چکوال کے دوست انور بی بی کا خاندان تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں۔۔!!
انور بی بی کا کہنا ہے کہ وہ تقریبا دس سال کی تھی جب گھر سے بچھڑ گئی تھی۔چکوال سے کراچی مومن آباد شفٹ ہوئے تھے۔ والدہ فوت ہوئی تھی۔بہن بھائی چھوٹے تھے۔کوئی سنبھالنے والا نہیں تھا۔ بڑے بھائی کی شادی ہوگئی تو میں بھائی کےپاس رہتی تھی۔ بھائی کی ڈانٹ سے ڈر کر میں گھر سے نکل کر ٹرین اسٹیشن پہنچ گئی کہ وہاں سے گاوں جاکر پھوپھی کے پاس رہونگی, پھوپھی بہت پیار کرتی تھی۔
لیکن ٹرین نکل گئی تھی اور لوگوں نے کمسنی کی وجہ سے روک لیا کہ غلط ہاتھوں میں چلی جائےگی۔
مجھے پولیس کے حوالے کردیا،پولیس نے مجھے گھر بھیجنے کا کہا لیکن میں نے ان سے کہا کہ بھائی مجھے مارےگا دل میں بھائی کا خوف تھا۔
پولیس نے عارضی طور پر ایک شیلٹر جانے کا کہا میں وہاں جمع ہوگئی۔
تین سال بعد میں شیلٹر سے کسی طرح نکل گئی ایک فیملی نے مجھے رکھ لیا، میری شادی کروادی۔
ابھی میرے بچے ہیں۔شوہر چھوڑ چکا ہے۔
مجھے میرے بھائی اور بہن بہت یاد آتے ہیں۔خدارا کے لئے مجھے اپنوں سے ملائیں
انور بی بی کے والد کا نام غلام رسول ہے،والدہ فاطمہ فوت ہوچکی تھی۔
بھائیوں کے نام عاشق حسین،ساجد حسین،اور عابد حسین اور ایک بہن سمیرا کے نام یاد ہیں۔
دادے کا نام کرم الہی اور چچا نذیر دوسرا حاجی فیض رسول۔
ایڈریس:چکوال،چوا سیدن شاہ، گاؤں ڈنڈوٹ ۔
سال 1997 میں کراچی میں اپنے گھر سے نکلی تھی۔
انور بی بی کی داستان مکمل ہم لکھنے سے فیصل الحال قاصر ہیں۔اللہ کسی دشمن کو بھی اس طرح کے دن نا دکھائے۔
آپ نے اگر کسی بے بس اور مظلوم انسان کی دعا لیکر اپنا بیڑا پار کروانا ہو تو اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اسکے اپنے مل گئے اور وہ ایکسپٹ کرنے کو تیار ہوجائیں تو بہت ساری دعائیں آپکے حق میں کرےگی جو ان شاءاللہ رد نہیں ہونگیں۔
کسی بھی اطلاع کے لیے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں۔
+923162529829
27 june 2026
#waliullahmaroof
پاکستان کی ہمسائیگی
👇👇👇
۱- چائینہ 5000 سالہ تاریخ
۲- افغانستان 5000 سالہ تاریخ
۳- ایران 5000 سالہ تاریخ
۴- بھارت 5000 سالہ تاریخ
اور میرا پاکستان 78 سالہ تاریخ
😂😂😂
یعنی اپنے ایک ہمساۓ کی عمر کا
ابھی ہم نے محض 1 ٪ کراس کیا
یعنی بڈھے کھڑوساں چ ایک نومولد
اب ذرا ہمسائیوں
کیساتھ اپنے معاملات پر مختصر نظر ڈال لیتے ہیں
جب موجودہ چین کی بنیاد رکھی گئی
پاکستان نے چین کی بہت مدد کی
آج چین پاکستان کا بہترین دوست ہے❤️
جب پانچ ہزار سالہ تاریخ رکھنے والے افغانستان پر روس چڑھ آیا
تو 78 سالہ پاکستان نے 40 سال افغانیوں کی نہ صرف جنگ لڑی
بلکہ افغان جنگ میں خود ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کا خون بہا
جانیں قربان کیں
پاکستان 46 سال سے افغانوں کو پناہ دئیے بیٹھا ہے
اور اسوقت افغانوں کی چوتھی نسل پال رہا ہے
مگر طالبان احسان فراموش نمک حرام بیغیرت اور محسن کُش نکلے
یہ لعنتی اُن ہاتھوں کو ہی پڑ گئے
جو انکے مُلک کی حفاظت کیلیے لڑے
جو آجتک اُنہیں پال رہے ہیں
دوسرے پانچ ہزار سالہ تاریخ رکھنے والے ہم سے 6 گنا بڑے ہمساۓ بھارت کے ساتھ 5 جنگیں لڑ چُکا
اور ہمیشہ بھارت کا مُنہہ توڑا✌️
ایک جنگ میں بڑا نقصان اُٹھایا
مگر وہ جنگ نہیں تھی
ہمارے بڑوں کی کُچھ بڑی سیاسی غلطیوں کی وجہ سے
تب دو بھائی اکٹھے رہنے کو تیار نہ تھے
اور ایک بھائی نے بھارت سے مدد مانگی
بھارت نے مدد کی
اور دونوں بھائی علیحدہ ہوگئے
بنگالی بھائی علیحدہ تو ہوا
مگر تمام زندگی بھارت سے چپیڑیں کھاتا رہا
آج تک بنگلہ دیش کی کوئی قابل ذکر فوج نہیں
مکتی باہنی بنانے سے لیکر آج تک
55 سال تک RAW ہی بنگلہ دیش کو ہر طرح سے کنٹرول کرتی آرہی ہے
آج بھی قانونی اور غیر قانونی تقریباً ڈیرھ کروڑ بنگالی بھارت میں رہتا ہے
جن میں سے 30 لاکھ لیگل ورک ویزہ تعلیم کاروبار بغرض علاج وغیرہ بھارت میں ہے
اور ایک کڑور 20 لاکھ بنگالی
بھارت میں لوئر کلاس نوکریاں
دیھاڑی دار مزدور
عورتیں گھروں میں صفائی پوچا
جسم فروشی
اور بھیک مانگنے کا کام کرتیں ہیں
میں👆یہ سب نہ لکھتا
لیکن کُچھ چوتئیے فوراً ڈالر کا حساب کتاب لیکر بیٹھ جاتے ہیں
وہاں ڈالر اتنے کا
یہاں ڈالر اتنے کا
👆اینا ڈالر نال اپنی پین ویاہی😝
ابھی ایک ٹویٹری دوست ڈھاکہ سے ہوکر آۓ ہیں
مجھے اُنکے تھریڈ کا انتظار ہے
دیکھتے ہیں کہ وہ کیا بتاتے ہیں
ورنہ
ان شاء اللہ
میرا بھی ڈھاکہ کی سیر کا پروگرام ہے
اگر گیا
تو پھر میں خود واپس آکر آپکو بتاؤں گا
ویسے نہ بھی جاؤں
تو یوٹیوب بہت کُچھ بتا رہی ہے
کوئی بھی دیکھ سکتا ہے
اور بہت آسانی سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں
کہ پاکستانیوں اور بنگالیوں کے living standards میں کتنا فرق ہے
جانی
پاکستانیوں کا living standerd بنگالیوں سے
اُس سے کہیں زیادہ بہتر ہے
جتنا پاکستانی کرنسی اور بنگالی کرنسی میں ڈالر کا فرق ہے
🤣🤣🤣
اب ہم آجاتے ہیں پانچ ہزار سالہ رکھنے والے بھائی ایران پر
مائی ڈیئر ایران
جب سے آپکے مُلک میں خمینی رجیم آیا
آپکے اور ہمارے تعلقات اتنے اچھے نہیں رہے
جتنا کہ ہونا چاہیے تھے
اسکی واحد وجہ تھی
کہ خمینی صاحب نے شیعت والی اُنگلی
جو دنیا بھر میں صرف مسلمان ممالک میں دینا شروع کی
یہی حرکات آپ نے پاکستان میں بھی شروع کیں
جس سے پاکستان میں فرقہ بازی خونریزی میں تبدیل ہوئی
اور ہزاروں پاکستانیوں کا معصوم خون بہا
کلبھوشن یادیو جیسے بھارتی ایجینٹس آپکا پاسپورٹ لیکر بلوچستان میں دہشت گردی کرنے آتے رہے
دیجیے پاکستان کی کوئی ایسی میثال؟
کہ پاکستان ایران میں دہشت گردی میں ملوث رہا ہو؟
خمینی رجیم سے پہلے پاکستان کے سُنی اور شیعہ مذھبی اختلافات کے باوجود پُرامن زندگی گذار رہے تھے
کیونکہ تب شاہ ایران کی طرف سے ایسی کوئی سپورٹ پاکستانی شیعوں کو میسر نہیں تھی
مگر خمینی ازم کے بعد 50 سال سے یہ معاملات بہت بگڑے
ایران بھائی آپ 👈 قصور وار ہیں
پاکستان کی نسبت آپ بھارت کے بہت زیادہ قریب رہے
آپنے اپنی حالیہ جنگ میں
اپنا دوست بھارت بھی دیکھ لیا
بھارتی آپکے مُلک میں اسرائیلی ایجینٹس کا کردار ادا کرتے ہوۓ
آپ نے خود پکڑے
افغانی شیعہ بھی پکڑے
جس دن اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنا تھا
مودی اسرائیل سے میڈل لے رہا تھا
اور اسرائیل کو اپنا باپ کہہ رہا تھا
خامنہ ای کی تعزیت تک نہ کی
امریکہ نے بھارت گیا ہوا
ایرانی بحری جہاز ٹھوک دیا
بھارت ایک لفظ نہیں بولا
اور آپ نے پاکستان بھی دیکھ لیا
جسطرح آپکی اس جنگ میں
اس کڑے وقت میں
صرف پاکستان آپکے ساتھ کھڑا ہوا
جسطرح پاکستانی سویلین اور فوجی قیادت نے ایران کے لئیے دن رات ایک کئیے
انتھک محنت
جسطرح ہمارا آرمی چیف آپکے مُلک آتا جاتا رہا
جسطرح آپکی ایرانی قیادت کو فول پروف سیکیورٹی پاکستان نے دی+
شہباز شریف نے کہا ہے کہ یہ تضاد نہی چلے گا کہ کچھ ملک تو بلاسٹک میزائل رکھ سکتے ہیں مگر ایران کو بلاسٹک میزائل رکھنے کی اجازت نا ہو
اس کا مطلب پاکستان نے اپنا وزن ایران کے پلڑے میں ڈال دیا ہے کاش ایران نے پاکستان کی طرف سے خفیہ ایٹمی مدد کی قدر کی ہوتی
بالکل ایسا ہی ہے، بطور حوالہ اس ایک کیس کی مثال دے رہا ہوں، یہ امیر کبیر Rapists کیخلاف CCD کو کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے؟
لاہور ماڈل ٹائون میں ایک ماہ قبل گھریلو ملازمہ کے ساتھ ایسا ہی افسوسناک واقعہ ہوا، گھریلو ملازمہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، اسکا اسقاط حمل کروایا گیا اور وہ جان سے گئی۔ ملازمہ نے ویڈیو بیان میں مالک مکان کے بیٹے اور ملازم کو نامزد کیا لیکن چونکہ مالکان کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا اور دبا کر امیر تھے لہذا CCD پاس سے بھی نہیں گزری۔۔۔
ہے ہمت CCD میں یہاں پولیس مقابلے کی؟
ایک بیٹی کو ماں سے ملانے میں مدد کریں۔۔۔!!
اس بہن نے رابطہ کرکے بتایا کہ بھائی آپکی ویڈیوز دیکھ کر میری بیٹی نے مجھے بتایا کہ آپ لوگ بچھڑے ہوئے لوگوں کو ملاتے ہیں۔
مجھے بھی میری ماں اور چھوٹے بھائی سے ملائیں میں مرتے دم تک دعائیں دونگی۔
ہم ان سے تفصیلات پوچھی تو بتایا کہ :
میرے والد بلوچ تھے اور والدہ اردو اسپیکر ،کراچی کے علاقے ملیر 15 میں انکی شادی ہوئی تھی۔
میں پیدا ہوئی میرے بعد ایک بھائی ہوا۔ میں دو سال کی تھی بھائی ایک سال کا تو والدین میں طلاق ہوگئی۔
مجھے والد کے خاندان والوں نے رکھ لیا اور بھائی کو ماں ساتھ لیکر گئی۔
میں نے جب ہوش سنبھالا تو پتہ چلا کہ والدہ نہیں ہے۔والد نشے کا عادی تھا۔ میری عمر 12 سال تھی مجھے **** شہر کے ایک جنگل نما گاوں میں بیس ہزار کے عوض ایک بوڑھے شخص کو دے دیا گیا تھا۔
سال دو ہزار میں مجھے دیا گیا تھا اس وقت میں شاید بارہ سال کی تھی۔
میرا نام شاہدہ پروین ہے والد کا نام عبد الرشید ہے۔
مجھے بتایا گیا تھا کہ والدہ کا نام طلعت فاطمہ تھا اور جو چھوٹا بھائی ماں کے ساتھ تھا اسکا نام جعفر حسین تھا۔
میرے والد یہ بھی کہا کرتے تھے کی میرے نانا نانی یعنی طلعت فاطمہ کے ماں باپ کے نام محمد علی اور بلقیس ہیں۔
مجھے بس اتنا بتایا گیا تھا۔ (یہ بھی ممکن ہے نانا نانی کے نام درست نا ہوں)۔
اسکے علاوہ اس بہن نے اپنی زندگی کی سختیاں جو بیان کیں وہ اللہ کسی کو نا دکھائے۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ ایک بےبس بیٹی کو ماں اور بھائی سے ملانے کے لئے اس پوسٹ کو خوب شئیر کریں۔ان شاءاللہ ایک دکھی خاتون جب ہاتھ اٹھاکر دعا کرےگی تو آسمانوں کو چیر کر فریاد خدا تک پہنچ کر قبول ہوگی۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
24 june 2026
#waliullahmaroof
بابا جی کی فریاد سنیں۔۔۔
بابا جی کا نام منصف ہے۔ راولپنڈی کے بحریہ ٹاؤن میں چوراہے پر اپنے ضعیف ہاتھوں میں پھول لیکر رات دیر تک بیچتے ہیں۔ چند پیسے کماکر اپنے آشیانے جاکر بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔
ہمارے پیج سے جڑے ایک نیک دل انسان کامران سعید صاحب انکی مدد کے بہانے ان سے پھول خریدتے ہیں۔ انکے چہرے پر اداسی دیکھ کر بابا جی سے بات چیت کرنے لگتے ہیں اور انکے دل کا حال پوچھتے ہیں کہ آنکھوں میں چمک نہیں اور چہرہ اداس کیوں ہے؟ تو بابا جی کہتے ہیں "بیٹا میرے دو خوبصورت بچے 2006 سے لاپتہ ہیں انکی جدائی نے مجھے ایسا کردیا ہے"۔
یہ سن کر کامران صاحب اپنے خیالوں میں ہمارا پیج سرچ کرکے کھولتے ہیں اور ہمارے سارے کیسز ذہن میں چلنے لگتے ہیں۔ بابا جی کو امید کی ایک کرن دکھاکر کہتے ہیں کہ آپ ہمیں تفصیل بتائیں ان شاءاللہ بچے مل جائیں گے۔
بابا جی نے بتایا کہ بچوں کے نام محمد یاسر اور وقار ہیں۔ ایک کی عمر سات سال اور ایک کی عمر نو سال تھی۔ انکی تصاویر موجود نہیں ہیں۔ بس میری تصویر لگائیں کیا پتہ وہ میرے چہرے کو دیکھ کر مجھے پہچان لیں اور میری جس ڈانٹ کی وجہ سے گھر سے گئے تھے مجھے دیکھ کر انکا دل نرم ہو اور لوٹ آئیں۔ انکے ایک بھائی کا نام وقاص اور ایک کا نام قیصر ہے۔
اس وقت رہائش ایبٹ آباد کے بیرن گلی محلہ دھب میں ہے۔
مجھے مرنے سے قبل ایک بار بچوں سے ملائیں میرے سارے دکھ ختم ہوجائیں گے۔
بچے شاید ناراض ہوکر کہیں نکل گئے ہوں۔ کسی ڈیرے میں کام کررہے ہونگے یا کسی بٹھے یا شیلٹر میں بند ہوگئے ہونگے۔ ورنہ سات آٹھ سال کے بچے گھر لوٹ سکتے تھے۔
آپ تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ بابا جی کی پوسٹس زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔اگر یہ پوسٹ ان بھائیوں تک پہنچتی ہے تو ان سے گزارش ہے کہ آپکے بابا کے سفید بالوں کا واسطہ لوٹ آو۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
23 june 2026
#waliullahmaroof
سرگودھا کی ایک اور بیٹی 8 روز سے لاپتہ۔۔۔
ننھی پری کے والدین غم سے نڈھال۔۔۔!
سرگودھا کے چک 138 جنوبی کی رہائشی 8 سالہ عروج ولد احمد شیر 15 جون دوپہر 2 بجے اپنے گھر سے لاپتہ ہے۔
عروج نے نیلے رنگ کا ٹراؤزر اور پیلے رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی ہے، 8 روز سے اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔
عروج کے والدین شدید پریشانی اور کرب میں مبتلا ہیں۔ ہر گزرتا لمحہ انہیں صدیوں کے برابر محسوس
ہو رہا ہے۔
اگر کسی نے اس عروج کو کہیں دیکھا ہو یا اس کے بارے میں کوئی بھی معلومات رکھتا ہو تو خدارا فوری طور پر درج ذیل نمبروں پر رابطہ کریں۔
📞 03006072279
📞 03006036730
آپ کی ایک کال، ایک پیغام یا ایک شیئر عروج کو اس کے بے چین والدین کی آغوش تک واپس پہنچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ عروج کو خیر خیریت سے جلد از جلد اپنے والدین سے ملا دے۔ آمین 🤲🏻
سرگودھا کا واقعہ بہت افسوسناک ہے، مگر کیا یہ ایسا پہلا واقعہ ہے یا آخری؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس نوعیت کے بھیانک واقعات برسوں سے ہوتے آ رہے ہیں، لیکن ان کی اصل وجوہات پر سنجیدگی سے بات کم ہی ہوتی ہے۔
ہم معاشرتی خامیوں کو اکثر قالین کے نیچے چھپا دیتے ہیں اور ان کے لیے معذرت خواہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں، یہاں تک کہ وہی آگ ہمارے اپنے گھر تک نہ پہنچ جائے۔
والدین کی تربیت کا کردار بہت اہم ہے۔ ان لڑکوں کی تربیت کس نے کرنی تھی؟ کیا نو عمر بچوں کو بغیر مناسب نگرانی کے دکانوں، بازاروں اور دیگر جگہوں پر بھیج دینا کافی ہے؟ Parenting ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ تعلیم، شعور اور تربیت صرف بچوں کے لیے نہیں بلکہ والدین کے لیے بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
ایسے مسائل کے حل کے لیے سماج میں بنیادی اور انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
آپ کے خیال میں ایسے جرائم کو روکنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟ کیا صرف سخت سزائیں کافی ہیں، یا کچھ مزید کیا جا سکتا ہے؟
میرا گھر ڈھونڈنے میں مدد کریں۔۔!!
اس نوجوان کا نام شان یا شانی ہے۔والد کا نام بشیر یاد ہے۔والدہ کا یاد نہیں ہے۔
شان کا کہنا ہے کہ میں ایک روز گھر سے باہر نکل کر ہوٹل پر بیٹھا تھا۔ گھر جانے کے لئے راستہ بھول گیا۔
ایک شخص مجھے اپنے گھر لےگیا وہاں تین دن تک مجھے رکھا۔
میری تصویریں بنائیں اور پھر مجھے تین روز بعد ملتان کے ایک شیلٹر میں جمع کرادیا۔
ملتان سے پھر مجھے کراچی لایا گیا۔
مجھے اپنا شہر تاندلےوال یا تاندلا یاد ہے (جب ہم نے سرچ کیا تو تاندلیانوالہ میپ پر ملا)۔
تین بھائی اور تین بہنیں تھیں انکے نام مجھے اب یاد نہیں ہیں۔
گھر کے پاس ایک طرف کھیت اور ایک طرف باڑا تھا۔
میں نے ہوش سنبھال کر اپنی فائل نکال کر چیک کی تو اسمیں میرے داخلے کا سال 2006 لکھا تھا۔
میں چاہتا ہوں کہ میرے بھی بہن بھائی ہوں امی ابو ہو۔ میں بھی لاوارث نا کہلاؤں۔
خدارا مجھے میرے پیاروں سے ملائیں۔
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔آپ کا ایک شئیر کسی اداس ماں کو خوشحال بناسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
22 june 2026
#waliullahmaroof
ضلع میانوالی کے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول داودخیل کا یہ ہونہار خصوصی طالب علم اپنی جسمانی معذوری کے باوجود عزم و ہمت کی ایک روشن مثال ہے۔ جس بچے کا قد دو فٹ سے بھی کم ہے، اس نے میٹرک کے امتحان میں 900 نمبر حاصل کیے، ایف ایس سی بھی کامیابی سے پاس کی اور اب مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواہش مند ہے۔
یہ باصلاحیت طالب علم اس بات کا ثبوت ہے کہ کامیابی جسمانی قد سے نہیں بلکہ بلند حوصلوں اور محنت سے حاصل ہوتی ہے۔
ہم وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ اور وزیر تعلیم پنجاب محترم رانا سکندر حیات صاحب سے اپیل کرتے ہیں کہ اس ہونہار بچے اور اس کے والدین سے رابطہ کریں، اس کی حوصلہ افزائی کریں اور اس کی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات حکومتی سطح پر برداشت کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کریں۔
آئیے اس بچے کے روشن مستقبل کے لیے اپنی آواز بلند کریں
@MaryamNSharif@RanaSikandarH
🚨 اطلاعِ گمشدگی
انتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ سہیل خان ولد خیر الرحمن ساکن سمئ، روغانو درہ، واڑی مورخہ 21-06-2026 صبح واڑی سے تیمرگرہ فلائنگ کوچ میں سوار ہو کر روانہ ہوا تھا۔
اطلاعات کے مطابق وہ تیمرگرہ اڈہ پر اترا لیکن تاحال اپنے مدرسہ نہیں پہنچ سکا اور اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
📞 اگر کسی کو اس بچے کے بارے میں معلومات ہوں تو براہِ کرم فوری رابطہ کریں:
03465903714
03451084850
03459294515
🙏 اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ بچہ جلد از جلد خیریت کے ساتھ اپنے گھر پہنچ جائے۔ آمین۔
برائے مہربانی اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
ہزارے کی اس اماں کو آج سے پچاس سال قبل کراچی لیاری سے اغ*واء کیا گیا تھا
انکو گھر میں پیار سے ڈوڈو کہہ کر پکارتے تھے،والد کا نام کالو خان مشہور تھا۔
اماں بتاتی ہے کہ انکی عمر دس سال تھی کراچی کے علاقے لیاری میں ایک گندے نالے پر انکا گھر تھا۔ چاکیواڑہ کا نام انکو یاد ہے۔
انکے گھر میں حمیدہ نامی ایک خاتون آئی اپنے ساتھ چاول لائی تھی۔ گھر میں کوئی نہیں تھا۔ میری بھابھی برتن دھونے میں مصروف تھی۔ خاتون چاول لائی میں نے کھائے، پھر مجھے اس نے کہا چلو بیٹا کھڈا مارکیٹ تمہارے ابو کی دوکان پر چلتے ہیں! میں ساتھ ساتھ گئی تو دو گلیوں بعد مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا اور میں چاول کھانے کے بعد سے نیم بےہوش تھی۔
مجھے کراچی سے گھنٹوں دور لیکر گئے۔میں دن رات روتی تھی کہ گھر جاونگی وہ مجھے مارتے ڈراتے اور راتوں کو سلانے کے لئے دو دو نیند کی گولیاں کھلاتے۔ دس سال تک مجھے انہوں نے اپنے پاس رکھا مجھ سے دریا/سمندر کنارے مزدوری کروائے۔ میں کراچی میں تھی لیکن ہمارا اصل علاقہ ہزارہ ہے۔
میں مچھلی اور جھینگے کی بدبو میں بالکل برداشت نہیں کرسکتی تھی لیکن مجھ سے زبردستی انکی صفائی کام کرواتے تھے۔
دس سال بعد مجھے کسی اور جگہ بیچ دیا گیا۔پھر میری شادی ہوئی اور آج تک اپنوں کو یاد کرکے روتی رہتی ہوں۔
ڈوڈو نے اپنے والد کا نام نام کالو خان سے مشہور بتایا،والدہ گلاب جان،تین بھائی امین،شفیع اور جاوید تھے۔
ایک بہن تھی جسکو پیار سے جانے بولتے تھے۔
والد کالو خان کھڈا مارکیٹ میں مٹھائی کی ایک دوکان میں کام کرتے تھے۔مٹھائیوں کا کام جانتے تھے۔ مٹھائی کی دوکان ذاتی تھی یا کسی اور کی یاد نہیں۔
شاید انکا گھر چاکیواڑہ میں تھا۔
اماں کہتی ہے کہ ہم جب کراچی آرہے تھے تو مجھے یاد ہے ہزارے میں ہمارا گاؤں تھا۔(ہری پور کا نام بھی اماں نے لیا)۔ہم اپنے گھر سے پیدل چل کر بیڑ/ نامی ایک علاقے میں آتے تھے۔یہاں ہوٹل میں کھانا کھاکر بس میں کراچی کے لئے بیٹھ جاتے۔ بیڑ علاقے میں اماں کو لکڑی کا ایک پل یاد ہے۔ وہ پل ہم نے گوگل سے نکال کر دکھایا تو اماں کی آواز بند ہوگئی اور چہرے پر موبائل کی روشنی سے آنسوؤں کی لڑی چمکتی نظر آئی۔
کراچی چاکیواڑہ یا اطراف میں نالے پر اگر رہائش تھی تو وہ تمام گھر شاید سرکار نے خالی کروادئیے ہیں۔بیڑ میں انکا خاندان ملنا ممکن ہے۔
ماموں کا نام علی الزمان تھا اور ان کے بیٹوں کے نام فرمان،زعفران ہیں۔
چچا کا نام خانو تھا۔ خانو کے بیٹے کا نام عظیم اور مسکین ہے۔
بھانجے کا نام نواز، مشتاق اور ریاض۔۔
لیاری میں نالے کے پاس انکی پھوپھی بھی رہتی تھی۔جنکا نام زرینہ تھا۔ زرینہ کے دو بیٹے تھے ممتاز اور سلیم۔ ممتاز چونے کے کھلونے بناکر کھڈا مارکیٹ میں بیچتا تھا۔
اماں کو جب بیڑ میں لکڑی کا پل موبائل میں دکھایا تو بیٹے سے کہنے لگی یہ تصویر اپنے موبائل میں رکھو میں صبح شام دیکھتی رہونگی میرے دل تو سکون ملتا رہےگا۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا ماں جی کو اپنوں سے ملانے میں ہمارا ساتھ دیں۔انکے گاؤں یا کراچی سے ضرور انکا خاندان مل سکتا ہے۔آپ کا ایک شئیر آپکو بےشمار دعاؤں کا حقدار بناسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
21 june 2026
#waliullahmaroof
آج 24 سال گزر جانے کے باوجود ثناء اب بھی اپنے اپنوں کی منتظر ہے..!
یہ بچی ثناء دختر ملک ہے۔
سال 2002 میں جب اس کی عمر صرف 4 سال تھی یہ لاہور سے لاوارث حالت میں ملی تھی
آئیے، ثناء کو اس کے گھر پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اس پوسٹ کو اتنا شیئر کریں کہ یہ ثناء کے ورثاء اور اہلِ خانہ تک پہنچ جائے۔ شاید آپ کی ایک شیئر کسی بچھڑے ہوئے خاندان کو دوبارہ ملا دے۔
اگر کسی کو ثناء کے خاندان یا ورثاء کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو براہِ کرم فوری اطلاع دیں۔
📞 رابطہ: 03090000015
case ID:329352881
#MeraPyara #ReuniteFamilies #MissingPersons #ShareForCause