حب پولیس نے ہماری پرامن احتجاج پر دھاوا بولتے ہوئے خواتین کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جب ہم نے گرفتاری سے انکار کیا تو پولیس کے ہمراہ سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے احتجاج پر فائرنگ کی، اب تک ہمارے 4 ساتھیوں کو گرفتار کرلیا جاچکا ہے اور پولیس مزید گرفتاریاں کررہی ہے۔
It’s been one year of My father mahmood baloch’s enforced disappearance by security forces
In this harrowing year We lived in the shadow of his absence , waiting for the day he returns - along with the smile,love he left behind in our hearts .
#ReleaseMahmoodBaloch
My comrades have been imprisoned for over two months now, and to silence me, my father has been forcibly disappeared. Today marks the fifty-sixth day of his disappearance, and we still have no news of him.
It has been two months since I’ve been able to return home. Our entire family is being collectively punished, simply because we dared to speak the truth.
We are paying such a heavy price because the state wants to hide the oppression taking place in Balochistan from the eyes of the world. They do not want the truth about Balochistan to be known.
— Dr. Sabiha Baloch
#StopBalochGenocide
A 15-year-old student, Bahram Wahid, was forcibly disappeared by LEAs from Essa Nagri on May 30, 2025. He is a minor. His family is desperately calling for his safe return.
Raise your voice. Demand justice.
#ReleaseBahramWahid#EndEnforcedDisappearances
ماہ جبین بلوچ جو کہ بیسمہ واشک سے تعلق رکھتی ہے کہ بھائی کو 24 مئی کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنا کر لاپتہ کردیا گیا تھا اب ماہ جبین کو گزشتہ شب لاپتہ کیا گیا ہے
میرے بھائی 7سالوں سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں کیا اب انکوں بازیاب کرنے کے بجائے میں اپنی جبری گمشدہ ہونے کا انتظار کروں ؟
ایک بار ایک صحافی نے مجھ سے پوچھا: “پورا پاکستان فوج کے ہاتھوں یرغمال ہے، پھر بلوچ باقی قوموں کے ساتھ مل کر کوئی تحریک کیوں نہیں چلاتے؟”
میں نے جواب دیا:
“جب ہم بلوچ کوئی تحریک شروع کرتے ہیں تو کشتیاں جلا کر نکلتے ہیں۔ ہمارے پاس پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہمارے پیچھے وہ زندگی ہے جو موت سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ ایسی زندگی جہاں روز جینے سے پہلے کئی بار مرن�� پڑتا ہے۔ باقی قوموں کے پاس واپسی کا راستہ ہوتا ہے، اس لیے ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اگر ہم نے سب کے ساتھ مل کر تحریک چلائی، تو جب حالات سخت ہوں گے، باقی سب ہمیں تنہا چھوڑ جائیں گے۔”
ہمارے لیے زندگی کا مطلب ہی کچھ اور ہے۔ صبح اٹھو تو ایسی خبریں سامنے آتی ہیں جو دن بھر کے لیے دل کو سن کر دیتی ہیں۔ ایک معذور بلوچ لڑکی، جو بمشکل ہمت جوڑ کر تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کرتی ہے ،،، اسے آپ روز صبح یونیورسٹی جاتے دیکھیں تو دل دہل جاتا ہے۔ بس تک جانا، کلاسز لینا، اور ہاسٹل واپس آنا ،،،، یہ سب اس کے لیے ایک جنگ ہے۔ اسے تو اس جدوجہد پر تمغہ ملنا چاہیے تھا، مگر وہ جبری طور پر لاپتہ کر دی گئی۔
یہ صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ بلوچوں کی اجتماعی زندگی کی کہانی ہے۔ درد، مزاحمت، اور ایک ایسی بقا کی جنگ جس کا انجام آج بھی دھند میں گم ہے
#StopBalochGenocide
آئی ایس پی آر سمیت ان کی تمام تر مشینری کو صبیحہ کی آنکھیں کافی ہیں۔
ظالموں نے صبیحہ کو جھکانے کی خاطر اس کے ابا کو اغوا نما گرفتار کیا۔ صبیحہ نظریے کی مالک ہے، اس نے یہ کہہ کر ریاستی تمام بیانیے کو ملیامیٹ کردیا؛
یہ قانون نافذ کرنا نہیں، یہ سیاسی بلیک میلنگ ہے۔
جب ر��است کسی آواز کو خاموش کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے، تو وہ اس کی سزا خون کے رشتوں کو دیتی ہے۔
میرے والد اور میرے خاندان کو میری سیاسی جدوجہد کی وجہ سے بارہا ہراساں کیا گیا ہے۔
لیکن فاشزم یہ بھول جاتا ہے: خیالات اُن گھروں میں نہیں رہتے جن پر چھاپے مارے جا سکتے ہیں —
خیالات اُن دلوں میں بستے ہیں جو جھکنے سے انکار کرتے ہیں۔
ہم خاموش نہیں ہوں گے۔
لاجواب، قابل اور نڈر
دی صبیحہ
ماہ جبین، 24 سالہ طلبہ، 29 مئی کو کوئٹہ اسپتال سے اغوا۔
ہم انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں، اور دنیا بھر کے باشعور انسانوں سے اپیل کرتے ہیں
براہِ کرم خاموشی توڑیں، آواز بلند کریں!
بلوچستان میں جاری ظلم،جبری گمشدگیاں، اور ریاستی جبر کے خلاف انسانیت کا ساتھ دیں۔
#StopBalochGenocide
بلوچ سماج کے تمام تر روایات کو پامال کرتے ہوئے ریاستی فورسز اس حد تک نیچے گر رہے ہیں کہ آج ہمارے بہنیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ جہاں تعلیم، پرامن سیاست، یہاں تک زندگی گزارنے کا حق بھی بلوچوں سے چھینا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کی جائیں۔
#ReleaseMahjabeenBaloch
زکریا اسماعیل اور غنی بلوچ کو جبری گمشدہ ہوئے کئی دن گزر چکے ہیں مگر ان کو تاحال کہیں بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، دوسری جانب راڑہ شم میں ریاستی قہر برپا ہے آئے رو�� جبری گمشدہ افراد کو فیک انکاؤنٹرز میں شہید کیا جارہا ہے آواران میں ڈیتھ اسکواڈ دندناتے پھر رہے ہیں