مریم صفدر کے اس بیان کہ مجھے انڈیا سے کوئی خطرہ نہیں مجھے پڑوسی صوبوں سے خطرہ ہے کو انڈین میڈیا نے بھی خوب چلایا نیوز 18 نے لکھا کہ " مریم نے پنجاب کو درپیش سکیورٹی خطرے کا رخ بھارت سے ہٹا کر صوبوں کی جانب موڑ دیا " اس پر مشاہد حسین سید نے کہا کہ یہ انتہائی متعصبانہ بیان ہے جو جہالت کی عکاسی کرتا ہے ! عمر دراز
ہم لوگ اپنا تھوڑا سا نقصان برداشت نہیں کر سکتے ۔
اور ایک یہ بندہ ہے جس کا اربو کا پلازہ اور سیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
لیکن مجال ہے جو اپنے نظریے سے ایک انچ پیچھے ہٹا ہو
سلام ہےاس بندے کو🫡🔥
یہ سب عاصم منیر کے بعد فیصل نصیر کا کیا دھرا ہے
ان کتوں نے عوام کے لیڈر پر قاتلانہ حملہ کروایا
پھر عدالت میں سے اغوا کیا اور پھر الیکشن بھی لوٹا۔ اس سارے کھیل میں عوام سے دشمنی کر لی اور 26 نومبر 24 کو اسلام آباد میں قتل عام بھی کیا
”پنجاب کی جعلی وزیرِ اعلیٰ نے آج سندھیوں بلوچوں اور پختونوں کو دہشتگرد کہا ہے اس نے کہا ہے مجھے تینوں صوبوں سے خطرہ ہے لیکن مجھے انڈیا سے کوئی خطرہ نہیں ہے یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کو کسی بھی وقت دہشتگرد قرار دے کر مروا سکتے ہیں. یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔“
@SohailAfridiISF
پرامن شہریوں کو سندھ پولیس پکڑ رہی ہے 💔
پی ٹی آئی کا جھنڈا چھینا جارہا ہے!
یہ بلورانی پارٹی جو ہمیشہ سے جمہوریت کا ڈرامہ کرتے آئے ہیں, یہ ویڈیو ان صحافیوں کے ہیں جو PPP کو جمہوری پارٹی سمجھتے ہیں!!
بریکنگ — کوئٹہ:
میجر جنرل فیصل نصیر عرف "ڈرٹی ہیری" نے آج سی ایم ہاؤس کوئٹہ کا ذلت آمیز طواف کیا، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے سامنے معافی مانگنے کے لیے رینگتے ہوئے پہنچے۔ بگٹی، جو ہمیشہ سے جرنیلوں کا وفادار درباری ہے، نے میٹنگ کی تصاویر فوری طور پر محسن نقوی کو بھیج دیں — کیونکہ اس سرکس میں جب تک دستاویزی ثبوت نہ ہو، کچھ حقیقت نہیں سمجھا جاتا۔
اس کے فوراً بعد وزارت داخلہ کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق بگٹی اور نقوی نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی — کس چیز پر؟ شاید ایک اور منصوبہ کامیاب ہونے اور ڈرٹی ہیری کے سرنڈر کی وجہ سے خوشیاں منائی گئیں۔
رہا ڈرٹی ہیری؟ وہ اب بھی کوئٹہ میں موجود ہے اور نیکٹا کی تعیناتی پر اب بھی حیران و پریشان ہے۔ لیکن بات صاف ہے: جو آدمی عاصم منیر کی گود میں بیٹھ کر بلند پرواز کرتا رہا، اسے اب کھڑکایا جا رہا ہے اور کوڑے کی طرح باہر پھینکا جا رہا ہے۔ اور جب اس کا زوال آئے گا تو یہ المیہ نہیں ہوگا — یہ دیرینہ حساب ہوگا کیونکہ اللہ کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں۔ وہ اپنی قبر خود کھودے گا اور اس میں ارشد شریف اور لاتعداد بے گناہوں کی روحیں ہوں گی جن کا خون اس کے ہاتھوں پر لگا ہوا ہے۔ وہاں معافی نہیں۔ سودے نہیں۔ صرف حساب کتاب ہوگا انشاءاللہ۔
جو سلوک انہوں نے ایک صوبے کے وزیراعلی کے ساتھ ہمارے ساتھ کیا گیا یہ قطعاً ٹھیک نہیں ہے، جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی ہوئیں ہم شام سے حیدرآباد سے نکلے ان کی کوشش تھی کہ ہم کراچی میں جو لوگ ہمارا انتظار کررہے تھے ہم ان سے نہ مل سکیں۔ سلمان اکرم راجہ
ان پولیس والوں کی قسمت میں ہی یہ زلالت لکھ دیتے ہیں یا تو یہ ہو کہ جھنڈا آہندہ نظر ہی نہ آئے جو کہ ہو ہی نہیں سکتا ، یہی ماں جی پھر یہی جھنڈا اٹھاتے نظراآہیں گیں، تو ہار کیوں نہیں مان سکتے، بے شرم، کبھی طاقت سے بھی کسی کا دل بدلا جاسکا ہے
🚨 بریکنگ: آصف زرداری چند ہی دنوں میں دوبارہ صدارت سنبھالنے والے ہیں — اور فاتح کیطرح واپس پاکستان لوٹنے کی تیاری میں ہیں، جس کی وجہ مژسن نقوی کی ضمانتیں ہیں کہ صوبوں کی کوئی تقسیم نہیں پوگی، اور آصف زرداری کی صدارت کو کوئی خطرہ نہیں۔
دریں اثنا عمران خان نے عاصم منیر کو کوئی بھی این آر او دینے سے صاف انکار کر دیا ہے — کوئی بیک ڈور ڈیل نہیں ہوگی۔
لیکن دھوکہ نہ کھانا: اصل سرکس گوبر خان اور اس کے پی ٹی آئی دھڑے چلا رہے ہیں جو پردے کے پیچھے پارٹی کو اندر سے ہائی جیک کرنے کی مذاکرات میں مصروف ہیں۔
یہ سیاست نہیں — یہ سست رفتار ڈکیتی ہے۔
تفصیلات ولاگ میں۔ لنک کمنٹس میں۔
اور ان جوانوں کی لاشوں کا جلایا بھی گیا
اور یہ ریجنرز اہلک��ر انکے کسی اپنے نے گاڑی کے نیچے دیکر مار ڈالے تھے جس کا الزام تحریک انصاف پر ڈال کر سانحہ 26 نومبر کیا گیا