A student goes home with three worksheets, two practice sheets and a notebook full of questions.
It looks serious.
It looks disciplined.
It looks like learning is happening.
But here is the uncomfortable question:
What if we have increased the workload without increasing the thinking?
Homework should not simply extend the school day. It should extend the learning.
A useful task should make students retrieve, connect, apply, question or reflect — not just complete another page.
That is the shift worth making:
Don’t assign work. Design learning.
Because more homework is not automatically more learning.
The better question is not:
“How much homework did we give?”
It is:
“What kind of thinking did this homework require?”
That should be the conversation of every staff room.
#Education #Teaching #Homework #StudentLearning #SchoolLeadership
Matriculation position holders from Sindh campuses of Dar-ul-Madinah International Islamic School System were recognised for their distinguished academic performance.
#EducationCouncil#DawatEIslami#DarulMadina#SindhMatric
“Did everyone understand?”
“Yes, Sir.”
That answer is reassuring.
It is rarely evidence.
I wrote about the difference — and why it should change how we teach and how we observe classrooms.
#EducationLeadership#Teaching#Learning https://t.co/wkijNAHjR0
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تحریر: شاہ فیصل عطاری
۲۲ ستمبر۲۰۲۶
“جی سر، سمجھ آگئی”
استاد نے بورڈ پر آخری سوال حل کیا۔
مارکر بند کیا۔
کلاس کی طرف دیکھا۔
اور اطمینان سے پوچھا:
“سب کو سمجھ آگئی؟”
پوری کلاس سے تقریباً ایک ساتھ آواز آئی:
“جی سر!”
استاد مطمئن ہوگیا۔
سبق مکمل۔
بورڈ بھر گیا۔
کاپیاں مکمل۔
بچے خاموش۔
جواب بھی مثبت۔
بظاہر سب کچھ ٹھیک تھا۔
بس ایک سوال رہ گیا:
واقعی سمجھ کس کو آئی؟
یہ ایک عجیب بات ہے کہ انسان اکثر ان چیزوں سے جلد مطمئن ہوجاتا ہے جو اسے فوراً نظر آ جائیں۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کے ہزاروں ویوز آجائیں تو خوشی ہوتی ہے۔
لائکس بڑھ جائیں تو لگتا ہے پوسٹ کامیاب ہوگئی۔
کمنٹس آنے لگیں تو ڈیش بورڈ بھی اچھا لگنے لگتا ہے۔
لیکن کچھ دیر بعد اصل سوال سامنے آتا ہے:
ان ہزاروں ویوز سے ہوا کیا؟
لوگ صرف دیکھ کر آگے نکل گئے؟
یا کسی نے فالو بھی کیا؟
کسی نے بات یاد بھی رکھی؟
کسی نے اپنے عمل میں کچھ بدلا بھی؟
کلاس روم میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔
سبق مکمل ہوگیا ✓
بورڈ ورک ہوگیا ✓
کاپیاں بھر گئیں ✓
ورک شیٹ مکمل ہوگئی ✓
بچوں نے “جی سر” بھی کہہ دیا ✓
لیکن...
کیا بچہ واقعی سیکھا؟
یہاں اکثر ہمارا ڈیش بورڈ خاموش ہوجاتا ہے۔
کیونکہ “سمجھ آگئی؟” ایسا سوال ہے جس کا جواب بچہ سمجھے بغیر بھی دے سکتا ہے۔
وہ تھکا ہوا ہوسکتا ہے۔
وہ اگلے سوال سے بچنا چاہتا ہو۔
اسے لگتا ہو باقی سب سمجھ گئے ہیں، اس لیے وہ بھی “جی سر” کہہ دے۔
یا شاید وہ خود بھی یہ نہ جانتا ہو کہ اسے کیا سمجھ نہیں آیا۔
اب ذرا سوال بدل کر دیکھیں۔
“سمجھ آگئی؟” کے بجائے کہیں:
“اپنے الفاظ میں بتاؤ، یہ جواب درست کیوں ہے؟”
یا پوچھیں:
“اس کی کوئی نئی مثال دو۔”
یا بورڈ پر جان بوجھ کر ایک غلط جواب لکھ دیں اور کہیں:
“غلطی کہاں ہے؟”
اب کلاس کا منظر بدل جائے گا۔
کچھ ہاتھ فوراً اٹھیں گے۔
کچھ بچے سوچنے لگیں گے۔
کچھ خاموش ہوجائیں گے۔
اور شاید کوئی بچہ کہے:
“سر، مجھے دوبارہ سمجھا دیں۔”
ہم عموماً اسی آخری جواب سے گھبراتے ہیں۔
حالانکہ استاد کے لیے شاید یہی سب سے قیمتی جواب ہے۔
کیونکہ اب کم از کم حقیقت سامنے آگئی۔
بچے کا رک جانا ہمیشہ استاد کی ناکامی نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں اصل تدریس شروع ہوتی ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ بچہ پہلی دفعہ میں نہ سمجھ سکا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ استاد کو پورا سبق گزر جانے کے بعد بھی معلوم نہ ہو کہ بچہ سمجھا یا نہیں۔
ہمیں ایسی کلاس نہیں چاہیے جہاں ہر سوال پر فوراً ایک خوبصورت اجتماعی آواز آئے:
“جی سر!”
ہمیں ایسی کلاس چاہیے جہاں بچہ اپنی سمجھ دکھا سکے۔
سمجھا ہے تو وجہ بتائے۔
مثال دے۔
غلطی پکڑے۔
بات کو اپنے الفاظ میں بیان کرے۔
کسی دوسرے کو سمجھا سکے۔
کیونکہ تعلیم میں اصل کامیابی یہ نہیں کہ:
“میں نے پڑھا دیا۔”
اصل سوال یہ ہے:
“بچے نے کیا سیکھا؟”
اور شاید ہمارے کئی تعلیمی مسائل اسی ایک فرق میں چھپے ہوئے ہیں۔
ہم یہ گنتے ہیں کہ:
کتنا نصاب مکمل ہوا؟
کتنے ابواب پڑھائے گئے؟
کتنی کاپیاں چیک ہوئیں؟
کتنے پیریڈ لیے گئے؟
مگر نسبتاً کم پوچھتے ہیں:
کتنے بچوں نے واقعی سمجھا؟
اور اس سے بھی اہم:
ہمیں کیسے معلوم ہوا کہ انہوں نے سمجھا؟
اگلی بار کلاس میں ایک چھوٹی سی تبدیلی کیجیے۔
سبق کے آخر میں یہ نہ پوچھیں:
“سمجھ آگئی؟”
بلکہ کہیں:
“مجھے دکھاؤ کہ تمہیں سمجھ آگئی ہے۔”
ممکن ہے اس کے بعد کلاس کچھ دیر خاموش ہوجائے۔
ممکن ہے جواب فوراً نہ آئے۔
ممکن ہے آپ کو سبق کا ایک حصہ دوبارہ پڑھانا پڑے۔
لیکن اس خاموشی سے مت گھبرائیے۔
کیونکہ ہر فوراً مل جانے والا جواب کامیابی نہیں ہوتا۔
اور ہر رک جانے والا بچہ ناکامی نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی “جی سر” صرف ایک جواب ہوتا ہے۔
سیکھنے کا ثبوت نہیں۔
#Education #Teaching #StudentLearning
Reflecting on the memories of successful Milad Ijtima & Awards Distribution Ceremony 2026—an experience that brought together planning, strategy, creativity, and teamwork.
Being part of this remarkable initiative, I had the opportunity to contribute towards developing the digital marketing strategy, communication plan, event promotion, coordination and overall execution framework. From shaping the campaign direction and managing digital outreach to coordinating different aspects of event preparation and serving as the host on the day, every phase was a valuable learning experience.
Large-scale events are not built on a single moment; they are the result of vision, collaboration, attention to detail and the dedication of many talented individuals working together behind the scenes.
Grateful to the leadership and team members who trusted me with this responsibility and contributed their efforts in making this event a memorable milestone.
Looking forward to continuing the journey of building meaningful communication strategies and impactful experiences.
#EventManagement #DigitalMarketing #StrategicCommunication #BrandManagement #Leadership #Education
تحریر شاہ فیصل عطاری
فرض کیجیے، ایک استاد ڈیمو مکمل کرتا ہے۔ تبصرہ ملتا ہے: ’’آپ کو مزید محنت کی ضرورت ہے۔‘‘ وہ پوچھتا ہے: ’’کس چیز پر، اور کیسے؟‘‘ جواب آتا ہے: ’’یہ تو آپ کو خود معلوم ہونا چاہیے۔‘‘
پھر تربیتی نشست ختم ہوجاتی ہے۔
استاد کو اس کی کمی بتادی گئی۔ کمی پوری کرنا کس نے سکھانا تھا؟
ڈیمو کی اصل افادیت اسی سوال سے جڑی ہے۔ استاد اپنا پڑھانے کا طریقہ سامنے لاتا ہے تاکہ خوبی پہچانی جائے، کمزوری سمجھ آئے اور بہتری کی مشق ہوسکے۔ ہر ڈیمو کے بعد صرف فیصلہ سنایا جائے تو استاد اپنی کمزوری چھپانا سیکھے گا، اس پر کام کرنا نہیں۔
اسی لیے ڈیمو کو بھرتی تک محدود رکھنا کافی نہیں۔ دورانِ سیشن مختصر مشقیں ہوں اور چھٹیوں میں باقاعدہ وقت رکھا جائے۔ مشکل سبق منتخب ہو، تجربہ کار استاد پڑھا کر دکھائے، دیگر ٹیچرز مشق کریں اور واضح رہنمائی کے بعد دوبارہ پڑھائیں۔
ادارے کا ماحول ایسا ہو جہاں نئے اساتذہ تجربہ کار ٹیچرز سے بلاجھجک سیکھ سکیں اور تجربہ کار اساتذہ رہنمائی کے ساتھ خود بھی سیکھنے پر آمادہ رہیں۔ جہاں اپنی کمزوری بتانے پر مدد ملے، شرمندگی نہیں۔
آخر جس ادارے میں استاد سوال کرتے ہوئے ڈرے، وہاں بچوں میں سوال کرنے کی ہمت کون پیدا کرے گا؟