طرف وہ عظیم ماؤں کے بیٹے ہیں جو وطن کی خاطر جانیں نچھاور کر کے امر ہو جاتے ہیں، اور دوسری طرف یہ مفاد پرست ٹولہ ہے جو صرف ایک ہڈی اور اقتدار کی خاطر اپنے ہی ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے پر تلا ہوا ہے۔ شہداء کی توہین کسی صورت برداشت نہیں!
#ڈیزل_کی_پھٹ_گئی#شہداء_سر_کا_تاج
ایک طرف پاکستان کا عام شہری دو وقت کی روٹی اور بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہا ہے، اور دوسری طرف ان مفاد پرستوں کے بیسیوں فارم ہاؤسز اور دبئی کے پرتعیش فلیٹس نکل رہے ہیں۔ یہ لوٹ مار کی دولت کہاں سے آئی؟
فضلو اب حساب دو
#ڈیزل_کی_پھٹ_گئی#شہداء_سر_کا_تاج
جب ظفراللہ جمالی وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے الگ ہوئے اور جنرل پرویز مشرف نئے وزیراعظم کی تلاش میں تھے تو مولانا فضل الرحمان نے صحافی نجم سیٹھی سے کہا کہ وہ اپنے غیر ملکی سفیر دوستوں کو بتائیں کہ "ہم بھی معتدل لوگ ہیں ہم بھی وزیراعظم بن سکتے ہیں۔
#ڈیزل_کی_پھٹ_گئی#شہداء_سر_کا_تاج
اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر شہداء کی قربانیوں پر غیر ذمہ دارانہ بیانات کسی صورت قبول نہیں۔ قوم اپنے ہیروز کے ساتھ کھڑی ہے۔
#ڈیزل_کی_پھٹ_گئی#شہداء_سر_کا_تاج
ایک طرف وہ عظیم ماؤں کے بیٹے ہیں جو وطن کی خاطر جانیں نچھاور کر کے امر ہو جاتے ہیں، اور دوسری طرف یہ مفاد پرست ٹولہ ہے جو صرف ایک ہڈی اور اقتدار کی خاطر اپنے ہی ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے پر تلا ہوا ہے
#شہداء_سر_کا_تاج#ڈیزل_کی_پھٹ_گئی
سرحد پہ ڈیوٹی کا مطلب ہوتا ہے ہر لمحہ موت کی آنکھوں میں آنکھوں ڈالنا اور خود کو اس کے سپرد کردینا سپاہی کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شاید اگلی صبح وہ آنکھ نہ کھول سکے
#ڈیزل_کی_پھٹ_گئی#شہداء_سر_کا_تاج
*پختون بھائی کا دوٹوک پیغام: فضل الرحمن فوج مخالف بیان واپس لیں اور قوم سے معافی مانگیں!*
مولانا نے اخلاق سے گری ہوئی بات کی ہے۔ کم از کم آپ تو ہوش کے ناخن لیں، دین کو سمجھتے ہیں، شہید کا رتبہ جانتے ہیں۔" پختون عوام کا کہنا ہے
#ڈیزل_کی_پھٹ_گئی#شہداء_سر_کا_تاج
یہ پارلیمنٹ جعلی ہے، مگر اس کی تنخواہ اصلی ہے۔
پارلیمنٹ کو جعلی کہا جاتا ہے، لیکن جب اسی پارلیمنٹ سے تنخواہ اور مراعات ملیں تو وہ جائز ہو جاتی ہیں؟
واہ مولانا! آپ کے اس مؤقف پر کیا ہی کہا جائے۔
#ڈیزل_کی_پھٹ_گئی#شہداء_سر_کا_تاج
قصور کے عوام نے فضل الرحمن کی سیاست کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔ اقتدار ملے تو حلوہ میٹھا، نہ ملے تو احتجاج اور الزام تراشی—یہ اصول نہیں، مفاد پرستی ہے۔ عوام نے واضح کر دیا کہ پاک فوج کے سپہ سالار اور ہمارے شہداء قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں۔
#فضلو_معافی_مانگو
فضل الرحمن کی سیاست کا خلاصہ قصور کے عوام نے ایک جملے میں بیان کر دیا: اقتدار ہو تو حلوہ میٹھا، اقتدار نہ ہو تو ہر طرف تھو تھو۔ مدارس کے طلبہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے قوم کے شہداء اور پاک فوج کا احترام سیکھو۔
#فضلو_معافی_مانگو
قصور کے عوام نے فضل الرحمن کو آئینہ دکھا دیا۔ پاکستان کے شہداء اور پاک فوج قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں، کسی موقع پرست سیاستدان کی سیاست کا ایندھن نہیں۔ قوم نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ شہداء کی توہین اور فوج مخالف بیانیہ کسی صورت قبول نہیں۔
#فضلو_معافی_مانگو
اقتدار کی خاطر مدارس کے طلبہ کو ملک بھر سے جمع کرنا اور پھر سیاسی مفاد کے لیے فوج اور شہداء کو نشانہ بنانا عوام کو منظور نہیں۔ قصور کے عوام نے واضح کر دیا کہ پاکستان کے سپہ سالار اور شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، فضلو نہیں۔
#فضلو_معافی_مانگو
No more double standards! If power brings sweetness, then opposition shouldn’t turn everything sour. The public sees everything clearly.
#فضلو_معافی_مانگو
The main job of schools and madrasas is to teach students and shape their character. Using students for political games is wrong and needs proper discussion.
#فضلو_معافی_مانگو
Kasur residents gave a clear reply to Fazl-ur-Rahman: When in power, everything tastes sweet like halwa. When out of power, everything looks bad. This double standard won’t work anymore.
#فضلو_معافی_مانگو