“دوسری جنگ عظیم کے دوران جب جرمن طیارے لندن پر بمباری کر رہے تھے تو وزیرِاعظم ونسٹن چرچل نے کہا تھا: "اگر ہماری عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں، تو ہمیں شکست نہیں ہو سکتی۔"
بدقسمتی سے، آج ہمارا عدالتی نظام اس معیار کے بالکل برعکس کھڑا ہے۔ انصاف نہ صرف تاخیر کا شکار ہے، بلکہ دانستہ طور پر دبایا جا رہا ہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر قید میں رکھا گیا ہے۔ میرے وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات نہ ہونے دینا ان جعلی مقدمات کی قلعی کھول دیتا ہے۔
خواتین کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، وہ پوری دنیا کے سامنے پاکستان کا امیج تبا�� کر رہا ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کو مسلسل جیل میں رکھنا، عالیہ حمزہ کی بلاجواز گرفتاری، اور بشریٰ بی بی کو ایسے مقدمے میں سزا دینا جس سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں، اس انتقامی طرز سیاست کا واضح ثبوت ہے۔
عدالتوں کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ مجھے اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ کورٹ پیکنگ کے ذریعے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ:
1. میرے کیسز کی سنوائی ہی نہ ہو تاکہ جھوٹے مقدمات میں مجھے قید رکھا جا سکے۔
2. الیکشن کے بعد بننے والے جعلی حکومتی سیٹ اپ کو قانونی تحفظ دیا جا سکے۔
افغان مہاجرین سے متعلق موجودہ پالیسی ہرگز درست نہیں۔ ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک اور زبردستی ملک بدری کے اقدامات ملک میں مزید بدامنی اور نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ بلوچستان ط��ز کے اغوا کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں جو کہ انتہائی قابل تفشیش ہیں- “فیصلہ سازوں” کی غلط پالیسیوں کے نتائج کا ملبہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت پر آئے گا اس لیے علی امین کو ان معاملات پر ایکشن لینا چاہیے- دھاندلی کے کیسز ایک سال سے لٹکے ہوئے ہیں ، اس حوالے سے جنید اکبر سیاسی اور احتجاجی حکمت عملی بنائیں-
بار کونسلز الیکشن میں انتظار پنجوتھہ انصاف لائیرز فورم کے اپنے امیدوار سامنے لائیں اور ساری پارٹی صرف اپنے امیدواران کو سپورٹ کرے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی وکلاء سے گفتگو (29-04-2025)
I am making absolutely clear to the int community that if India was to be reckless enough to conduct a false flag operation against Pakistan, it would confront a strong national Pakistani resolve & be given a befitting response at all levels of the threat. Make no mistake.
Quran is for eternity with no falsehood and is guidance for the God fearing.
ذلک الکتاب لا ریب فیه هدی للمتقین...
When the Chief of Army Staff General Asim Muneer quotes from it, he brings us to the roots of our beliefs, from where a solution can emerge.
Fake news is indeed dangerous. I wrote an article that was published in Jan 2020. I also spoke on this important issue in the Parliament in my yearly address in Sept 2021 and said:
آج کل دنیا کو فیک نیوز جیسے چیلنجز کا سامنا ہے اور یہ معاشرے میں انتشار اور افراتفری پھیلانے کا باعث ہیں۔ فیک نیوز پھیلانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے اور اللہ تعلیٰ قران میں ہمیں کوئی خبر پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق کرنے کا حکم دیتا ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ۔
Quranic verses are for all of us, not to throw in each other's faces but for introspection. Are we really practicing what we preach and are we applying it on ourselves?
A woman came to the Prophet Muhammad ﷺ and said: "My child eats too much honey. Please tell him to stop." The prophet asked her to come back after a few days. On her query as to why he told the child to stop after a few days he replied "At that time, I myself was consuming honey. I did not want to tell someone to stop something I had not yet stopped myself."
Wow! The above is Islam in its true spirit.
It is for the government and establishment to lead the way. I personally have tried my best to stay away from false accusations and fake news. May Allah forgive me where I have faltered.
https://t.co/dJti3byveA
My brother Imran Khan has been illegally imprisoned for nearly 2 years now. He is deprived of his two fundamental (and legal) demands. His books and weekly phone calls with his sons.
The courts are helpless. Despite several court orders, the jail authorities pay no need to the judges.
Imran’s access to his party members has been blocked for past 5 months.
The lists for lawyers, party members and family are submitted to jail authorities, as per orders of the Chief Justice of Islamabad High Court and his 3 member bench. The jail authorities seem to be under no obligation to comply with court orders.
Gradually they have isolated the former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan from all the people whom he asks to meet.
We can rightly assume that whoever is allowed to enter Adiala Jail is with approval of those who control the prison?
I would like to request party members to show solidarity with Imran Khan.
1) Anyone who is NOT on the list Imran Khan has approved, should not go to Adiala Jail.
2) All critical decisions for KP Govt should be put on hold until
Imran Khan is released.
We must not normalise his imprisonment. We demand FREEDOM FOR IMRAN KHAN.
When the radical left can’t win via democratic vote, they abuse the legal system to jail their opponents.
This is their standard playbook throughout the world.
@elonmusk Pakistan has been under undeclared military martial law for the past 3 years.
Former PM of Pakistan Imran Khan has been in illegal detention for the past 605 days.
The puppet govt of the military is has destroyed the stability in Pakistan.
#FreeImranKhan#ReleaseImrankhan
If Hamas had killed 7 Israelis inside of Israel this week, it would be one of the biggest stories in the world, & all over the US media.
But Israel killed 7 HUNDRED Palestinians this week, including almost 200 children, & yet there's little outrage from our politicians or media.
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو:
“اس ملک کی حقیقی آزادی کی خاطر ہم آخر تک لڑیں گے۔
اڈیالہ جیل کو ایک کرنل غیر قانونی طور پر کنٹرول کیے ہوئے ہے جو بالکل غیر قانونی ہے۔ جیل مینول کے مطابق جیل اتھارٹی انچارج ہے لیکن کرنل قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے سب کچھ قابو کیے ہوئے ہے۔ میری اہلیہ سے میری ملاقات جیل مینول میں اجازت کے باوجود بار بار رکوائی جا رہی ہے۔ یہ تیسری دفعہ ہے کہ میری ملاقات بشری بی بی سے نہیں کروائی گئی۔ عدالت کے احکامات کے باوجود مجھے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔میری سیاسی لوگوں سے بھی ملاقات نہیں کروائی جاتی، دور دراز سے لوگ مجھ سے ملاقات کے لیے آتے ہیں ان کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے لیکن ان کو اجازت نہیں دی جاتی۔ میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ کرنے کا مقصد مجھ پر اور میری اہلیہ پر دباؤ بڑھانا ہے لیکن ہم ٹوٹنے والے نہیں ہیں!!
انسانی حقوق سے متعلق ہماری پٹیشنز ابھی تک لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس باقر نجفی، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر التواء ہیں جن پر اب تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ملک میں چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہے، غیر قانونی چھاپے مارے جا رہے ہیں ہمیں ایک جلسہ یا کنونشن تک کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آئین ہمیں یہ حق دیتا ہے کہ ہم جلسے کریں لیکن ہم سے ہمارے آئینی حقوق چھینے جا رہے ہیں۔ ملک میں ہر طرف انسانی حقوق پامال ہیں اور اندھیروں کا دور دورہ ہے۔
پاکستان کو کرکٹ کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملتی آئی ہے مگر اب اس شعبے کی بھی منظور نظر افراد کی بھرتیاں کر کے تباہی کر دی گئی ہے۔ محسن نقوی کی ساکھ کیا ہے؟ سوائے اس کے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کا ٹاؤٹ ہے۔ اس نے کرکٹ کی تباہی کر دی ہے۔ ��رکٹ کے حوالے سے پورا نظام چیئرمین کے زیر سایہ ہوتا ہے، محسن نقوی کے پاس کرکٹ کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں ہے۔ کسی بھی باؤلر کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلتا ہو تاکہ اس میں stamina موجود ہو مگر یہاں ٹیم میں ایسی سلیکشن کی گئی ہے جس میں کھلاڑیوں نے ایک ٹیسٹ میچ تک نہیں کھیلا۔ جب میں وزیراعظم تھا تو رمیز راجہ کو چیئرمین بنایا تھا جو کرکٹ کا کھلاڑی اور تجربہ کار تھا۔
محسن نقوی کو پہلے نگران وزیراعلٰی لگایا گیا اس کے دور میں جس طرح انسانی حقوق کی پامالی ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی۔ آٹھ فروری کو ملک کا سب سے بڑا فراڈ ہوا تب بھی یہی نگران وزیراعلٰی تھا اور اس کی سرپرستی میں پنجاب میں انتخابی فراڈ ہوا۔ اب یہ وزیر داخلہ ہے اور پاکستان میں امن و امان کے حالات خراب ہیں یہ شخص ہر شعبے میں ناکام ہے۔ محسن نقوی آصف زرداری کو اپنا آئیڈیل مانتا ہے وہی آصف زرداری جس کے مسٹر ٹین پرسنٹ کے قصے پوری دنیا میں مشہور ہیں جس شخص کا آئیڈیل آصف زرداری جیسا شخص ہو اس کی کارکردگی کیا ہی ہو سکتی ہے۔
میرے مقرر کردہ پارٹی عہدیداران ہی پارٹی پالیسی دینے کے مجاز ہیں-
پارٹی ڈسپلن کی بہت اہمیت ہے- جنگ باہر والوں کے خلاف ہوتی ہے اپنے لوگوں کے خلاف بات کر کے اور اصل موضوعات سے توجہ ہٹا کر دوسری جماعتوں کا ایجنڈا پروان چڑھتا ہے۔ میرے بار بار منع کرنے کے باوجود شیر افضل مروت بیانات دینے سے نہیں رکا اسی لیے اس کو پارٹی سے نکالا گیا ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے نام تیسرا کھلا خط:
میں اپنی ذات کے لیے کوئی ڈیل یا اپنی جماعت کے لیے کسی سے کوئی رعایت نہیں مانگ رہا- بطور سابق وزیراعظم اور محب وطن پاکستانی مجھے صرف اپنی فوج کی ساکھ کی بحالی اور وطن عزیز کا مفاد مقصود ہے۔ اس امر کے باوجود کہ فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اورروزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کے باعث عوام اور فوج کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہے۔
میں آئی ایس پی آر سے کہتا ہوں کہ جھوٹا بیانیہ نہ دیا کریں۔ بار بار یہ کہنا کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی، قوم کی عقل کی توہین ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں کوئی چیز نہیں چھپ سکتی، ملک کا بچہ بچہ واقف ہے کہ آرمی چیف ہی اس ملک کا نظام چلاتے ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی ہو یا اراکین پارلیمینٹ کی خرید و فروخت، عدلیہ کی تباہی ہو یا عوامی رائے دہی پر قدغن کے کالے قانون، ناصرف ہماری باشعور قوم بلکہ عالمی برادری کو بھی معلوم ہے کہ اس کے پیچھے کون سے "نامعلوم” ہاتھ کارفرما ہیں۔ لہذا میری ان سے گزارش ہے کہ غلط بیانی سے گریز کیا کریں کیونکہ یہ صرف من حیث الادارہ فوج کی بدنامی کا سبب بنتی ہ��۔
میں پانچ نکات پر روشنی ڈالوں گا جس کی وجہ سے پاکستان آج تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے:
۱- دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے قوم کی جانب سے مسترد شدہ چہروں کو ملک پر مسلط کرنا:
اسٹیبلشمنٹ کی اس پالیسی کی وجہ سے ملک کا شدید نقصان ہو رہا ہے۔ ابھی چند سال قبل تک جن کی سرے محل اور مے فئیر فلیٹس جیسی بے شمار کرپشن کی داستانیں قوم کو سنائی جا رہی تھیں، انہی کے لیے پوری ریاستی مشینری اور ایجینسیز کو استعمال کر کے ناصرف قبل از انتخابات بدترین دھاندلی کی گئی بلکہ پولنگ ڈے اور اس کے بعد بھی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ ڈالا گیا اور ان کو قوم پر مسلط کر دیا گیا۔
یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شریف خاندان اور زرداری پر کیسز سیاسی نوعیت کے تھے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دور میں نیب کے کوئی کیسز نہیں بنائے گئے- انٹیلی جنس ایجینسیوں نے انکی کرپشن کے ثبوت اکٹھے کئے- جنرل احتشام ضمیر اور فاروق لغاری نے ان کے اربوں روپے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ڈوزئیر دئیے تھے کہ یہ لوگ کتنے کرپٹ ہیں- نیب تو ہمارے کنٹرول میں بھی نہیں تھا، جنرل باجوہ نیب کو کنٹرول کرتا تھا- انکے خلاف تمام کیسز ہمارے دور سے پہلے بنائے گئے- ہمارے دور میں صرف شہباز شریف کے خلاف مقصود چپڑاسی والا رمضان شوگر مل کیس بنا- اس کیس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ قوم نے دیکھا کہ انھی نیب زدہ چہروں کو ڈیل کی ڈرائی کلین مشین سے گزار کر دوبارہ پاکستان پر مسلط کر دیا گیا۔ نیب ترامیم کے ذریعے این آر او دینے کے اس عمل سے ملکی معیشت کو ۱۱۰۰ ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اس فراڈ کے تانے بانے ملائیں تو تمام کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں ایک ہی ہاتھ کی طرف جاتی ہیں اور اسکا سارا نزلہ فوج پر گر رہا ہے-
۲ - جمہوریت کا خاتمہ:
جمہوریت اخلاقیات پر چلتی ہے- حکومت کے پاس اخلاقی قوت ہو تو ہی جمہوریت چل سکتی ہے- 30 سال لگا کر پاکستان میں رفتہ رفتہ جمہوریت کی کچھ بحالی ہوئی تھی، عدلیہ مسلسل جدوجہد ��ے خودمختار ہوئی تھی اور میڈیا کچھ آزاد ہوا تھا اور ملک بہتری کی طرف جا رہا تھا۔ لیکن پہلے سازش سے ہماری حکومت کو ہٹایا گیا، پھر ناصرف ایک جعلی حکومت کو مسلط کیا گیا بلکہ ان کو دوبارہ ملک پر مسلط کرنے کے لیے آئین توڑا گیا، انتخابات ملتوی کیے گئے، الیکشن سے پہلے ہر حربہ آزمایا گیا، قاضی فائز عیسٰی کے ذریعے ہمارا نشان چھینا گیا، ہمارے ترجیحی امیدواروں کو میدان سے ہٹوایا گیا، حتیٰ کہ الیکشن کمپین تک نہیں کرنے دی گئی- یہ سب کرنے کے باوجود جب الیکشن میں پاکستانی عوام نے ہمیں دو تہائی سے بھی زیادہ نشستوں پر کامیاب کیا تو فارم 47 کے ذریعے رزلٹ تبدیل کر کے صرف 17 سیٹیں جیتنے والی پارٹی کو ملک پر مسلط کر دیا- اور اس انتخابی فراڈ کو چھپائے رکھنے کے لیے اور تحریک انصاف کو کچلنے کی کوشش میں جمہوریت کو مکمل طور پر پاؤں تلے روند دیا گیا ہے۔
الیکشن آڈٹ کے خودمختار ادارے “پتن” کی رپورٹ اس سلسلے میں سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ کیسے اس ملک میں جمہوریت کا نقصان کر کے دھاندلی کے 64 ن��ے طریقے اپنائے گئے۔ میڈیا پر بدترین قدغنیں لگا کر اور انسانی حقوق کو پامال کر کے جمہوریت کے تمام ستونوں کو برباد کر دیا گیا ہے۔ لوگوں کو ان کے نمائندگان چننے کا حق نہیں ہے۔
الغرض جمہوریت کے تمام بنیادی ستون بشمول خودمختار عدلیہ، حق آزادئ رائے، آزاد میڈیا اور انسانی حقوق ختم کر دئیے گئے ہیں۔ اس سب کے پیچھے بنیادی طور پر تحریک انصاف کو کچلنے اور الیکشن ڈاک�� پر پردہ ڈالنے کی قبیح کوشش کارفرما ہے۔
1/3
I am grateful to share that I am drafting the PAKISTAN DEMOCRACY ACT to ban from the United States those in the Pakistan military government responsible for the wrongful persecution and imprisonment of Imran Khan. Thank you!
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Lawyers and Media at Adiala Jail - February 10, 2025
“I applaud the public for their participation in the nationwide protests on February 8th, including in Punjab, Sindh, and Swabi. Despite this era of blatant fascism, people continue to respond to my call, breaking the shackles of fear, proving that the nation is now determined to attain genuine sovereignty at any cost. The fraudulent, subservient government is fearful. Raids were conducted across the country, and individuals were subjected to violence. Under the pretext of cricket, we were denied permission to hold a rally at Minar-e-Pakistan, which clearly indicates the panic and desperation of this worthless government.
My letter to the Army Chief was written with the sincere intentions for the betterment of the country. This is my nation, and I am deeply concerned about its future. I would like to address the DG ISPR and state that the reputation of the military is being completely ruined. While you claim to be uninvolved in politics, every citizen is aware that the country's affairs are being controlled by the Army Chief. Individuals like Mohsin Naqvi, who have never even contested a councilor’s election, have been imposed upon the nation, wielding authority over everything from cricket to internal and external affairs.
Repression and fascism are rampant in the country. The 26th Constitutional Amendment has effectively dismantled the Supreme Court’s independence. Justice Qazi Faez Isa was the most biased and shameless Chief Justice in history, surpassing even Justice Munir in his misdeeds. During his tenure, democracy was trampled upon and human rights were grossly violated, yet instead of taking action against this injustice, he facilitated every illegal move. Rule of law and human rights have been severely compromised. Sham elections were carried out and the people were deprived of their mandate. The Chief Election Commissioner and Qazi Faez Isa served as facilitators of the establishment, and in the process, betrayed their offices and the nation. As a result, a forged parliament, a fraudulent prime minister, and a phony president have been installed.
What Qazi Faez Isa was being used for is now being done by the Constitutional Bench. The country has been reduced to a banana republic. Judges are supposed to hear both sides of an argument, but, one-sided decisions are being handed down here.
I would like to send a special message to Justice Yahya Afridi: Given the state of law and human rights in the country, you should take a stand against this injustice and become an honorable part of history, rather than playing a disgraceful role like Qazi Faez Isa.
Voices of media and social media have been silenced through the draconian amendments to the PECA law. State of the internet in the country is evident to all. The economy has suffered a loss of $1.7 billion. The country is experiencing a rapid brain drain, with 1.7 million people having moved abroad. Economic devastation and unemployment have left the entire nation distressed.
We demanded commissions be formed to investigate May 9th (2023) and November 26th (2024) because we knew that negotiations were a mere facade. Forming a commission on the events of February 8th (2024) was way out of their league. Had their intentions been sincere, they would have established commissions on May 9th and November 26th to uncover the truth, as these were matters related to human rights violations that required immediate action. However, nothing was done. The establishment murdered unarmed civilians on November 26th when they ordered opening fire on them. 1/2
A year ago, Pakistan’s PTI, cut down to size, not allowed to directly field candidates & deprived of the use of its electoral symbol, fielded independents that won the most seats, defeating the military-sponsored parties.
One of the biggest electoral feats in Pakistan’s history.
میں نے پہلے خط میں جن 6 نکات کی نشاندہی کی ہے ان پر عوامی رائے لی جائے تو 90 فیصد عوام میری حمایت کریں گے۔ عمران خان کا آرمی چیف کے نام دوسرا خط https://t.co/vX3atfjzuF