بریکنگ ۔ بریکنگ۔بریکنگ۔۔
مولانا نے فوج سے معافی کا مطالبہ کر دیا۔۔۔
میرا مطالبہ ہے کہ جس فوج اور جس جنرل نے جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے اسکو معافی مانگنی ہوگی۔۔
،۔۔مولانا فضل الرحمان
آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں اپنے شہداء کی کیا قدر و قیمت ہے۔
پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے، اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں، ان کا دائرۂ کار متعین ہے، ان کا دائرۂ اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرۂ کار اور اس دائرۂ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں:
پالیسی ساز لوگو! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا۔
یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا۔ اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے۔ یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے۔ قصور والی بات قصوروار ٹھہری، اور عجیب بات بتاؤں، وکلاء حضرات! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اڑتالیس گھنٹے بعد ان کو پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔
مجھے افسوس یہ ہے کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک جملے کی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اور شہداء کے خاندانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف ہم ہیں، الحمد للہ، صرف ہم ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ جلسوں میں یہ بات کہی ہے: "اگر میری فوج پر خدا سخت وقت نہ لائے، میرے ملک پر خدا برا وقت نہ لائے، ورنہ جب میری فوج اپنے ملک کا دفاع کرے گی تو میرے یہ فقیر ان شاء اللہ اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ مورچوں میں کھڑے ہوں گے۔" آپ نے کبھی ہمارے اس جذبے کو سراہا؟ اور قربانیاں ہیں، اگر پاکستان کا ایک سپاہی ملک کے لیے قربانی دیتا ہے، اور اسی لیے وہ فوج میں بھرتی ہوا ہے، تو جمعیۃ علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، پھر میری جمعیۃ علماء اسلام کی صفوں کے اندر سے بڑے اکابر سے لے کر عام علماء اور طلبہ تک دو سو سے زیادہ شہداء ہم نے کیوں دیے؟ کس کے لیے دیے؟
تم نے اس قسم کی حرکت کر کے جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اور اب اس کا ردِعمل آئے گا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم نے ترتیب بنا لی ہے۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا۔ چاروں صوبوں میں وہاں کے عوام اور کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں سے بھی اور کنونشنوں سے بھی خطاب کروں گا۔ میں اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔
تم نے میرے علماء کو شہید کیا۔ علماء کرام شہید ہوئے۔ میرے استاد اور میرے شیخ مولانا حسن جان شہید ہو گئے۔ میرے والد صاحب کے شاگردِ رشید، وزیرستان کے استاد الاساتذہ مولانا نور محمد شہید ہو گئے۔ مولانا معراج الدین، جو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دایاں بازو تھے، تم نے وہ بازو توڑ دیا۔ اور میں نے باجوڑ میں ایک جلسے کے ایک سو جنازے اٹھائے ہیں، میں روزانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ رویا ہوں۔ کبھی یاد ہے کہ تم میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو؟
مجھے کہتے ہو تم نے غلط بات کی ہے؟ میں کہتا ہوں تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔
معافی کہتے ہو فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے تو مجھے ضرور رائے دیں۔ آپ قانون کے ماہر ہیں، میری رہنمائی کریں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس فوج نے، جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے، اس کو معافی مانگنی ہوگی۔ ہم نے ایسی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔
بھروسا تم نے توڑا تھا، مگر خود کو سزا یوں دی
کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اُس پر
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب
#مرد_آہن_مولانا
#پروپیگنڈہ_برگیڈ
#چوکیدار_وڑگیا
#BroadcastMaulanaNow
#LawyersStandWithMaulana
ہم کوئی مدّاح سرا مولوی نہیں ہیں کہ ہمیں سامنے بٹھاکر آپ کی تعریف کروائی جائے
ہم سرعام آپ کے خلاف بات کریں گے
ہم سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ ہم خوشامد کریں گے 💪🔥
#مولانا_سے_معافی_مانگو
سرکاری ملا جو رو دھو کر تنخواہیں حلال کر رہے ہیں، انکو اور انکے مالکان تک پہنچادو، 🔥💪
شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل صاحب
#مولانا_سے_معافی_مانگو
ایرانی ملیشیا پاسداران انقلاب کی جانب سے قطری جہاز پر حملہ بلاجواز اور جارحیت ہے۔
جو ایرانی عوام کی لاشوں سے مال بنانے اقتدار مظبوط کرنے اور خطے میں متواتر جنگی ہیجان برپا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔
دانا و حکیم شخصیت کی سرپرستی اس پورے نظام کے لیے مزید قوت اور توازن کا باعث ہے۔
دعا ہے کہ یہ تعلیمی ترقی کا سلسلہ خیر و اعتدال کے ساتھ آگے بڑھتا رہے اور امت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتا رہے
شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ تعالیٰ کا بطور صدر اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کا بطور ناظمِ اعلی بلا مقابلہ انتخاب درحقیقت انتخاب سے بڑھ کر ایک فطری امر ہے۔اسی تسلسل میں قائدِ ملتِ اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم جیسی صاحبِ بصیرت، ۔+
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا۔
(سنن ابی داؤد، ۴۶۵۸)
صرف لائسنس معطل نہیں، چینل کو مکمل طور پر بند کیا جائے۔ تاکہ آئندہ کسی چینل کو جرات نہ ہو سکے اور ان بے ایمانوں پر ہمیشہ کیلئے پابندی لگائی جائے۔ متنازعہ پروگرام کے پروڈیوسر ڈائریکٹر اور جتنے بھی لوگ ملوث ہیں ان سب کے خلاف قانونی کاروائی کر کے سخت سزا دی جائے،