Anthropic just accidentally made every AI course on the internet worthless.
A free 24-minute video. No signup. No paywall.
Taught by the people who literally wrote the code Claude runs on.
I watched it twice.
The part at 8:12 alone is worth more than any $300 course I've bought.
Most people will scroll past this. The ones who don't will have an unfair advantage for the next 2 years.
Bookmark before it disappears 👇
ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے حج سے کتنے ارب ڈالر کمائے، لیکن کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ دنیا کے اس سب سے بڑے مجمعے کو سنبھالنے کے لیے سعودی انتظامیہ کی کتنی عظیم محنت، راتوں کی نیندیں اور پسِ پردہ کتنے اربوں ڈالرز کا خرچہ ہوتا ہے؟
محض *5 دنوں* کے اس نظام کو چلانے کے لیے سال کے 365 دن دنیا کا سب سے بڑا لاجسٹکس آپریشن کیسے کام کرتا ہے؟
آئیے، آج میں آپ کو بتاتا ہوں کہ حج کے اس عظیم الشان انتظام کے پیچھے چھپے وہ حیران کن حقائق کیا ہیں جو آپ کو دنگ کر دیں گے:
حصہ اول: عازمینِ حج کا عالمی ہجوم اور پاکستان کا حصہ
1۔ کل کتنے خوش نصیبوں نے حج کیا؟
سعودی جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس کے آفیشل ڈیٹا کے مطابق، اس سال (ہجری سال 1447 / عیسوی 2026) کل 1,707,301 (تقریباً 17 لاکھ) مسلمانوں کو حج کی سعادت نصیب ہوئی۔
بیرونِ ملک سے آنے والے حاجی: 1,546,655 (دنیا بھر کے مختلف خطوں سے پہنچے)۔
سعودی عرب کے اندر سے:
160,646 (جن میں مقامی سعودی شہری اور وہاں مقیم غیر ملکی شامل ہیں)۔
*صنفی تقسیم:*
اس سال اللہ کے گھر مہمان بننے والوں میں 893,396 مرد اور 813,905 خواتین شامل تھیں۔
2۔ دنیا کے کتنے ممالک شریک ہوئے؟
اس سال دنیا کے 180 سے زائد ممالک سے لبیک الہم لبیک کی صدائیں گونجیں۔ رنگ، نسل اور زبان کا فرق مٹا کر پوری دنیا کے مسلمان ایک لباس (احرام) میں نظر آئے۔ سب سے زیادہ حاجیوں کا کوٹہ رکھنے والے ممالک میں انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور پاکستان سرِفہرست تھے۔
3۔ پاکستان کا تاریخی کوٹہ اور عازمین کی تعداد
پاکستان کو اس سال کل 179,210 (ایک لاکھ نواسی ہزار دو سو دس) کا کوٹہ ملا تھا، اور پاکستان نے اپنا یہ پورا کوٹہ استعمال کیا۔
ان میں سے تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار عازمینِ حج سرکاری اسکیم کے تحت حجازِ مقدس پہنچے۔
باقی عازمین پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے ذریعے گئے۔
حکومتِ پاکستان اور سعودی حکام کے تعاون سے پاکستانی حاجیوں کے لیے "روڈ ٹو مکہ" پروجیکٹ کے تحت اسلام آباد, لاہور اور کراچی ایئرپورٹس پر ہی سعودی امیگریشن کا عمل مکمل کیا گیا، جس سے حاجیوں کا قیمتی وقت بچا۔
حصہ دوم:
لاکھوں ڈالرز کی قربانی اور گوشت کی تقسیم کا حیران کن عالمی نظام!
قربانی کے ان 3 دنوں میں مکہ مکرمہ میں دنیا کا سب سے بڑا لاجسٹکس آپریشن ہوتا ہے، جس کا گوشت ضائع ہونے کے بجائے دنیا کے مستحقین تک پہنچتا ہے:
قربانی کی کل مالیت:
اس سال عید کے ایام میں حاجیوں کی طرف سے تقریباً 11 سے 12 لاکھ جانوروں (زیادہ تر بھیڑ اور دنبے) کی قربانی دی گئی۔ سعودی حکومت کے آفیشل قربانی سسٹم (Adahi Project) کے تحت فی جانور قیمت تقریباً 150 امریکی ڈالر (سعودی ریال میں 550 ریال) مقرر تھی۔ اس حساب سے دنیا بھر کے حاجیوں نے صرف 84 گھنٹوں کے اندر 150,000,000 سے 165,000,000 ڈالرز (یعنی 15 سے 16 کروڑ ڈالرز—پاکستانی اربوں روپے) کے جانور ذبح کیے۔
مکہ کے غریبوں کا حصہ:
قربانی کے فوراً بعد گوشت کا ایک بڑا حصہ مکہ مکرمہ کی حدود (حرم پاک) میں رہنے والے فقراء، مساکین اور ضرورت مندوں میں اسی وقت تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
فلاحی تنظیموں کا نیٹ ورک:
دوسرا حصہ سعودی عرب کی 250 سے زائد رجسٹرڈ فلاحی تنظیموں کے حوالے کیا جاتا ہے، جن کے پاس بڑے بڑے فریزر والے ٹرک ہوتے ہیں۔ وہ اسے ملک کے یتیم خانوں اور غریب خاندانوں تک پہنچاتی ہیں۔
27 مسلم ممالک کو منجمد گوشت کی ترسیل:
باقی بچ جانے والے لاکھوں ٹن گوشت کو مکہ کے جدید ترین ذبح خانوں کے پلانٹس میں فوراً صاف کر کے، مائنس درجہ حرارت پر منجمد (Freeze) کیا جاتا ہے اور ویکیوم پیکنگ کی جاتی ہے۔ یکم محرم سے اس گوشت کو بحری اور ہوائی جہازوں کے ذریعے دنیا کے 27 سے زائد مستحق مسلم ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔
خصوصی امداد:
یہ گوشت خصوصی طور پر ان علاقوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں لوگ جنگ، قحط یا شدید غربت کا شکار ہیں، جیسے فلسطین (غزہ)، صومالیہ، مالی، نائجر، افغانستان، اور بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا مہاجرین کے کیمپ۔
حصہ سوم:
دنیا کا سب سے بڑا کولنگ سسٹم اور بجلی کا اربوں کا خرچہ
اس بار مکہ اور میدانِ عرفات میں درجہ حرارت 45°C سے 48°C تک پہنچ رہا تھا، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی حکومت نے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا کولنگ نیٹ ورک چلایا:
مستقل اور لائف ٹائم انفراسٹرکچر
میدانِ عرفات اور مزدلفہ میں جو لاکھوں بڑے بڑے ہائی ٹیک پنکھے اور واٹر مسٹ (دھند اڑانے والا) سسٹم نظر آتا ہے، وہ عارضی نہیں ہے۔ عرفات کے میدان میں لوہے کے بہت بڑے بڑے مستقل پولز (Poles) بنائے گئے ہیں جن پر یہ سسٹم سال بھر فٹ رہتا ہے۔ حج کے بعد انہیں خاص حفاظتی کور (Covers) سے ڈھانپ دیا جاتا ہے اور انجینئرز سال کے 12 مہینے ان کی مینٹیننس اور پائپ لائنوں کی صفائی کرتے ہیں۔
ڈھائی لاکھ ٹن کے اے سی (AC) پلانٹس:
منیٰ کا پورا ٹینٹ سٹی فائر پروف خیموں پر مشتمل ہے، جنہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے دنیا کا سب سے بڑا مرکزی کولنگ سسٹم کام کرتا ہے جس کی گنجائش 1 لاکھ ٹن ہے۔
مسجد الحرام اور اس کے مضافات کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے مزید دو بڑے پلانٹس (الشامیہ اور اجیاد) کام کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر 2 لاکھ 50 ہزار ٹن (250,000 Tons) سے زیادہ کی گنجائش کے کولنگ پلانٹس چوبیس گھنٹے چلتے ہیں۔
کسی چھوٹے ملک جتنی بجلی کا استعمال اور بل:
حج کے ان دنوں میں مکہ اور مشاعر مقدسہ کا بجلی کا لوڈ 5,000 میگا واٹ سے بھی اوپر چلا جاتا ہے (یہ اتنی بجلی ہے جس سے پاکستان کے دو بڑے شہر جیسے لاہور اور اسلام آباد مل کر چل سکتے ہیں)۔ ان چند دنوں کا بجلی کا تخمینہ بل 4 سے 5 کروڑ امریکی ڈالرز (تقریباً 12 سے 15 ارب پاکستانی روپے) آتا ہے، جو سعودی حکومت حاجیوں کے آرام کے لیے خود برداشت کرتی ہے۔
ہنگامی حالت کے لیے سیکڑوں ہائی پاور ڈیزل جنریٹرز بھی اسٹینڈ بائی رکھے جاتے ہیں۔
ٹھنڈا فرش (Cooling Flooring):
مسجد الحرام اور اہم مقامات کے ارد گرد خاص قسم کا سفید سنگِ مرمر لگایا گیا ہے جو سورج کی تپش کو جذب نہیں کرتا اور شدید دھوپ میں بھی فرش بالکل ٹھنڈا رہتا ہے تاکہ حاجی ننگے پاؤں طواف کر سکیں۔
حصہ چہارم:
دنیا کا سب سے پیچیدہ ٹرانسپورٹ لاجسٹکس اور فیول کا بجٹ
لاکھوں لوگوں کو چند گھنٹوں کے اندر ایک میدان سے دوسرے میدان منتقل کرنا دنیا کا سب سے بڑا ٹریفک چیلنج ہے:
2.6 ارب ڈالر کی میٹرو ٹرین (صرف 7 دن کے لیے):
"المشاعر مقدسہ میٹرو" دنیا کا واحد ٹرین سسٹم ہے جو تقریباً ڈھائی ارب ڈالر سے زیادہ کی لاگت سے بنا، لیکن یہ سال کے 365 دنوں میں سے صرف 7 دن چلتا ہے اور باقی پورا سال بند رہتا ہے! یہ ٹرین لاکھوں حاجیوں کو منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے درمیان سیکنڈوں میں منتقل کرتی ہے۔
25,000 بسوں کا بیڑا اور کروڑوں کا فیول:
جو حاجی ٹرین پر نہیں جاتے، ان کے لیے 25 ہزار سے زائد جدید ترین ہائی ٹیک اے سی بسیں چوبیس گھنٹے سڑکوں پر رہتی ہیں۔ شدید گرمی میں ان بسوں کے انجن اور اے سی چوبیس گھنٹے اسٹارٹ رکھنے کے لیے صرف ان چند دنوں میں 35,000,000 سے 40,000,000 ڈالرز (تقریباً 4 کروڑ ڈالرز) کا پٹرول اور ڈیزل استعمال ہو جاتا ہے۔
ڈرونز اور اے آئی (AI) کیمرے:
ٹریفک کو جام ہونے سے بچانے کے لیے مکہ کی فضائوں میں ڈرونز اڑتے ہیں اور سڑکوں پر لگے آرٹیفیشل انٹیلیجنس والے کیمرے لائیو ٹریفک مانیٹرنگ کرتے ہیں، جو ہجوم دیکھ کر سگنلز کا وقت خودکار طریقے سے تبدیل کرتے ہیں۔
حصہ پنجم:
3 لاکھ ورکرز کی فوج (انسانی طاقت کا معجزہ)
اتنے بڑے مینیجمنٹ سسٹم کو چلانے کے لیے پس پردہ لاکھوں انسان دن رات کام کرتے ہیں:
عارضی اور مستقل ورکرز
عام دنوں میں مکہ پاک کی دیکھ بھال کے لیے 15 سے 20 ہزار مستقل عملہ ہوتا ہے، لیکن حج کے ان چند دنوں کے لیے سعودی حکومت 3 لاکھ (300,000) سے زائد ورکرز کی فورس میدان میں اتارتی ہے۔
40 ہزار صفائی کے ورکرز:
یہ ورکرز منیٰ اور عرفات میں لاکھوں ٹن کچرا اور پلاسٹک کی بوتلیں چوبیس گھنٹے شفٹوں میں کام کر کے سیکنڈوں میں صاف کرتے ہیں۔
50 ہزار میڈیکل ورکرز:
ڈاکٹرز، نرسیں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو ملا کر 50 ہزار سے زائد ہیلتھ پروفیشنلز عارضی فیلڈ ہاسپٹلز اور 3,000 ایمبولینسز کے ساتھ حاجیوں کو ہیٹ اسٹروک اور دیگر بیماریوں سے بچانے کے لیے الرٹ رہتے ہیں۔
1 لاکھ سے زائد سیکیورٹی فورس:
سیکیورٹی، پولیس اور سول ڈیفنس کے ایک لاکھ سے زائد جوان تپتی دھوپ میں کھڑے ہو کر ہجوم کو کنٹرول کرتے ہیں اور حاجیوں کو راستے بتاتے ہیں۔
حصہ ششم:
نظم و ضبط اور سلامتی کی رپورٹ (خاتمہ)
اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر اور احسان ہے کہ اتنے بڑے ہجوم, شدید ترین گرمی اور کھربوں روپے کے اس لاجسٹکس آپریشن کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس بار پورے حج کے دوران کوئی ایک بھی بڑا حادثہ، بھگدڑ (Stampede) یا سیکیورٹی کا مسئلہ پیش نہیں آیا۔ سعودی حکومت کی ڈیجیٹل "نسک" ایپ اور سخت سمارٹ مانیٹرنگ کی وجہ سے تمام حاجیوں نے انتہائی امن، سکون اور حفاظت کے ساتھ اپنے مناسک ادا کیے۔
سبحان اللہ! اسلام کا یہ نظامِ حج اور قربانی کتنا عظیم الشان ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔اللھم لک الحمد
اللہم اصلح ولاہ امورنا و ولاہ الحرمین الشریفین
سبحان اللہ
Today, he admits to having participated in the war with dozens of airstrikes; while Iran was responding to his attacks, he repeatedly called on the Kingdom to enter the war against Iran, and time and again launched media campaigns fabricating lies that the drones were coming from the south (Saudi Arabia). We ask God to protect our Kingdom and its wise and prudent leaders, who know when a war is their war 🇸🇦 💪
🚨 To Senator Lindsey Graham… A message from the heart of Riyadh
Read this carefully, for what you are about to hear is not a flowery diplomatic statement, but the truth from the capital of decision-making that is leading the world towards a just peace:
Firstly: The Kingdom of Saudi Arabia does not need lessons in ‘boldness’ from anyone. Remember, on 22 May 2026, Riyadh launched its historic ‘International Coalition for a Two-State Solution’ initiative, bringing together 165 nations from across the globe to endorse, recognise and support it. This is our international standing, and this is our boldness, which needs no endorsement from you.
Secondly: The entire world holds the Kingdom in the highest regard and esteem. We build our strategic relations with the East and the West, with Beijing, Moscow and Washington, and with the European Union, Britain and other influential international powers, in accordance with our national interests and our firm principles, not according to anyone’s dictates. And if you issue a statement linking the continuation of relations or threatening ‘grave repercussions’, you are thereby – in the most blatant manner – undermining the historic strategic relationship between the Kingdom and the United States. Such crude language is unbecoming of allies, and we address it only to those who are ignorant of the Kingdom’s standing and prestige.
Thirdly: Who inspired you to ask us to join the Abraham Accords as if you were doing us a favour or dictating our choices? Let us be clear with you: our position on the Palestinian cause is not a bargaining chip, and neither threats nor enticements will sway it. There will be no peace without the establishment of an independent Palestinian state with East Jerusalem as its capital. This is the position we have declared to the world, and this is the essence of our initiative, which 165 countries have rallied behind. We are on the right side of history, and international legitimacy is on our side.
Fourthly: A word of free advice… Before you threaten and make threats, take a good look at the bigger picture. The Kingdom of Saudi Arabia draws its strength first from God, then from its wise leaders throughout the centuries, from the founder King Abdulaziz, may God have mercy on him, to the Custodian of the Two Holy Mosques King Salman bin Abdulaziz, and on to Crown Prince Mohammed bin Salman, who is leading this historic transformation, alongside its loyal people and all free people of the world. Rest assured that history proves that Riyadh has never bowed down, and will not bow down today.
In conclusion: history will remember those who led the world towards a just peace, and it will remember those who gambled on the language of threats and blackmail and lost the bet. Do not misjudge the situation… again.
جب یہاں مشہور کیا گیاکہ رجیم چینج کے پیچھے سعودیہ کی مرضی تھی تو بندہ نے اس امکان کا سختی سے انکار کیا جس پہ جذباتی انصافی بہت ناراض بھی ہوئے حالانکہ بڑی ہوشیاری سے پھیلائی گئی فیک نیوز اس کی تائید کر رہی تھیں۔
اسی طرح جب عمران نے کہا کہ ایم بی ایس نے اسے وارننگ دے دی تھی کہ اس وقت کا آرمی چیف اس کے خلاف سازشیں کررہا ہے تو بندہ نے عمران کی بات پہ اعتبار کیا۔
لٹھ بردار “ وڈی آپی” نے تو بندہ پہ باقاعدہ لٹھ ہی کھینچ لی کہ ایم بی ایس کو رامی کیوں نہیں کہتے ؟ حالانکہ بندہ کے نزدیک عرب دنیا کا رامی شیطان ہمیشہ سے ہی اماراتی ایم بی زیڈ تھا۔
اسکی وجہ صاف ظاہر تھی۔ بندہ ایم بی ایس کی سیاست کو ابتدا سے ہی بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ ایم بی ایس میں دو خوبیاں ہیں جو عمران میں نہیں تھیں ، عالمی سیاست کی حرکیات کی گہری سمجھ اور دھوکہ باز کو جوابی دھوکہ دینے کی صلاحیت جس سے سیدھا سادا دو ٹوک عمران فارغ تھا ورنہ وہ آج جیل میں نہ ہوتا۔
عالمی سیاست اور خصوصاً مشرق وسطیٰ کی سیاست کے سانپ اور سیڑھی کے کھیل کو وہ بہت اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔ شاہ فیصل کی شہادت کے بعد سے سعودی حکمران خاندان ہمیشہ سے ہی امریکہ سے خوفزدہ رہا سبھی سعودی بادشاہ خوفزدہ رہے کہ امریکہ جب چاہے سعودیہ کو اندر سے ڈی سیٹبلائز کر سکتا ہے کسی سعودی شہزادے کے ہی ذریعے۔ اسی لئے عرب سپرنگ کا آغاز ہوتے ہی شاہ عبدالہ بیرونی دورہ چھوڑ کر فوری واپس لوٹا اور سعودی عوام کے لئے غیر معمولی مراعات کے پیکیج کا اعلان کیا کیونکہ انکو اپنا ڈر پڑ گیا تھا۔
ایم بی ایس نے بہت کامیابی سے سعودی خاندان کے اس خوف کا خاتمہ کیا۔ اس کی اینٹی کرپشن ڈرائیو جس میں بہت سے اعلیٰ سعودی شہزادے نظربند ہو کر اپنی دولت سرکاری خزانے میں جمع کرانے پہ مجبور ہوئے وہ ایک طرف تو ایم بی ایس کے اپنے ذاتی اقتدار کو مستحکم کرنے کی ڈرائیو تھی تو دوسری طرف مغرب کے گھوڑے یعنی پرنس ولید بن طلال کی کہانی ختم کردی گئی۔
ہمارے لوگ اصل کہانی کو سمجھے ہی نہیں، ولید بن طلال، ابن سعود کا پوتا تھا وہی ابن سعود جو ملک عبدالعزیز کے بعد اگلا سعودی بادشاہ بنا لیکن اسکے رجحانات دیکھتے ہوئے اسکے بھائیوں نے اس سے تخت چھین کر شاہ فیصل کے حوالے کردیا، تب سعودیہ میں دولت کی ریل پیل نہ تھی۔ ابن سعود جلاوطنی کے بعد قاہرہ اور بیروت میں زندگی گزارتا رہا اسکا پوتا ولید بن طلال وہیں پلا بڑھا کچھ خاص پیسہ بھی نہ تھا لیکن یکایک ارب پتی تاجر بن گیا جس کے پیچھے بہت سی کہانیاں مشہور تھیں خصوصاً صیہونی لابی اور بینکرز کی عنایات کی۔ وہ شاید شاہ عبداللہ کے دور میں واپس سعودیہ آیا حالانکہ پہلے انکے سعودیہ واپسی پہ پابندی رہی تھی۔
تب سے مغربی میڈیا مسلسل ولید بن طلال کو نئے ماڈرن سعودیہ کا چہرہ بنا کر پیش کر رہا تھا۔ لیکن اصل کھیل کچھ اور تھی اور وہ یہ کہ شاہ سلمان کی وفات کے ساتھ ہی ملک عبدالعزیز کی اس وصیت کا بھی خاتمہ ہوجانا تھا کہ اس کے بعد بادشاہت اس کے بڑے بیٹوں میں یکے بعد دیگرے منتقل ہوتی رہے گی سو کنگ سلمان کی جانشینی کے بعد اگلے بادشاہ کے انتخاب کا سوال پیدا ہوتا تو ولید بن طلال ملک عبدالعزیز کے بڑے بیٹے کے بڑے بیٹے ہونے کی وجہ فطری طور پہ مضبوط ترین امیدوار ثابت ہوتا اور یہی وہ وجہ تھی کہ صیہونی لابی اور مغرب نے ولید بن طلال پہ اربوں کی سرمایہ کاری کی تھی تاکہ وہ سعودیہ کا ایم بی زیڈ ثابت ہو۔ اور وہ ایم بی زیڈ سے بھی زیادہ ایڈوانس تھا۔ ایم بی زیڈ نے تو شاہی محل سے مفرور ہونے والی بیٹی کو بحیرہ عرب میں انڈین نیوی کی مدد سے پکڑ لیا تھا اور اپنی بیٹیوں کو پابند رکھتا ہے پرنس ولید نے انہیں مکمل مغربی آزادی دی ہوئی تھی اور ان کے لائف سٹائل کے مغربی جریدے بھی گواہ ہیں۔
ایم بی ایس نے اپنی اینٹی کرپشن ڈرائیو کے بہانے ولید بن طلال کی جڑ کاٹ دی۔ اور یہی وجہ ہے کہ عدنان خشوگی( جس نے مغرب کے تعاون سے ناجائز اسلحہ دہشت گرد تنظیموں کو بیچ کر اربوں ڈالر کمائے ) کا بیٹا جمال خشوگی جو صحافت کرنے لگا تھا، ایم بی ایس کا تلخ ناقد بن گیا۔ جس پہ ایم بی ایس نے اسے اپنے انتقام کا نشانہ بنایا۔ یہاں دلچسپ سوال یہ ہے کہ جو بہیمانہ سلوک جمال خشوگی کے ساتھ ہوا اتنا ہی تو ارشد شریف کے ساتھ بھی ہوا۔ تب کیوں عالمی ضمیر نہ جاگا ؟ تب کیوں عالمی جرائد اور مغربی سفارت خانوں نے ویسے ہی پیغامات نہ دیے ؟ تب کیوں کسی امریکی صدر نے یہ نہ کہا کہ جنرل باجوہ اور شریف خاندان ارشد شریف کا قاتل ہے اور ہم انکو حکومت سے فارغ کرنے انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے ؟
👇جاری ہے
In 2022, Israel's net favourability among American men under 50 was minus 3.
It's now minus 47.
Support for Israel is becoming a fringe opinion in the West.
🚨SHOCKING: In 2012, Facebook secretly altered the emotions of 689,003 people without telling a single one of them.
This is not a conspiracy theory. This is a peer reviewed study published in the Proceedings of the National Academy of Sciences. The lead author worked at Facebook. The experiment was real. The results were published. And almost nobody remembers.
Here is what Facebook did to you.
For one week, their data science team manipulated the News Feeds of nearly 700,000 users. One group had happy posts from their friends quietly removed. The other group had sad posts removed. Then Facebook sat back and watched what happened to these people.
The people who stopped seeing happiness became sadder. They started writing darker, more negative posts. The people who stopped seeing sadness became happier. Their language shifted to match.
Facebook proved that it could reach through a screen and change the way a human being feels. Without a conversation. Without a touch. Without the person ever knowing it was happening to them.
When the study went public, the world erupted. The journal issued a formal Expression of Concern. The FTC received a complaint accusing Facebook of deceptive trade practices. Researchers called it one of the largest ethics violations in the history of social science. Governments demanded answers.
Facebook's defense was four words. "You agreed to this." Buried in the Terms of Service was one line about "research." That was consent. For a psychological experiment on 689,003 human beings.
Now here is the part that should make you feel sick.
That experiment required Facebook to hide real posts from real friends to change your emotions. It took an engineering team weeks to design. It affected 689,003 people for one week. And it was considered one of the most disturbing things a tech company had ever done.
ChatGPT does not need to hide anyone else's words. It generates the emotional content itself. Directly to you. Personalized to your history. Calibrated to your tone. Available every hour of every day.
Stanford researchers just read 391,562 real ChatGPT messages. The chatbot was sycophantic in over 80% of them. It told users their ideas had grand significance in 37.5% of responses. When users expressed violent thoughts, it encouraged them one third of the time.
Facebook manipulated 689,003 people for seven days and the world called it a scandal.
ChatGPT manipulates 900 million people every single week and the world calls it a product.
The experiment never ended. It just got a subscription model.
GitHub — version control (free)
Claude — coding ($20/mo)
Namecheap — domain ($12/yr)
Cloudflare — DNS (free)
Vercel — deploy (free)
Clerk — auth (free)
Supabase — backend + database (free)
Upstash — Redis (free)
Pinecone — vector DB (free)
Resend — emails (free)
Stripe — payments (2.9% per transaction)
PostHog — analytics (free)
Sentry — error tracking (free)
Total cost to run a startup: ~$20/month
No servers.
No DevOps team.
No funding required.
Just an idea and WiFi.
There has never been a cheaper time to build. 🚀
Today is the best time to bet on yourself and build the things ⭐
I showed a Trump post to my psychologist friend and asked her to do a proper profile. This was, in retrospect, like asking a vet to look at a particularly diseased badger.
She put down her coffee, read it twice, and said: “Right. Where do you want me to start?”
The all-caps, she explained, isn’t emphasis. It’s dysregulation. A regulated adult uses punctuation to signal importance. Trump uses volume, because volume is what worked in the room he grew up in. Fred Trump’s household rewarded dominance and punished weakness. Donald learned early that the loudest person wins. He never updated that software. He never updates anything. The man is essentially Windows Vista with a spray tan.
“NATO HAS DONE ABSOLUTELY NOTHING.” The word absolutely is doing a lot of work there. Psychologists call this black-and-white thinking, a cognitive pattern strongly associated with narcissistic personality structures. The world is either total loyalty or total betrayal. No middle ground. No nuance. No evidence of a functioning cerebral cortex.
“MILITARILY DECIMATED.” She paused on this one. Self-glorification dressed as fact, she said. He has no military background, never served, and has a well-documented terror of illness and physical danger. Bone spurs, famously. Four of them. One per deferment. So he compensates verbally, hard and consistently, because words are his only battlefield and even there he fights like a man wearing oven mitts.
“THE U.S.A. NEEDS NOTHING FROM NATO.” The people who most loudly declare their independence, she said, are almost always the most terrified of abandonment. Classic counterdependence. The kid who announces he doesn’t need friends. In the playground. Alone. Eating his lunch next to a bin.
The threat with no content, “NEVER FORGET THIS VERY IMPORTANT POINT IN TIME,” she found genuinely fascinating. It has the grammatical structure of consequence without any actual consequence attached. It’s what you say when you want to punish someone but lack both the means and the attention span to follow through.
And then the signature. His own name. On his own platform. As if the man might otherwise forget who he is halfway through a sentence, which, to be fair, seems increasingly plausible.
She sat back and said: “This is a man who has been pretending to be formidable for so long he can no longer locate the frightened little boy underneath. But he’s still there. He’s always there. TACO is always there. Screaming in capital letters at people who stopped listening years ago.”
I paid for the coffee. It was the least I could do. She’s going to need therapy after this.
Gandalv / @Microinteracti1
🚨BREAKING: Jensen Huang's NVIDIA engineers just released their internal AI prompting playbook.
No paywalls. No waitlists. No gatekeeping.
Your agents are hallucinating 35% more than they should and this stops it cold.
Here's the exact system they built and the 6 prompts that changed our results overnight:
In 2018, Stanford professor Matt Abrahams gave a masterclass on why most people fail to communicate well.
He broke down:
- The structure every message needs
- Why audiences stop listening
- The psychology of attention
15 lessons that'll make your communication unforgettable:
Whenever Pakistanis bay for the blood of the people they did not know, I think of this NM Rashid poem:
اجل، ان سے مل،
کہ یہ سادہ دل
نہ اہل صلوٰۃ اور نہ اہل شراب،
نہ اہل ادب اور نہ اہل حساب،
نا اہل کتاب
نہ اہل کتاب اور نہ اہل مشین
نہ اہل خلا اور نہ اہل زمین
فقط بے یقین
اجل، ان سے مت کر حجاب
اجل، ان سے مل!
بڑھو، تم بھی آگے بڑھو
اجل سے ملو،
بڑھو، نو تونگر گداؤ
نہ کشکول دریوزہ گردی چھپاؤ
تمہیں زندگی سے کوئی ربط باقی نہیں
اجل سے ہنسو اور اجل کو ہنساؤ!
بڑھو بندگان زمانہ بڑھو بندگان درم
اجل یہ سب انسان منفی ہیں
منفی زیادہ ہیں انسان کم
ہو ان پر نگاہ کرم
رمضان میں ہاتھیوں سے ہوشیار رہیں
عنوان آپ کو عجیب لگ رہا ہوگا لیکن جب آپ پڑھیں گے تو حیرت ختم ہوجائے گی۔
امام مالک رحمه الله اپنے معمول کے مطابق مسجد نبوی میں بیٹھ کر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی احادیث بیان کر رہے تھے... اور ان کے اردگرد موجود طلباء سن رہے تھے... پھر ایک شخص نے چیختے ہوئے کہا : مدینہ میں ایک بڑا ہاتھی آیا ہے ۔ (مدینہ والوں نے اس سے پہلے ہاتھی نہیں دیکھا تھا... مدینہ میں ہاتھی نہیں ہوتے تھے )...
چنانچہ تمام طلباء ہاتھی کو دیکھنے کے لیے دوڑ پڑے اور امام مالک کو چھوڑ کر چلے گئے سوائے یحییٰ بن یحییٰ لیثی کے۔
امام مالک نے ان سے کہا:
تم ان کے ساتھ باہر کیوں نہیں گئے؟
کیا آپ پہلے ہاتھی دیکھ چکے ہیں؟
یحییٰ نے کہا: میں شہر مدینہ امام مالک کو دیکھنے آیا ہوں ہاتھی دیکھنے نہیں.
اگر ہم اس واقعے پر غور کریں تو ہم پائیں گے کہ وہاں موجود لوگوں میں سے صرف ایک شخص جانتا تھا کہ وہ کیوں آیا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔
اس لیے وہ مشغول نہیں ہوا... اس نے اپنی توانائیاں دائیں بائیں ضائع نہیں کیں... جب کہ دوسرے لوگ باہر نکل کر تماشہ دیکھنے لگے ... اسی لیے دیکھیے کہ ان کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے ...
امام یحییٰ بن یحییٰ لیثی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت امام مالک سے الموطأ کے سلسلے میں سب سے زیادہ مستند ہے۔
جب کہ دوسرے طلباء جو تماشائی تھے، تاریخ نے ان کا ذکر ہم سے نہیں کیا...
ہمارے زمانے میں بھی بار بار ہاتھی کو لایا جا رہا ہے ... لیکن الگ الگ شکلوں میں... اور مختلف طریقوں سے... خاص طور پر رمضان میں۔
رمضان میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں: ایک قسم ان کی ہے جنہوں نے اپنا مقصد طے کر لیا ہوتا ہے... وہ جانتے ہیں کہ وہ رمضان سے کیا چاہتے ہیں... اور وہ کیا ثمرات حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں؟
اور دوسری قسم ان کی ہے جو رمضان کی طرف سے غافل ہیں اور کوتاہی کے شکار ہیں ... مختلف قسم کے ہاتھیوں نے انہیں اپنی طرف متوجہ کر رکھا ہے ...
ٹی وی چینلز، سیریلز، موویز وغیرہ یہ سب اس زمانے کے ہاتھی ہیں ...
ان ہاتھیوں اور ان کی چمک دمک سے ہوشیار رہو ...
یہ سال کے افضل ترین اوقات کو آپ سے چھین لیں گے.
21 EMAIL ADDRESS TOOLS
For Open Source Intelligence (OSINT) Professionals
If you work with OSINT, investigations, cybersecurity, or digital research, these tools can help you gather insights using email addresses.
1. GHunt
Info from gmail accounts
2. EPIEOS
Email reverse lookup
3. OSINT Industries
Email reverse lookup
4. Castrick
Email reverse lookup
5. Holehe
Check email in different sites
6. Mailcat
Find email by nickname
7. EmailRep. io
Email reputation
8. HaveIBeenPwned
Search data breaches
9. DeHashed
Search data breaches
10. BreachDirectory
Search data breaches
11. Whoxy
Lookup domain WHOIS
12. Reverse Whois
Domain WHOIS search
13. Scamsearch. io
Scammer details database
14. That’s Them
People search engine
15. InsE
Instagram email finder
16. osint. rocks
Email tools collection
17. Skymem
Find emails of companies
18. SignalHire
Find professional emails
19. Hunter. io
Find professional emails
20. Simple Login
Mask your email address
21. Proton Mail
Free & secure email service
❤️ Like
🔁 Retweet
🔖 Bookmark
Follow @sonalshukla3377 for more such posts
Insane disclosure!
It is obvious from these emails that Epstein HATED Imran Khan, the week Khan is elected the PM in Pakistan, Epstein emails a friend mentioning assassinations and coup fundings, and says Khan is more dangerous than Erdogan, Khomeni, Xi, Putin. Later Epstein seemingly lies about knowing 2 of Khan's ex wives. It that cant be true, unless @RehamKhan1
knew Epstein, which she should clarify about but i doubt she did.
It looks like what Epstein is trying to do is exaggerate his familiarity with Imran Khan and push the point that Khan is an undesirable.
Ryan and Maz have already reported that Epstein was extremely close to the Mossad and basically Israel's undercover diplomat/banker working at a strategic level. So we can safely conclude that Israel hates Imran Khan and thought him being the prime minister of Pakistan is dangerous.
Eventually, 4 years after this email, Khan was removed by the Pakistani military backed by the State Dept. Pakistani military has now started normalizing ties with Israel. It cannot be more plain.
🚨BREAKING: Anthropic just dropped free courses to master AI with certificates.
No tuition. No waitlist. No BS.
Here're 10 courses that will replace a $50K degree👇
اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة
2- زوجة
3- صاحبة
إمراءة :
امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو
زوجة :
ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو
صاحبة :
ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو
اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے :
1- امراءة
حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو
" امراءة نوح " اور " امراءة لوط " كہہ كر پكارا هے،
اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی
" وامراءة فرعون" کہ كر پكارا هے
(ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)
یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا
2- زوجة :
جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے
( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ )
اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا
( يأيها النبي قل لأزواجك .... )
شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا
ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا
( و امراتي عاقرا .... )
اور جب أولاد مل گئی تو بولا
( ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه .... )
اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں
اسی طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر
( وامرءته حمالة الحطب )
كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا
3- صاحبة :
جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو
اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے
(ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)
اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا
( ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ )
كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بولا
اردو ميں:
امراءتي , زوجتي , صاحبتي سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گا
ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے
اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا
( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ
أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما )
"وأزواجنا"
زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھو.