1.چیف جسٹس امین الدین ، 2.جسٹس حسن اظہر رضوی ، 3.جسٹس عامر فاروق ، 4.چیف جسٹس سرفراز ڈوگر ، 5.چیف جسٹس عالیہ نیلم ، 6.اٹارنی جنرل ملک عثمان منصور اعوان ، 7.وزیر قانون اعظم تارڑ ، 8.احسن بھون ، 9.سروپ اعجاز ، 10.فاروق ایچ نائیک ، 11.شیخ آفتاب احمد .... جسٹس محسن کیانی کی ٹرانسفر کے حق میں ووٹ دیا
11 میں سے 5 ووٹ عدلیہ سے ہیں جن سے یہ ٹرانسفر ہوئی ہے
درآمدات کے بل کے مطابق تو ملک میں 50 ہزار میگاواٹ کے برابر سولر بجلی کا سامان آچکا ہے جبکہ حقیقت میں دس بارہ ہزار میگاواٹ سولر بجلی بن رہی ہے۔ اسکا مطلب تو یہ بھی ہے کہ شاید درآمدات میں اوور انوائسنگ کرکے رقم ملک سے باہر بھیجی گئی اور منی لانڈرنگ کی گئی۔ اس سارے معاملہ کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
آصف علی زرداری چین میں ایم او یو پر ایم او یو سائن کررہے ہیں ،
پچھلے چار سال میں اتنے تو مسز ملک نے رشتے نہیں کرائے جتنے شہباز شریف اور زرداری نے بیرونی سرمایہ کاری کے ایم او یو سائن کر مارے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری 54 سال کی کم ترین سطح پر آ چکی ہے
عوام تو سیاسی لیڈران کو شدید برا بھلا کہتے ہیں، منہ پر بھی کہتے ہیں، گاؤں میں ایک بار ایسا واقعہ پیش آیا تھا، سیاسی رہنما نے ہنس کر بات ٹال دی۔ سیاسی لیڈر کا کام بات سننا، ہضم کرنا ہوتا ہے۔ آگے سے ایسے پڑ جانا ہے تو WWE چلے جائیں
بھارت تو خیر خطے میں سب سے آگے ہے، دنیا کی 5ویں بڑی معیشت سے معاشی مقابلہ بنتا ہی نہیں، حیران کن ہے ایران پر 47 سال سے پابندیاں ہیں، وہاں ماہانہ اوسط آمدن پاکستان سے 3 گنا زیادہ ہے
حکومت نے ایک سال میں تقریبا 7 ارب ڈالر آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹ ادا کی. اس حساب سے دس سال میں مجموعی رقم تقریبا 70 ارب ڈالر بنتی ہے۔ ملک کے بیرونی قرضوں کا نصف۔
تاثر دیا جارہا ہے کہ جیسے امریکہ یا اسرائیل نے جیو پر سائبر اٹیک کردیا ہے، اسرائیل یا امریکہ کیوں جیو پر سائبر حملہ کریں گے؟ جیو کی پوری ٹرانسمشن میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کا مکمل موقف دیا جارہا ہے جبکہ پی ٹی آئی یا علامہ راجا ناصر عباس کے بیانات کا مکمل بلیک آوٹ ہے، حالانکہ ان تمام چینلز کو اشتہارات عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے دیے جاتے ہں لیکن یہ عوامی جذبات کی ترجمانی کرنے والے بیانات دکھاتے تک نہیں ہیں۔اس لیے سائبر حملے والی کہانی ایک ڈرامہ ہو سکتی ہے،اس وقت جیو بالکل حکومتی لائن پر چل رہا ہے،اور حکومت وہ ہے جو ٹرمپ کو نوبل پرائز کے لیے نامزد کر چکی ہے۔
رانا ثنا اللہ صاحب نے فرمایا ہے 2 بار۔۔۔ میں فیاض راجہ حلفا کہتا ہوں میری معلومات کے مطابق اپریل 2022 سے جنوری 2026 تک کم و بیش 11 بار عمران خان کو مقتدر حلقوں نے ڈیل کے لئے راضی کرنے کی کوشش کی۔
4 بار نومبر 2022 سے پہلے اور 7 بار نومبر 2022 کے بعد۔ جن میں سے 2 بار فروری 2024 کے الیکشن کے بعد کوشش کی گئی۔ اسی طرف رانا ثنا اللہ نے اشارہ کیا۔
میری معلومات کے مطابق حالیہ جنوری فروری میں یہ ڈیل کے لئے مجموعی طور پر 12 ویں کوشش تھی جبکہ الیکشن کے بعد تیسری مگر عمران خان نے اس بار بھی انکار کردیا۔
ان 12 کوششوں میں سے 4 بار براہ راست جبکہ 8 بار بالواسطہ کوششیں کی گئیں
عمران خان کی فیملی، بشری بی بی کی فیملی، عمران خان کے دوستوں، سابق کھلاڑیوں، ایک ریٹائر جنرل، ایک ریٹائر بیورو کریٹ، ایک صحافی سب کے ذریعے کوشش کی گئی
عمران خان کو یہاں تک کہا گیا کہ آپ یہ شرط یا وہ شرط قبول کرلیں آپ اگلے 1 گھنٹے میں رہا کردیئے جائیں گے
میرے یو ٹیوب چینل کی ٹائم لائن چیک کرلیں میں نے ہر دفعہ یہ خبر دی کہ عمران خان نے "ان" کی ٹرمز پر جیل سے رہائی لینے سے انکار کردیا ہے
خیبرپختونخوا میں گزشتہ 5 روز سے حکومت نہیں ہے
جس کا براہ راست فائدہ بیوروکریسی کو پہنچ رہا ہے
بیوروکریسی جو کچھ کررہی ہے اس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے
صوبائی حکومت خود کو بری الزمہ نہیں سمجھ سکتی
سہیل آفریدی پہ الیکشن کمیشن کے ذریعے اسی طرح دباؤ ڈالا جارہا ہے جہاں سے گنڈاپور کا سافٹ ویئر اپڈیٹ ہوا تھا سہیل آفریدی اگر ڈٹے رہے بے شک نا اہل کردئے جائیں وہ مستقبل کیلئے لیڈر بن جائیں گے وہ نوجوان ہیں نا اہلیاں ختم ہوجایا کرتی ہیں بس کمپرومائز نہ کریں
عمران خان کی ایک آنکھ بینائی تقریبا ختم ہو چکی ہے، اسی بیماری کی وجہ سے دوسری آنکھ بھی ختم ہو سکتی ہے۔ عدالت زبانی آرڈر دے کر جا چکی ہے، حکومت بس کر رہے ہیں، بورڈ بنا دیا ہے اسپتال جائیں گے تک محدود ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جان بوجھ کر سب کیا جا رہا ہے
خیبر پختونخوا خوراک اورایندھن کے اعتبار سے خودکفیل نہیں ہے
ملک بھر سے رابطہ تو کاٹ دیا گیا ہے لیکن صوبے کی ضرورت اب کیسے پوری ہوگی؟
ایک جانب خوراک اور ایندھن کی قلت کا خدشہ ہوگا
دوسری جانب عوام گھبراہٹ کا شکار ہو کر سٹاک کرنا شروع کردینگے
تیسرا تاجر قلت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرینگے اورمنہ مانگے دام لیں گے
حکومت احتجاج کو کامیاب بنانے میں سرگرم ہے
سرکاری مشینری آقائوں کو خوش کرنے میں مگن ہے
نتیجتاً عوام ذلیل و رسوا ہونگے
Pakistan's Supreme Court has ordered a medical review after a report by a court-appointed lawyer revealed severe vision loss suffered by jailed former PM Imran Khan, after authorities allegedly ignored Khan's repeated complaints for 3 months.
🔗: https://t.co/wdo86SElXT
اہم خبر۔۔ کےپی ہاؤس میں مشاورتی اجلاس کےبعد مینا خان آفریدی اور شفیع جان صوابی روانہ ہوچکے ہیں۔ ذرائع کےمطابق صوبے کی تمام تنظیموں کو ہدایات دے دی گئی ہیں، خیبرپختونخوا کے سارے قافلے صوابی میں اکھٹے ہونگے۔ مطالبات منظور نہ ہونےپر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آپشن بھی زیرغور
وہ ایک مولوی کہتا تھا کہ اسے جیل کے ڈاکٹر اور دیگر زرائع سے عمران خان کی ساری خبریں ملتی تھیں اور وہ خود بھی کان لگا کر سنتا رہتا تھا۔ مگر اس نے کبھی عمران خان کی آنکھ کی شدید تکلیف کا زکر تک نہیں کیا۔
Former #Pakistan prime minister #ImranKhan has suffered severe vision loss in prison.
His family and lawyer say he has 15% vision left in his right eye after prison authorities neglected to take action for months.
I have contacted Pakistani officials for comment.