب موضوعات پر کیوں بات کرتا ہوں:
نمبر ۱: “ریاست مخالف” ٹویٹس
نمبر ۲: : افغانستان اور خارجہ پالیسی
نمبر ۳: عاصم لاء
نمبر ۴: سقوط ڈھاکہ اور عاصم منیر کو یحیٰی خان سے تشبیہ دینا
نمبر ۵: جیل میں ذہنی تشدد
پہلا سوال کیا گیا کہ آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے "اینٹی سٹیٹ” چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں ملک کا سابق وزیراعظم اور اسی فیصد پاکستانیوں کا نمائندہ ہوں۔ میں ہر وہ بات ��روں گا جو میرے لوگوں کے مفاد میں ہو گی۔ مجھے پورا اختیار حاصل ہے کہ میں اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھاؤں۔ نہ یہ اختیار کوئی مجھ سے چھین سکتا ہے، نہ کوئی مجھے ملک و قوم کے مفاد کے حوالے سے بات کرنے سے روک سکتا ہے!
مجھ سے دوسرا سوال کیا گیا کہ میں افغانستان اور خارجہ پالیسی کے بارے میں بار بار بات کیوں کرتا ہوں؟
میرا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے دوران دانشمندانہ پالیسی اپنا کر پاکستان خصوصاْ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ امن قائم ہوا۔ ا��ر اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کے ذریعے حالات کو مزید بگاڑ کی طرف بڑھتے دیکھ کر میں خاموش رہ کر اپنے لوگوں کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دوران افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ افغانستان کی NDS اس وقت انڈیا کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر رہی تھی اور وہ پاکستان کے خلاف تھے- ہم نے ان سے بھی مذاکرات کیے- میں افغانستان گیا اور اشرف غنی کو قیام امن کی خاطر پاکستان بلایا جس سے قبائلی علاقوں کا امن بحال ہوا اور وہاں ایک عرصے بعد استحکام کا ماحول قائم ہونے لگا تھا۔ اس وقت آئی ایس آئی کی بھی یہی پالیسی تھی۔ لیکن جیسے ہی عاصم منیر چیف بن�� اس نے پاکستان دوست افغان حکومت کو دھمکیاں دیں اور جان بوجھ کر حالات خراب کیے۔ صرف یہی نہیں، تین نسلوں سے یہاں رہنے والے افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کیا اور وہاں ڈرون حملے کیے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے اور خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کا امن برباد ہوا۔ جب تک یہ خطے کے چاروں فریقین یعنی افغان حکومت اور افغان عوام ، پاکستان کی حکومت اور خیبر پختونخوا کے لوگ مل کر نہیں بیٹھیں گے، امن نہیں آئے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ملٹری آپریشنز سے جتنا مرضی زور لگا لیں امن قائم نہیں ہوتا-
تیسرا سوال کیا گیا کہ “عاصم لاء کیا ہے”؟
تو میرا جواب ہے کہ ملک میں جو بھی بربادی ہے وہ عاصم لاء کے تحت ہے اور یہ کوئی پراپیگنڈا نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی بات ہے۔ سب سے پہلے مجھے رینجرز نے احاطہ عدالت سے اغواء کیا اور نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا۔ نو مئی کا آپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ورنہ چند گھنٹوں میں تحریک انصاف کے دس ہزار لوگ گرفتار نہ کیے جاتے۔ سی سی ٹی وی بھی اصل مجرموں سے توجہ ہٹانے کے لیے غائب کی گئی۔ اس کے بعد جو پریس کانفرنس کرتا اس کو آزادی مل جاتی اور جو تحریک انصاف کا ساتھ دیتا رہتا اس کو ہراساں کی جانے کی کوئی کوشش چھوڑی نہیں جاتی۔ اس منصوبے کو استعمال کر کے نا صرف تحریک انصاف کو کچلا گیا بلکہ انسانی حقوق کی بھی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔اس کے بعد عوام نے ہمیں دو تہائی مینڈیٹ دیا جسے چوری کر کے ان چوروں کو ��لک پر مسلط کر دیا گیا جن کی کرپشن کی داستانیں آئی ایس آئی خود مجھے سناتی تھی۔ پھر جس الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگناچاہیے تھا اسے نو ماہ کی ایکسٹینشن دے دی گئی۔ فارم 47 ایوان کے ذریعے چھبیسویں ترمیم منظور کروائی گئی اور ایسے ضمیر فروش ججز کو اوپر لایا گیا جن سے انصاف کی کوئی امید نہیں بچی۔ ہر ادارے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
وہ آئی ایس آئی جو تحریک انصاف دور میں افغانستان کے ساتھ امن کے لیے کام کر رہی تھی، اب محض عاصم منیر کی ذاتی مافیا بن کر رہ گئی ہے، جس کی واحد ڈیوٹی کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف کو کچلنا ہے۔ یہ سب عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے -
مجھ سے چوتھا سوال کیا گیا کہ س��وط ڈھاکہ کا حوالہ کیوں دیا اور عاصم منیر کو یحییٰ خان سے تشبیہہ کیوں دیتا ہوں؟
میرا جواب ہے کہ مجیب الرحمٰن اور یحیٰی خان کے بارے میں جو بھی میں کہتا ہوں وہ حمود الرحمان کمیشن میں درج ہے اور تاریخ کا حصہ ہے کہ کیسے یحیٰی خان نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مجیب الرحمان کی اکثریتی پارٹی کو حکومت دینے کی بجائے ان پر ملٹری آپریشن شروع کر دیا اور ملک توڑ دیا۔ ایک دن مجیب الرحمٰن سے مذاکرات ہو رہے تھے اور اگلے ہی دن بنگالیوں پر آپریشن لانچ کر دیا۔ آج کل وہی یہاں ہو رہا ہے�� جو کام یحیٰی خان نے 1971 میں کیا وہی سب عاصم منیر بھی کر رہا ہے، جس سے ملک میں قانون اور آئین کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
مجھ سے پانچواں سوال کیا گیا کہ میں یہ کیوں کہتا ہوں کہ مجھ پر ذہنی تشدد ہو رہا ہے؟
"اگر عافیہ صدیقی کو قانون کے مطابق سزا ہوئی ہے تو میں عافیہ کو ملنے والی سزا کو غلط نہیں کہہ سکتا۔ قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہیئے" -
اسحاق ڈار
کیا اب اسحاق ڈار اپنے نواسے کو "قانون کے تحت" سزا ہونے دیں گے؟
لعنت بیجھے ساقے پر اس کی آل اولاد پر اور انہيں لانے والوں کے نئے ڈراموں پر اور پرانی کرتوتوں پر۔
عوام کے حالات دیکھیں۔ یہ انکی ملی بھگت کا نتیجہ ہیں۔
مکمل وڈیو۔
ایمل کانسی افغانستان میں تھا اویس لغاری موجودہ وزیرِ بجلی اسکا کلاس فیلو تھا, اس نے شکار کے بہانے اسکو پاکستان بلوایا, ڈیرہ غازی خان کے ایک ہوٹل میں اسکو ٹہرایا۔
اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے امریکہ سے 25 ملین ڈالر ایمل کانسی کے سر کی قیمت وصول کی تھی۔
جب امریکہ کی عدالت میں کیس چل رہا تھا ایمل کانسی کے وکیل نے پاکستان سے اسکی گرفتاری غیرقانونی چلینچ کی تھی اس وقت امریکن اٹارنی جنرل نے کہا تھا ہم نے یہ گرفتاری ڈالر دے کر کی ہے اور ایک مشہور جملہ بولا " پاکستانی ڈالروں کے لیے اپنی ماں بھی بیچ دیتے ہیں "
قوم کی یادداشت کمزور ہے سوچا یاد کروا دوں۔
اس لیے سامراج کو پاکستان پہ ایسے ہی بکاؤ, گھٹیا, غدار حکمرانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ پاکستان عوام کے لیڈر نہیں سامراج کے پیڈ ایجنٹ ہیں۔
قومی غیرت بڑی چیز ہے جہاں میں۔
شہباز شریف ہم آپ کی پیشکش کو قبول کرتے ہیں۔ 2018 الیکشن کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ 2024 الیکشن کے فارم 47 کی بھی تحقیقات کرائی جائے۔ ہمت کریں اور آزادانہ جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کریں۔ جیسے عمران خان نے اسمبلی کے فلور پر 2018 الیکشن کی آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی جس پیشکش سے تم بھاگ گئے تھے۔ حالانکہ 2018 الیکشن میں 35 ایسے حلقے تھے جن پر پی ٹی آئی کے امیدوار��ں کو پانچ سو سے کم ووٹ پر ہرایا گیا۔ 8 فروری کے الیکشن میں آپ کی جھوٹی اڑان کے بیانیے کو عوام نے مسترد کیا اور عمران خان کو 180 سے زائد نشستوں پر کامیاب کرایا۔ تم جعلی وزیر اعظم اور چور دروازے سے آئے ہوئے مسلط شدہ ٹولا ہو۔
بکواس مکمل بکواس
ادارے و کرپشن و فائلیں صرف بلیک میلنگ کے لئے ہتھیار ہیں وگرنہ ابتک شوباز زرداری مریم و حواری کرپشن مقدمات میں جیلوں میں ہوتے ؤزیراعظم صدر وزیراعلی و وزراء مشراء بنوا کر سیلوٹ نہ مارے جا رہے ہوتے
نوازا اور ڈالر ڈار ابھی تک لندن ہوتے ایئرپورٹ پر بائیومیٹرک نہ ہوتے ایئرفورس کے جہاز پر واپس نہ لائے جاتے
عمران خان نے بتایا تھا کہ ان کو (جرنیلوں) کو کرپشن سے کوئی مسئلہ نہ تھا
آج شہباز گل کی باتیں یاد آ رہی ہیں کہ وہ صحیح کہتے تھے یہ اشرافیہ ہے ۔۔۔۔
یہ وہ میڈیا ٹاک ہے جس میں فواد چوہدری اور اسد عمر نے شہباز گل کی بات نہیں سنی اور چلے گئے تھے ۔۔۔۔۔
استور حلقہ 1 میں ایک اور دھاندلی ب�� نقاب!
یہ منظر حلقہ نمبر 1 استور کا ہے، جہاں مبینہ طور پر بیلٹ باکس بھی چوری کرتے ہوئے افراد کو دیکھا جا سکتا ہے
عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعے کی فوری، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آئیں اور عوامی مینڈیٹ کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔