🚨🚨
Blatant expression of greed of luxury by shameless #PTI led KP parliamentarians at a time when their founder @ImranKhanPTI is in solitary confinement from more than 3 years! https://t.co/tO0Qqg6WYS
@JunaidAkbarMNA da ruppee kar de nade kare. Asse gap de. i am on ground and mardan is the second biggest district of the province. Not a single mobilization or any party activity or any youth connection or worker connection program. Nothing at all.
As Chair of APPG Kashmir, I remain deeply concerned by reports of escalating tensions across Azad Kashmir, including restrictions on food and medical supplies.
⚫ Lift the lockdown
⚫ Restore all communications immediately
⚫ Allow food and medical supplies through
⚫ Give access to human rights organisations and peaceful arbitrators
⚫ Immediately resume peaceful table talks with Kashmiri human rights at their heart
شوکت نواز میر کی گرفتاری صرف ایک شخص کی گرفتاری نہیں، بلکہ ہر اس آواز کے لیے ایک امتحان ہے جو اپنے نظریات کا اظہار کرنا چاہتی ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں فوری طور پر تمام قانونی حقوق فراہم کیے جائیں، ان کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے، اور ہر قانونی کارروائی شفاف انداز میں کی جائے۔
اختلافِ رائے کا جواب دلیل اور قانون سے ہونا چاہیے، نہ کہ خوف سے۔
آئیے انصاف، قانون کی حکمرانی اور انسانی وقار کے لیے پُرامن انداز میں اپنی آواز بلند کریں۔
بریکنگ نیوز 🚨بس بہت ہوگیا۔ کشمیری رہنما ڈاکٹر بہار شاہ کا اعلان 🔥🔥
ہمیں مجبور کردیا گیا ہے اب ہم سخت فیصلے کرنے جارہے ہیں۔ انکو گریبانوں سے پکڑ ماریں گے۔ یہ ہوتے کون ہیں ہم کشمیریوں پر حکومت کرنے والے۔
اور عمران خان سے ملاقات کئے بغیر کے پی کا پورے سال کا بجٹ پاس۔ خان کی ملاقات مائنس۔
175 ارب بھی دے دئیے گئے۔ بس یہ کہا گیا ہے کہ آپ پیسے کاٹ لیں ہم تھوڑی بہت نورا کشتی کریں گے۔ کیس عدالت بھی جائے گا۔ اور پھر فائل بند پیسہ ہضم۔
اور عمران خان سے ملاقات کئے بغیر کے پی کا پورے سال کا بجٹ پاس۔ خان کی ملاقات مائنس۔
175 ارب بھی دے دئیے گئے۔ بس یہ کہا گیا ہے کہ آپ پیسے کاٹ لیں ہم تھوڑی بہت نورا کشتی کریں گے۔ کیس عدالت بھی جائے گا۔ اور پھر فائل بند پیسہ ہضم۔
جموں و کشمیر کے رہنما شوکت میر کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ حقوق کی آواز کو جبر کے ذریعے دبانا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری اقدار پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔
حکمران طاقت کے ذریعے نفرت اور خوف کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کے حکمرانوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ شوکت میر کی فوری رہائی، حفاظت اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
کیوں اپنے لوگوں کو مجبور کر رہے ہو؟ یہ آپ کا فلسفہ ہمیں نہیں لگتا ۔۔
آپ الیکشنوں کی منڈی لگائیں گے، الیکشن بیچیں گے، اسمبلیاں بیچیں گے، اس کو آپ نہ غداری سمجھتے ہیں نہ برا کام سمجھتے ہیں اور جو اس کام کو روکتے ہیں ان کو آپ غدار کہتے ہیں۔
دماغ خراب ہو گیا ہے آپ کا؟
وہ جنھوں نے ہمیں بُنیادی حقوق کی پاداش میں کالعدم قرار دیا، دہشتگرد ڈکلئیر کیا ، ٹارگٹ کیلنگ کی گئی ، خون کی ندیاں بہائیں اُن کے کارنامے اب کُھل کر سامنے آ رہے ہیں جب پاکستان سے سیاسی وفد کو آذادکشمیر آنے سے روکا گیا- تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ، قائد حزب اختلاف محمود خان اچكزئى صاحب، شاہد خاقان عباسی صاحب ، راجہ علامہ ناصر عباس صاحب ، مصطفیٰ نواز کھوکرصاحب ، سلمان اکرم راجہ صاحب و دیگر کے قافلے کو کہوٹہ کے مقام پر روکا گیا ہے-
خوراک کی سپلائی میں رکاوٹوں سے لے کر پاکستان کے سیاستدانوں کی آذادکشمیر داخلے تک پابندی نے بہت کچھ عیاں کیا ہے- جموں کشمیر کے لوگوں کی تحریک پُرامن تحریک ہے لیکن کسی بھی جبر کے آگے کسی صورت نہیں جُھکیں گے-
دھرنوں کا فیصلہ حکمت عملی کے تحت بالکل درست ہے- یہ دھرنے حکمرانوں اور ان کے حاشیہ برداروں کو پاکستان سمیت دُنیا بھر میں بے نقاب کر رہے ہیں-
عوام ثابت قدم رہے - جب تک مطالبات پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا پُرامن جدوجہد ہر محاذ جاری رہے گی-
#جموں_کشمیر_جوائنٹ_عوامی_ایکشن_کمیٹی
#RightsMovementAJK
علیمہ خان کی گفتگو 🚨
قاضی فائز عیسٰی سپریم کورٹ میں کتنی تکبر سے عمران خان کی بات کرتا تھا، پارٹی کا نشان بھی چھین لیا اور کل انٹرویو میں کہہ رہا تھا کہ سارے فیصلے میرے ہاتھ میں نہیں تھے۔
قاضی فائز عیسٰی تم نے اپنے عہدے سے غداری کی
"ہم صرف ایک ملاقات نہیں، بلکہ عمران خان کے بطور قیدی تمام آئینی اور انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ مہم جوئی اب بند ہونی چاہیے کہ ایک ملاقات کے بعد دوبارہ مہینوں کے لیے قیدِ تنہائی کا سلسلہ شروع کر دیا جائے۔ ان کی فیملی اور وکلاء سے ملاقاتیں بحال کی جائیں، طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے، اور انہیں اخبار، ٹی وی اور کتابوں کی سہولت دی جائے۔ قیدِ تنہائی کا یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔"
علیمہ خان