ایک متنازعہ قتل کے مقدمے کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی لیکن کیا اسی راجی مچی کے دوران ایف سی کے اہلکاروں کی براہِ راست فائرنگ سے قتل ہونے والے چار نہتے بلوچوں کے قاتلوں کو بھی کبھی عمر قید کی سزا ملی؟ کبھی ان نہتے سیویلینز کے قتل پر کوئی ایف آئی آر درج ہوئی، کبھی انکے قاتلوں کوکٹھرے میں کسی عدالت نے کھڑا کیا؟ نہیں، کیونکہ ان کے لیے قانون کا معیار مختلف ہے، کیونکہ وردی پہن لینے سے قتل جرم نہیں رہتا، اور قانون صرف مظلوم کے خلاف طاقتور ہو سکتا ہے۔
جولائی 2024 میں ایک پرامن عوامی اجتماع کو روکنے کے لیے پورے بلوچستان کو عملاً محاصرے میں بدل دیا گیا۔ سڑکیں کھودی گئیں، راستے بند کیے گئے، بسوں پر فائرنگ کی گئی، اور پھر نہتے لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چار افراد اپنی جانوں سے گئے، درجنوں زخمی ہوئے، تین افراد مستقل معذوری کا شکار ہوئے، اور ایک شخص کے سر میں گولی مار کر اسے عمر بھر کی اذیت کے حوالے کر دیا گیا۔
مگر ان قتلوں پر کوئی مقدمہ نہیں۔ ان زخمیوں کے لیے کوئی انصاف نہیں۔ ان معذوروں کے لیے کوئی احتساب نہیں۔ جنہوں نے عوام پر گولیاں چلائیں، جنہوں نے ��سوں کے ٹائر پھاڑے، جنہوں نے گھروں پر دھاوے بولے، جنہوں نے طاقت کے زور پر ایک عوامی اجتماع کو کچلنے کی کوشش کی، ان میں سے کسی ایک کو بھی قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا، وہ اس لیے کہ اس نظام میں قانون جرم کو نہیں، مجرم کی حیثیت اور طاقت کو دیکھتا ہے۔ اگر آپ کمزور ہیں تو الزام ہی سزا بن جاتا ہے، لیکن اگر آپ طاقتور ہیں تو لاشیں بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔
یہاں انصاف کا ترازو برابر نہیں، بلکہ طاقت کے وزن سے جھکا ہوا ہے۔
اور یہی نظام ہیکہ قاتل آزاد ہیں اور مظلوم قید۔
گولیاں چلانے والے محفوظ ہیں اور گولیاں کھانے والے مجرم۔
بندوق والوں کے لیے استثنا ہے اور خالی ہاتھ لوگوں کے لیے عمر قید۔
یہی اس سامراجی اور ہائبرڈ نظام کا اصل چہرہ ہے
اور یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انصاف ہے۔
Respected Waja Jamil Akbar Bugti the last surviving son of Shaheed Nawab Akbar Bugti Khan is sadly no longer with us.
Brave, Dedicated and Outspoken regarding the rights of Baloch and Balochistan spoke fearlessly and truthfully his words and his fighting Spirit will be sorely
1/3
🇵🇰On 22 March 2025, Mahrang Baloch was arrested alongside Beebow Baloch during a peaceful protest in Quetta. Her sister remembers waking to dozens of missed calls, rushing to Quetta, and walking into a home filled with dread.
They spent their first Eid visiting her in prison.
Today, one full year later, they are spending their third Eid without her.
This Eid, Mahrang marks her full year in prison, facing deteriorating health, which threatens to impair her mobility.
Her detention, and that of all arbitrarily detained Baloch activists, must end now.
👉 Join our urgent action to demand their freedom
📝 https://t.co/E9bwQUHBOZ
#ReleaseMahrangBaloch #ReleaseBalochActivists
معروف جاپانی انسانی حقوق کے علمبردار شونیچی فوجیکی نے جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے سنگین مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔
جاپان کا شکریہ کہ اس نے خاموشی توڑی اور بلوچستان کے مظلوموں کی آواز بن کر سامنے آیا.
@UNGeneva
#Balochistan
@NaveedArifButt پاکستانی بلوچستان میں ابھی جنگ میں بھی اشیاء خوردونوش سارا ایران سے آرا ہے ابھی ایران نے اپنے ملک میں پٹرول اور اشیاء مفت کر دیا جنگ میں تمہارے ملک کی طرح نہیں ہے ۔اپنے لیے پٹرول کے پرائز کم کروں چلا ہے ایران کی مدد کرنے کو۔
آج ہم کوئٹہ پریس کلب میں فیملیز کی جانب سے بی وائی سی کے رہنماؤں کے کیسز اور ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی صحت کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے۔ لیکن آج صبح سے ہمیں پریس کلب کے سامنے کھڑا رکھا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ڈی سی سے این او سی لے کر آئیں۔
حالانکہ ہمارے سامنے کئی دیگر فیملیز کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی گئی۔ جب ہم نے پوچھا کہ اُن سے این او سی کیوں نہیں مانگا جا رہا اور ہم سے کیوں، تو ہمیں جواب دیا گیا کہ “اوپر سے آرڈر ہے” کہ یہاں صرف اُن فیملیز کو پریس کانفرنس کی اجازت ہے جن کے بچے پہاڑوں پر گئے ہیں یا جن کا تعلق منشیات کے کیسز سے ہے۔ اس کے علاوہ مسنگ پرسنز کی فیملیز یا دیگر سیاسی جماعتوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
مجبوراً ہم نے کوئٹہ پریس کلب کی سیڑھیوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی پریس کانفرنس شروع کی۔ اسی دوران پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور صحافیوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ ہماری پریس کانفرنس کو ریکارڈ نہ کریں۔
بلوچستان میں نااہل حکومت کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب بولنے اور سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں رہی
#ReleaseBYCLeaderes
میری بہن ڈاکٹر ماہ رنگ تقریباً ایک سال سے جیل میں ہیں۔ ان پر قائم مقدمات بے بنیاد ہیں، مگر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ان کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صحت ہے۔
چھ ماہ سے وہ شدید تکلیف میں مبتلا تھیں۔ جیل حکام کو بارہا درخواستیں دیں کہ انہیں ڈاکٹر کو دکھایا جائے، مگر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ عدالت میں درخواست کے بعد معائنہ تو ہوا، مگر تجویز کردہ ٹیسٹ بھی وقت پر نہیں کروائے گئے۔ جب حالت بہت زیادہ خراب ہوئی تو انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں MRI رپورٹ میں ریڑھ کی ہڈی کے سنگین مسائل سامنے آئے (ڈسک کا ابھار، اور اندرونی چوٹ)۔ ڈاکٹروں نے آرام اور باقاعدہ علاج کی ہدایت کی ہے۔
لیکن افسوس کہ آج بھی نہ مکمل علاج فراہم کیا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں ضمانت دی جا رہی ہے۔ ایک سیاسی ورکر جس کا جرم صرف یہ ہے کہ اس نے انسانی حقوق اور انصاف کی بات کی، اس طرح بنیادی طبی سہولت سے محروم رکھنا کہاں کا انصاف ہے؟
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک عام قیدی کو بھی صحت ک�� سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ میری بہن تو ایک سیاسی کارکن ہیں، کسی پرتشدد جرم میں ملوث نہیں۔ انہیں اس طرح علاج سے محروم رکھنا اور مسلسل قید میں رکھنا کھلی انسانی حقوق کی پامالی ہے۔
لگتا ہے آئین میں اندرونِ خانہ کچھ اور ترامیم بھی ہو چکی ہیں۔ بلوچستان کے ایشو پر جو بات کرے گا، قید کیا جائے گا۔ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی کوئی بھی پوسٹ ری پوسٹ کرنے پر اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی نے تو ناقابلِ تلافی جرم یہ کیا کہ وہ اسلام آباد میں احتجاج پر بیٹھی بلوچ خواتین کے ساتھ دھرنے میں بھی بیٹھ گئے۔
ریاست اصل میں بلوچ قوم سے اپنا رشتہ دنیا کو دکھا رہی ہے، اور بتا رہی ہے کہ اسے بلوچ قوم سے کتنی نفرت ہے۔
یہ صرف چند انتظامی ترامیم نہیں لگتیں، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ریاست کی جانب سے ایک مکمل خاموشی کا نظام ترتیب دیا جا چکا ہے۔ بلوچوں کے زخموں پر مرہم رکھنا اب ایک جرمِ عظیم بن چکا ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اسلام آباد کی شدید سردی میں ایک ایسے وقت میں کھڑے ہو گئے، جب وہ سالوں کی درد و اذیتیں سہتے اسلام آباد پہنچے تھے۔
ایمان اور ہادی ان بے سہارا بلوچ ماؤں کو سہارا دینے ایک ایسے وقت پہنچے، جب پورا ملک خاموش تماشائی بنا ہوا تھا۔ وہ اس وقت ان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے، جب کسی اور نام نہاد بلوچ پارلیمانی لیڈر میں ان سے ملنے کی جرأت نہ ہو سکی۔
ریاست طاقت کے زور پر آوازیں دبا سکتی ہے، مگر یادداشتوں کو قید نہیں کر سکتی، اور بلوچ قوم ��پنے محسنوں اور غمخواروں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
بقولِ عطا شاد:
میری زمیں پر
ایک کٹورے پانی کی قیمت
سو سال وفا ہے
آؤ! ہم بھی پیاس بجھائیں
زندگیوں کا سودا کر لیں۔
FREE IMAAN MAZARI AND HADHI ALI CHATTHA!
The forceful arrest of HRDs @ImaanZHazir and @AdvHadiali is a gross violation of human rights. This is an attack on freedom of speech and the peaceful struggle. Both have consistently supported marginalized and oppressed people across Pakistan, especially the Baloch Nation.
The state is using all its tools to suppress the peaceful struggle in Pakistan. After the BYC leaders, the state is crushing all voices that question its barbarism.
In these challenging times, we, the Baloch Nation, stand by Adv. Imaan Mazari and Hadhi Ali Chattha. And we urge all human rights organizations, activists, and supporters to take practical measures to ensure the safe release of both HRDs.
ریاستِ پاکستان جب پُرامن جدوجہد کے تمام دروازے خود بند کرتی ہے تو وہ دراصل عوام کو مایوسی، بے بسی اور بالآخر تشدد کی طرف دھکیلتی ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ یہ ایک شعوری پالیسی ہے۔ بلوچستان میں ایک طاقتور طبقہ جنہیں ہم جنگی ��نافع خور کہتے ہیں، بھی موجود ہے جو نہیں چاہتا کہ مسائل پُرامن طریقے سے حل ہوں، کیونکہ تشدد جتنا بڑھے گا، راولپنڈی کی نظر میں ان
کی اہمیت اور افادیت اتنی ہی بڑھے گی اور یوں وہ اقتدار، فنڈز اور اختیار سے چمٹے رہیں گے۔
ماہ رنگ بلوچ نے پُرامن اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کے نوجوانوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ممکن ہے اور یہ کہ بندوق کے بغیر بھی ریاست کو للکارا جا سکتا ہے۔ ہزاروں نوجوان اسی امید پر تشدد سے دور رہے کہ ایک سیاسی اور پُرامن راستہ موجود ہے لیکن جب ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا تو دراصل اس امید کو قید کر دیا گیا۔ وہ تمام لوگ جو پُرامن سیاسی جدوجہد کو واحد حل سمجھتے تھے، آج شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ جب ریاست اختلافِ رائے کو جرم بنا دے، پُرامن احتجاج کو کچل دے اور سیاسی عمل کو ناممکن بنا دے تو یہ خود اپنے ہاتھوں سے انتہاپسندی کی زمین تیار کرتی ہے۔
اگر کل کو یہ مایوس نوجوان پُرامن سیا��ت سے بددل ہو جائیں جو بڑی تیزی سے آج ہورہے ہیں تو اس کا الزام کسی اور پر نہیں بلکہ خود ریاستِ پاکستان اور اس کی حکمران اشرافیہ پر ہوگا کیونکہ انہوں نے بلوچ نوجوانوں کے لیے سیاسی اور پُرامن راستے خود اپنے فیصلوں سے بند کر دیے ہیں۔۔۔
#ReleaseMahrangBaloch
#ReleaseBYCLeaders
تم نے اتنی سچ بولا کہ آج تم سلاخوں کے پیچھے ہو صرف اور صرف اپنی قوم کیلئے اور آج ہم بلوچ ہو کر شرمندہ ہے کہ آپ کے لیے کچھ کر نہ��ں پا رہے 😭💔https://t.co/Fq2Lm5DNTK
کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے گ��ر کی رونق بیٹیاں ہوتی ہیں… یہ واقعی خدا کی بھیجی ہوئی رحمتیں ہیں۔
ایک دکان میں لوٹ مار کے ارادے سے ایک ڈاکو داخل ہوا، لیکن وہاں موجود معصوم بچی نے ڈرنے کے بجائے اسے لالی پاپ پیش کر دیا۔ بس وہ لمحہ… اس ڈاکو کے دل میں اپنے باپ کی محبت جاگ اٹھی۔
وہ ہاتھ جو نقصان پہنچانے آئے تھے، رک گئے… اور یوں اس معصوم بچی کے باپ کی جان بچ گئی۔
بیٹیاں صرف گھروں کی زینت نہیں ہوتیں، یہ دلوں کو بدل دینے والی روشنی ہوتی ہیں۔
اللہ ہر گھر اور ہر دل کو ایسی رحمتوں سے آباد رکھے۔