بزرگ بے سہارہ - ٹی بی کے ہاتھوں نڈھال
پہلے تو دوائی مہنگی ، اگر لیکر کھا لیں تو ساتھ اچھی خوراک ضروری ورنہ ٹی بی کی دوائی ساری انرجی نچوڑ لیتی ہے
پانچ ہزار مدد پہنچی
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام پیغام:
“مجھے اللہ پر پورا یقین ہے کہ 2025 اس قوم کے لیے حقیقی آزادی کا سال ہو گا۔
رجیم چینج کے بعد ملکی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں اور نیا سرمایہ آنے کی بجائے صنعت کار اپنی انویسٹمنٹ نکال رہے ہیں۔ معاشی ترقی کے لئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ معیشت کی اس بدحالی کی 4 بنیادی وجوہات ہیں:
نمبر 1: ملک میں قانون کی حکمرانی (رول آف لاء) کا خاتمہ
ملٹری کورٹس سے سویلینز / سیاسی قیدیوں کو سزائیں دلوا کر سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اپنا منہ کالا کیا ہے- ملٹری کورٹس اور “آئینی بنچ” بنا کر ملک سے رول آف لأ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے- اس سے ہمارا “جی ایس پی پلس” سٹیٹس بھی خطرے میں پڑ گیا ہے- ملٹری کورٹس کی سزاؤں کے بعد پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو چکا ہے اور اب بیرونی سرمایہ کاری ایک خواب ہے کیونکہ جس ملک میں قانون کی حکمرانی کا جنازہ اٹھایا جا چکا ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ آپ دباؤ کے ذریعے وقتی طور پر دکھاوے کا استحکام تو لا سکتے ہیں مگر جب تک ملک میں سرمایہ کاری نہیں آتی اور عوام کا حکومت پر اعتماد بحال نہیں ہوتا بے روزگاری اور معاشی بدحالی کو روکا نہیں جا سکتا ۔ ملک کی معاشی ترقی کا ایک ہی بنیادی ستون ہے جو اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری ہے۔
نمبر 2: انٹرنیٹ کی بندش
تحریک انصاف کو کرش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ملک کی آئی ٹی کی معیشت کو بری طرح متاثر کر دیا گیا ہے۔ مستقبل IT کا ہے لیکن آزادی اظہار رائے سے خوفزدہ حکومت نے انٹرنیٹ میں خلل پیدا کر کے نوجوانوں کے روزگار کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ متاثر کر دیا ہے اور ہم عالمی مارکیٹ میں مقابلے کے قابل نہیں رہے- وہ سارے کاروبار جو انٹرنیٹ سے منسلک ہیں انہیں تباہ کیا جا رہا ہے-
نمبر 3 : سیاسی عدم استحکام
ایجینسیوں کی سیاسی معاملات میں مداخلت سے ملک میں شدید سیاسی عدم استحکام ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ فراڈ الیکشن اور جھوٹ ، فریب پر کھڑے جعلی نظام کے ہوتے ہوئے سیاسی اور معاشی استحکام ناممکن ہے۔
نمبر 4: دہشت گردی
خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر دہشتگردی میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے معیشت کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ میں بیس سال سے کہہ رہا ہوں کہ ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں۔ آپ کو دہشت گردی کے مسلے کو حل کرنے کے لئے دیرپا سیاسی حل نکالنا ہو گا، ورنہ دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ ناممکن ہے۔
مجھے افسوس ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں دھڑلے سے جھوٹ بولا ہے ۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگوں کی دوبارہ آبادکاری کی تجویز خود جنرل باجوہ نے تحریک انصاف دور میں کابینہ کے سامنے پیش کی تھی جس پر مراد سعید ، نور الحق قادری اور قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ مقامی آبادی کو اعتماد میں لئے بغیر اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم دیرپا حل کی طرف نہیں لے جائے گا۔ کابینہ کے بعد اس وقت کی اپوزیشن کو بھی فوج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کیطرف سے بریفنگ دی گئی تھی ۔ ہماری حکومت کے خاتمے کے بعد PDM حکومت کو بریف کیا گیا تھا۔ اکتوبر 2021 میں جنرل فیض کا تبادلہ ہو گیا اور اسکے بعد کبھی یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں اٹھایا گیا نہ اس پر ہمارے دور میں عمل ہوا۔
اگر آبادکاری سے ہی دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے تو مغربی بارڈر کے پار بمباری کیوں کی جا رہی ہے؟ بلوچستان میں دہشتگردی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے حالات قابو سے باہر ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کنویں سے پانی نکالتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ مستقل حل کے لیے اپنی کوتاہیوں اور ناکام پالیسیوں کا ناصرف اعتراف کرنا ہو گا بلکہ تصحیح بھی کرنا ہو گی۔
آئی ایس پی آر کو جواب تو ملٹری کورٹس پر بھی دینا چاہیے، کون سا قانون آپ کو جج ، جیوری اور خود ہی جلاد بننے کی اجازت دیتا ہے؟ ملٹری کورٹس کے ٹرائل شفافیت پر مبنی نہیں ہوتے۔
ہمارے دو مطالبات بالکل جائز اور فوری عمل درآمد کے لئے ہیں- 26ویں آئینی ترمیم کو ہم نے اس لیے فوری مطالبات کا حصہ نہیں بنایا کیونکہ وہ طویل کام ہے۔
حکومت اگر مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں لیتی تو ہماری ترسیلات زر کے بائیکاٹ کی مہم پورے زور سے جاری رہے گی-
نواز شریف اب صرف سیاست کا بارہواں کھلاڑی ہے-
1/2
Ali Bilal unarmed & our dedicated & passionate PTI worker murdered by Punjab police. Shameful, this brutality on unarmed PTI workers who were coming to attend election rally. Pakistan is in the grip of murderous criminals. We will file cases against IG, CCPO & others for murder.
چاچا محمد عباس کو رعشہ کی بیماری ہے، فالج بھی ہے، پھر بھی کام کرتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ریہڑی پہ جن پیسوں سے کام کرتے تھے وہ بھی بیماری پہ لگ گئے
پانچ ہزار مدد بزرگ کو پہنچی
@AliRazaShaaf الو کے پٹھے پٹواریوں میں عقل کی کمی ہے۔ گنڈاپور کی دفع کون سی عدم اعتماد آئی تھی جو اب عدم اعتماد کی ضرورت پڑ گئی۔ خان کا ایک اشارہ ہی کافی ہوتا۔
بیماری نے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا کے رکھ دیا، ٹانگوں میں جان نہیں ہے، اٹھنا بیٹھنا ختم، بیوی فوت ہو چکی، ایک بیٹی کے سکارے دن گزر رہے ہیں
محمد وحید کو پانچ ہزار برائے میڈیسنز پہنچایا گیا
بیوہ ہوں، سلائی سے بچے پالتی ہوں، والدہ کے پاس رہتی ہوں، والدہ بیمار ہوئیں تو مشین بیچ کر انکا علاج کرایا، اب ہمسائی سے مشین مانگ کر کام چلا رہی ہوں لیکن اسطرح کام نہیں ہو پاتا، سوٹ آدھا سلا ہوتا اور وہ مشین لینے آ جاتی
بچوں کی روزی روٹی کیلئیے سلائی مشین کی اپیل کرتی ہوں