مثبت سوچ کی طرف ایک قدم اُٹھانا آسان ہوتا ہے ! لیکن مستقبل مزاجی کے ساتھ مثبت سوچ کا سفر جاری رکھنا بہت مشکل !! پہلے لوگ آپ کے عمل پر خاموش رہے گے ! پھر رد کرینگے ! پھر ہنسے گے!! کسی کی طرف نا دیکھیں !! ایک دن آئے گا جن لوگوں نے آپ کو رد کیا ہوگا وہ آپ کو پانے کی حسرت کرینگے !!
ایک عورت نے معرکہ شام جیت لیا، جیسے ایک مرد نے معرکہ کربلا جیتا، اگر کربلا دوبھائیوں کی جیت تھی تو شام دوبہنوں کی جیت تھی، یزید نے امام حسین کو شہید کیا لیکن جس نے یزید کو واصل جہنم کیا اُس ذات کا نام جناب زینب ہے !!
سید عباس شیرازی
سب کے لیے 6 ماہ کے جناب علی اصغر کی شہادت ہے !! بس ایک ماں اور دوسرا خدا۔۔۔ اُن کے لیے 15 ماہ کی شہادت ہے !! ماں اور خدا تب سے بچے کو پالتے ہیں جب بچے کا وجود انسانی آنکھ بھی نہیں دیکھ سکتی !
سید عباس شیرازی
پہچان نا ہو تو کربلا میں بهی حسین نہیں ملتا وہاں بهی کهانا،کپڑا، لائف اسٹائل کی فکر رہتی ہے پہچان ہوتو غریب اپنے گهر م��ں دال روٹی کهاکر بهی حسین کو پا لیتا ہے.صاحب زمین میں محبت کے دستور الگ ہوگئے ہیں مال اور مستقبل و ماضی کو دیکها جاتا ہے آسمان میں آج بهی وہی ایک معیار ہے دل
جناب مختار سے لے کے علامہ مجلسی، محمد بحرالعلوم، خوئی، محمد باقر صدر،نمر باقر النمر سے لے کر روح اللہ خمینی تک، اور آج خامنہ ای و سیستانی تک !! اپنے وقت میں جو حسین کا سب سے بڑا عزادار رہا، وہی سب سے بڑا انقلابی رہا
سید عباس شیرازی
آپ حضرت موسی کے قصے میں حضرت موسی کی ماں پر توجہ رکھا کریں۔ یہ ایک ماں کی "اسٹرگل" کے اُس نے فرعون جیسے کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور بچے کو پیدا بھی کیا اور پھر بچایا بھی ۔۔ موسی کی کہانی میں موسی کی ماں اہم ہیں ۔۔ اگر وہ ہمت نا کرتی تو موسی دنیا میں کیسے آتے؟
سید عباس شیرازی
علی کے مقابلے میں قرآن نیزے پر آجائے تو وہ فتنہ ہے، سیدہ زینب ؑ کی آواز دبانے کے لیے اذان دی جائے تو وہ شور ہے۔۔۔ حسینً کا سر اللہ اکبر کی صدا سے کاٹا جائے تو وہ فساد ہے۔۔۔ خدا سمجھو۔۔ وہ اکبر ہے مگر اصغر کے خون پر جلالی بھی ہے
سید عباس شیرازی
ممکن ہے کوئی انسان تلخ ہو۔۔ جیسے بھائی، باپ، ماں، بہن۔۔۔ لیکن دیکھا کریں کے اُس کا نتیجہ کیا ��ے۔۔ اگر نتیجہ فائدے مند ہے تو اُس تلخی کا سامنا کریں۔۔
سید عباس شیرازی