محمد مرسی اور عمران خان — دونوں عاشقِ رسول ﷺ ❤
مرسی نے اقوام متحدہ میں حضور ﷺ کی توہین اور کی شان میں غستاکی پر کہا میں ان کے خلاف ڈٹ کے کھڑا ہو جاؤں گا
جبکہ عمران خان نے ایک قدم آگے بڑھ کر دنیا کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ حضور ﷺ مسلمانوں کے دلوں میں کیا مقام رکھتے ہیں اور اُن کی توہین کیوں اتنی شدید تکلیف کا باعث بنتی ہے۔
They're trying to break Imran Khan mentally.. where his strength is.
The man is obsessed with his purpose in life and has delusional belief in the Almighty.
He will never fail Insha'Allah.
2022 میں عمران خان سے پہلی ملاقات ہوئی تو انکا خیال تھا سکور سیٹل کرنے کے لیے ان پر تین سے چار کیسز بنائیں جائیں گے ، انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ تین چار سو لیسز ہوں گے ،مگر اس کے باجود انہوں نے جس انداز میں ان مقدمات کا سامنا کیا وہ ناقابل یقین ہے ۔ کبھی ریلیف نہیں مانگا ،صرف انصاف مانگا ہے مگر افسوس عمران خان پر انصاف اور شفافیت کا ہر دروازہ بند کردیا گیا ،وکیل سلمان صفدر
In his 10 minute conversation with Dr Uzma, one line stands out:
“Check President Morsi’s killing by the Egyptian government in a closed cell.”
Imran Khan didn’t say this without reason. He gave us a BIG hint. We need to understand it. 💔
wake up @PTIofficial
یہ خاتون جو رو رہی ہے اس کا ایک ہی بیٹا ہے وہ تین سال سے جیل میں ہے حسان نیازی کبھی نہیں روئی اس خاتون کا ایک ہی بھائی ہے تین سال سے جیل میں ہے کبھی نہیں روئی ایک سال بعد بھائی سے ملاقات ہوئی خاموش رہی اج بھائی پر ظلم ہوتا دیکھ کر رو پڑی وقت ایک سا نہیں رہتا ان کا بھائی وزیراعظم تھا کوئی ان بہنوں کے نام تک نہیں جانتا تھا اج مشکل میں ہے دنیا کو پتہ ہے بس بہنیں ہی بھائی کیلئے لڑ رہی ہیں اور یاد رکھیں کل کو جب وقت بدلے گا نہ اپکا ہینڈلر رہےگا وہ ملک سے بھاگ جائےگا پھر تم کو بچانے والا کوئی نہیں ہوگا روتے رہوگے عوام مذاق اڑائے گی کیونکہ تم نے خود اس نفرت کا بنیاد رکھ دیا ہے
یہ ہے مورسی جس نے یونائٹڈ نیشن میں جا کے کہا تھا کہ میں صلوات بھیجتا ہوں
میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر اور اس کی شان پہ اور میں ان کے خلاف ڈٹ کے کھڑا ہو جاؤں گا
جو اس کی شان میں کچھ بھی گستاخی کریں گے😢😢
عمران خان صاحب کی صحت یابی اور جلد رہائی کے لیے راولپنڈی کے کارکنان کی جانب سے قرآن خوانی اور دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب میں قائد عمران خان، بشریٰ بی بی سمیت تمام اسیرانِ پاکستان کی رہائی، صحت و سلامتی اور استقامت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کے صدقے سب اسیران کو جلد آزادی عطا فرمائے۔
یہ ایک نہایت اچھا اور قابلِ تحسین عمل ہے کیونکہ اس وقت 22 کروڑ پاکستانیوں کی اگر کوئی واحد امید ہے تو وہ اللہ رب العزت کی ذات ہے عمران خان کے حوالے سے ڈاکٹر عظمیٰ نے جو تشخیص اور طبی صورتِ حال بیان کی ہے اس کے پیشِ نظر پورے پاکستان میں عمران خان کی صحت یابی اور سلامتی کے لیے دعاؤں کا سلسلہ شروع ہونا چاہیے
راولپنڈی کی عوام نے اس حوالے سے ایک نہایت خوب صورت اور قابلِ تحسین عمل کا آغاز کیا ہے
Honestly, this was my opinion too. But the last few years has altered it significantly. Political awareness in Pakistan brings you nothing but misery. You are aware that who is looting the country, who is killing its own citizens, who is curbing your every fundamental right, who is steering the country into disaster. You know every single problem and their respective origin, you might think there’s solutions to them. But there is literally nothing you can do. Your voice is just noise and your sentiments are treason. You cannot shut your eye either and cannot do anything about it.
کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں نازل ہوتی یا تمہاری جانوں کو لاحق ہوتی ہو، مگر وہ ایک کتاب میں اُس وقت سے درج ہے جب ہم نے ان جانوں کو پیدا بھی نہیں کیا تھا۔ یقین جانو یہ بات اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔
سورۃ الحدید
محمد مرسی مصر کے مقبول ترین عوام رہنما جنہوں نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر کہا تھا " جو ہمارے نبیﷺ کی عزت اور احترام نہیں کرے گا ہم بھی اس کا احترام نہیں کریں گے ۔
جس نے کہا تھا اپنے ملک کے شیروں کو قتل نہ کرو ، ورنہ تمہارے دشمنوں کے کتے تمہیں کھا جائیں گے۔
جس کو فوجی آمر سیسی نے قید کیا تو ترکیہ نے مصر سے سفارتی تعلقات ختم کرلئے اور اپنے سفیر کو واپس بلالیا ۔
محمد مرسی کو قاہرہ کی بدنام زمانہ اسکارپیئن جیل کی کال کوٹھڑی میں مسلسل 23 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔
وہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، لیکن مصری حکومت نے انہیں بنیادی طبی سہولیات اور ادویات سے مکمل محروم رکھا۔
ہیومن رائٹس واچ اور ان کے خاندان نے اسے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت "سلو پوائزننگ" اور قتل قرار دیا۔
شہادت والے دن انہیں جاسوسی کے ایک جھوٹے مقدمے کی سماعت کے لیے لایا گیا تھا۔ انہیں ایک آواز بند شیشے کے پنجرے میں بند کیا گیا تھا۔ کمزوری کے باوجود انہوں نے جج کے سامنے کھڑے ہو کر تقریباً 20 منٹ تک انتہائی دلیری سے اپنا آخری بیان ریکارڈ کروایا
اپنا بیان ختم کرنے کے فوراً بعد ان پر غشی طاری ہوئی اور وہ پنجرے کے اندر ہی گر پڑے۔ رپورٹس کے مطابق وہ تقریباً 20 منٹ تک وہیں بے سدھ پڑے رہے اور ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
مصری حکومت ان کی مقبولیت سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ عوام کو ان کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور رات کے اندھیرے میں سخت ترین سیکیورٹی کے پہرے میں انہیں قاہرہ کے ایک قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
گزری شب جس طرح عمران کے ساتھ برتاؤ کیا گیا۔ کاریگروں کو معلوم ہی نہیں اس سے پاکستان کا کتنا بڑا نقصان ہوا۔ کاریگر چوک چوراہوں، بازاروں، ٹھیلوں پر اپنے کانوں سے لوگوں کے جذبات سے اگاہی حاصل کریں لگ انھیں پتہ جائے۔
Living in this country is so depressing, seeing our country’s biggest public figure treated this way makes it even worse, and on top of that, they take pride in it, this country is a lost cause.
The rights of political prisoners are universal, beyond Geography Government or political affiliation. Be it in India ,Pakistan or anywhere in the world, those incarcerated must be treated with dignity and humanity, with access to proper medical care, family and legal counsel, and due process.
Court orders must be respected and rule of law upheld. Political differences can never justify denying a prisoner his or her fundamental rights.
https://t.co/U2iNA8nMdG
کرکٹ کے میدان سے ناممکن اسپتال کو ممکن بنانے تک، مینار پاکستان سے پایَۂ تَخْت تک، واشنگٹن میں کسی بھی پاکستانی حکمران کے پاکستانیوں سے پہلے خطاب سے لیکر اقتدار سے نکلتے ہی سیاسی عروج کے بے مثال سفر تک، ایک سال میں ایک سے بڑھ کر ایک 50 جلسوں سے لیکر جیل میں باوقار مزاحمت کی ناقابل تسخیر علامت تک، لامتناہی امتحانوں سے اسپتال پہنچنے تک، یہ شخص ہر مقام پر ورطۂ حیرت میں ڈالتا رہا ہے۔ اس شخص کی مقناطیسیت کا ہمارے پاس کوئی توڑ نہیں، کیوں، کیونکہ لوگ اُس کے ساتھ ہیں اور ہم اُس سے نہیں دراصل اپنے لوگوں سے لڑ رہے ہیں