When your house is burning, you don’t run away—you fight the fire. He chose the fire, not the easy way out. True courage is standing with the truth, no matter the cost. 🕯️🔥 #ImranKhan
بھارت نے پاکستان فوج کو بدنام کرنے کیلیے 24 کے الیکشن میں دھاندلی کروائی. را نے ججوں سے زبردستی فیصلے کروائے جس سے وطن عزیز میں انصاف کا نظام درہم برہم ہو گیا. آج بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کیوجہ سے پاکستان میں ان چور اچکوں کی حکومت ہے جو الیکشن میں 17 سیٹیں بھی نہیں جیتے تھے
پرامن مزاحمت ہمارا آئینی حق :
آرٹیکل 15: نقل و حرکت اور نقل مکانی کی آزادی کا حق۔
آرٹیکل 16: پرامن اجتماع اور احتجاج کا حق۔
آرٹیکل 17: سیاسی جماعت بنانے اور اس کا حصہ بننے کا آئینی حق۔
آرٹیکل 19: اظہارِ رائے اور موقف پیش کرنے کی آزادی۔
آرٹیکل 25: قانون کی نظر میں مساوات اور برابر کے سلوک کا حق۔
اگر ہمارے پرامن احتجاج پر ظلم یا تشدد کیا گیا، تو ہم خوفزدہ ہونے کے بجائے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کریں گے اور جیلیں بھر دیں گے۔ ہم کسی فاشسٹ حکومت کو تسلیم نہیں کرتے!
#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت
اپنے خوف کا یہ عالم ہے کہ سامنے تک آنے سے ڈرتا ہے۔ ایک طرف پارلیمنٹ اور حکومت ، دوسری طرف عدلیہ، تیسری جانب سرکاری مشینری، چوتھی جانب میڈیا۔
اس کے اوپر حفاظتی حصار کے اوپر حفاظتی حصار کے گھونگھٹ۔
کل کا بچہ سہیل آفریدی عوام میں جا کھڑا ہوتا ہے، اتنی ہمت تو کرے۔
چور بہادر نہیں ہوتے، فتنہ ہوتے ہیں۔
گورنر راج لگاؤں گا
سو ارب ڈالر لاؤں گا
ایک سال میں معیشت ٹھیک کردوں گا
ریڈ لائن لگاؤں گا
زرعی انقلاب برپا کردوں گا
جی ہاں ناظرین یہ سارے مصرعے اسی بے وزن شاعر کے ہیں۔
یہ ہے وہ مکمل وڈیو جس میں ایک ماں سہیل آفریدی کے پاس فریاد لے کر آئ کہ میرا بیٹا لاپتہ ہے اور میری کہیں سنوائی نہیں ہو رہی،سہیل آفریدی موقع پر متعلقہ پولیس افسران اور اپنے سی ایس او کو ہدایت جاری کی کہ فلفور اس کیس پر کام کریں اور بچہ ڈھونڈ کر مجھے رپورٹ کریں،شکریہ وزیراعلی خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی 🖤
What terrifies the Field Marshal about Imran Khan is ‘legitimacy’.
Imran is the only truly legitimate representative of the people of Pakistan. The Field Marshal does not even represent his own institution: he retired a few days before his appointment as army chief and has been acting out of that insecurity ever since.
It is as simple as that.
What is happening in Pakistan?
A widening crackdown has seen political figures and activists detained, while journalists describe intimidation and threats.
I spoke to Imran Khan adviser @sayedzbukhari and Pakistani journalist @TahaSSiddiqui about the state of play - and where Pakistan goes from here.
Watch now ▶️ https://t.co/ogn7k2LTqV
#Pakistan
Imran Khan: Political Prisoner? 3 Years in Detention
Shahzad Akbar & Prof. Gavin Evans discuss Imran Khan’s detention, politics, democracy and the rule of law on Sharp Edge.
https://t.co/4uabXj7XzR
🚨🚨 لانگ مارچ سے متعلق پارٹی گروپ میں کیا گیا وزیراعلی سہیل آفریدی کا میسیج لیک:
ایک کروڑ بزدل کبھی کوئی جنگ نہیں جیت سکتے، مگر چند باہمت اور ثابت قدم لوگ بھی تاریخ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہماری جدوجہد کسی فرد یا جماعت کے مفاد کے لیے نہیں، بلکہ انصاف کے حصول، عدلیہ کی آزادی، آزاد صحافت، جمہوریت کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لیے ہے۔ یہی وہ حقیقی آزادی کا خواب ہے جس کی بات ہمارے قائد عمران خان صاحب کرتے رہے ہیں۔
جو شخص اس نظریے اور جدوجہد کی ذمہ داری اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتا، اسے پورا حق ہے کہ خاموشی سے الگ ہو جائے۔ ہمیں کسی سے گلہ یا شکوہ نہیں۔ ہر شخص اپنے ضمیر اور اپنے فیصلے کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے آزاد ہے۔
ہماری صفوں میں اختلافِ رائے کی گنجائش ہے، مگر اصولوں سے دستبرداری کی نہیں۔ وقت کا فیصلہ ہمیشہ کردار، ثابت قدمی اور آئین و قانون کے ساتھ وفاداری سے ہوتا ہے۔
اس بار بھی فیصلہ آئین، قانون اور عوامی آواز کے دائرے میں ہوگا۔ ہم پُرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد کے ذریعے اپنے حق اور اپنے اصولوں کے لیے کھڑے رہیں گے۔
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے۔
🇵🇰 Imran Khan's 3 sisters have been on hunger strike for 48 hours, his cousin says, confirming reports that had been going around.
Qasim Zaman says the sisters, Aleema Khan, Uzma Khan and Noreen Niazi, started the strike over how they were treated while in detention.
He showed up at Adiala Jail near Islamabad yesterday to see Imran, but was turned away.
So were Imran's lawyers and his party's interim chairman, who waited outside for over 2 hours before giving up.
One of his lawyers says the jail keeps ignoring orders from Pakistan's top courts, and the courts seem powerless to do anything about it.
Is Pakistan's rule of law just for show if even court orders get shrugged off at the prison gate?
Source: Dawn / Writer: Julie
Military leadership signs an arms deal with a company linked to an IDF veteran & gets photographed with him. Shehbaz Sharif meets with Rothschild & Co. But somehow, “Yahudi agent” is still Imran Khan.
Make it make sense.
جب بنگلہ دیش پاکستان سے الگ ہو رہا تھا اس وقت بھی کامران شاہد،حسن ایوب منیب فاروق جیسے ٹاؤٹس یحییٰ کے پیغامات کچھ اسطرح پہنچاتے تھے :
“پاکستان “complete control” میں ہے”(یعنی مجیب کو پاش پاش کر دیا جائے گا) سب کچھ کنٹرول میں ہے، اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں۔
پھر تاریخ نے سب کا غرور خاک میں ملا دیا۔
اور اپنے وقت کی طاقتور ترین اسٹیبلشمنٹ نے مجیب الرحمن کو پاش پاش کرنے کے چکر میں آدھا ملک گنوا دیا ۔ اور گنوایا بھی اس ذلت کے ساتھ کے نہ صرف آدھا ملک گنوایا بلکہ پتلونیں بھی اتارنی پڑیں ۔ اتنی شرمناک شکست ۔
کامران شاہد جیسے تاریخ کا سبق بتاتے ہوئے بھی ڈنڈی مارتے ہیں، یہ بات درست ہے کہ تاریخ میں نام رہ جاتا ہے، مگر وہ یہ بتانا بھول گیا کہ تاریخ میں نام دو طرح سے لکھا جاتا ہے۔
ایک سنہرے حروف سے، دوسرا کالی سیاہی سے۔ یہ پتلونیں اتارنے کی وہی کالی سیاہی ہے جو آج تک تاریخ میں بدنما سیاہ داغ کی طرح زندہ ہے، جس کا نام لیتے ہوئے بھی جرنیل کتراتے ہیں اور اپنی یہ گھٹیا تاریخ چھپاتے ہیں۔ یحییٰ خان اور 1971 کی شکست اسی سیاہ باب کا نام ہے۔ ملک ٹوٹ گیا، اقتدار گیا، فوج نے ہتھیار ڈالے اور قیادت کو ذلت آمیز انجام دیکھنا پڑا۔
جبکہ لیاقت علی خان کا نام آج بھی سنہرے حروف میں لکھا جاتاہے ۔
ایک طرف عاصم منیر جی ایچ کیو میں ایک ایسا شخص جو IDF کا ممبر رہا ہے جو ڈرون بنانے والی کمپنی کاCo-owner بھی
ہے۔اس کمپنی سے عاصم منیر نے کیا خفیہ معاہدے کئیے کوئی نہیں جانتا؟!
دوسری طرف عاصم منیر کا اردلی فارم 47 کا جعلی وزیراعظم یہودی خاندان Rothschild & Co. سے ملاقات کر رہا ہے۔ آخر پاکستان کا وزیراعظم اس یہودی خاندان کے ساتھ کب شرائط پر میٹنگ کر رہا ہے ؟!
ایک ذہینی مریض اور دوسرا اسکا لیلا کیا ڈالروں کے لیے پاکستان کی خودمختاری کا سودا کرنے جارہے ؟!
There are two possible scenarios for Sohail Afridi now and both are wins:
- he marches and is removed, big political win.
- he marches and gets relief for Khan, even bigger win.
آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟
بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟
ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانی@SalooDurrani بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش ہم نہ دیکھتے۔
ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔
انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔
ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔
جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔
وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔
انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘
وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔
یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔
سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔
تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔
عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔
عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔
مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اس کے بارے میں 2011 میں گفتگو۔ 👇