وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات پر ممبر صوبائی اسمبلی و ڈیڈک چیئرمین ضلع خیبر عبدالغنی آفریدی نے قوم کمرخیل کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔
ان منصوبوں میں سڑکوں کی تعمیر، سولر سسٹم کی تنصیب، واٹر سپلائی اسکیمز، پلوں (بریجز) کی تعمیر سمیت دیگر فلاحی اقدامات شامل ہیں۔ اس موقع پر سابق امیدوار و سیاسی و سماجی شخصیت حاجی گل غفور آفریدی، پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما، مختلف محکموں کے افسران، اور کثیر تعداد میں مقامی مشران و عمائدین بھی موجود تھے۔
قوم کمرخیل کے مقامی مشران نے عبدالغنی آفریدی کا پرتپاک استقبال کیا اور علاقے میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں کے آغاز پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عبدالغنی آفریدی نے کہا کہ قوم کمرخیل میں جاری ترق��اتی کاموں پر تیزی سے کام جاری ہے اور 77 سالوں سے محروم اس علاقے میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کمرخیل میں تقریباً ڈیڑ�� ارب روپے کے ترقیاتی کام زور و شور سے جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمرخیل ایک پسماندہ علاقہ ہے، تاہم انتخابات کے دوران عوام سے کیے گئے تمام وعدے ہر صورت پورے کیے جائیں گے اور علاقے کی محرومیوں کا خاتمہ ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے گا۔@SohailAfridiISF
پاکستان کے خلاف کسی بھی ملک کی طرف سے کوئی اشتعال انگیزی یا جارحیت ہوتی ہے تو بغیر کسی خوف اور ڈر کے ہم پاکستان کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائینگے۔ یہ صرف حکومت خیبر پختونخوا نہیں بلکہ ہر پاکستانی اپنا قومی فریضہ سمجھتا ہے۔ اندرونی اختلاف اور غلط پالیسیوں پر تنقید کے باوجود بیرونی سازشوں یا جارحیت میں ہم اپنے ملک اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے رہینگے۔
وفاقی نمائندوں سے میں نے اپنی آخری ملاقات میں عمران خان صاحب کی دی گئی ہدایات کو آن ریکارڈ لایا تھا۔
”اب افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے تین فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی عوام، دوسری افغان حکومت، اور تیسری افغانستان کی عوام- ان تین فریقین کی مدد کے بغیر کوئی کامیاب آپریشن یا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔ “عمران خان
”تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہییں۔ افغانستان سے کشیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔ “عمران خان
عمران خان صاحب کے ان ہدایات کے تناظر میں، میں نے وفاقی نمائندوں کو نیشنل جرگہ بنانے کا مشورہ دیا جس میں صوبائی و وفاقی حکومت کے نمائندے، قبائلی مشران اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مشران شامل ہو۔ یہی واحد راستہ ہے جس سے م��ائل بہترین انداز میں حل ہونگے۔ جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہونا چاہیے۔ جنگ سے مسائل بڑھتے ہیں کم نہیں ہوتے۔
@jawadahmadone عمران خان کی مخالفت صرف تم جیسے کنجر نما انسان ہی کرتے ہیں باقی سارا پاکستان کپتان کیساتھ کھڑا تھا، کھڑا ہے اور لھڑے رہینگے۔ انشاءاللہ
#جلسہ_تو_ہوگا
@SaeedGhani1 یہ منافقت بھری استقبال تھی جو میڈیا میں آنکھوں میں دھول جھانکنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ کل رات جو ہوا ایک منتخب وزیراعلی کیساتھ وہ تاریخ یاد رکھیں گی۔
#جلسہ_تو_ہوگا
@iqrarulhassan ایک ناکام مہرے کو میدان میں اُتارنے کی کوشش کی جارہی ہے جو پاکستانی عوام بری طرح سے ریکیجٹ کرینگے جیسا کہ وہ دوسرے کنجر جواد کو کیا ہوا ہے۔ انشاءاللہ
#جلسہ_تو_ہوگا
حیدرآباد سے واپسی پر میرے اور میری ٹیم کے تمام راستے بند کردیے گئے ہیں۔ پچھلے ۴ گھنٹوں سے مختلف راستے تبدیل کر چکا ہوں۔ ابھی 4:23 پر سُنسان سڑک پر آکر کراچی کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔ سندھ حکومت میرے ساتھ ساتھ میری ٹیم کی زندگی کے ساتھ ��ھی کھیل رہی ہے۔
جو روایات ایک صوبے کے وزیراعلی کے ساتھ دوسرے صوبوں میں بنائی جا رہی ہے یہ مستقبل قریب میں نقصاندہ ثابت ہوگی۔ پاکستان ہم سب کا ہے۔ اس میں نفرتوں کو اتنا مت پھیلائیں جس سے پھر واپسی ممکن نا ہو۔ جعلی جمہوری قوتیں اس میں کوئی کثر بھی نہیں چوڑ رہی ہے۔ یہ انتہائی شرمناک ہے۔
“خیبرپختونخوا کے حالات کے تناظر میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی ناگزیر تھی اور یہ ایک آئینی عمل ہے جو اس ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ہوتا آیا ہے اور اس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیئے تاکہ یہ عمل جلد از جلد مکمل ہو۔ اگر کسی نے اس میں مداخلت کی کوشش کی تو بھرپور احتجاج ہو گا۔
سہیل آفریدی کا انتخاب زمانہ طالب علمی سے ان کے آئی ایس ایف اور تحریک انصاف کے نظرئیے سے وابستگی کی وجہ سے کیا۔ یہ فیصلہ تحریک انصاف کی الیکٹیبلز کی جگہ گراس روٹ ورکرز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کے بیانیے کو بھی تقویت بخشتا ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کو بعض حلقے میرے خاندان کے افراد سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیاسی ہے، جس پر میرے خاندان کا کوئی فرد کسی بھی طرح سے اثر انداز نہیں ہوا۔ میرے خاندان کے کسی فرد کا میرے سیاسی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
علی امین میرے پرانے اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں لیکن وہ تنازعات کی زد میں ہیں۔ یہ تنازعات عاصم منیر کی کسی جامع سیاسی حکمت عملی اپنائے بغیر خالی گولہ بارود سے دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنے کی پالیسی کے باعث پیدا ہوا- 2025 دہشتگری کے واقعات کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا بدترین سال ہے اور خیبرپختونخوا کا صوبہ مزید اس صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ امید کرتا ہوں کہ نیا وزیراعلیٰ اور اس کی ٹیم دہشتگردی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے حوالے سے عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی اپنائیں گے۔
میں گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی سے نمٹنے کی واضح حکمت عملی بیان کرتا رہا ہوں۔ اسی حکمت عملی کے باعث تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں دہشتگری پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا تھا۔تحریک انصاف نے اس وقت کی پاکستان مخالف اور بھارت نواز اشرف غنی حکومت سے بھی مذاکرات کئے اور قبائلی عوام اور افغان پناہ گزینوں کے معاملات بھی افہام وتفہیم سے طے کئے۔
2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔ لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگرد�� اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟
کبھی یہ کہا جاتا ہے پاکستان میں دہشتگردی کی ذمہ دار افغان حکومت ہے جس کی تائید سے افغانستان میں بسنے والے دہشتگرد پاکستان میں کاروائیاں کرتے ہیں اور کبھی کہا جاتا ہے کہ دہشتگردی دہائیوں سے پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کی وجہ سے ہے۔ یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں کیونکہ لاکھوں افغان مہاجرین کو بے عزت اور رسوا کر کے نکالنے کے باوجود دہشتگردی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ متضاد بیانات عاصم منیر کے مسلط کردہ عوام دشمن نظام کی بد حواسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
دہشتگردی سے نمٹنے کے حوالے سے میرا موقف ہمیشہ سے دوٹوک رہا ہے۔ تاریخ بھی گواہ ہے دہشتگردی کے خلاف اگر باقاعدہ سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کے بجائے صرف طاقت کا استعمال کیا جائے تو ناکامی ہی مقدر بنتی ہے۔ ملٹری آپریشن کے نتیجے میں ہونے والا “کولیٹرل ڈیمج “ عوام کو انتقاماً ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے اور یوں یہ سلسلہ بد سے بدتر ہوتا چلا جاتا ہے۔
سیاسی انتقام میں میرے خلاف مسلسل بے بنیاد مقدمات نہ صرف بنائے جا رہے ہیں بلکہ بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ توشہ خانہ، القادر، سائفر، عدت اور پھر توشہ خانہ سمیت کئی چھوٹے ب��ے مقدمات مجھ پر اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر صرف اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ میں جھک کر حقیقی آزادی کا عزم ترک کر دوں۔ میں اپنی قوم کو پھر سے پیغام دینا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں ان کے سامنے نہ جھکوں گا نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا” -
سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (9 اکتوبر، 2025)