یہ تحریر لازمی پڑھیں اور بتائیں کہ اس مظلوم کا کیا قصور تھا ۔ اس کے بچوں کا کون وارث ہوگا۔ ریاست پاکستان کا ایک شہری تھا جو اس قدر بھیانک ظلم کا شکار ہوا
ظالم تاجر اور سفاک ملازم نے بھیانک منصوبہ بنا کر غریب کی جان لے لی
سینیئر صحافی فیض اللہ خان کی رپورٹ کے مطابق میر رضا علی خان کی موت سے یکسر الگ اور دلخراش واقعہ کراچی میں مقیم ملتان کے ایک ہاتھ سے معذور مزدور قربان حسین کے ساتھ پیش آیا ہے۔ جو اس کی جان لے گیا مگر وہ زیادہ توجہ حاصل نہ کر سکا کہ کیسے ذیشان ناز نامی تاجر نے مزدور چوک سے کام کے بہانے اٹھانے کے بعد پہلے اسے زہریلی گولیاں دیکر مدہوش کیا پھر گلا گھونٹ کر مارا اور آخر میں لاش جلا ڈالی۔
آخر تاجر ذیشان اختر نے یہ سب کیوں کیا؟ اس کہانی کا پچاس پچپن کروڑ سے کیا ربط تھا؟ آئیے اس قصے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گزشتہ دنوں سرجانی ٹاؤن کراچی میں پولیس کو اطلاع ملتی ہے کہ علاقے میں ایک گاڑی میں آگ لگ گئی ہے اور اندر ڈرائیور بھی موجود ہے۔ پولیس موقع پہ پہنچی تو جھلسی ہوئی لاش اور سلنڈر گاڑی کے اندر موجود تھے۔
پولیس نے معمول کا حادثہ جانا، گاڑی میں موجود وائلٹ، موبائل، چاول کے نمونے اور دیگر اشیاء سے ملنے والی معلومات کے مطابق گاڑی کے مالک اور لاش یعنی کہ ذیشان ناز کی اہلیہ کو اس افسوسناک واقعہ کی اطلاع دی گئی۔
غم میں ڈوبی ذیشان ناز کی اہلیہ اسپتال پہنچی اور تصدیق کی کہ لاش اسی کے شوہر کی ہے کیونکہ کپڑے، گھڑی، موبائل وغیرہ ذیشان ناز کے ہی تھے۔ پولیس کاروائی تقریباً مکمل ہوچکی تھی کہ اس دوران دو ایسے مشکوک واقعات ہوئے۔ جس نے پولیس کی توجہ حاصل کر لی۔
پہلا یہ کہ ذیشان ناز کے بھائیوں نے لاش کو اپنا بھائی قرار دینے سے انکار کر دیا اور دوسرا تبدیل شدہ حلیہ میں آغا خان اسپتال میں معمولی جھلسی ہوئی حالت میں آنیوالا ایک شخص تھا جو اسپتال کے احاطے میں کئی گھنٹے گزار چکا تھا اور اسپتال کی سیکیورٹی میں شامل شخص نے مشکوک شخص کی نشاندہی کی۔ جس پہ ذیشان نے بیوی سے رابطہ کیا اور معاملہ کھل گیا، اس دوران پولیس نے جیو فینسنگ کی تو ایک نمبر مسلسل گاڑی کے اطراف میں نظر آیا۔ یہ نمبر ذیشان کے ملازم مصطفیٰ عرف ضیغم کا تھا جسے پولیس نے دھر لیا۔
دراصل ذیشان پچاس ساٹھ کروڑ کا کاروباری نقصان کرچکا تھا۔ انوسٹر اور قرض خواہ پیچھے تھے اور اس نے ایک دن سمندر میں کود کر جان دینے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے منصوبے پہ عملدرآمد کرتا، اس کے ملازم مصطفیٰ عرف ضیغم نے ایک خوفناک منصوبہ تیار کرکے ذیشان ناز کو انوسٹرز سے بچنے کی ترکیب بتائی۔
منصوبے کیمطابق ستائیس جولائی کی صبح نارتھ کراچی کے مزدور چوک سے ذیشان اور مصطفیٰ نے قربان حسین نامی ایک ہاتھ سے معذور مزدور کو کام کے بہانے اٹھایا۔ نئے کپڑے دئیے اور کھانے پینے میں چاول کو کیڑا لگنے کی بیماری سے بچاؤ کی زھریلی گولیاں ملا کر کھلا دیں۔ مزدور کی حالت غیر ہوئی تو سنسان جگہ لیجا کر دونوں نے اس کا گلہ گھونٹ کر جان سے مار دیا۔
اس کے بعد مزدور کو ذیشان ناز کے کپڑے پہنائے گئے۔ گھڑی کلائی پہ باندھی، موبائل اور وائلٹ وہاں رکھ کر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی اور گاڑی میں سلنڈر اس غرض سے رکھا گیا کہ دھماکے سے نہ صرف گاڑی تباہ ہو بلکہ حادثہ قرار دیکر لاش بھی ناقابلِ شناخت ہوجائے مگر آگ لگاتے وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آکر ذیشان اور مصطفیٰ دونوں جھلس گئے۔
اس افراتفری میں نکلنے کے سبب منصوبہ مکمل طور پہ کامیاب نہ ہو سکا مگر منصوبے کے اگلے حصے کے طور پر بیوی نے قربان حسین کو بطور شوہر شناخت کر لیا مگر آغا اسپتال سے مشکوک شخص کی موجودگی، بھائیوں کے ذیشان ناز کی لاش کی شناخت سے انکار نے کیس کو دوسرا رخ دیدیا اور پولیس نے لاش کا فرانزاک کرایا تو نادرا سے اس کا ریکارڈ میچ ہوگیا۔ یوں گتھی سلجھ گئی اور اب ذیشان ناز اغواء اور مزدور کو جلانے کے مقدمے میں ساتھی سمیت جیل میں بند پڑا ہے۔
قربان حسین ایک محنت کش تھا، جو سویرے سویرے مزدور چوک آکر اپنی فیملی کیلئے روزی روٹی کا بندوبست کیا کرتا اور ہاتھ کی معذوری کو اس نے بھیک کا ذریعہ بھی نہیں بنایا مگر یہ مزدور ظالم اور سفاک ذیشان ناز اور اس کے ملازم کے بھیانک منصوبے میں پھنس کر جان کی بازی ہار گیا۔ اس کی فیملی کیسے اب گزارہ کرے گی؟ اس کی سرکار کو غرض ہے نہ کسی اور کو، کیونکہ قربان حسین کے کیس کو سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پہ وہ کوریج ہی نہیں ملی کہ جس کا وہ مظلوم مستحق تھا۔
آپ پولیس میں ایس پی ہو، اسلام آباد میں تعینات ہوں اور آپ خودکشی کر لیں، آپ سے بڑا بزدل اور احمق کون ہے؟ ۔۔۔ میں نے نہ کبھی کسی قاتل کو بہادر اور سمجھدار سمجھا ہے اور نہ کسی خود کشی کرنے والے کو۔ یہ بزدل اور احمق لوگ ہوتے ہیں جو نہ اپنے غصے پر قابو پا سکتے ئیں اور نہ اپنے مسائل کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
مجھے تو حیرت ہے کہ اتنا بزدل اور ناسمجھ پولیس میں کیسے چلا گیا۔ جو اپنے مسائل حل نہیں کر سکتا وہ دوسروں کے کیسے کرتا ہو گا جو اپنے مصائب کا سامنا نہیں کر سکتا وہ مجرموں کا کیسے کرتا ہو گا۔یقینی طور پرکسی ذہنی مرض کا شکار ہو گا۔
کہتے ہیں حساس دل تھا، حساس دل تھا تو لوگوں کی مدد کرتا۔ مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہوتا۔ جس عہدے پرتھا کسی ظالم سے کڑتے، کسی مظلوم کو انصاف دلاتا مارا جاتا تو حرام موت مرنے کی بجائے شہید کہلاتا۔
مجھے اس پر نہیں، اس کے ماں باپ اور عزیزوں پر ترس آ رہا ہے کہ اس نے ان کی زندگی بھر کی محنت اور امید ختم کر دی۔ مرد کی زندگی پر اس کے خاندان کا حق ہوتا ہے۔ اس نے والدین کی محبت محنت اور سرمایہ ہی ضائع نہیں کیابلکہ ریاست کے وسائل بھی ضائع کئے۔ زندگی قیمتی ہے اس کی قدر کریں، اپنے لئے اپنے پیاروں کے لئے ۔۔۔
اس جیسوں کو ہیرو مت بنائیں، یہ ترس اور رحم کے قابل بھی نہیں ہیں کیونکہ یہ غلط راہ دکھا کر جا رہے ہیں، بُزدلی اور فرار کی۔ لخ لعنت ایخو جیاں دے جمن تے کہ جمن دا کی فائدہ ہویا؟ اسلام ایک بار پھر درست ثابت ہوا جس نے خودکشی کو حرام قرار دیا اور بتایا کہ خودکشی کرنے والا ہمیشہ اسی عمل کو دہراتا اور اذیت پاتا رہے گا۔
آپ نے کبھی قرآن مجید کی آخری دو سورتوں پر غور فرمایا؟……
”سورہ فلق“ میں چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے…اور وہ چاروں بڑی خطرناک، خوفناک اور ہلاکت خیز چیزیں ہیں……
جبکہ ”سورۃ الناس“ میں صرف ایک چیز سے پناہ مانگی گئی ہے…مگر وہ ایک چیز…اپنی تباہی اور ہلاکت میں ۔
👇👇👇
✅ Verifying my account on @sunwaves_token with the nickname: "arahimvr".
👉 Bringing festivals to the next level on the #ION ecosystem with @ice_blockchain.
#SUNWAVES $SW $ICE
🎶 Discover the #SUNWAVES Token and join one of the world's largest electronic music festivals!
Founded in 2007, SUNWAVES has grown into a global sensation, attracting 150,000 participants per edition. 👥
💖 Renowned for its authentic vibes and close-knit community, SUNWAVES offers an unparalleled festival experience.
Now launching its exclusive token on @ice_blockchain! 🚀
📲 Get started today and mine your tokens by downloading the #SW app.
🎶 Discover the #SUNWAVES Token and join one of the world's largest electronic music festivals!
Founded in 2007, SUNWAVES has grown into a global sensation, attracting 150,000 participants per edition. 👥
💖 Renowned for its authentic vibes and close-knit community, SUNWAVES offers an unparalleled festival experience.
Now launching its exclusive token on @ice_blockchain! 🚀
📲 Get started today and mine your tokens by downloading the #SW app.
مذہب کا دھندہ سب سے منافع بخش دھندہ ہے
مریدوں کے چندے سے عطر بیچنے والے بپا جانی نے قربانی کے دو اونٹ خریدے
اونٹوں کو گھمانے نکلے ہیں تو ہائ لکس ڈالے پر
پیچھے چار باڈی گارڈ
چندہ دینے والے غریب شاپر لیکر گھر گھر گوشت مانگیں گے 🤣
حماس کے مجاہدوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اسلام کو مریدوں کے نذرانوں پر عیاشیاں کرنے والے جاہل پیروں ، گدی نشینوں ، جہاد کا ذکر نہ کرنے والے مولویوں ،جہاد چھوڑ کر سیاست کرنے والے ، اور فیشن ایبل نعت خوانوں سے زیادہ اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے والے سرفروش مجاہدوں کی ضرورت ہے۔۔۔`
#غزة_الآن میں ایک باپ #إسرائيل کی بمباری سے تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے میں دبے اپنے بچوں کو آوازیں دے رہا ہے، ملبے کے اندر سے بچوں کی آواز نہیں آئی جس پر توقع کی جا رہی ہے کہ ملبے میں تمام بچے شہید ہو چکے ہیں، #غزة_تزحف_الى_القدس#غزة_تقصف_والأوبرا_تعزف
تلاوت حفاظ بھی کرتےہیں،آجکل ہمارے چیف صاحب بھی یہ آیات تلاوت کرتےہیں لیکن ملبے کے اس ڈھیر پر #غزہ کے اس ننھےمجاہد کی بموں، دھماکوں، شہیدوں کی لاشوں اور زخمیوں کے درمیان ان آیات کی اس قدر دلسوز تلاوت کی تاثیر کچھ اور ہی ہے
تم اسے مار تو سکتے ہو لیکن شکست نہیں دے سکتے
اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اُن بےبس مردوں اور
عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں
کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں
نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی
بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما
(Surah Nisa 75)
Stand up against the tragedy in #Gaza Palestine
Join IMS campaign to Crush Isra-el false propaganda.
Unite for peace!
#IslamicMessagingSystem #FreePalestine #IsraelTerrorists #MuslimIdentity #SahilAdeem #Gazagenocide #Gaza #فلسطین_پکار_رہا_ہے #طوفان_الاقصي_
I still can’t believe someone could stab this precious little boy 26 times. The knife was still in him at the hospital. The monster that murdered him said he’s been watching the news and wanted to eliminate a Palestinian before they grow up. I hold our politicians and media responsible. Wake up. There are hundreds more you are killing. I’m sorry we failed you Wadea.
#WadeaAlFayoume