صوبے میں نیب اس وقت گہری نیند میں ہے، لیکن جب 2013ء سے 2026ء تک کے معاملات کی تحقیقات ہوں گی تو بہت کچھ سامنے آئے گا۔ ہم اپنے پانچ سالہ دور میں کڑے احتساب سے گزرے ہیں، اب ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ میرے اثاثوں کی ڈیڑھ سال تک چھان بین ہوئی لیکن انہیں کچھ نہیں ملا
کیا فارم 45 اور کیا فارم 47؟ اقتدار اور پختونخوا کی بربادی کیلئے سب ایک ہیں۔
وہ صوبائی وسائل، وہ مالی خودمختاری، وہ حقوق جنہیں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے مضبوط کیا گیا تھا، آج ایک ایک کرکے وفاق کے حوالے کئے جارہے ہیں۔
109 ارب روپے ایک ایسے صوبے کے بجٹ سے کاٹ کر وفاق کو دے دیے گئے جو پہلے ہی دہشتگردی، بدامنی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ رقم دفاعی اخراجات پر خرچ ہوگی۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ اس فیصلے کا اصل اختیار کس کے پاس ہے؟ عوام اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ فیصلے کہاں ہوتے ہیں اور نامزد کردہ کردار کس کے نمائندے ہیں۔
جو لوگ خود کو وفاقی حکومت مخالف کا سب سے بڑا علمبردار کہتے تھے، آج انہی کے نامزد کردہ وزیراعلیٰ نے صوبے کے وسائل وفاق کی جھولی میں ڈال دیے۔ پختونخوا کے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا ان کے حقوق، ان کے وسائل اور ان کی قربانیاں اسی دن کیلئے تھیں؟
ہمارے خلاف برسوں پروپیگنڈہ اسی لئے کیا جاتا رہا تاکہ قوم پرست اور حقیقی نمائندہ آوازیں اسمبلیوں سے باہر رہیں اور فیصلے وہ لوگ کرتے رہیں جو صوبے کا مقدمہ لڑنے کے بجائے خاموشی سے ہار مان لیتے ہیں۔
سوچئے، اگر یہ عوامی نیشنل پارٹی کا وزیراعلیٰ ہوتا، تو کیا پختونخوا کے وسائل اس انداز میں قربان کردیئے جاتے؟
اللہ پختونخوا کے عوام کا حامی و ناصر ہو۔
الحمدللہ، پشاور کے علاقے پشتخرہ سے لاپتہ ہونے والی دونوں بچیاں ڈیرہ اسماعیل خان سے بحفاظت برآمد کرلی گئی ہیں۔
آپ سب کی دعاؤں، نیک تمناؤں اور پختونخوا پولیس کی تعاون کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ۔ اس سے بڑھ کر میرے لیے اور کیا خوشی ہوگی کہ عید سے قبل جو باپ ایک ویڈیو میں رو رو کر مجھ سے اپنی بچیوں کی بازیابی میں مدد کی اپیل کر رہا تھا، آج اُسی نے ہنستے ہوئے مجھے ٹیلی فون کیا۔
بے شک اللہ ہی بہترین انتظام کرنے والا ہے۔
نظریاتی، ادبی یا سیاسی اختلاف کو مذہب کا رنگ دے کر کسی انسان کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا صرف انتہاپسندی نہیں بلکہ معاشرتی جاہلیت کی بدترین شکل ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے فتووں، الزامات اور کردار کشی سے دینے کی روایت پروان چڑھائی گئی ہے۔
میں کسی کو یہ وضاحت دینے کا پابند نہیں کہ میرا اور میرے رب کا تعلق کتنا مضبوط ہے، نہ ہی مجھے اُن لوگوں کے سامنے اپنے عشقِ رسول ﷺ کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہے جو ختمِ نبوت جیسے مقدس عقیدے کو بھی سیاسی جلسوں اور وقتی مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ایمان دلوں کا معاملہ ہے، سوشل میڈیا پر اظہار کا نہیں۔
میں اُس ولی خان کا پوتا ہوں جس نے پاکستان کے 1973 کے آئین کی تشکیل میں تاریخی کردار ادا کیا۔
"فیکٹس آر فیکٹس" کوئی مذہبی پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک تاریخی، فکری اور سیاسی فورم ہے، جس کا مقصد پختونوں اور اس خطے کی تاریخ کو حقائق کی بنیاد پر پیش کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے آغاز سے ہی پروپیگنڈے، الزامات اور منظم مخالفت کا سامنا رہا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں؛ جب خان عبدالولی خان نے "فیکٹس آر فیکٹس" لکھی تھی تب بھی سیاسی ملاوں اور اسٹیبلشمنٹ کے حواریوں نے شور مچایا تھا، کیونکہ سچ ہمیشہ طاقتور حلقوں کیلئے خطرہ بنتا ہے۔
ہم نہ تب جھکے تھے، نہ آج جھکیں گے۔ ہم دلیل، تاریخ، شعور اور سیاسی جدوجہد کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ جو لوگ آج عقیدے کے نام پر نفرت پھیلا رہے ہیں، ہمیں اُن کی سیاسی تاریخ، اُن کے کردار اور اُن کے مقاصد بھی اچھی طرح معلوم ہیں۔ وقت ہمیشہ فیصلہ کرتا ہے کہ سچ کون بول رہا تھا اور مذہب کو سیاست کیلئے کون استعمال کررہا تھا۔
نن ، د قلندر د "سباؤن" سره درځم
جګ شه ولي باغه! د پرون سره درځم
تۀ د حیدرآباد قيصې کوه زۀ د لاهور
داسې د تاريخ د ټينګ تړون سره درځم
څه چې دا وخت روان دي، يقین وکړئ دا لا هېڅ هم نه دي- کله چې زه خپله مخې ته راشم او په "فېکتس آر فېکټس" کښې د تاریخ هغه بابونه وسپړو چې کلونه کلونه د پټ ساتلو هڅې یې شوې دي، نو د ډېرو خلکو لپاره به حالت د برداشت نه وي- نو ځکه په ارام اوسئ، حوصله وکړئ او تماشه کوئ. دا پلیټفارم نه کوم مذهبي چېنل دے او نه یې مقصد د کوم مذهب خلاف یا په حق کښې پروپېګنډه کول دي. "فېکتس آر فېکټس" یوازې د تاریخ، سیاست او حقایقو خبرې کوي.
مذهب د انسان او د هغه د خالق ترمنځ یو شخصي تعلق دے، په دې کښې د بل هېچا اجاره داري نه شي کېدلې. مونږ ټول به الله تعالی ته په انفرادي ډول جواب ورکوو، نو د نورو د ایمان په ځائے د خپلو اعمالو او خپل کردار فکر وکړئ.
تر کومه چې د یوه تن په اړه روان شور او تنازعې پورې تعلق دے، ما ته د دې حقیقت مخکښې معلوم نه و، لکه اوس چې ستاسو ټولو نه معلوم شو. نو ځکه هغه به نور د دې ټیم برخه نه وي.
ملګري پاتې شئ، لا ډېر څه مخې ته راتلل پاتې دي. ستاسو ټولو مننه.
میں ایک آخری بار پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹرولز اور اُن عناصر سے درخواست کر رہا ہوں کہ گالم گلوچ، کردار کشی اور بے ہودہ زبان کا استعمال بند کریں۔ اگر میں اُن نام نہاد مقدس اور تقدس کے لبادے اوڑھے ہوئے گندے کرداروں کے بارے میں بولنا شروع ہو گیا تو پھر یوتھیوں کے لیے لوگوں کا سامنا کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ہر چیز سوشل میڈیا کے نعروں اور مصنوعی پارسائی سے نہیں چھپائی جا سکتی۔
اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو پھر میں بھی یہ بھول جاؤں گا کہ کون کس کا کیا لگتا ہے اور کس کے کس سے تعلقات ہیں۔ پھر اُن تقدس کے مصنوعی لبادے اوڑھے ہوئے کرداروں کو بھی بے نقاب کروں گا جو پسِ پردہ بیٹھ کر پروپیگنڈا مہمات چلا رہے ہیں اور دوسروں کو آگ میں دھکیل کر خود پارسائی کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔
میں خاص طور پر شفیع جان کو بھی کہتا ہوں کہ ذاتی حملوں اور غیر مہذب گفتگو سے باز آ جائیں۔ یہ آخری بار کہہ رہا ہوں۔ اس کے بعد اگر جواب آیا تو پھر شکایت مت کیجیے گا کہ سخت ردِعمل کیوں ملا۔ ہر انسان کے صبر اور خاموشی کی ایک حد ہوتی ہے۔
میں نے اب تک تحمل، خاموشی اور ظرف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، مگر اسے میری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اگر آپ مسلسل یہی زبان استعمال کریں گے تو پھر جواب بھی اُسی لہجے میں ملے گا۔ اُس وقت پردے کے پیچھے بیٹھے کردار بھی اپنے انجام کے لیے خود ذمہ دار ہوں گے۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ میں نہ کسی عہدے کا طلبگار ہوں، نہ کسی رعایت کا امیدوار، اور نہ ہی مجھے اُس جماعت کا حصہ بننے کی خواہش باقی رہی ہے جو محسن کُشی، بے توقیری، بہتان تراشی اور بدزبانی کی علامت بنتی جا رہی ہو۔ میں نے ہمیشہ عمران خان صاحب کا احترام کیا، اُن کا دفاع کیا، مگر اس کے جواب میں مسلسل ٹرولنگ، تضحیک اور کردار کشی ملی۔
میں آج بھی نہیں چاہتا کہ معاملات اُس نہج تک پہنچیں جہاں واپسی کے راستے بند ہو جائیں۔ میں عمران خان کی جماعت کو نقصان پہنچانے کا خواہشمند نہیں، مگر مجھے مسلسل دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کی جائے۔ کیونکہ جب انسان خاموشی چھوڑ دے تو پھر بہت سے مقدس چہروں کے نقاب اترنے میں دیر نہیں لگتی۔
اب بھی وقت ہے کہ سیاسی اختلاف کو اخلاق اور تہذیب کے دائرے میں رکھا جائے۔ ورنہ پھر جو آگ دوسروں کے لیے جلائی گئی تھی، اُس کی تپش بہت دور تک محسوس ہوگی۔
الحمدللہ، بچی بازیاب ہوچکی ہے۔ اس جدوجہد میں آپ سب کی آواز، دعاؤں اور سوشل میڈیا کے مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ ہر اُس فرد کا شکریہ جس نے اس معصوم بچی کیلئے آواز بلند کی اور انسانیت کا ساتھ دیا۔
اب یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مکمل، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کریں کہ ایک معصوم بچی کس طرح سندھ تک پہنچی، اس پورے واقعے کے پیچھے کون لوگ تھے، اور کن عناصر نے اس جرم میں سہولت کاری یا معاونت کی۔
اس کیس میں جو بھی ملوث ہو، خواہ وہ کوئی بھی ہو، اسے قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کسی معصوم بچے کو ایسے اذیت ناک حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بچی معصوم تھی، اُس کیلئے کھڑا ہونا، آواز اٹھانا اور انصاف کا مطالبہ کرنا ہم سب کی اخلاقی، انسانی اور سماجی ذمہ داری تھی۔