شہزاد اکبر شہید ارشد شریف کی طرح شریف خاندان کی کرپشن بے نقاب کرتے ہوئے!
عوام کو نالہ لئی میں ڈبو کر نواز شریف سنگاپور دل کے عارضے کے لئے نہیں بلکہ اپنی تجوری کے عارضے کے لیے گئے ہیں ۔
سنگاپور وہی جگہ ہے جہاں حسن نواز نے ہائیڈ پارک مہنگے داموں بیچ کر اسکا سارا پیسہ منتقل کیا تھا۔
کیونکہ یورپی ممالک سوئس اکاونٹس بدنام بہت ہو چکے ہیں ۔ سوئز لینڈ کے بعد سنگاپور ل، ہانگ کانگ لوٹ کا پیسہ پارک کرنے کی ذیادہ محف��ظ جگہ ہے۔ اس ٹرپ کا مقصد حسن نواز اپنے پوتے پوتیوں نواسوں کے کاروبار کو محوظ بنانا ہے۔
قید تنہائی کے بارے میں تحریری فیصلہ وہ کنکری ضرور ہے جو حج کرتے وقت رمی کے دوران شیطان پر ماری جاتی ہے
وہ وقت دور نہیں کہ جب عدالتوں سے مزید ایسے احکامات آنا شروع ہو جائیں گے اور حکومت توہین عدالت کے ایک ایسے گہرے گڑھے میں گر جائے گی کہ جس سے نکلنا مشکل ہو جائے
مطیع اللہ جان
شاہ محمود قریشی کی آج بھی ضمانت کی درخواست کی سماعت میں ریکارڈ پیش نہ کیا جا سکا۔ تین سال ہو گئے جیل میں ۔سات ملتے جلتے کیسز میں بریت کے باوجود ان کو ضمانت نہیں دی جا رہی۔ یہ سیاسی انتقام نہیں تو کیا ہے؟
1992 کے ورلڈ کپ میں مین آف دی میچ بننے والے عبدالقادر نے انعام میں ملنے والی گاڑی عمران خان کو تحفے میں دے دی تھی۔
عبدل القادر نے آنے والی نسلوں کو پیغام دیا تھا کہ عمران خان نے پاکستان کو جو مقام، وقار اور عزت دی، قوم کو بھی انہیں وہی عزت دینی چاہیے❤️
فارم 47 حکومت دنیا کے مسائل حل کرنے کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے جبکہ لیکن کل رات بارش کے بعد راولپنڈی کے یہ حالات ہیں۔
ان سے چھوٹے قد کے لوگ تو اس گندے پانی میں ڈوب چکے ہوتے
اس لاچار شہری پر دہشتگردی کا مقدمہ نہ ہو جاۓ کہ اس نے سچ بتا کر اس جعلی حکومت کو "بدنام" کرنے کی کوشش کی۔
1992 کے ورلڈ کپ میں مین آف دی میچ بننے والے عبدالقادر نے انعام میں ملنے والی گاڑی عمران خان کو تحفے میں دے دی تھی۔
عبدل القادر نے آنے والی نسلوں کو پیغام دیا تھا کہ عمران خان نے پاکستان کو جو مقام، وقار اور عزت دی، قوم کو بھی انہیں وہی عزت دینی چاہیے جس کے وہ حقدار ہیں۔
ہائیکورٹ کے حکم باجود عمران خان سے بہنوں وکلاء اور بی بی کی فیملی کی ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی
جب تمام راستے عدالتیں ،بات چیت سب بند ہو جائیں تو حل پر لانگ مارچ بچتا ہے لہذا پوری قوم تیاری پکڑے اب دما دم مست قلندر ہو گا، نعیم حیدر پنجوتھہ
آج بھی عمران خان سے بہنوں اور وکلاءکی ملاقات نہیں کرائی گئی۔ جبکہ آج ہی ہائیکورٹ نے عمران خان کی قید تنہائی ختم کرنے کا فیصلہ بھی دیا ہے۔ اب آپ اندازہ لگائیں اس حکومت کی عقلمندی کا کہ جب ساری دنیا کی نظریں اس معاملے پرلگی ہیں یہ دھڑلے سے خود کو خود ہی جھوٹا ثابت کر رہے ہیں۔