سندھ طاس معاہدہ پاکستان کو دیا گیا کوئی تحفہ یا احسان نہیں تھا بلکہ یہ ایک باوقار بین الاقوامی تصیفہ تھا۔ اگر بھارت اس معاہدے کو معطل یا التواء میں ڈالے گا تو اس کا مطلب صرف ملاقاتیں منسوخ کرنا نہیں بلکہ ایسے بین الاقوامی معاہدے پر وار کرنا ہے جو معاہدہ جنگوں، بحرانوں اور نسلوں کی دشمنی کے باوجود بھی قائم رہا۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا اسلام آباد میں تقریب سے خطاب
@BBhuttoZardari
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں “سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا ایک مؤثر ذریعہ” کے عنوان سے ہونے والے سیمینار میں شرکت
@BBhuttoZardari
اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد
اسلام آباد: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملکی سیاست سے متعلق مختلف امور پر بات چیت
اسلام آباد: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف موجود
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام کے وفد میں انجنئیر ضیاء الرحمان اور مولانا اسجد محمود شامل
@BBhuttoZardari@MoulanaOfficial
Within the Pakistani context, it has always been in our consistent policy that we must adapt for a changing climate. We must adopt water security measures - Chairman PPP @BBhuttoZardari in an interview with @PakistanTVcom
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، ملکی سیاست سے متعلق مختلف امور پر بات چیت
@BBhuttoZardari@AseefaBZ@MediaCellPPP@PPP_Org
این آئی سی وی ڈی کے نئے او پی ڈی بلاک، کراچی کا افتتاح 5 دسمبر 2025 کو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کیا تھا۔ اب تک 2 لاکھ 61 ہزار مریض یہاں آ چکے ہیں۔
اسی طرح، ویسکولر اینڈ اینڈوویسکولر سرجری ڈیپارٹمنٹ، شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹیٹیوٹ آف ٹراما، فروری 2026 میں قائم کیا گیا۔ اس کے آپریشنل ہونے کے بعد اب تک 30 سے 35 کامیاب پروسیجرز انجام دیے جا چکے ہیں۔
جی پی ایم سی میں گائنی ایمرجنسی اور نرسری ڈیپارٹمنٹ کو اپ گریڈ کیا گیا، جس کا افتتاح ستمبر 2025 میں ہوا۔ اب تک یہاں 23 ہزار 751 گائنی ایمرجنسی کیسز دیکھے جا چکے ہیں، جبکہ 9 ہزار 751 بچوں کی پیدائش ہو چکی ہے۔
پی آئی بی کالونی میں قائم 100 بستروں پر مشتمل اسپتال کا افتتاح اگست 2025 میں ہوا۔ اب تک یہاں 7 ہزار مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔
عباسی شہید اسپتال کو ہم نے ٹرشری کیئر اسپتال کا درجہ دیا ہے۔ اس کا افتتاح جون 2026 میں ہوا۔
ہم نے شہید بینظیر آباد میں ایس آئی سی وی ڈی کے سینٹر کو نئی جگہ منتقل کیا۔
اسی طرح لیاقت یونیورسٹی میں مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر قائم کیا گیا، جس کا افتتاح جولائی 2025 میں ہوا۔ اب تک یہاں 2 ہزار 252 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے، جبکہ 30 ہزار 571 لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
بلدیہ کراچی میں قائم ایس آئی سی وی ڈی کارڈیک ایمرجنسی سینٹر میں اب تک 60 ہزار 35 ٹرائی ایج اور ایمرجنسی مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے، 1 ہزار 219 انجیو پلاسٹی کیسز مکمل ہوئے ہیں۔
کراچی کے علاقے لانڈھی میں ری ہیبلیٹیشن اینڈ برنز پیشنٹ سینٹر بھی اسی سال مکمل کیا گیا۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال، ٹھٹھہ جولائی 2025 میں مکمل ہوا۔ اب تک اس اسپتال میں 4 لاکھ 3 ہزار 51 افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔
کے ایم سی کے اشتراک سے قائم ایس آئی سی یو یونٹ میں اب تک 4 لاکھ 4 ہزار 155 او پی ڈیز ہو چکی ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا سندھ اسمبلی سے خطاب
رواں مالی سال میں 344 ارب روپے کے خسارے کے باوجود سندھ حکومت نے 100 ترقیاتی منصوبے مکمل کیے، سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے لیے 8 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی، جبکہ عوام کو مزید ریلیف دینے کے لیے آئندہ بجٹ میں عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس سال بھی سندھ کا ترقیاتی بجٹ سب سے زیادہ ہے۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ
@MuradAliShahPPP
اس سال محکمۂ اسکول ایجوکیشن کے تحت مجموعی طور پر 2,009 اسکولوں کے منصوبے مکمل کیے گئے، جن کا مکمل ریکارڈ ہمارے ڈیٹا بیس میں موجود ہے۔
بینظیر گرلز اسکول دوڑ میں تعمیر کیا گیا۔ اس کے علاوہ ٹھٹھہ میں دو اسکول، بدین، دادو، نوشہرو فیروز، لاڑکانہ، کمبر شہدادکوٹ (دو اسکول)، سانگھڑ (دو اسکول)، گھوٹکی، تھرپارکر، سکھر، ٹنڈو الٰہ یار، میرپورخاص، مٹیاری، جیکب آباد، کورنگی، کیماڑی، میمن گوٹھ، ملیر، سنگو لائن، ضلع جنوبی (ساؤتھ)، لیاری اور پی سی ایچ ایس میں بھی نئے اسکول تعمیر کیے گئے۔
کالج ایجوکیشن کے شعبے میں یوسف گوٹھ کراچی، ڈیپلو (تھرپارکر) اور کوٹری میں نئے منصوبے مکمل کیے گئے، جبکہ مختلف کالجوں کی عمارتوں کی تزئین و آرائش بھی کی گئی۔ اسی طرح حیدرآباد اور ٹھٹھہ میں بھی تعلیمی منصوبے مکمل ہوئے۔
جامعات اور تعلیمی بورڈز میں کمپیوٹر سہولیات فراہم کی گئیں۔ این ای ڈی یونیورسٹی میں گرلز ہاسٹل تعمیر کیا گیا، جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو لاء یونیورسٹی کے ایڈمن بلاک کی تعمیر بھی مکمل کی گئی۔
آبپاشی کے شعبے میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں، خصوصاً سونی دھورو، میں بحالی اور مرمتی کام مکمل کیے گئے۔ کراچی کو پانی کی بہتر فراہمی کے لیے کے-فور منصوبے کے فیڈر کی لائننگ کا کام بھی جاری ہے۔
گلستانِ جوہر میں ڈی ای پی ڈی کمپلیکس کی تزئین و آرائش کی گئی، جبکہ ڈائریکٹوریٹ آف انکلوسیو ایجوکیشن کو مزید فعال بنایا گیا۔
سی آرٹس کے اشتراک سے لانڈھی اور ناظم آباد میں خصوصی تعلیمی مراکز قائم کیے گئے جبکہ سینٹر آف ایکسیلنس بھی قائم کیا گیا۔
ڈاؤن سنڈروم پروگرام کے تحت کراچی میں دو خصوصی مراکز قائم کیے گئے، جبکہ حیدرآباد میں بھی ایک نئے مرکز کا افتتاح کیا گیا۔ اس کے علاوہ سماعت سے محروم بچوں کے لیے پورے صوبے میں 42 خصوصی کلاس رومز قائم کیے گئے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا سندھ اسمبلی سے خطاب
نگراں دور حکومت میں 9 ماہ تک ریڈ لائن بی آر ٹی پر کام مکمل طور پر بند تھا۔ بی آر ٹی منصوبے مستقبل کی منصوبہ بندی کے تحت شروع کیے گئے ہیں۔ اورنج لائن بی آر ٹی سندھ حکومت نے مکمل کی۔ گرین لائن بی آر ٹی جب وفاقی حکومت کے پاس تھی تو اس کی یومیہ رائڈرشپ 53 ہزار تھی، تاہم سندھ حکومت کے انتظام سنبھالنے کے بعد صرف تین مہینوں کے اندر یہ بڑھ کر 78 ہزار تک پہنچ گئی۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا سندھ اسمبلی میں خطاب
ہمارا نان سیلری ایکسپینڈچر 24 فیصد ہے، جبکہ گرانٹس 27 فیصد ہیں۔48 ارب روپے یونیورسٹیوں کو ان کے اخراجات چلانے کے لیے دیتے ہیں۔SIUT کو 26.25 ارب روپے دیتے ہیں۔ اسی طرح PPHI کو 25.8 ارب روپے اور سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو 16.5 ارب روپے دیے جاتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا سندھ اسمبلی میں خطاب
President @AAliZardari expresses deep grief and sorrow over the loss of precious lives and widespread devastation caused by the powerful earthquakes that struck Venezuela.
Read More: https://t.co/IbQriQ3r9r
کراچی دبئی سے بھی بہتر تھا، اس شہر کی بربادی کی شروعات ضیاء الحق کے دور سے اور اس کے بعد اس کی پیداوار سے ہوئی۔ پھر یہاں کلاشنکوف کلچر آیا جس سے اس شہر کو مزید پستی میں دھکیل دیا۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا سندھ اسمبلی میں اظہارِ خیال
@sharjeelinam
سانحہ گل پلازہ کی سبسڈی کیلئے 8.45 ارب روپے دیے گئے، 100 ارب سے کم کے اوٹ سائیڈ بجٹ اخراجات ہوئے ہیں۔ اس سال تمام مالی مشکلات کے باوجود سندھ حکومت کے ترقیاتی اخراجات اب تک کی بلند ترین سطح پر رہے ہیں۔ اس سال ترقیاتی اخراجات کے 800 سے 850 ارب روپے تک ہوں گے۔ سندھ حکومت اس سال 1,000 سے زائد ترقیاتی اسکیمیں مکمل کرے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا سندھ اسمبلی سے خطاب
صحت کے شعبے میں 5.29 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ہوم میں 2.69 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس کے برعکس، تقریباً تمام دیگر محکموں کے بجٹ میں کمی کی گئی ہے۔ اسی طرح وزیراعلیٰ ہاؤس کے بجٹ میں 20 فیصد اور گورنر ہاؤس کے بجٹ میں 19 فیصد کمی کی گئی ہے۔ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 62 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا سندھ اسمبلی سے خطاب
One More School Upgraded from Primary to Middle Level in District Dadu
Development work under the Upgradation of Primary Schools to Middle Schools Programme 2024-25 has been completed at GBPS Jam Khan Bhurt, Taluka Mehar, District Dadu.
#GovernmentOfSindh#EducationWorks
سندھ کی تعلیم کے بارے میں غیر معیاری، تباہ حال اور ناقص کارکردگی کا بیانیہ پیش کرنے والے ناقدین کے لیے یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ سندھ کا ایک سرکاری اسکول دنیا کے 10 بہترین اسکولوں میں شامل ہوا ہے
@BBhuttoZardari@MuradAliShahPPP@sardarshah1@ShehzadRoy
موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ صرف قومی اتحاد، سیاسی ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو ملکی مفاد، معاشی استحکام اور عوامی خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو دستیاب جیو پولیٹیکل اور معاشی مواقع سے بھرپور فائدہ پہنچایا جا سکے۔
@BBhuttoZardari