انٹر نیشنل میڈیا میں اہم شخصیات کی طرف سے عمران خان کے حق میں آتھنے والی آوازوں سےحکمرانوں کی پریشانی میں اضافہ ہ��تا چلا جا رہا ہے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندھی کے بعد حکومت نے لگڑ بگڑ ( چمچے کرچوں ) کی ڈیوٹیاں لگا دیں ۔
��ان صاحب کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے معاملات کو نارملائز کردیا گیا ہے۔۔۔
اس طرح آواز نہیں اٹھائی جارہی جس طرح اٹھانی چاہیے تھی۔۔۔
ہمیں ہر روز آواز اٹھانی چاہیے۔۔۔۔
خاموشی نقصان دہ ہوسکتی ہے۔۔۔۔
عمران خان، بشریٰ بی بی اور کوٹ لکھپت جیل میں زیرِ حراست پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ حکومتی رویہ غیر انسانی اور قابلِ مذمت ہے۔ ��اکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری اس وقت شدید علیل ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں مناسب علاج معالجے، ضروری طبی سہولیات اور بروقت طبی نگہداشت فراہم نہیں کی جا رہی۔ کسی بھی زیرِ حراست شخص کو علاج معالجے کی بنیادی سہولیات سے محروم کرنا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ جیل میں قید افراد کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے مترادف بھی ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن بیماری کی حالت میں ہر قیدی کو بلاامتیاز مناسب علاج، ادویات اور ماہر ڈاکٹروں تک رسائی ملنی چاہیے۔ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق تمام قیدیوں کے ساتھ یکساں اور باوقار سلوک یقینی بنائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری سمیت تمام بیمار زیرِ حراست رہنماؤں کی صحت کے حوالے سے فوری میڈیکل چیک اَپ کرایا جائے، انہیں ضروری ادویات اور مکمل علاج فراہم کیا جائے اور اگر کسی مریض کی حالت جیل میں علاج کی متقاضی نہ ہو تو اسے فوری طور پر مناسب ہسپتال منتقل کیا جائے۔ قیدی کسی بھی سیاسی جما��ت سے تعلق رکھتا ہو، اسے بنیادی انسانی حقوق اور مناسب طبی سہولیات سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
🚨اس نے پولیس محکمے کو26کرو٭ڑ کا چونا لگا دیا تھا
کہتے ہیں "ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور ہوتے ہیں، کھانے کے اور"۔
یہ ہیں ڈی آئی جی محبوب اسلم للِہ صاحب۔ یہ اس لیے مشہور ہوئے کہ انہوں نے اپنے گھر یتیم بچوں کے لیے وقف کر دیے اور ان کی پرورش کی ذمہ داری خود اٹھائی۔
اس نیک کام کو دیکھ کر لوگوں کے دل میں ان کے لیے بہت عزت پیدا ہو گئی۔ ہر کوئی کہتا تھا کہ کتنے ایماندار، فرض شناس اور انسان دوست افسر ہیں۔
لیکن سوشل میڈیا اور ٹی وی پر جو فرشتہ صفت نظر آتا ہے، ضروری نہیں وہ اصل زندگی میں بھی ایسا ہی ہو۔
موصوف اس وقت پولیس ٹریننگ کالج لاہور کے سربراہ تھے۔ اچانک ان کا اصل چہرہ سامنے آ گیا۔ ان پر الزام لگا کہ انہوں نے سرکاری خزانے سے 26 کرو*ڑ رو٭پے کا مبینہ گھپ.لہ کیا ہے۔ اس الزام کی وجہ سے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس کرپشن میں ان کے 8 ساتھی بھی ملوث ہیں۔
سوچنے کی بات ہے کہ اگر ایک ٹریننگ کالج کے سربراہ کا یہ حال ہے، تو وہ اپنے زیرِ تربیت پولیس والوں کو کیا سبق دے رہا ہو گا؟
ایمانداری؟ یا کرپشن کے نئے طریقے؟
یہ واقعہ آنکھیں کھول دینے والا ہے۔ جو شخص نیکی اور انسانیت کا درس دے رہا تھا، اسی کے پیچھے عوام کے ٹیکس کے کرو٭ڑوں رو٭پے لوٹنے کی کہانی چھپی ہوئی تھی
خبر یہ ہے کہ
مجھے موت قبول ہے لیکن قومی ہیرو کے ساتھ غداری نہی کرونگی،
پاکستان کی آزادی و خودمختاری کی خاطر گرفتار ستر سالا ک��نسر میں مبتلا بوڑھی عورت ڈاکٹر یاسمین راشد کا بیان،
کیا میکڈونلڈ کے برگر میں گوشت استعمال ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کی بجائے کچھ اور ہوتا ہے؟ یہ سوال ایک نوجوان امریکی نے اٹھایا ہے۔کمپنی کا دعوٰی تھا کہ یہ خاص بیف یعنی عمدہ قسم۔کا بڑا گوشت ہوتا ہے۔سوال اٹھایا گیا کہ آپ کا تو گائے یا بچھڑے کا ایک فارم بھی روئے زمین پہ کہیں نہیں۔۔کیا زیر زمین کوئی نظام ہے۔ کیا کسی اور سے خریداری کرتے ہیں ۔ کمپنی نے مبینہ طور پر اس کا جواب نہیں دیا۔ وہ کمپنی جو 66 لاکھ برگر روازانہ بیچتی یے۔اس برگر کے Ingredients میں مبینہ طور پر بیف کا کوئی ذکر ہی نہیں جب تک کمپنی وضاحت نہیں کرتی۔ شکوک و شبہات باقی رہیں گے۔
آپس کی بات یہ یے پاکستانیو، جو کچھ آپ غیر ملکی غذاوں پہ صرف کرتے ہیں ، زر مبادلہ کا اتنا ہی نقصان ہوتا ہے۔ ذائقہ بھی خاص نہیں۔ سعودی عرب کا" البیک" اس سے کہیں بہتر ہے۔کوئی پاکستانی Consortium ان سے بات کر لے�� حلال، خوش ذائقہ اور کم قیمت۔
گیارہ بارہ بار عمرے کے لئے حجاز مقدس جانا ہوا۔ مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور میرے ہوٹل۔کے درمیان کنٹکی واقع تھا، بالکل ہی بد مزہ !
ایک بات اور بھی ہے۔ کیوں نہ ہم۔پاکستانی بنیں اور پاکستانی کھانے کھائیں۔ حکومتیں تو مجبور ہیں کہ امریکی احکامات مانیں۔ کچھ فیش مارے مرعوب لوگ احساس کمتری کی تسکین کے لئے الا بلا کھاتے ہیں۔ پاکستان کے کئی برانڈ ان سے بہتر ہیں ۔ آپ سے عرض کروں گا۔
عمران خان صاحب نے علیمہ آپا کی اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا:
"کیا میری پارٹی ختم ہو گئی ہے؟ کیا حالات اس نہج پر آ چکے ہیں کہ میری بہن کو اسٹریٹ موومنٹ کرنی پڑی؟"
عمران خان صاحب نے علیمہ آپا کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے پارٹی کی موجودہ صورتحال اور عہدیداروں کے کردار پر سوال اٹھایا ہے۔۔۔
بارہا عرض کیا ہے کہ اس پلیٹ فارم پر گالی دینے کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں۔ خواہ کوئی شخص کتنا ہی ناپسندیدہ ہو۔ ایسا ہر تبصرہ حذف کر دیا جائے گا اور ایسا ہر آدمی block. طاقت دلیل میں ہوتی ہے، دشنام میں نہیں۔ اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے منسوب ہے: جس نے کسی کو گالی دی اس نے خود کو گالی دی۔