زندگی کی بربادی ایسے ہوئی کہ میں نے اپنے اللہ سے اک شر کو خیر سمجھ کر اتنی
" شدت" سے مانگا کے اللہ نے کچھ دیر کے لئے وہ شر مجھے دے دیا ۔۔۔۔۔۔
اس عذاب کا درد آج بی ہے مجھے۔۔۔۔
بلوچستان میں سیاست میں مورثیت کی باتیں کرنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بڑے بڑے سرداروں کو شکست دے کر اسمبلیوں تک پہنچنے والے پی ٹی آئی کے غریب اور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کا راستہ کس نے روکا؟ فارم 47 کے ذریعے اُن لوگوں کو اسمبلیوں میں کون لے کر آیا جو اپنے ہی ووٹروں کے لیے قابلِ قبول نہیں تھے؟
اسی لیے وہ اسمبلیوں میں بیٹھ کر اپنے ووٹروں اور عوام سے زیادہ اُن لوگوں کے وفادار ہیں جنہوں نے انہیں وہاں پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کا اعتماد انتخابات، پارلیمنٹ اور جمہوریت سے اٹھتا جا رہا ہے، جبکہ وہ عناصر مضبوط ہوئے ہیں جو جمہوریت اور پارلیمانی نظام پر یقین نہیں رکھتے۔
اگر پاسپورٹ بلاک نہ کریں تو محسن نقوی صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب چالیس صوبوں کی چالیس اسمبلیاں اپنی تنخواہوں اور مراعات میں چالیس چالیس گنا اضافہ کیا کریں گی اور چالیس کی چالیس اسمبلیوں کے بلیو پاسپورٹ بھی جاری ہوا کریں گے جبکہ پھدو لگانے کے حامی بھی ہوں گے تو پھر کیا ہوگا؟
چلو بھئی پاکستانیو! لائن میں لگو شاباش ۔۔ وفاداری ثابت کرو۔۔ اپنا اپنا سرٹیفیکیٹ لیتے جاؤ۔۔۔ جیسے ای ٹیگ ، ایم ٹیگ ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایل ٹیگ لگے گا۔۔ “Loyalty tag!”
My house has been under heavy attack since yesterday afternoon. Latest attack by Rangers, pitting the largest pol party against the army. This is what PDM and the enemies of Pakistan want. No lessons learnt from the East Pakistan tragedy.
اور کیسے دکھانی ہے وفاداری؟
ٹیکس دیتا ہوں، کرپٹ نظام بھگت رہا ہوں، آپکی سیاسی مداخلت پر خاموش ہوں، علاج پرائیویٹ کرواتا ہوں، بجلی خود سولر سے لیتا ہوں، حفاظت کے لیئے پرائیوٹ چوکیدار ہے، ووٹ چوری ہوا خاموش ہوں، ریاست بندے مار رہی پھر بھی چپ ہوں ، مہنگائی ڈبل ، بےروزگاری ڈبل ہو گئی
یہ بات کوئی اور کرے تو اس کو اغواہ کر لیا جاتا ہے، ان کی ماں بہنوں سے بدتمیزی کی جاتی ہے اور ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے!
ڈی جی صاحب، یہ نہیں پوچھ رہے کہ ویگو ڈالا یہاں کیوں نہیں پہنچا، بس یہ کہنا تھا کہ اپنے ریڈار کی سیٹنگ PTI only سے ہٹا کر universal کر لیں۔
لا الہ اللہ کا مطلب آزادی ہے اور قرآن نے انبیا کے بعد شہید کا مقام سب سے اونچا قرار دیا ہے۔ سید حسن نصر اللہ اور اسماعیل ہانیہ اپنے وطن کے دفاع میں شہید ہوئے اور ان کا مقام بہت بلند ہے۔ میں ہمیشہ ٹیپو سلطان کی طرح لڑتے لڑتے شہید ہونے کو بہادر شاہ ظفروالی موت پر ترجیح دونگا، اور میں نے ہمیشہ اللہ سے ٹیپو سلطان جیسی موت کی دعا کی ہے۔
اللہ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔
ایک مشہور قول ہے: "جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں پر دیے ہیں تو چونٹیوں کی طرح کیوں رینگتے ہو”
اس وقت پاکستان میں گینگ آف تھری اور پی ڈی ایم چاروں نے مل کر ہر ادارے کو غلام بنایا ہوا ہے۔ پاکستان میں صرف سپریم کورٹ واحد ادارہ بچ گیا ہے جس کو غلام بنانے کیلئے غیر آئینی ترمیم لائی جا رہی ہے۔ پاکستان سے قانون کی حکمرانی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور کسی کا کوئی احتساب نہیں۔ گینگ آف تھری نے اپنی ایکسٹنشن کیلئے ہر قانون کو توڑ کر ملک میں لاقانونیت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جس کا سب سے بڑا اثر ملکی معیشت پر پڑ رہا ہے جو کہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔
اس وقت کے تمام حکمرانوں کا سارا پیسہ بیرون ملک ہے اس لئے وہ اپنے ذاتی مفاد اور طاقت کیلئے ملک کے ہر ادارے کو بے دردی سے تباہ کر رہے ہیں۔
میرے پاکستانیو!
میری ساری جدو جہد آپ کو آزاد کروانے کیلئے ہے اس لئے آپ خوف کے سارے بت توڑ کر نکلو۔ یہ وقت Do or Die کا ہے۔ میں اپنی ذات کی قربانی آپ لوگوں کی آزادی کے لیے دے رہا ہوں۔ آپ بھی اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے پورے ملک کے روشن مستقبل کا سوچیں اور میری ہر کال پر احتجاج کیلئے باہر نکلیں۔
پاکستان زندہ باد۔
کیا اتفاق ہے کہ اسلام آباد امام بارگاہ میں ڈیڑھ سو نمازی شہید ہوئے تو مریم نواز صاحبہ نے پتنگ اڑا کر بسنت کا جشن منایا۔
ارشد شریف شہید ہوئے تو مریم بی بی نے کیک کاٹنے کی ویڈیو جاری کی۔
آج ایک طرف راولاکوٹ کے مناظر ہیں تو دوسری مریم نواز صاحبہ آتشبازی کی ویڈیو شیئر کرکے جشن منارہی ہیں۔
یہ محض اتفاق ہے، بے حسی ہے یا سفاکیت؟؟ انسانیت تو نہیں ہوسکتی۔
جو کچھ آج آزادکشمیر میں ہوا ہے، اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ ایک ایک کرکے عاصم منیر ملک کے ہر علاقے کے لوگوں کو گولیوں سے بھوننے کی روش پر گامزن ہےـ
لیکن ہمارے لئے سوائے جدوجہد جاری رکھنے کے کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
کوٹ لکھپت جیل میں عالیہ حمزہ صاحبہ پر قاتلانہ حملے کی انتہائی تشویشناک خبر ملی ہے۔ پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ عالیہ حمزہ صاحبہ کے تحفظ کی ذمہ دار ہیں۔ اس حملے کی شفاف تحقیقات فی الفور کی جائیں اور تمام عملہ جو مجرمانہ غفلت کا مرتکب ہوا برطرفُ کیا جائے۔ حملہ آور اور ذمہ دار عملے کیخلاف مقدمے درج کئے جائیں۔ عدالت میں عالیہ حمزہ صاحبہ کے طبی معائنے اور تحفظ کی درخواست خاندان کی مشاورت کے ساتھ دائر کی جائے گی۔