🚨🚨Thank you @MaryamNSharif for raising this notorious CCD which killed 924 people in eight months of 2025!
Australian PM @AlboMP called on authorities in #Pakistan to investigate the fatal shooting of Australian girl while on holiday with family. https://t.co/0zFZA3wCky
بھائی نے تو پریس بریفنگ میں سچ بول کر سب کو لاجواب کر دیا! 👏
"غریب کا ٹیکس کاٹ کر سم بلاک، اور دبئی میں اربوں کے اثاثے رکھنے والوں کو کھلی چھوٹ۔ حکمران طبقہ اپنے مفت پٹرول، بجلی اور گیس کے مزے کم کرنے کو تیار نہیں، سارا بوجھ بس غریب عوام پر۔"
#Budget2026#BudgetForPakistan
Incident Report – Alleged Human Rights Violations Against Civilians in Khost Province
Issued by the International Human Rights Foundation (IHRF)
In the early morning of 10 June 2026, at approximately 04:45 AM local time, Pakistani military forces reportedly carried out artillery shelling targeting the Sadiq Gharab locality of Alisher District, Khost Province, Afghanistan.
According to credible local sources, the attack struck a civilian residential area, resulting in the deaths of three children and injuries to at least six other civilians. The use of heavy artillery in or near populated civilian areas raises grave concerns about deliberate or indiscriminate targeting of non-combatants, which may constitute serious violations of international humanitarian law (IHL) and fundamental human rights principles.
Border community reports indicate that this incident is part of a recurring pattern of cross-border shelling affecting civilian populations across several Afghan provinces, including Paktia, Paktika, Khost, Nangarhar, and Kunar. These repeated attacks have reportedly led to civilian casualties, destruction of homes and property, and forced displacement—compelling many residents to abandon their homes in search of safety.
Under international humanitarian law, all parties to a conflict are obligated to distinguish between civilian populations and military objectives and to ensure that attacks do not disproportionately harm civilians. Indiscriminate attacks on populated areas and the targeting of civilian infrastructure may amount to war crimes and serious breaches of human rights obligations.
The IHRF urgently calls upon relevant international and regional human rights mechanisms, including the UN Human Rights Council and the International Criminal Court, to investigate these incidents, document evidence of civilian harm, and ensure accountability for those responsible. Immediate protective measures must also be implemented to safeguard civilians in border communities who continue to face the threat of cross-border attacks.
Issued by:
International Human Rights Foundation (IHRF)
10 June 2026
راولاکوٹ تراڑ کا نوجوان جبران جسے سات جون کی رات سانحہ راولاکوٹ کے دوران فوجیوں نے سر میں گولی ماری تھی۔
ڈی چوک اور مریدکے پہ بھی فوجیوں نے پاکستانیوں کے سروں میں گولیاں ماری گئ تھیں
جھنگ میں دل دہلا دینے والا واقعہ🚨
17 سالہ لڑکی کی اجتماعی زیادتی کے بعد موت
جھنگ میں ایک 17 سالہ فرسٹ ایئر کی طالبہ گھر سے اپنی رول نمبر سلپ لینے نکلی تھی۔ راستے میں ملزمان نے اسے اغوا کر لیا۔
چار ملزمان نے اسے تین دن تک مسلسل اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جب اس کی حالت انتہائی خراب ہو گئی تو اسے نجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں سے بعد میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ ریفر کر دیا گیا۔ وہاں وہ جانبر نہ ہو سکی اور گزشتہ رات ہسپتال میں انتقال کر گئی۔
میں پولیس ڈیپارٹمنٹ، قانونی اداروں، حکام بالا، مریم نواز، وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے اپیل کرتا ہوں کہ ان درندوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور جھنگ چوک میں سر عام پھانسی دی جائے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بنے۔
یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں بنتِ حوا کہیں بھی محفوظ نہیں؟
والدین اور بچیوں کے لیے گزارش:
اپنی 3 سالہ بچی سے لے کر 50 سالہ ماں تک — کسی کو بھی اکیلا نہ چھوڑیں۔
بیٹیوں کو مارشل آرٹ اور سیلف ڈیفنس ضرور سکھائیں۔
بچیوں! گھر سے نکلتے وقت اپنے پاس چاقو ضرور رکھیں۔ چھیڑ چھاڑ کرنے والے کے ہاتھ کاٹنے سے بھی نہ ہچکیں۔
ایسے معاشرے میں اپنا دفاع خود کریں۔
والدین سے خاص گزارش ہے: خدارا بیٹیوں کو کبھی اکیلا گھر سے نہ نکلنے دیں۔
اللہ پاک اس معصوم طالبہ کی مغفرت فرمائے، اس کے لواحقین کو صبر دے اور ان درندوں کو دنیا و آخرت میں شدید سزا دے، انہیں نشانِ عبرت بنائے۔ آمین
Elections in the Pakistani-administered territories of Gilgit-Baltistan and Azad Kashmir - Despite unprecedented violence by the military in Ggit Baltistan, jailed Imran Khan's party led the polls before results were shut down. 2024 being repeated with extra violence.
پہلے بلوچستان، پھر خیبرپختونخوا اور اب کشمیر کے لوگوں پر غداری کا لیبل لگایا جا رہا ہے، سوال یہ ہے کہ اگلی باری کس کی ہوگی؟ مسائل کا حل الزام تراشی اور نفرت نہیں بلکہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور سیاسی بصیرت میں ہے۔
1: 9 مئی قتل عام 2023
2: D چوک قتل عام 2024
3: کشمیر احتجاج قتل عام 2025
4: تحریک لبیک قتل عام مریدکے 2025
5: راولا کوٹ قتل عام 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کے دور میں ہونے والے بڑے قتل عام۔۔۔
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا، نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں صرف ایک شخص عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے۔”
- عمران خان، 4 نومبر 2025
“ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے۔”
- عمران خان، 15 اکتوبر 2025
#ذہنی_مریض
اوورسیز کشمیری کے تاریخی الفاظ!!
انہوں نے قائد اعظم سے لیں فاطمہ جناح تک سب کے ساتھ ظلم کیا!!
پاکستانی عوام ہمارے ساتھ کھڑی ہے اور بھی پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہے!!