ایسی طاقت اور ایسا اختیار کیا کسی کو ملا۔ جس کو جب چاہا اٹھا لو۔ میڈیا میں کسی نے اگر مثبت تنقید بھی کر دی تو نوکری سے نکال دو۔ ارشد شریف کو گولی مار دو۔ کاشف عباسی حبیب اکرم مطیع اللہ جان سمیت درجنوں کو عبرت کی بنا دو۔ پارلیمان تو گھر کی لونڈی ہے اور پیپلز پارٹی تو پتہ نہی کیا ہے۔ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ عدلیہ اک مزاق ہے۔ پھر ان کو کون روکتا تھا ملک سنوارنے میں۔ بچے کو سمجھ آ گئ ہے کہ یہ مسئلے کا حل نہی بلکہ اصلی مسلہ ہیں۔ یہ ہی وہ پاور لابی، اشرافیہ گھٹ جوڑ ہے جن کے لیے تبدیلی کرنا اپنی جڑیں کاٹنا ہے۔ ان عطار کے لونڈوں سے اگر آپ دوا مانگ رہے ہیں تو میر کی طرح سادہ نہی بلکہ -اب میں کیا کہوں۔ لاہوری زبان کے کافی الفاظ یاد آتے ہیں۔ بس سمجھ جائیں۔
تو پھر آپ کو عمران خان کی حکومت گرانے کی جلدی کیوں تھی۔ ان کو بھی وقت پورا کر لینے دیتے ۔ تب تو یہ بیانیہ تھا کہ ہم آ کر چیزیں ٹھیک کر لیں گے۔ جعلی مینڈیٹ اور اسٹیبلشمنٹ کی لامتناہی اسپورٹ کے باوجود زیرو کارکردگی بلکہ منفی کارکردگی۔
جتنا مرضی وقت دیں اب لوگ باہر نہیں نکلیں گے کیونکہ لوگ عمران خان کے لیئے باہر نکلتے تھے اور اب انہیں لگتا ہے کہ ان میں سے کوئی عمران خان کو رہائی نہیں دلوا سکتا۔ کوئی کہ رہا ہے بس دے دو ، کوئی کہ رہا ہے وقت دے دو - یہ سب سکول کے بچوں والے بہانے ہیں جو استاد کے آگے ہوم ورک نہ کرنے پر کیئے جاتے تھے۔
آج دوبارہ میرے 26 نومبر کے کیس کی تاریخ تھی۔۔۔۔۔۔
مجھے اویس یونس نے بولا تھا کہ مجھے پارٹی کی جانب سے وکیل دیا جائے گا
لیکن مجھے دوبارہ سے بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔۔۔۔۔
جج بول رہے کہ وکیل کدھر ہے
تو طوری وکیل نے بولا کہ ہم نہیں کر رہے اس کا کیس اس نے پچھلی بار vlog کیا تھا
میں نے vlog میں سب سچ بولا تھا
اللّٰہ سب دیکھ رہا ہے
میرے ساتھ جھوٹ بولا گیا
مجھے وکیل کا بول کر وکیل فراہم نہیں کیا گیا ہے
جج کو بول دیا ہے کہ ہم وکیل افورڈ نہیں کر سکتے
جج نے بولا کہ آپ کو سرکاری وکیل دے دیتے ہیں
مجھے کمپرومائز قیادت پر تنقید کرنے کی سزا مل رہی ہے
4 کیسز ہیں میرے اوپر اور سب کیسز کے لیے اپنا وکیل کرنا ہے۔
جج نے فیور کرتے ہوئے اگلی تاریخ تک وکیل کرنا کا وقت دے دیا ہے۔۔۔۔۔۔
میں نے جج صاحب کو بولا تھا کہ میں تیار ہوں سرکاری وکیل کے لیے
دن 11:20 تک پی ٹی آئی والوں نے وکیل فراہم نہیں کیا۔۔۔۔
اب میں پرائیویٹ وکیل کروں گا اور ان پر کوئی بھروسہ نہیں رہا ہے۔۔۔۔
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
پیارے مزمل۔
آپکو میجر صاحب نے ایک بار پھر استعمال کر لیا۔
میجر صاحب کی نظر یہ تصویر۔ میرے امریکہ آنے سے چند دن پہلے: عمران خان کے گھر میں ملاقات کے بعد کی تصویر۔
ویسے امریکہ آنے سے ایک رات پہلے انہی کے گھر میں رات 12:30am سے تقریبا رات 2 بجے تک میری اور خان صاحب کی ون آن ون ملاقات ہوئی تھی۔ جس میں بہت سارے میر صادق اور میر جعفروں کا زکر اور notes exchange ہوئے تھے۔ تب تک خان صاحب کو بہت سوں کی حقیقت کا پتہ چل چکا تھا۔ اس آخری میٹنگ کی تصاویر بھی موجود ہیں۔ چاہیئے ہوئیں تو بتا دیجیے گا۔
رہی بات شہزاد اکبر کی تو انہوں نے کیوں استعفی دیا تھا اس بات کا نہ آپکو علم ہے نہ ہو سکتا ہے۔ اس کا علم صرف دو لوگوں کو تھا ایک پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور دوسرا شہباز گل۔ آپ پارٹی پوزیشن میں بہت جونئیر تھے۔ آپکے سامنے انکو کب ہٹایا گیا۔ آپکا وزیر اعظم آفس سے تو کوئی دور دور تک لینا دینا نہیں تھا۔ عمران خان گرفتار ہونے سے ایک دن پہلے تک شہزاد اکبر سے رابطے میں تھے۔
چلیں آپکا یہ مسلہ تو حل کر دیا۔ ویسے یہ نان ایشو تھا۔
اصل بات خان کی رہائی اور علاج ہے۔ تو جب تک یہ مسلہ حل نہیں ہوتا۔ آپ نے بجٹ صرف مختصر مدت کے لئے پاس کروانا ہے۔ اور سرپلس بجٹ پاس نہیں کروانا۔ اور دوسرا KP کے لوگوں کا پیسہ جنرلز کی جیب میں نہیں ڈالنا۔
PTI leadership has requested opposition leader Mehmood Khan Achakzai that, if there is a time frame on the gathering outside Adiala Jail on Tuesday, they can mobilize 10,000 people. We welcome this proposal and have accepted their request.
On Tuesday, 16 June, we will gather outside Adiala Jail from 3:00 PM to 7:00 PM.
A strong gathering of 10,000 people outside Adiala should create the necessary pressure to end Imran Khan’s prolonged isolation and ensure that his eye condition is properly examined and treated at Shifa International Hospital, Islamabad, in the presence of his family and personal physician.
This is a humanitarian and legal demand. The basic rights of a former Prime Minister and political prisoner must be respected.
ہم تباہ ہونے جا رہے ہیں بھوک اور افلاس ہمارے سر پر آ چکی۔ کیونکہ بھارت ہمارا پانی بند کر رہا ہے۔ وہ یہ اتنی تیزی سے کرنے جا رہے کہ ہمیں اس کا احساس بھی نہی۔ سندھ اور جہلم تو چھوڑیں وہ عین فصل کے موقع پر چناب راوی اور ستلج۔ میں پانی روک لیں گیں۔ بھارت یہ کھیل شروع کر چکا۔ اب جہازوں سے زیادہ جنگ پانی کی ہو گی۔ کیا ہمارے ہاں اس پر سوچ بھی رہا ہے۔ بھارت کا سب سے بڑا منصوبہ چناب پر شروع ہو چکا۔ چار سال میں وہ ایک سو پچاس ملین کیوبک فیٹ پانی بیاس میں ڈال سکتے ہیں۔ اور اگلے دس سال میں سارا چناب بیاس ستلج میں چلا جائے گا۔ یہ پاکستان کی موت ہے۔ اور ہمیں اس کا نہ احساس ہے اور نہ ہم اس پر بحث کر رہے ہیں۔ ہم کشمیریوں اور جی بی والوں کو ٹھوکنے میں اتنے مصروف ہیں کہ ہمیں احساس ہی نہی کہ آگے آبی جنگ آ رہی ہے۔اس کا سدباب اب دیامر بھاشا ڈیم ہو سکتا ہے مگر وہاں ہم نے اس کی فنڈنگ اک چوتھائی کر دی ہے۔ کیونکہ حکومت کے الے تللے کم نہی ہو سکتے۔ ملک جاتا ہے بھاڑ میں۔ کیا کوئ سوچ رہا ہے کہ یہاں گریٹ گیم کیا چل رہی ہے۔ یا تب ہوش آئے گی جب سارا پاکستان پانی کے بغیر بھوکا مر جائے گا۔ لڑتے رہو اور مرتے رہو۔ قومیں ایسی ہی تباہ ہوتیں ہیں۔
اٹھتر سال کی بد نصیبی نہی۔ پانچ ہزار سال کے غربت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ سات دریاؤں کی دھرتی میں کبھی بھوک ننگ نہی آئ تھی۔ اس کا سہرا موجودہ حکومت کو ہے کہ انہوں نے لہلہاتے کھیت ویران کیے۔ پہلی دفعہ تاریخ میں دیہات میں شہروں سے غربت زیادہ ہوئ۔ انہوں نے انڈسٹری تباہ کی کیونکہ اپنے لگے آئ پی پی کارخانے ان کا نقصان نہ ہو جس سے پوری صنعت بیٹھ گئ۔ ان کے کارخانے بغیر بجلی بنائے منافع کما رہے ہیں جب کہ عام آدمی پس رہا ہے اور صنعت اتنی مہنگی بجلی پر چل نہی سکتی۔ حل ہو نہی سکتا۔ کیونکہ منافع خور حکومت میں ہیں۔ کیسے کاٹے گیں اپنے منافع کو۔ یہ ملک ان سرمایہ کاروں کے ہاتھ گروی ہو چکا۔ کر لو جو کرنا ہے۔ باقی بجٹ سب فراڈ ہے
پانچ بجٹوں میں ایک سو ارب روپئے کے برابر ٹیکس اور قرضے ہتھیا چکے۔ چار سال میں اتنا مال عوام کی ہڈیوں سے نکالا گیا۔ پچھلے چہتر سال میں اس سے تقریبا آدھا بقول عاطف رانا پچپن ہزار ٹیکس لیا گیا۔ کدھر گیا یہ پیسا۔ کیا بنایا اس میں۔ کون کھا گیا یہ پیسا۔ عوام لٹ گئ۔ بجلی سولر سے بناتی ہے۔ پانی خود خریدتی ہے- ہسپتال سکول پرائیویٹ۔ حفاظت کے لئے امیر آدمی چوکیدار رکھتا ہے اور غریب آدمی کتا بھی رکھ پاتا۔ جب سب کچھ خود ہی کرنا ہے تو کیوں چاہئے یہ گورنمنٹ۔ کیوں دیں یہ ٹیکس۔ او بھائ دیتے کیا ہو ہمیں جو ٹیکس پر ٹیکس ٹھوکتے جا رہے ہو۔
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
آج خلیل الرحمان قمر صاحب نے مجھے روتے ہوئے کال کی۔کہنے لگے میں اور میری بیگم رات سے یوں رو رہے ہیں جیسے ہمارے اپنے بچے مر گئے ہوں۔ہم نے سروس کے دوران 6 برس آزادکشمیر میں گزارے۔ کوٹلی میں شہید ہونے والا احسن سلیم میرے دوست کا بیٹا تھا جو آزادکشمیر میں 6 سالہ ملازمت کے دوران بینکنگ سیکٹر میں میرا کولیگ تھا۔جب میں نے تعزیت کے لیے اپنے دوست سلیم کو فون کیا تو اس 66 سالہ بوڑھے نے رو کر مجھے کہا کہ خلیل الرحمان قمر تو نے میرا بیٹا مار دیا ہے۔میں نے بطور پاکستانی اسے کہا کہ ہاں دوست میں بھی تیرے بیٹے کا قاتل ہوں۔میں بطور پاکستانی آپ سب کشمیریوں سے معافی مانگتا ہوں۔
اندھیر نگری چوپٹ راج
نواز شریف سکول آف ایمننس ہوں یا دیگر سکولز کی پرائیوٹائزیشن حکومت اساتذہ کو 15 سے 25 ہزار تنخواہ دے رہی ہے جبکہ صوبے میں خود ہی کم سے کم تنخواہ 40 ہزار مقرر ہے۔ حکومتی وزراء اس دو نمبری کو تقریروں میں ڈیفنڈ بھی کررہے ہیں۔ 15 ہزار والے کا کریڈٹ بھی حکومت لے رہی کہ ہم نے انکو روزگار فراہم کیا ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا الجزیرہ نے نواز شریف کو دنیا کے سامنے ننگا کرکے کتے والی کردی
یاسمین راشد صاحبہ کو کیسے پرایا گیا اور نوازشریف کو کس طرح سے فارم 47 کی لاسٹک کی شلوار پہنائی گئی الجزیرہ نے ثبوتوں کے ساتھ وڈیو چلا دی۔۔
لوگ پتہ نہیں میرے سروے کو کس چیز سے جوڑ رہے ہیں لیکن میرے خیالات آج بھی وہی ہیں جن کی وجہ سے میں نوکری سے نکالا گیا ۔ جب 2018 اور 2024 میں پورے پاکستان کا سروے ہو رہا تھا سب سے ذیادہ پریشن مجھ پر ہی تھا، حبیب اکرم
کیپٹل سمارٹ سٹی کی انتظامیہ نے اس پوسٹ کے بعد مذکورہ اوورسیز پاکستانی کے ساتھ خود رابطہ کیا اور انکی طرف سے جمع کرائی گئی رقم ایک ماہ میں واپس کرنے کے تین چیک ان کے حوالے کر دئیے ہیں ۔تمام لوگوں کا شکریہ جنھوں نے اس معاملہ پر آواز اٹھائی ۔باقی جن افراد کے ساتھ اس قسم کے فراڈ ہوئے ہیں وہ میرے ڈی ایم میں ثبوت کے ساتھ رابطہ کر سکتے ہیں انکے لیئے بھی آواز اٹھائیں گے۔بیورو کریسی کیلئے بھی پیغام ہے کہ وہ پبلک سرونٹس ہیں اور اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور متاثرین کی مدد کرنا انکی بنیادی ذمہ داری ہے۔شکریہ
آج جنگ اخبار میں انصار عباسی صاحب کی خبر لگی ہے جس کی سرخی کچھ یوں ہے
’’ فارم 47 پر PTI کا بیانیہ ناکام، الیکشن ٹریبونلز میں ایک بھی امیدوار کی انتخابی عذرداری کامیاب نہ ہوسکی‘‘
گویا اسلام آباد کے تینوں حلقے، لاہور میں یاسمین راشد اور نواز شریف کا حلقہ، ماڈل ٹاون سے عون چودھری کی جیت سب چونکہ ٹرائیبونل سے درست قرار دے دی گئی ہے اس لیے ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی کا فارم سینتالیس کا بیانیہ جھوٹ پہ مبنی تھا
سبحان اللہ
ویسے آپ کو یاد ہونا چاہیے کہ PTI کی 200 سے زائد درخواستیں طریقہ کار کو بنیاد بنا کر تکنیکی طور پہ مسترد کی گئی ہیں
لیکن آپ کو خبر کی سرخی سے یہ اندازہ تو ہو گیا ہو گیا کہ بیانیہ بنتا کیسے ہے
یہ بھی واضح رہے کہ یہ خبر گلگت بلتستان کے الیکشن سے محض دو دن پہلے چھاپی گئی ہے