Mr. Modi is a lifelong member of the RSS, an organization inspired by fascist ideologies like those of Hitler and Mussolini. The RSS has promoted a belief in Hindu supremacy and has a long history of hostility toward minorities, particularly Muslims and Christians. These ideological parallels with fascism are critical to understand the rise of communal violence in India today. In 2002, under Modi as Chief Minister of Gujarat, 2,000 Muslims were massacred, leaving 150,000 displaced. A former Congress Home Minister acknowledged that terrorists were being trained in RSS camps who killed muslims. The siege of Kashmir, where nearly 8 million people were effectively locked down under military occupation with over 900,000 troops, further reflects this oppressive mindset.
Former Prime Minister Imran Khan, during his 2019 address to the UN General Assembly, exposed the RSS-driven mindset behind Modi’s war-mongering posturing. @ImranKhanPTI
#IndiaPakistanWar
#ReleaseImranKhanNow
✍🏻اخے انٹرنیشنل میڈیا نے ایک بھارتی طیارہ گرنے کی تصدیق کر دی ہے۔
صورتحال کو شروع سے سمجھیں سب کلیئر ہو جائے گا۔
پہلگام میں حملہ ہوتا ہے اور انڈیا جوابی کاروائی کا اعلان کرتا ہے۔ متوقع طور پہ یہ سرجیکل سٹرائیک ہو سکتا تھا جسے یقیناً 72 گھنٹوں میں ہو جانا چاہیے تھا لیکن بھارت عالمی لابنگ شروع کرتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے مسلسل امریکہ سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ تمام وزرا لائن میں لگ کر امریکہ سے مدد مانگتے ہیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر اور آرمی چیف کہیں نظر نہیں آتے ۔ دفتر خارجہ خاموش ہوتا ہے۔
اور پھر ساڈی گل ہو جاتی ہے۔
امریکی نائب صدر کہتا ہے کہ بھارت کنٹرولڈ حملہ کرے گا اور پاکستان تعاون کرے گا ۔
اچانک سے فوجی مشقیں بھی شروع ہو جاتی ہیں ، آرمی چیف بھی ٹینک پہ چڑھ جاتے ہیں اور ترجمان کا بیان ب��ی آ جاتا ہے۔ ایک پریس کانفرنس بھی کھڑکا دی جاتی ہے۔ ساتھ ہی مدرسے خالی ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ رات دس بجے ہی حملے کی خبر موصول ہو گئی تھی۔ یعنی اڑھائی گھنٹے پہلے پاکستان کو پتہ تھا لیکن فضائیہ کو جنرل کال نہیں دی جاتی۔ گہری خاموشی ہوتی ہے۔
بھارت پاکستان کے بڑے شہروں میں گھس کر سکون سے اپنے ٹارگٹڈ ایریا کو سو فیصد ایکوریسی سے نشانہ بناتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف میزائل اٹیکس نہیں بلکہ ڈرون کا استعمال ہوا ہے۔ پاکستان کا دفاعی نظام تماشا دیکھتا رہتا ہے۔
بھارت پاکستان کے شہروں میں گھس کر اور لاشیں بچھا کر دنیا کو بتا دیتا ہے کہ پاکستان اس کے سامنے کچھ نہیں ہے اور پاکستان کا دفاعی نظام اس کے سامنے اہمیت نہیں رکھتا۔
مودی کو بھارت می�� مقبولیت مل جاتی ہے۔ اب باری پاکستان کی رجیم کی ہے۔
پاکستان میں حملے کے فوراً بعد تمام نیوز چینلز کی ڈیوٹی لگا دی جاتی ہے کہ بھارتی طیارے گراتے رہو ،چوکیاں خالی کرواؤ ، جنرل ہیڈ کوارٹر اڑا دو ، ایئر بیس تباہ کروا دو۔
جب پرانی فوٹیجز پکڑی جاتی ہیں تو بھارت خود مدد کو آتا ہے۔
وہ بھارت جو اپنے اصلی طیارے گرنے پہ اسے فنی خرابی قرار دیتا ہے وہ اپنے چند آؤٹ لیٹس سے یہ خبر دیتا ہے کہ اس کے تین طیارے گرے ہیں۔ چار مختلف مقامات پہ طیاروں کے فیول ٹینکس گرائے جاتے ہیں اور اس کی تصویریں جاری کر دی جاتی ہیں۔
ترجمان پاک فوج کہتا ہے کہ ہم نے پاکستانی حدود میں گھسنے والے پانچ بھارتی طیارے ما ر گرائے لیکن ان کے ملبے نہ پاکستان میں ملتے ہیں نہ بھارت میں۔ حیران کن طور پہ چار جگہ پہ سیم فیول ٹیکس جیسے پرزوں کی تصویریں جاری ہوتی ہیں جو خود انڈین میڈیا جاری کرتا ہے۔
اس تمام ڈرامے کا گارنٹر امریکہ ہے۔ امریکی اسٹبلشمنٹ ہے ۔ امریکی نیوز چینلز مثلاً بی بی سی اور سی این این پہ بھارتی طیارے گرنے کی تصدیق ہو جاتی ہے اور پاکستانی خوشی سے نہال ہو جاتے ہیں۔
یوں پاکستانی سلامتی کا سودا کر لیا جاتا ہے اور بھارتی شہروں میں گھسنے کے بجائے لڑائی لڑائی معاف کرو کا سبق پڑھا دیا جاتا ہے۔ ایک بچے کو بھی نظر آ رہا ہے کہ پورا ڈرامہ عالمی گارنٹی پہ ہوا ۔ پاکستان میں شریف خاندان نے بھارت کے ساتھ ذاتی تعلقات کی بنیاد پہ سہولت کاری کی۔ رات کو حملے کے بعد بھی شہباز شریف اور مریم نواز نے بھارت کا نام تک نہیں لیا۔
یہ سب اتفاق ہے ؟؟؟
۲۰۱۳ کے انتخابات کے وقت جب ٹکٹس کے فیصلے ہورہے تھے تو اُس وقت کے پارٹی کے کرتا دھرتاؤں نے میرے ٹکٹ کی بھرپور مخالفت کی۔ “نوجوان ہے، سیاسی بیک گراؤنڈ نہیں ہے، نا اپنا کوئی ووٹ ہے نا خاندان کا”۔ ��رف ایک شخص تھا جس کو یقین تھا کہ پاکستان بدل چکا ہے اور اِس تبدیلی کا “پوسٹر بوائے” بننا میرے حصے میں لکھا گیا۔ کافی بڑے گھروں میں خطرے کی گھنٹیاں بجیں۔ ان کی نسلوں کے مستقبل کا سوال تھا۔ الزامات کی بوچھاڑ، جعلی ڈگری سے لیکر غلیظ ذاتی حملے ہوئے۔
اگلی حکومت میں عمران خان نے پھر اسی ذی شعور اعلی قیادت کے مخالف جاکر سب سے بڑے بجٹ والی وزارت سونپ دی۔ بڑی بڑی کرسیوں پر لوگ تلملائے۔ اللہ کا کرم تھا اُس نے مجھے عمران خان کا اعتماد قائم رکھنے کی توفیق دی۔ دہشت گردی کی واپسی پر میرا سٹینڈ اور ۹ مئی کے بہانے تو بعد میں ہاتھ آئے کہ جن کے ذریعے مجھے انتخابات سے مائنس کرنے کا ج��از ڈھونڈا۔ “ڈی چوک پر پھانسی” کی دھمکی تو باجوہ صاحب نے مجھے مارچ ۲۰۲۲ میں ہی پہنچا دی تھی۔ اور یہ ضروری بھی تھا، میرا نشانِ عبرت بننا ضروری تھا۔مگر مس کیلکولیشن ہوگئی۔ ہم سمجھاتے رہ گئے مگر اپنے گھمنڈ میں سمجھ نہیں پائے۔۔وہ بات جو عمران خان جانتا تھا، جو یہ سمجھ نہیں پائے کہ میں تبدیلی کا پوسٹر بوائے ضرور تھا فقط میں ہی تبدیلی نہیں تھا!
عمران خان نے ہزاروں کی پود اپنے ہاتھوں لگائی تھی۔ اور اُن ہزاروں کے بعد لاکھوں تیار ہیں۔ میں نہیں لڑا۔ میرے ایک یونین کونسل کا ورکر اِن خدائی کے دعویداروں کے حمایت یافتہ امیدوار سے تاریخی لیڈ لے گیا۔
جن خاندانوں کو اتنے سال گھاک سیاست دان نہیں ہرا سکے آج اُس بلور خاندان سے جیت کر یوتھ ونگ کا صدر مینا خان آفریدی حلف لے رہا ہے۔ جس فاٹا ��ی نشستوں پر ایک خاندان سے دوسرے خاندان کی باریاں لگتی تھیں اُس کے نمائندگی میرے بازو سہیل آفریدی کے پاس ہے۔ وہ جس کو پختونخواہ میں عمران خان کی سیاست کو دفن کرنے کا دعوی تھا، اُس کی رعونت پر آخری فاتحہ پڑھنے والا شاہ احد میرے آئ ایس ای�� کا نوجوان ہے۔ پختونخواہ میں مسلم لیگ کے آخری قلعہ ہزارہ پر یوتھ ونگ کے اکرام خان غازی نے انصاف کا پرچم لہرایا، شیر علی آفریدی، شاہد خٹک، اب کتنوں پر کاٹا لگانا ہے؟
مجھے انتخابات سے باہر کر دیا اور میدان سے بھی ہٹنے پر مجبور کردیا لیکن شور کم ہوا کیا؟ مجھ سے اونچا بول رہا ہے صدام ترین، پارلیمان میں جگہ بناتے تو شاید اُسے سال لگ جاتے مگر اُس کا حق چھین کر آپ نے اُس کی آواز دنوں میں گھر گھر پہنچا دی۔ قاسم خان سوری نہیں ہے، تو سالار کاکڑ ہے آپ نے اُس کا مینڈیٹ جس کو بھی دیا عوام کے لیے تو وہی نمائندہ ہے جس کو انہوں نے ووٹ دیا۔ عالمگیر محسود اور ارسلان گھمن کو قیادت سے دو�� رکھا تھا، اپنے ہاتھوں ان کا راستہ صاف کردیا۔ آج ان کی سیٹیں لے کر اوروں کی جھولی میں ڈال بھی دیں تو کون سی کسی نے عزت سمیٹ لی اور کون سی ہار انہوں نے تسلیم کرلی؟
اور یہ تو وہ نام ہیں جو ہم سُن رہے ہیں۔ دو سال سے پارٹی کو کون زندہ رکھے ہے؟ عمران خان تو چھ ��ہینے سے جیل میں ہے، مجھ سے فسادی بھی منظر سے غائب ہوگئے۔ جن پہ تکیہ تھا وہ بڑے بڑے نام توڑ دیے؟ “لیڈر” لیڈر نہیں رہے۔ کوئ ہرس و حوس میں لُڑک گیا۔ کوئی جبر کے سامنے ہار گیا۔ کسی نے گھر بار کی عزت بچائی تو کوئی آل اولاد کے نام پر ٹوٹ گیا۔ ایک سہارہ تھا انتخابی نشان کہ کھمبے کو بھی ملا تو لوگ سر آنکھوں پر بٹھائیں گے وہ بھی لے لیا۔ پھر کون تھا کہ جس نے گاجر، مولی، گائے، بھینس، چمٹے، پیالے گھر گھر پہنچائے؟ پاکستان کی عوام، بچے بچے کو ازبر تھا کہ عمران خان کا نشان کون سا ہے! فقط جوان نہیں۔۔ ۸-۱۰ سال کے بچوں کو بھی علم ہے کہ عمران خان کیا ہے!
ایک مراد سعید خاموش ہوا تو اتنی زب��نیں کھل گئیں۔ اتنی زبانیں کھینچوگے تو کتنے سر گویا ہونگے کوئی اندازہ ہے؟
آج سے دس سال پہلے ایک بڑے صحافی کا فون آیا تھا، دُکھی تھا، ایک بہت بڑے سیاست دان نے کہا تھا “دیکھو! یہ کیسے لوگوں کو لے آیا ہے عمران خان پارلیمان۔ اب یہ بیٹھیں گے ہمارے برابر؟”۔ آج اور بھی تلملا رہا ہے، عمران خان نے اُس کے ولی عہد کی تاج پوشی کے امکانات خاک کردیے۔ بہت سوں کے قدموں تلے سے زمین سرکی ہے ابھی جبر کے ہاتھوں سے تھامے ہیں تو نہیں لگ رہا، جب ہاتھ تھک جائیں گے (جو کہ تھکیں گے کیونکہ انہیں بڑا بھی خدائی کا دعوی ہو، ہے یہ انسان ہی) تو گمنامی کے اندھیروں میں گُم ہونے کی خواہشوں کو زباں ملے گی۔ تب تک جمے رہنا ہے۔ منزل پر نظر رکھنی ہے۔ اپنا حق واپس لینا ہے۔ برابر نہیں برتر ہو تم۔ مالک ہو تم۔
#Pakistan🇵🇰 The military establishment cannot be allowed to interfere in the elections, change the results and violate the human rights of the defenders of democracy. It is not only immoral and illegal, but a real and serious betrayal of Pakistan. #IHRF
صبح کا پہلا پہر ہے، اب الیکشن کمیشن نے ن لیگ کو ایسے حلقوں سے بھی جتوانا شروع کر دیا ہے، جہاں سے وہ جیت سکتے ہی نہیں تھے-
جیسے راولپنڈی NA55 سے ملک ابرار کو جتوا دیا، جو کہ تقریباً ہر پولنگ سٹیشن سے ہار رہے تھے-
PTI leading in initial results across Pakistan! 🗳️🇵🇰 Yet, the sudden pause in voting results raises concerns. Transparency is key for a democratic process. Waiting for updates and hoping for a fair resolution. #ElectionUpdate
History will remember one thing that Imran Khan is not being punished for corruption, money laundering or betraying his nation, he’s being punished cause he stood against world powers and Mafias within the country. He exposed mafia who’s ruling here since 70 years like Firaun.
Mohsin Naqvi appointed as new chairman of PCB. What the hell is this? What knowledge does he have about cricket? How many international cricket matches has he played? Is there merit left in our country for anything? They are treating everything as a joke in Pakistan.