People of Pakistan are not foolish. They understand the reasons behind the closure of motorway. We know it’s not maintainance it’s the dirty politics which forced Motorway Police to lie in public.
“پاڑہ چنار میں دہشتگردی / ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیز جن کا کام شہریوں کو دہشتگردی سے بچانا ہے انہیں مسلسل ڈھائی سال سے سیاسی انتقام لینے پر لگایا گیا ہے ۔ پولیس اور فوجی جوان روزانہ شہید ہو رہے ہیں لیکن سیکیورٹی اداروں کی توجہ تحریک انصاف کو کچلنے پر مرکوز ہے جس کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال روز بروز بگڑتی جا رہی ہے اور دہشتگردی کا مسئلہ دوبارہ سر اٹھا چکا ہے- پولیس کے آئی جیز بھی میرٹ کی بجائے سیاسی بنیادوں پر لگائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پولیسنگ سسٹم بھی تباہ ہو چکا ہے-
میرا اسٹیبلشمنٹ اور جعلی حکومت کو پیغام ہے کہ دہشتگردی کا معاملہ صرف عسکری آپریشنز سے حل ہونے والا نہیں ہے یہ ایک حساس مسئلہ ہے جس کے لیے سیاسی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے، مگر یہاں کسی کے پاس کوئی ایسی موثر حکمت عملی موجود نہیں جس سے اس مسئلے کا خاتمہ کیا جا سکے۔ جعلی حکومت کی نا اہلی اس معاملے بھی سر چڑھ کر بول رہی ہے۔
سوچنا چاہے کہ جب افغانستان میں پاکستان مخالف حکومت تھی تو اتنی دہشت گردی کیوں نہیں ہو رہی تھی جتنے پچھلے دو سال سے ہو رہی ہے؟ دہشتگردی کے خلاف اور مغربی سرحد کو کنٹرول کرنے کے لیے تحریک انصاف کے پاس پورا ایکشن پلان موجود ہے ۔ اگر ہم حکومت میں دوبارہ آتے ہیں تو اس مسئلے کا حل نکالنا ممکن ہے۔“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں دہشتگردی کے مسئلے پر گفتگو
Former Prime Minister Imran Khan in an interview from 14 years ago, after the 18th constitutional amendment, had highlighted how it is against the very spirit of democracy and an attack on the independence of judiciary if govt/politicians appoint judges.
What he said back then rings true and is very pertinent even today as the same characters are again trying to make the judiciary subservient to the executive.
As he rightly asks:
"Collective wisdom or collective interest? Self interest?”
The nation knows that they have done this draconian 26th amendment for their own political interests, not for Pakistan or democracy.
ذاتی طور پرمیری رائے پہلے دن سے یہی رہی ہے کہ فیصلہ سڑکوں پر ہی ہونا ہے۔ خان صاحب میری رائے سےاس حد تک اتفاق کرتے تھے کہ انہوں نے اسے آخری آپشن رکھا ہوا تھا اور اس لیے گذشتہ ایک سال میں جتنی مرتبہ ان سے اجازت چاہی جواب یہی آیا کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔
خان صاحب کی جانب سے پارٹی کو دی جانے والی انسٹرکشنز کی ایک کاپی مجھے موصول ہوتی ہے جن میں جو نکات (for action) یعنی میرے سے متعلقہ ہوتے ہیں ان پر میں عملدرآمد کو یقینی بناتا ہوں اور جو (for information) ہوتے ہیں ان کا ریکارڈ رکھتا ہوں۔ ان کی آخری انسٹرکشنز (for information) کے مطابق ۴ اکتوبر کا احتجاج جاری رکھنا تھا (جس کے لیے مجھ سے درکار ڈیٹا اور اپنے تجربے کی بنیاد پر ضروری ہدایات میں نے پارٹی کو فراہم کردیں تھیں)۔ احتجاج کے حوالے سے آگے کی حکمتِ عملی کا فیصلہ کرنے کا اختیار خان صاحب نے سیاسی کمیٹی کو دیا تھا۔ سیاسی کمیٹی نے کن عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے احتجاج ختم کیا یہ وہ بہتر جانتے ہوں گے، میں اگرچہ اس فیصلے سے قطعی متفق نہیں لیکن میں گراؤنڈ پر موجود نہیں اور آخری فیصلے کااختیار ان کا تھا۔
آگے کیا کرنا چاہیے؟ آپ کی طرح میری رائےبھی یہی ہے کہ اب واپسی کا آپشن ذہن سے نکال کر سڑکوں پر نکلنا چاہیے اور یہی رائے�� تفصیلی لائحہ عمل کے ساتھ، میں قیادت کو بھی پہنچا چکا ہوں ابھی بھی اور تب بھی جب عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک خبریں موصول ہورہی تھیں۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات مناسب وقت پر بیان کروں گا۔
مجھے یقین ہے کہ قیادت کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ وقت تیزی سے نکلا جارہا ہے اور وہ تمام تر زمینی حقائق کا جائزہ لے کر جلد ہمیں اپنے فیصلے سے آگاہ کرے گی۔ میں جہاں آپ کے جذبات کی قدر کرتا ہوں اور آپ کے غصے کو جائز سمجھتا ہوں، اور یہ رائے بھی رکھتا ہوں کہ جیسے کہ خان صاحب کرتے آئے ہیں، بہت سے فیصلوں پر آپ کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے تھا۔ وہاں اس بات پر بھی متفق ہوں کہ اس ملک میں جس ننگی فسطائیت کا راج ہے، آئین اور قانون نام کی کوئی شے باقی نہیں، وہاں یہ فیصلہ جو نا صرف اس ۲۷ سالہ جدوجہد کا تعین کریگا بلکہ اس کا ڈائریکٹ اثر عمران خان کے زندگی پر پڑیگا بہت ذمہ داری اور مکمل تیاری کے ��عد اناؤنس کیا جانا چاہیے۔
آخری فیصلہ بہرحال سڑکوں پر ہی ہونا ہے اور لازم ہے کہ جلد ہو۔