حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
باب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے
ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی
اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے
تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقی
اور تری بزم سے اب کوئی اٹھا چاہتا ہے
#پروین_شاکر#خان_کی_زندگی_خطرے_میں
تاج محل
یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل
یہ منقش در و دیوار یہ م��راب یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
#ساحر_لدھیانوی
#Urdupoetry #urdu #Nazm
یہ ٹھہرتی نہیں آنکھیں ، جاناں !
تیری تصویر کی زیبائی پر
رشک آیا ہے بہت حُسن کو بھی
قامتِ عشق کی رعنائی پر
سطح سے دیکھ کے اندازے لگیں
آنکھ جاتی نہیں گہرائی پر
ذکر آئے گا جہاں بھونروں کا
بات ہوگی مرے ہرجائی پر
خود کو خوشبو کے حوالے کردیں
پُھول کی طرزپذیرائی پر
پروین شاکر
چاہے کچھ بھی ہو سوالات نہ کرنا ان سے
میرے بارے میں کوئی بات نہ کرنا ان سے
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی
لوگ بےوجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے
شاعر : کفیل آزر امروہوی
انتخاب : ثناء مرتضٰی
معاملہ دل کا ہو اور جگر چُوک جائیں۔۔وہ شعر پڑھا کہ سیماب کا شعر لوگوں ک�� دماغ سے محو ہوگیا۔
زندگانی کو مرے عقدہء مشکل نہ بنا
برق رکھ دے مرے سینے میں، مگر دل نہ بنا.
ہندوستان میں ایک جگہ مشاعرہ تھا۔
ردیف دیا گیا:
"دل بنا دیا"
اب شعراء کو اس پر شعر کہنا تھے۔
سب سے پہلے حیدر دہلوی نے اس ردیف کو یوں استعمال کیا:
اک دل پہ ختم قدرتِ تخلیق ہوگئی
سب کچھ بنا دیا جو مِرا دل بنا دیا
خاکِ پروانہ،رگِ گل،عرقِ شبنم سے
اُس نے ترکیب تو سوچی تھی مگر دل نہ بنا
شعر ایسا ہوا کہ شور مچ گیا کہ اس سے بہتر کوئی کیا قافیہ باندھے گا؟۔ سب کی نظریں جگر پر جمی ہوئی تھیں۔