With an ambiguity in nature, having many unsolved mysteries in the absurd mind and avoiding the idealistic colors of illusions, Just entered the black and white era of reality. Which is black because of the dark nature of philosophia and white for the gentle rays of wisdom.
باغ سے آیا نیا پنچھی صدا دے گا تمھیں
پھول کھلتے ہوئے خوشبو کا پتا دے گا تمھیں
تم نے دیکھے ہی نہیں در�� و الم کے لشکر
ہجر تو ہجر ہے اندر سے ہلا دے گا تمھیں
لیکن اس پیڑ نے چھاؤں بھی نہیں دی تم کو
تم سمجھتے تھے وہ درویش دعا دے گا تمھیں
اس نے فی الحال سجھائی ہے تمھیں منزلِ جاں
وقت آئے گا تو رستا بھی دکھا دے گا تمھیں
ٹوٹ جائے گا یہ کشکولِ انا بھی اک دن
عشق سچا ہے تو درویش بنا دے گا تمھیں
تم دیے ہو تو نہ مانو مری جاں بات اس کی
طاق میں رکھ کے یہ دل اور ہوا دے گا تمھیں
ابھی پلکوں پہ بٹھایا ہے کہ تم نازک ہو
بوجھ بن جاؤ تو دل پیٹھ پہ لادے گا تمھیں
کون سنتا ہے یہاں شامِ الم کا نوحہ
وقت آئے گا تو چپ رہنا سکھا دے گا تمھیں
تم تھکن کیسے اتارو گے نئے بستر پر
نیند آئے گی تو اک خ��اب جگا دے گا تمھیں
ہار جاؤ گے یہ جیتی ہوئی بازی آرب
مجھ کو لگتا ہے وہ داؤ پہ لگا دے گا تمھیں
آرب ہاشمی
“Even if strikingly, the USA believes that countering America is not the game of few players, the President’s insecurity for capturing the Greenland expresses the threat of Chinese and Russian dominance to the USA.”
Read the complete article. https://t.co/9g9izhUsz8
Disrespect doesnot mean when you abuse or speak low of them but it actually means when you don't do certain acts which needs to be done in respect of someone.
People have realized that concept of democracy is a scam in the practical world. Soon, the world will realize that the concept of modern sovereign nation state system is a greater scam.
مرا معمہ غرض کا ہے ، دسترس کا نہیں
کہ میرا عشق میاں! ایک دو برس کا نہیں
تجھے ملا ہوں تو معلوم یہ ہوا ہے مجھے
یہ کارِ عشق ہر اک خوبرو کے بس کا نہیں
بھلے میں بعد ترے قیدِ بے اماں میں رہوں
معاملہ مری مرضی کا ہے ، قفس کا نہیں
عبداللہ علیؔ ہاشمی
+