Another blow to terrorist elements in Balochistan as security forces target a suspected hideout in Kachhi. The recovery of a large cache of arms and ammunition underscores the threat being confronted on the ground.
#فتنہ_الہندوستان#RegionalStability#peace
Security forces strike another blow against Fitna al-Hindustan in Kachhi, Balochistan, eliminating 6 terrorists in an intelligence-based operation. Operation Radd-ul-Fitna 3 continues to dismantle terrorist networks and restore peace across Pakistan.
#فتنہ_الہندوستان #RegionalStability #peace
بلوچستان کے ضلع کچھی میں فتنہ الہندوستان کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا مؤثر وار، 6 دہشتگرد انجام تک پہنچا دیے گئے۔ آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔
#بلوچستان#دہشتگرد#فتنہ_الہندوستان
پاکستان په هلمند کې د یوه سرجیکل سټرایک په ترڅ کې د BLA د رسنیزو عملیاتو مرکز له منځه یوړ، چې پکې د فتنه الهندوستان ۹ ترهګر ووژل شول.
هر وطنپال پاکستانی دا پوښتنه کوي چې د BLA رسنیز مرکز په افغانستان کې ولې او څنګه فعالیت کاوه؟
آیا زموږ د سرتېرو او بېګناه بلوڅ وروڼو وینه د افغان حکومت پر غاړه نه ده؟
#Pak_Strikes_Terror_Camps #bla
پاک فوج کی افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر مؤثر کارروائی میں موسی خیل،کوئٹہ سٹیشن، جعفر ایکسپریس اور ہزاروں معوموں کی قاتل بی ایل اے کا میڈیا مرکز تباہ، 9 خارجی جہنم واصل
#bla#Pak_Strikes_Terror_Camps
افغان سرزمین پر دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے ایک بار پھر پاکستان کی درست نشانہ بازی کی زد میں آگئے۔
22 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ و گولہ بارود تباہ، ہلمند میں BLA کا میڈیا آپریشنز سینٹر بھی نیست و نابود۔ پیغام واضح ہے: پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرنے والے ٹھکانے جہاں بھی ہوں، انہیں محفوظ پناہ گاہ نہیں ملے گی۔ 🇵🇰
#terrorism #RegionalStability #طالبان
https://t.co/Y2mG4Bec0u
خیبرپختونخوا کے عوام بدامنی، خوف اور عدم تحفظ میں مبتلا ہیں، مگر PTI کی صوبائی حکومت کی ترجیح صوبے کے امن کے بجائے سیاسی احتجاج اور دھرنے دکھائی دیتی ہے۔ پولیس کے جوان دہشتگردی کے خلاف جانیں قربان کر رہے ہیں، جبکہ حکمرانوں کی توجہ حکمرانی سے زیادہ سیاسی محاذ آرائی پر ہے۔
13 سالہ اقتدار کے بعد بھی عوام کو امن، مؤثر حکمرانی اور تحفظ کے بجائے بدامنی اور سیاسی انتشار مل رہا ہے خیبرپختونخوا کو نعروں نہیں، جوابدہ اور ذمہ دار طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔
#یوتھیا_ہٹاو_دہشتگردی_مکاو #مسترد_انتشاری_ٹولہ #جواب_دو
4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے ہی تحریکِ انصاف کی صفوں میں خاموشی چھا گئی اہم رہنما اور کارکن منظر سے غائب، جبکہ پنجاب بھر میں احتجاجی تیاریوں کا آغاز بھی نہ ہو سکا۔ کیا یہ صرف خاموشی ہے یا اندرونی کمزوریوں کا کھلا اظہار؟
#یوتھیا_ہٹاو_دہشتگردی_مکاو#مسترد_انتشاری_ٹولہ #sohailafridi
Hussain Haqqani’s attempt to portray Pakistan as a channel for Iran to evade sanctions is a misleading and highly questionable narrative. Pakistan’s legitimate trade and transit links with Iran should not be distorted into allegations of deliberate sanctions busting without credible evidence.
#US #Iran #Pakistan
https://t.co/6YJLjPQcwo
نورستان کی جھڑپوں میں پاکستان کو ملوث کرنے کی طالبان رجیم کی کوششیں مسترد! اپنی سرزمین پر بدامنی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنے کے بجائے پاکستان پر الزامات عائد کرنا حقائق سے فرار کے مترادف ہے۔ پاکستان نے واضح کر دیا کہ بے بنیاد دعوے حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
#طالبان#fake #RegionalStability
نورستان میں جاری جھڑپوں کو پاکستان سے جوڑنے کے طالبان رجیم کے بے بنیاد الزامات، اپنی داخلی سیکیورٹی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ پاکستان نے ان من گھڑت دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ الزام تراشی نہیں، بلکہ حقائق اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہی خطے میں امن و استحکام کی ضمانت ہیں۔
#طالبان #fake #propaganda
ایمل ولی خان، جس کی پوری سیاست باچا خان اور ولی خان کی تصویر لگانے تک محدود ہے، آج پاک فوج پر تنقید کر رہا ہے۔ اے این پی نے خود پختونوں کے لیے کیا کیا؟ اے این پی کے دورِ حکومت میں ان کے اپنے وزیر بشیر بلور سمیت سینکڑوں کارکن دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے، لیکن جماعت نے دہشتگردی کے خلاف کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا، صرف لاشوں پر سیاست کی۔ اسفندیار ولی خود تسلیم کر چکے ہیں کہ 2009 میں سوات میں معاہدہ کیا گیا، عسکریت پسندوں نے اسے توڑا، اور پھر آپریشن کرنا پڑا۔ ماضی کی پالیسی پر سوال کرتے وقت اپنی جماعت کے فیصلوں کو بھی اسی معیار پر پرکھیں۔
آج جب پاک فوج انہی دہشتگردوں کے ٹھکانے افغانستان میں تباہ کرنے کی بات کرتی ہے تو ایمل ولی کو تکلیف ہوتی ہے۔ اگر افغانستان دہشتگردی کا مرکز نہیں تو کیا امن کا گہوارہ ہے؟
#ایمل_ولی_خان_کی_بددیانتی
#ایمل_ولی_خان_کا_جھوٹ
خیبرپختونخوا کے نام پر 17 سال میں 799 ارب روپے کے وار آن ٹیرر فنڈز جاری ہوئے، مگر متاثرہ اضلاع، پولیس، تعلیم، صحت اور بحالی پر اس خطیر رقم کے استعمال کی واضح عوامی تفصیل آج بھی کہاں ہے؟
فنڈز اربوں میں، حساب کہاں؟ شفافیت محض اعداد گنوانے کا نام نہیں؛ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے صوبے اور شہداء کے نام پر ملنے والا پیسہ آخر کہاں خرچ ہوا۔ #KPFundsAccountability #799BillionAudit
https://t.co/l24PLAPi4p
اپریل میں جس Hashim Musa کو پہلگام واقعے کا مشتبہ ملزم بنا کر پیش کیا گیا، جون تک بھارتی ذرائع خود انہی خاکوں میں موجود افراد کو اصل حملہ آور ماننے سے پیچھے ہٹ گئے۔ ایک ہی نام، بدلتی کہانی اور متضاد دعوے بھارتی بیانیے کی حقیقت خود اس کے اپنے ریکارڈ سے عیاں ہوتی ہے۔
#india #indian_propaganda #pahalgam
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال نے صوبائی حکومت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا، ایمرجنسی کا آئینی آپشن زیرِ غور، وفاقی حکومت کے ممکنہ اقدام سے صوبائی انتظامی اختیارات میں بڑی تبدیلی کا امکان! اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو وزیراعلیٰ کے اختیارات محدود اور صوبے کا انتظام وفاق کے ہاتھ میں جا سکتا ہے۔ اب صوبے کی حکمرانی اور امن و امان کی صورتحال ایک اہم آئینی موڑ پر کھڑی ہے۔
#یوتھیا_ہٹاو_دہشتگردی_مکاو #کےپی_حکومت_ختم_کرو #مسترد_انتشاری_ٹولہ
https://t.co/bn4zkaJBWt
خیبرپختونخوا میں حالات اب محض سیاسی بیان بازی کا معاملہ نہیں رہے، امن و امان کی مسلسل بگڑتی صورتحال نے ایمرجنسی کے امکان کو سنجیدہ بحث بنا دیا ہے۔
صوبے کو احتجاجی سیاست نہیں، مؤثر حکمرانی، دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات اور عوام کے تحفظ کی ضرورت ہے۔
#کےپی_حکومت_ختم_کرو #یوتھیا_ہٹاو_دہشتگردی_مکاو
https://t.co/W5DL9lUAZZ
افغانستان میں طالبان رجیم کے لیے سب سے بڑا سوال بندوق نہیں، عوامی حمایت ہے۔ میجر جنرل (ر) طارق رشید خان کے مطابق عوامی تائید کے بغیر اقتدار کی عمارت کتنی دیر کھڑی رہ سکتی ہے؟ طاقت کے زور پر حکومتیں قائم تو ہو سکتی ہیں، مگر پائیدار نہیں ہوتیں۔
#طالبان#افغان#افغانستان
افغانستان میں طالبان رجیم کی غیر جامع حکومت، خواتین کی تعلیم پر پابندیاں اور اقلیتوں سے امتیازی سلوک برقرار، مگر عالمی طاقتوں کی جانب سے اربوں ڈالر کی امداد کا سلسلہ بھی جاری۔ آخر یہ بھاری مالی معاونت کس بنیاد پر دی جا رہی ہے، جبکہ طالبان کے طرزِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آتے؟ میجر جنرل (ر) طارق رشید خان
#طالبان #افغان #افغانستان #خواتین #تعلیم
افغانستان کو اب بھی بیرونِ ملک سے سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر مل رہے ہیں۔ 2021 میں افغانستان کو قریباً 2.3 ارب ڈالر، جبکہ 2022 میں تقریباً 4 ارب ڈالر ملے، جبکہ اس وقت بھی امریکا، برطانیہ، جرمنی، یورپی یونین اور جاپان سمیت مختلف ادارے افغانستان کو تقریباً 2 ارب ڈالر فراہم کر رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر طالبان تمام طبقات پر مشتمل حکومت نہیں بنا رہے، خواتین کی تعلیم کے حوالے سے پابندیاں برقرار ہیں اور اقلیتوں کے ساتھ بھی امتیازی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے تو عالمی طاقتیں انہیں کس بنیاد پر مسلسل مالی معاونت فراہم کر رہی ہیں، میجر جنرل (ریٹائرڈ) طارق رشید خان
@ammarmasood3@pakambbrunei
799 ارب سے زائد! خیبرپختونخوا کو دہشتگردی کے نقصانات کے ازالے کے لیے خطیر فنڈز ملتے رہے، مگر ان کا واضح اور الگ حساب آج بھی غائب ہے۔
PTI کے طویل دور میں پیسہ بھی آیا، اختیار بھی رہا، مگر دہشتگردی اور بدامنی ختم نہ ہوئی اب عوام فنڈز کا حساب مانگ رہی ہے۔
#kp
https://t.co/SF6euKPPs7